متفرق مضامین

فیشن پرستی کی اندھادھند تقلید(حصہ دوم۔ آخری)

[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍دسمبر۲۰۲۵ء]

اندھا دھند فیشن کی تقلید میں انسان اپنا اصل مقصدحیات بھول گیا ہے۔ خدا اور اس کے رسول کے احکامات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں مصروف ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۰۶ء کے موقع پر مستورات سے خطاب کرتے ہوئے ہمیں اس طرف یوں توجہ دلائی: پس ہر احمدی عورت ہمیشہ اِس بات کو مدنظر رکھے کہ لہو و لعب ،فیشن پرستی اور دنیاداری کے پیچھے نہیں چلنا بلکہ دائمی جنت کا وارث بننے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکے احکامات پر عمل کرنا ہے۔اس کی عبادت کرنی ہے۔ اور شیطانی حملوں سے بچنے کے لئے بہت دعا کرنی ہے۔ہر احمدی عورت کا ایک تقدس ہے اس لئے کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آپ کے تقدس پر حرف آتا ہو بلکہ اپنی زندگیوں میں پاک روحانی انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے پردہ کا حکم دیا ہے اس کی پابندی کریں۔اللہ کے کسی حکم کو کم اہمیت کا حکم نہ سمجھیں آپ کے عمل صالح دعوت الیٰ اللہ کے لحاظ سے بھی۔ نومبائعین اور آپ کی آئندہ نسلوں کے لئے بھی مفید ثابت ہوں گے۔پس عبادت پر زور دیں۔قرآن سیکھیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔کبھی احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں بلکہ احساس برتری کی سوچ پیدا کریں۔اپنے مقصد پیدائش کو ہمیشہ مدنظر رکھنے، اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔پس اس نعمت عظمی یعنی احمدیت کی قدر کریں اور اپنے پیچھے ایسی نسل چھوڑیں جو اللہ کے احکامات پر عمل کرنے والی ہو۔ (الفضل ۲؍اگست ۲۰۰۶ء)

سوچنے کی بات ہے اگر ہم فیشن کی دوڑ میں آگے نکل بھی گئے تو کیا کریں گے؟ کیا ہم اس عمل سے خدا کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ اسلام ایک کامل مذہب ہے جس پر انسان چل کر کبھی ٹھوکر نہیں کھا سکتا بلکہ خدا کاقرب محبت اور رضا حاصل کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔ (آل عمران:۳۲) یعنی تو کہہ دےاگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تومیری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرےگا،اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔

اس آیت میں اعلان کرنے کا کہا گیا ہے کہ آنحضورﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرو۔ آپﷺ کے نقش قدم پر چلو۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ فیشن کے معنے ہیں طریق اور زندگی بسر کرنے کا راستہ۔ ظاہر ہے کہ راستہ مقرر کرنے والے خاص لوگ ہوتے ہیں… جس طرح اس ظاہری لباس کے فیشن کی ایجاد کے لیے چند لوگ ہوتے ہیں روحانی زندگی کے فیشن کے لیے بھی چند لوگ ہوتے ہیں۔ یہ غلط خیال ہےکہ فیشن عام لوگوں کے رواج کا نام ہے بلکہ فیشن کے موجد عام لوگ نہیں ہوتے۔ طرح روحانی زندگی میں بہت سے لوگوں کی پیروی نہیں کی جاتی بلکہ چند کی اور وہ انبیاء و رسل اور اولیاء ہوتے ہیں۔

حیرت ہے کہ لباس میں تو فیشن کی پیروی کی جاتی ہے۔… مگر روحانیت میں ایسا نہیں کیا جاتا بلکہ الٹی جہلاء کی پیروی کی جاتی ہے۔اگر یہ دیکھا جائے کہ خدا اور اس کے رسول اور رسول اور اولیاء نے کیا طریق مقرر کیا ہے تو ان کو زندگی کو مصیبتوں سے نجات ہو جائے۔ مگر لوگ اس کی پابندی نہیں کرتے۔ …پس مومن کو چاہیے کہ زندگی کا فیشن مقرر کرنے کے لئے ان لوگوں پر نظر کرے جو اس فن کے ماہر اور واقف ہیں اور وہ انبیاء، رسل اور اولیاء و صلحاء ہوتے ہیں۔جو شخص اہل فنون کو چھوڑ کر ناواقفوں کے پیچھے چلتا ہے دکھ اٹھاتا ہے۔ زندگی کو مبارک اور بآرام کرنے کے لئے ان کی ضرورت ہے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اس بات کو نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی فیشن میں ہے حالانکہ فیشن میں کوئی زندگی نہیں۔ اصل زندگی تو اس فیشن میں ہے جو دین کا فیشن ہے اس میں نہیں ہے جس کےمتعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرمایا کہ یہ زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں پس زندگی کا فیشن توہم آنحضرت ﷺ سے سیکھیں گے نہ کہ کسی اور سے۔(خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ۳۶۷)

یہ چار دن کی زندگی فیشن کرنے یا اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نہیں ملی بلکہ یہ زندگی ایک امتحان ہے، آزمائش ہے کہ کون آخرت کی بہترین تیاری کرنے والا ہے؟کون خدا کی رضا اور خوشنودی کو اہمیت دیتا ہے؟

اللہ تعالیٰ ہم احمدی عورتوں اور بچیوں سب کو آنحضرتﷺ کے نقش قدم پر چلنے والا اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے والا بنائے۔آمین

(فہمیدہ بٹ۔ رُوسلزہائم۔ جرمنی)

مزید پڑھیں: فیشن پرستی کی اندھادُھند تقلید(حصہ اول)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button