ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۳)
فرمایا:’’انسان کو چاہیے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہؓ کی زندگی کا ہر روز مطالعہ کرتا رہے۔ وہ تو ایسے تھے کہ بعض مر چکے تھے اور بعض مرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ میں سچ سچ کہتاہوں کہ اس کے سوائے بات نہیں بن سکتی۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ کنارہ پر کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں تاکہ ابتلا دیکھ کر بھاگ جائیں وہ فائدہ نہیں حاصل کر سکتے۔ دنیا کے لوگوں کی عادت ہے کہ کوئی ذرا سی تکلیف ہو تو لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتے ہیں اور آرام کے وقت خداتعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔کیا لوگ چاہتے ہیں کہ امتحان میں سے گذرنے کے سوائے ہی خدا خوش ہو جائے ۔خدا تعالیٰ رحیم کریم ہے۔ مگر سچا مومن وہ ہے جو دنیا کو اپنے ہاتھ سے ذبح کردے۔ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔ ابتدا میں مومن کے واسطے دنیا جہنم کا نمونہ ہوجاتی ہے۔ طرح طرح کے مصائب پیش آتے ہیں اور ڈراؤنی صورتیں ظاہر ہوتی ہیں تب وہ صبر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ اُن کی حفاظت کرتا ہے ۔؎
عشق اول سرکش و خونی بود
تا گریزد ہر کہ بیرونی بود
جوخدا تعالیٰ سے ڈرتاہے اس کے لئے دو جنت ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رضا کے ساتھ جو متفق ہوجاتاہے خدا تعالیٰ اس کو محفوظ رکھتاہےاور اس کو حیاۃ طیبہ حاصل ہوتی ہے۔اس کی سب مرادیں پوری کی جاتی ہیں۔مگر یہ بات ایمان کےبعد حاصل ہوتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۱۸۵-۱۸۶ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ میں آمدہ فارسی شعر جلال الدین محمد بلخی معروف بہ مولانا،مولوی و رومی کا ہے۔
عِشْق اَوَّل سَرْکَشْ وخُوْنِی بُوَدْ
تَاگُرِیْزَدْ ہَرْ کِہ بِیْرُوْنِی بُوَدْ
ترجمہ: شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے، تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔
مولوی رومی کے دیوان میں ایک شعر اس طرح بھی ملتا ہے۔
عِشْق اَزْ اَوَّل سَرْکَشُ وخُوْنِی بُوَدْ
تَاگُرِیْزَدْ آنْکِہ بِیْرُوْنِی بُوَدْ
یعنی عشق شروع سے ہی بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے،تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔
مثنوی میں مولانا نے اس مضمون کو اس طرح بھی بیان کیا ہے ۔
عِشْق اَزْ اَوَّل چِرَا خُوْنِی بُوَدْ؟
تَا گُرِیْزَدْ ہَرکہ بِیْرُوْنِیْ بُوَدْ
ترجمہ :شروع میں عشق کیوں منہ زور اور خونخوا ر ہوتا ہے تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے۔
لغوی بحث: عِشْق(عشق) اَوَّل(شروع میں) سَرْکَشْ (منہ زور) و(اور) خُوْنِی(خونخوار)بُوَدْ (ہوتاہے، بودن ہونا) مصدرسے،مضارع سادہ سوم شخص مفرد۔ تَا(تا) گُرِیْزَدْ (بھاگ جائے،گریختن(بھاگنا) مصدر سے مضارع سادہ سوم شخص مفرد) ہَرْکِہ(جوکوئی) بِیْرُوْنِی(تماشائی) بُوَدْ (ہوتا ہے، بودن(ہونا) مصدر سے مضارع سادہ سوم شخص مفرد)
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر ۲۱۲)



