نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۶؍مارچ ۲۰۲۶ء بروز جمعرات بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم ناصر احمد بھنوں صاحب ا بن مکرم ید اللہ بھنوں صاحب (ساؤتھ ہال۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم ناصر احمد بھنوں صاحب ا بن مکرم ید اللہ بھنوں صاحب( ساؤتھ ہال۔یوکے)
20؍مارچ 2026ء کو 78 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم 1948ء میں ماریشس میں پیدا ہوئے۔ آپ کی فیملی میں احمدیت آپ کے دادا کے ذریعہ آئی جنہوں نے 1909ء میں بیعت کی۔ آپ کے والد مکرم ید اللہ بھنوں صاحب کو بطور امیر جماعت فرانس خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم 14 سال کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ یو کے آئے اوریہیں پر تعلیم حاصل کی۔آپ یوکے جماعت کے ابتدائی احمدیوں میں شامل تھے۔ آپ شروع سے ہی جماعتی کاموں میں دلچسپی لیتے رہے۔ وقار عمل میں بھی بھر پور حصہ لیتے اور جلسہ سالانہ پر لنگر خانہ میں ڈیوٹی بھی دیتے رہے۔ خدمت خلق کا بڑاجذبہ تھا۔ ہیومینٹی فرسٹ میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔ بہت خوش اخلاق اور ملنسار طبیعت کے مالک ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں جو کسی نہ کسی رنگ جماعت کی خدمت کررہے ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکر مہ امۃ النصیر نیاز صاحبہ (آف قادیان)
23؍فروری 2026ء کو 71 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، دعا گو، خاموش طبع، خلافت اور سلسلہ احمدیہ سے گہرا تعلق رکھنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ کچھ عرصہ نصرت گرلز سکول قادیان میں تدریس کے فرائض انجام دیتی رہیں اور کئی سال تک قادیان میں ناصرات الاحمدیہ کی کلاسز بھی لیتی رہیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔آپ مکرم عبدالوکیل نیاز صاحب (نائب ناظر اصلاح وارشاد جنوبی ہند) کی بڑی ہمشیرہ تھیں۔ آپ کے بیٹے مکرم سفیر احمد بھٹی صاحب جامعہ احمدیہ قادیان میں بطور اُستاد خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۲۔مکرم عابد احمد صاحب ابن مکرم چودھری ناصر احمد صاحب (گھٹیالیاں کلاں ضلع سیالکوٹ)
10؍جنوری 2026ء کو 46سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ نے اپنی جماعت میں سیکرٹری تحریک جدید کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ 2012ء میں احمدیہ مسجد کے مقدمہ کے سلسلہ میں اسیر بھی رہے۔ غرباء کی دل کھول کر مالی خدمت کرنے والے،بڑے خدا ترس، کم گو، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ مقامی قبرستان کے لیے آپ نے دو ایکڑ زمین خرید کر جماعت کو دی۔ اسی طرح مسجد کی تعمیر کے دوران بھی نمایاں خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔آپ کے بھتیجے مکرم اسامہ حامد صاحب … اور ایک بھانجےمکرم سفیر احمد صاحب …خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۳۔مکرم شیخ سلطان احمد علیانہ صاحب ابن مکرم شیخ بشارت احمد علیانہ صاحب (ربوہ)
17؍جنوری 2026ء کو 60سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے دادا مکرم شیخ امام دین صاحب نے 1915ء میں قادیان جاکر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرکے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، چندوں میں باقاعدہ، سب رحمی رشتوں کا خیال رکھنے والے، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ گہرا وفا اور اخلاص کا تعلق تھا۔ جب گھر میں ٹی وی آیا تواس وقت سے لے کر آخر وقت تک نہ صرف خود باقاعدگی سے MTA دیکھتے رہے بلکہ بچوں کو بھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔حضور انور کا خطبہ جمعہ ایک سے زیادہ مرتبہ سنا کرتےتھے۔ آپ کے سب بچے تحریک وقف نو میں شامل ہیں اور ہمیشہ یہ سوچ کر ان کو پڑھایا لکھایا اور ان کی ہرضرورت کا خیال رکھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا اور دعوت الی اللہ کا کام بہت خوش ہو کر کیا کرتے تھے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم حافظ فرید احمد ناصر صاحب (مربی سلسلہ) اس وقت چین میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۴۔مکرمہ ارشاد بی بی صاحبہ (دار الصدر شمالی انوار ربوہ)
11؍دسمبر 2025ء کو 68سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کے والد حضرت حکیم محمد دین سیالکوٹی صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جوکہ بیعت کے بعد جلد ہی سیالکوٹ سے ہجرت کرکے سند ھ چلے گئے۔ مرحومہ کی پیدائش وہیں کی ہے اور وہیں پلی بڑھیں۔ 2019ء میں ربوہ شفٹ ہو گئیں اور آخری ایام وہیں گزارے۔ آپ اپنے گاؤں کے بچوں کو قرآن کریم پڑھاتی رہیں۔ مرحومہ پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، سادہ مزاج، ملنساراور دعا گو خاتون تھیں۔ چندہ جات میں با قاعدہ تھیں۔ خلافت سے والہانہ عشق کا تعلق تھا۔ اپنی اولاد کو بھی جماعت اور خلافت سے جُڑے رہنے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ پسماندگان میں خاوند کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
۵۔مکرم شریف امین صاحب (آف الجزائر)
دسمبر 2025ء میں90 سال كی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ جماعت الجزائر کے ابتدائی بیعت كرنے والوں میں سے تھے اور سب سے معمر احمدی تھے۔ آپ کا تعلق فلسطین سے تھا لیکن کئی سال پہلے ہجرت کرکے الجزائر آ گئے تھے جہاں آ پ نے تعلیم کے شعبے میں کام کیا اور اسی پیشے سے وابستہ رہتے ہوئے ریٹائرمنٹ حاصل کی۔آپ اپنے خاندان میں اكیلے احمدی تھے۔ آپ کی اہلیہ اور بچے سب غیر احمدی ہیں۔مرحوم اچھے اخلاق كے مالك، بہت نیك، پارسا اور مخلص احمدی تھے۔ چندوں میں باقاعده تھے اور جب سيكرٹری مال چنده لینے جاتے تو مرحوم آئندہ کئی مہینوں کا چندہ بھی پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے۔ احمدیوں كو اپنے گھر میں نماز کے لیے بلاتے تھے اور احباب جماعت سے مل كر بہت خوش ہوتے تھے۔ تبلیغ كا شوق تھا اور مساجد میں جاکر لوگوں کو احمدیت کے بارے میں بتایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ احمدیت کے ایک معروف مخالف نے آپ كی تبلیغی مہمات كی وجہ سے ٹی وی پر بھی آپ کا ذکر کیا تھا۔ مرحوم اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک احمدیت کی تبلیغ كرتے رہے۔ آپ کی طبیعت میں دنیا سے بے رغبتی تھی اور ہر وقت تسبیح و تحمید اور استغفار اور نبی کریمﷺ پر کثرت سے درود بھیجتے رہتے تھے۔ اپنے آخری ایام میں آپ سمندر کے کنارے بیٹھنا اور قرآن کریم سننا بہت پسند کرتے تھے۔ جس کمرے میں رہتے تھے وہاں بھی آپ ٹیلی ویژن پر صرف ایم ٹی اے چینل دیکھتے اور قرآن کریم سنتے تھے۔
۶۔عزیزم Aiman Afiq bin Juzailiابن مکرم Juzaili Mohd Baser صاحب (ملائیشیا)
13؍جنوری 2026ء کو موٹر سائیکل کے حادثہ میں 17سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے والد نے جنوری 1998ء میں بیعت کی تھی۔مرحوم بڑے فرمانبراد، خدمت گزار، متحمل مزاج، اچھے اخلاق کے مالک ایک نیک فطرت نوجوان تھے۔ آخری رمضان میں نماز عشاء اور تراویح میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بہن اور تین بھائی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




