خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ نیٹو گذشتہ بیس برسوں سے ڈنمارک کو گرین لینڈ میں روسی سرگرمیوں کے حوالے سے خبردار کرتا آ رہا ہے لیکن ڈنمارک اس خطرے کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے، اور یہ اب ہو کر رہے گا۔واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل بھی بارہا کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ کی ملکیت کے سوا کسی سمجھوتے پر راضی نہیں ۔ دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے واضح طور پر کہا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور نہ ہی وہ امریکہ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔
٭…امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس نے ایران میں حالیہ فسادات کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران میں ایک غیرمعمولی اور پُرتشدد کھیل جاری ہے جبکہ خریدا ہوا امریکی مین اسٹریم میڈیا ایرانی حکومت پر معیشت کا کنٹرول کھونے کا الزام عائد کرتا ہے۔ جیفری ساکس کے مطابق امریکی میڈیا یہ حقیقت چھپاتا ہے کہ ایرانی معیشت کو تباہ کرنے والا خود امریکہ ہے اور عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران میں رجیم چینج ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی اس موقف کی حمایت کی۔
٭…افغان شرپسند وسطی ایشیا کے بعد یورپ کے لیے بھی سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ جرمن شہر میونخ میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے والے افغان شہری کے خلاف مقدمہ شروع کر دیا گیا، جس پر دو قتل اور ۴۴؍قتل کی کوشش کے الزامات ہیں۔ اس حملے میں ایک ماں بیٹی ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک ماہ قبل آشفن برگ میں ایک اور افغان شہری نے چاقو سے حملہ کر کے دو افراد کو ہلاک کیا تھا۔ جرمن چانسلر نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ برس واشنگٹن میں بھی افغان دہشتگرد کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
٭… شام کی حکومت اور کرد قیادت رکھنے والی تنظیم سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شامی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت ایس ڈی ایف دریائے فرات کے مغرب میں موجود علاقوں سے اپنی فورسز واپس بلائے گی اور اس کے جنگجو سیرین فوج (شامی فوج) میں ضم ہو جائیں گے۔شامی صدر احمد الشرع نے اعلان کیا کہ حکومت تین اہم صوبوں الحسکہ، دیر الزور اور رقہ میں ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالے گی جو اب تک ایس ڈی ایف کے زیرِ انتظام تھے۔ معاہدے کے بعد تمام سرحدی گزرگاہوں، تیل اور گیس کے میدانوں کا کنٹرول بھی دمشق کو منتقل ہو جائے گا۔معاہدے کے مطابق داعش کے قیدیوں اور کیمپوں کی نگرانی کرنے والا ایس ڈی ایف کا انتظامی ڈھانچہ بھی شامی ریاست میں شامل کر دیا جائے گا جس کے بعد ان کی مکمل قانونی اور سیکیورٹی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔




