ربوہ کا موسم(۹تا ۱۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء)
۹؍جنوری جمعۃ المبارک نماز فجر کے وقت ہلکی دُھند چھائی ہوئی تھی، ساتھ ہوا بھی موجود تھی۔ تاہم جونہی دن چڑھا دُھند میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہ دُھند دوپہر کے وقت کچھ کم ہوئی لیکن بادلوں کی تہ کی وجہ سے سورج نہ نکل سکا اور دھوپ کی غیرموجودگی میں ٹھنڈ نے بسیرا کیے رکھا۔ ہفتہ کے دن صبح کے وقت فضا میں دُھند نہ تھی، لیکن ہوا کی وجہ سے سردی کافی تھی۔ صبح گیارہ بجے کئی دنوں کے بعد آسمان صاف ہوگیا اور سورج کو دھوپ بکھیرنے کا موقع مل گیا، یہ دھوپ کیا بکھری، گویا لوگوں کے چہروں پر اطمینان بکھر گیا۔ تاہم عصر کے بعد دھوپ کچھ ہلکی ہوگئی۔ شام کے وقت یخ بستہ ہوا شروع ہوگئی، جس سے ٹھنڈ بن گئی۔ اتوار کو بھی دُھند اور بادلوں کی وجہ سے دوپہر تک سورج غائب رہا، دھوپ نہ نکلی۔ البتہ بعد نماز ظہر سورج نے بادلوں کی اوٹ سے اپنا سر باہر نکالا اور زمین پر دھوپ بھیج دی، شا م سے رات تک ٹھنڈی ہوا چلتی رہی۔ سوموار کی صبح کافی دُھند چھائی ہوئی تھی، دوپہر کے وقت دُھند کم ہوگئی اور دھوپ نکل آئی۔ لوگوں نے دھوپ کے خوب مزے اٹھائے، سرِ شام ہی سردی نے پھر ڈیرے ڈال دیے۔ سوموار اور منگل کی درمیانی رات کو دُھند کی دبیز تہ نے فضا پر قبضہ کرلیا، ساتھ ہی تیز اور یخ بستہ ہوا بھی شروع ہوگئی جو رات بھر جاری رہی۔ ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۱۴؍ اور کم سے کم ۴ درجہ سینٹی گریڈ تھا۔
منگل کو دن کے پہلے وقت میں دُھند موجود رہی جبکہ دوپہر سے شا م تک سورج نے دھوپ بکھیرے رکھی۔ بدھ کو بھی کچھ ایسا ہی موسم تھا۔ لوگوں نے دوپہر کے وقت دھوپ کا بہت لطف اٹھایا۔ شام کے وقت دُھند نے پھر اپنے پَر پھیلا لیے اور ساری رات دُھند کی گہری تہ فضا میں معلّق رہی۔ جمعرات کو فجر کے وقت خوب دُھند موجود تھی، ساتھ یخ ہوا بھی رواں دواں تھی۔ دن بارہ بجے کے قریب کچھ دیر کے لیے ہلکی دھوپ نکلی لیکن شام سے ہی سردی آموجود ہوئی۔ ساری رات شدید دُھند پڑتی رہی۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۱۴؍ اور کم سے کم ۵؍ درجہ سینٹی گریڈ رہا۔ (ابو سدید)




