از افاضاتِ خلفائے احمدیت

تجسّس کی ممانعت اور نیک ظنّی کا حکم

رسول کریمﷺ تجسّس سے منع فرماتے تھےاور ایک دوسرےپر نیک ظنی کا حکم دیتے رہتے تھے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ فرمایاکرتے تھے کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سب سے بڑا جھوٹ ہےاور تجسّس نہ کرو اور لوگوں کے حقارت سے اَور نام نہ رکھا کرو اور حسد نہ کیا کرو اور آپس میں بغض نہ رکھا کرواور سب کے سب اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے بندے سمجھواور اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھوجس طرح خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔

پھر فرماتے: یاد رکھو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہےنہ وہ اس پر ظلم کرتاہے نہ مصیبت کے وقت اس کا ساتھ چھوڑتاہےنہ مال یا علم یا کسی اور چیز کی کمی کی وجہ سےاس کو حقیر سمجھتاہے۔ تقویٰ انسان کے دل سے پیدا ہوتاہے اور انسان کو گندا کردینے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے۔ اور ہرمسلمان کا اس کے دوسرے مسلمان بھائی کے خون اور اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ جسموں کو نہیں دیکھا کرتا نہ صورتوں کو دیکھتا ہے نہ تمہارے اعمال کی ظاہری حالت کو دیکھتا ہےبلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتاہے۔ (ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ ۴۰۱-۴۰۲)

(مرسلہ تابندہ بشریٰ ۔ آئیوری کوسٹ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button