خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵؍نومبر ۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ حدیبیہ کےپس منظرکی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: حدیبیہ ایک کنویں کا نام تھا جس کی وجہ سے اس جگہ کا نام حدیبیہ پڑ گیا۔ آغازِ اسلام کے وقت یہ کنواں مسافروں ا ور حاجیوں کے کام آتا تھا لیکن کوئی آبادی نہیں تھی۔ حدیبیہ مکہ سے ایک مرحلے یعنی نو میل کے فاصلے پر واقع ہے اور مکہ سے مدینہ کا فاصلہ دو سو پچاس میل کے قریب ہے۔ ۔یہیں، حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں اور قریش کے مابین معاہدہ ہوا تھا جسےصلح حدیبیہ کہتے ہیں۔ روایت میں اسے غزوۂ حدیبیہ بھی کہا گیا ہے۔ایک روایت میں اسے غزوۂ تِہَامَہ بھی کہا گیا ہے۔ مکہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو شدید گرمی اور لُو کی وجہ سے تِہَامَہ کہتے تھے اس لحاظ سے اس کا نام تِہَامَہ بھی پڑگیا۔اس کی وجہ کیا تھی۔روایات اور تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک خواب کی بناپر سفرِ حدیبیہ اختیار کیا۔ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دکھایا گیا کہ آپؐ اپنے صحابہؓ کے ساتھ امن کی حالت میں اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بالوں کو کترواتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور یہ کہ آپ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے ہیں اور اس کی چابی لے لی ہے اور میدانِ عرفات میں وقوف کرنے والوں کے ساتھ وقوف کیا۔ آپؐ وہاں ٹھہرے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اہلِ عرب اور ارد گرد کے بادیہ نشین لوگوں کو بلایا تا کہ یہ سب لوگ آپؐ کے ساتھ نکلیں۔ اس سفر میں مسلمانوں کے پاس سوائے تلواروں کے کوئی اسلحہ نہیں تھا جو نیاموں میں تھیں، وہ بھی نیاموں میں تھیں تلواریں۔ تلوار اس زمانے میں گھر سے نکلتے وقت ہر شخص اپنے پاس رکھتا تھا۔ اس لیے اس کو یہ نہیں سمجھا جاتا تھا کہ جس کے پاس تلوار ہے وہ ضرور جنگ کرے گا۔ حضرت عمرؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اگر آپؐ کو ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے تو آپؐ نے جنگ کے لیے سازو سامان ساتھ کیوں نہیں لیا۔ آپؐ نے فرمایا: چونکہ میں عمرے کی نیت سے جا رہا ہوں اس لیے نہیں چاہتا کہ اپنے ساتھ ہتھیار لے کر چلوں۔حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیینؐ میں آپ ﷺ کی اس خواب کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح بیان کیا ہے کہ ’’آپؐ نے اس خواب کودیکھنے کے بعد اپنے صحابہ سے تحریک فرمائی کہ وہ عمرہ کے واسطے تیاری کر لیں۔ عمرہ گویا ایک چھوٹی قسم کا حج تھا جس میں حج کے بعض مناسک کو ترک کرکے صرف بیت اللہ کے طواف اور قربانی پر اکتفا کی جاتی تھی۔’’ جس میں مناسک کو تر ک کر کے صرف بیت اللہ کے طواف اور قربانی کی جاتی ہے۔ ‘‘اوربخلاف حج کے اس کے لیے سال کا کوئی خاص حصہ بھی معین نہیں تھا بلکہ یہ عبادت ہر موسم میں ادا کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر آپؐ نے صحابہ میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ چونکہ اس سفر میں کسی قسم کاجنگی مقابلہ مقصود نہیں ہے بلکہ محض ایک پُرامن دینی عبادت کابجا لانا مقصود ہے اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس سفر میں اپنے ہتھیار ساتھ نہ لیں بلکہ عرب کے دستور کے مطابق صرف اپنی تلواروں کو نیاموں کے اندر بند کر کے مسافرانہ طریق پر اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔‘‘

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ حدیبیہ میں مسلمانوں کی تعداداورروانگی کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: ایک روایت میں ہے کہ ایک ہزار سے کچھ اوپر صحابہؓ تھے۔ ایک روایت میں ہے ایک ہزار تین سو تھے اور ایک روایت میں ہے کہ ایک ہزار چار سو تھے۔ الغرض سترہ سو تک تعداد کی روایت بھی بیان کی جاتی ہے یعنی ایک ہزار سے لے کر سترہ سو تک مختلف روایتیں ہیں۔جب روانگی کا وقت آیا تو قربانی کے جانور حضرت ناجِیَہ بن جُنْدُبْ اَسْلَمِیؓ کے سپرد کر دیے گئے جو انہیں ذوالحلیفہ لے گئے۔ ذوالحلیفہ بھی مدینہ سے چھ یا سات میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے۔سفر پر نکلنے پر مدینہ میں آنحضرت ﷺ ہمیشہ قائمقام یا امیر مقامی مقرر کیا کرتے تھے۔ اس سفر پر نکلنے سے پہلے آپؐ نے ابن سعد کی روایت کے مطابق مدینہ پر حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ کو نائب مقرر کیا۔ جبکہ ابن ہشام کی روایت ہے کہ حضرت نُمَیْلَہ بن عبداللہ ؓکو نائب مقرر کیا گیا اور بَلَاذُرِی نے حضرت اَبُو رُھْم کُلْثُوم بن حُصَین کا ذکر کیا ہے اور بعض کے نزدیک حضرت ابن امّ مکتوم کو امام الصلوٰة مقرر کیا اور باقی سب کو نائب مقرر کیا۔ مختلف روایتیں ہیں۔آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی سفر کے لیے تیاری اور روانگی کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ اعلان کرنے کے بعد اپنے گھر میں داخل ہوئے اور غسل کیا اور صُحَارْ کے بنے ہوئے دو کپڑے پہنے۔ صُحار یمن میں ایک بستی ہے اور اس کے کپڑے اچھے ہوتے تھے۔ اور پھر اپنے دروازے کے پاس آپؐ باہر آئے اور اپنے دروازے کے پاس اپنی اونٹنی قَصوَاء پر سوار ہوئے۔ اس سفر میں آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سَلَمہؓ آپؐ کے ساتھ تھیں۔رسول اللہ ﷺ ذوالقعدہ کے شروع میں پیر کے دن روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر وہاں ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر قربانی کے جانور منگوائے جن کی تعداد ستّر تھی۔ ان کو گانیاں یعنی ہار پہنائے۔ پھر آپؐ نے کچھ اونٹوں کو اِشْعَار کیا یعنی ان کی کوہان کو نشان لگایا تا کہ معلوم ہو جائے کہ یہ قربانی کے اونٹ ہیں۔ پھر آپؐ نے حضرت نَاجِیَہ بن جُنْدُبؓ کو حکم دیا تو انہوں نے باقی جانوروں کا اِشعار کیا، ان پہ بھی نشان لگائے گئے اور ان کو ہار پہنا دیے۔ باقی مسلمانوں نے بھی اپنے جانوروں کو ہار پہنائے اور اِشعار کیا۔ مسلمانوں کے پاس اس سفر میں دو سو گھوڑے تھے۔آنحضرت ﷺ کے احرام باندھنے کے بارے میں تفصیل اس طرح ملتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ کی مسجد کے دروازے سے سوار ہوئے۔ آپؐ نے عمرہ کا احرام باندھا تا کہ لوگ جان لیں کہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے نکلے ہیں۔ پھر آپؐ نے یہ تلبیہہ پڑھا۔لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ۔اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ۔

سوال نمبر۳: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے غزوہ حدیبیہ میں وقوع پذیر ہونےوالےمعجزہ کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس واقعہ کو تاریخ کی کتابوں سے لے کر اس طرح بیان کیا ہے کہ دورانِ سفر… ایک وقت ایسا آیا تھا کہ سوائے اس لوٹے کے جو آنحضرت ﷺ کے زیر استعمال تھا ہر برتن پانی سے خالی ہو گیا تھا۔ اس موقع پر آپؐ نے صحابہؓ کی طرف سے پانی کی شکایت ہونے پر اپنے لوٹے کے منہ پر اپنا دست مبارک رکھا اور لوٹے کے منہ کو جھکاتے ہوئے صحابہ سے فرمایا کہ اب اپنے اپنے برتن لاؤ اور بھر لو۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اس وقت آپؐ کی انگلیوں کے اندر سے پانی اس طرح پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہا تھا کہ گویا ایک چشمہ جاری ہے۔ حتیٰ کہ سب نے اپنی ضرورت کے مطابق پانی لے لیا اور مسلمانوں کی تکلیف جاتی رہی۔’’حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں‘‘درجہ لقاء میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الٰہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں … بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت ﷺ نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔ کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کر دیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا۔ اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا۔ اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کردیا۔ ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الٰہی مخلوط تھی۔‘‘

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے کفار کے لشکر تیارکرنے اور آنحضرتﷺکی صحابہؓ سے مشاورت کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: قریش نے اس بات کا علم ہوتے ہوئے کہ مسلمان جنگ کے لیے نہیں بلکہ بیت اللہ کی زیارت کے لیے آ رہے ہیں، مسلمانوں کو مکہ سے روکنے کا فیصلہ کیا اور ہر وہ شخص جو تلوار اٹھا سکتا تھا مسلمانوں کو روکنے کے لیے نکل آیا۔ باوجود اس کے ان کو پتہ تھا کہ جنگ کے لیے نہیں آ رہے اور اپنے حلیفوں کو ساتھ ملا کر آٹھ ہزار کا لشکر تیار کر کے مکہ کے مغربی جانب ایک وادی بَلدَح میں پڑاؤ ڈال لیا اور خالد بن ولید کو دو سو سواروں کے ساتھ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کا راستہ روکنے کے لیے عُسْفَان سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک وادی کُرَاعُ الغَمِیم بھیج دیا۔حضرت مِسْوَرْ بن مَخْرَمہ اور مَرْوَان بن حَکَم سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عُسفان کے قریب اَشْطَاطْ کے تالاب پر پہنچے تو آپؐ کا سراغ رساں آپؐ کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ قریش نے آپؐ کے لیے بہت بڑا لشکر جمع کیا ہے اور آپ کے لیے متفرق قبیلوں کو جمع کیا ہے اور وہ آپؐ سے لڑنے والے ہیں اور آپؐ کو بیت اللہ سے روکنے والے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا :اے لوگو !مجھے مشورہ دو۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ جو لوگ ہمیں بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں میں ان کے اہل و عیال اور بال بچوں سب پر چڑھائی کروں اور اگر وہ ہماری طرف آئیں تو ہم انہیں شکست خوردہ چھوڑ دیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ !آپؐ بیت اللہ کا عزم کر کے نکلے تھے، آپؐ نے کسی کو مارنے کا ارادہ نہیں کیا اور نہ کسی سے لڑنے کا۔ اس لیے آپؐ اسی گھر کی طرف چلیں۔ جس نے ہم کو اس سے روکا ہم اس سے لڑیں گے۔یعنی کہ ہمیں تو اپنا کام کرتے رہنا چاہیے۔ سفر جاری رکھنا چاہیے۔ حضرت اُسَید بن حُضَیر ؓنے حضرت ابوبکر ؓکی اس بات سے اتفاق کیا۔ حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت مِقْدَادؓ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم !یارسول اللہ ﷺ ! ہم آپؐ سے وہ بات نہیں کہتے جو بنی اسرائیل نے اپنے نبی موسیٰ سے کہی تھی کہ تُو اور تیرا رب جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یا رسول اللہ! آپؐ جائیں۔ آپؐ اور آپؐ کا ربّ قِتَال کریں ہم بھی آپؐ کے ساتھ قتال کریں گے۔حضرت مصلح موعود ؓ نے اپنے انداز میں اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’مکہ والوں کو پتہ لگ گیا۔ وہ لشکر لے کر آگئے اور انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم کو یہاں آنے کی کِس نے اجازت دی ہے؟ انہوں نے کہا ہم لڑنے کے لیے تو نہیں آئے۔ صرف اِس لیے آئے ہیں کہ عمرہ کر لیں۔ یہ مقام تمہارے نزدیک بھی برکت والا ہے او رہمارے نزدیک بھی۔ ہم اس کی زیارت کے لیے آئے ہیں۔ لڑائی کے لیے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا طواف کا سوال نہیں۔‘‘کافروں نے انکار کر دیا۔ ’’ہماری تمہاری لڑائی ہے۔اگر تم مکہ آئے اور طواف کر گئے توتمام عرب میں ہماری ناک کٹ جائے گی کہ تمہارا دشمن آکر تمہارے گھر میں طواف کرگیا ہے۔ ہم ساری دنیائے عرب کو اجازت دے سکتے ہیں مگر تم کو نہیں دے سکتے۔‘‘

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے سینٹرل ایسٹ ریجن سے تعلق رکھنے والےاحباب کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button