صنعت وتجارت
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں: ’’جہاں تک ہماری تعلیم کا تعلق ہے، ایک آدمی مثلاً بی اے ہے۔ بی اے کے بعد ہر کوئی کہتا ہے ،مجھے نوکر کروا دو، یہ غلط بات ہے۔ اس سے سستی اور کم ہمتی کی فضا پیدا ہوتی ہے اور یہ فضا غیر ملکیوں نے پیدا کی تھی ،انگریز نے پیدا کی تھی۔ اس کو اپنے کام کے لیے کلرک چاہیے تھا۔ چنانچہ اس نے بابو صاحب کہہ کر ہر ایک کو با بو بنا دیا۔ اس زمانے میں بابو کی بڑی عزت ہوتی تھی۔ ہماری قوم بڑی خوش تھی کہ جی ہم انگریز کے بڑے ممنون ہیں، اس نے ہمیں بابو بنا دیا، اس نے ہمیں کلرک بنا دیا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے بعد بھی اور اب ہم آزاد ہو کر پھر بھی اس ڈگر پر چلے جاتے ہیں۔ یہ تو ٹھیک نہیں ۔ مجھے تو ایساہزار بی۔اے اور ایم ۔اے چاہیے، جوہل کے پیچھے ہو۔ اپنا ٹریکٹر چلائے اور وہ ایک ایکڑ میں سے زیادہ فصل حاصل کرے۔ ایک بی اے پاس اس وقت میرےسامنے بیٹھا ہوا ہے، یہ کالج میں میرا شاگرد تھا۔ یہ اب بڑی اچھی طرح سے اور سمجھ کے ساتھ زمینداری کر رہا ہے ۔ پس ایسے بی اے اور ایم اے چاہئیں کہ جن کے پاس اگر ٹریکٹر یا دوسری مشینی چیزیں ہوں تو وہ ان کو سنبھالیں اور ان سے فائدہ اٹھا ئیں ۔‘‘ (مجلس مشاورت ۱۹۷۱ء)
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




