میرے محسن، میرے میر صاحب
استاذی المکرم سید میر محمود احمد ناصر صاحب کی یادوں کو لکھنا ایک مشکل کام ہے۔ کس پہلو کو بیان کیا جائے او رکسے چھوڑا جائے۔ آپ کی شخصیت سمندر کی لہروں کی مانند تھی ۔ کس لہر کوزیادہ حسین اور کسے زیادہ طاقتور کہا جائے۔ تلاطم خیزی کا بیان ہو کہ سکوت بحر سے لطف اندوز ہوں۔ تا حد نظر سمندر کی وسعتوںمیں کھو جائیں کہ کنارے کے ساتھ عاجزی سے اٹھکیلیاں کرتی لہروں کے ٹوٹتے زور کے معصومانہ انداز کو دیکھیں۔

خوش نصیب ہوں کہ سات سال براہ راست آپ کی شاگردی میں رہ کر اکتساب علم کی سعادت ملی تو جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بھی رابطہ قائم رہا۔ میدانِ عمل میں آنے کے تیسرے سال ہی عوامی جمہوریہ کونگو میں تقرری ہوگئی تو پھر آپ سے رابطہ خط، فون ، رخصت پرپاکستان جانے کے وقت اور جلسہ ہائے سالانہ برطانیہ پر ملاقات کی صورت میں جاری رہا۔ ہر بار شفقت سے ملتے۔ چند لمحوں میں کوئی نصیحت کر دیتے جس میں اللہ، رسول کی محبت اور خلافت کی اطاعت نمایاں ہوتی۔
میں تو پچانوے سال کی عمر میں بھی کام کر رہا ہوں: آپ سے آخری ملاقات بلکہ دیدار نومبر۲۰۲۴ء کے آخری عشرے میں آپ کے گھر میں ہوا۔ سیدنا حضرت امیر المومنین اید ہ اللہ کی خصوصی شفقت سے والد صاحب کی عیادت کے لیے میدان عمل سے پاکستان جانے کی اجازت عنایت ہوئی تو اپنے محسن اور باپ جیسا رتبہ رکھنے والے استاد محترم میر صاحب کے ہاں حاضر ہونے کا موقع بھی نکل آیا۔
صبح دس بجے ملاقات کا وقت عنایت ہوا تھا۔ وقت مقررہ سے پانچ منٹ پہلے پہنچ کر اطلاع کروائی تو ارشاد ہوا ’’ملاقات کا وقت دس بجے ہے۔ انتظار کریں‘‘۔ پھر ایک منٹ بعد ہی بلالیا۔ واہ ! اس انکار اور پھر فوری اقرار میں ایک گہرا سبق تھا۔ کمرے میں داخل ہوا تو بستر پر نیم دراز، لیکن چاک وچوبند، آخری سانس تک خدمت دین میں مصروف رہنے کی عملی مثال میرے سامنے تھی۔ جامعہ کے ایک استاد حدیث کا ترجمہ سنا رہے تھے اور میر صاحب محترم اصلاح فر ما رہے تھے۔
تین سال پہلے ۲۰۲۱ء میں حاضر خدمت ہوئے تھے تو اس وقت صحت بہت بہتر تھی۔ اب کمزوری کی حالت میں دیکھا تو فکر ہوئی۔ محسوس ہوا جیسے یہ آخری ملاقات ہو۔ چند ماہ بعد ہی یہ اندیشہ درست ثابت ہوا۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون
آپ نے جامعہ احمدیہ برکینا فاسو اور بچوں کا حال دریافت کیا۔ ابا جان کے لیے دعا کی درخواست کی تو کہنے لگے وہ کیا کرتے ہیں؟ کہا ابا جان کی عمر چورانے سال ہے۔ بیمار بھی ہیں۔ اب تو کچھ نہیں کرتے۔ فرمانے لگے میری عمر پچانوے سال ہے دیکھ لو میں توکام کر رہا ہوں۔ وہ کیوں نہیں کرتے؟
میر صاحب !آپ تو ایک خاص وجود تھے اور آخری لمحہ تک خدمت کرتے رہنے کی گارنٹی خلیفہ وقت کی دعا کی صورت لے رکھی تھی کوئی اور آپ جیسا کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ کے لیے تو خلیفہ وقت نے ان الفاظ میں گواہی دی ’’مجھے تو کم از کم ان جیسی کوئی مثال ابھی نظر نہیں آتی۔ ‘‘(خطبہ جمعہ ۱۶؍مئی۲۰۲۵ء)
جاؤ جا کر کسی گاؤں میں چودھراہٹ کرو: محترم میر صاحب کی یاد ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے۔اگست ۱۹۹۳ء کےایک گرم دن کی پہلی ملاقات سے لے کر آج تک شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جس میں کسی نہ کسی پہلو سے آپ کی یاد اور ذات کا حوالہ موجود نہ ہو۔ میرے لیے آپ وہ انسان تھے جس نے مجھے ڈھنگ سے اٹھنا بیٹھنا سکھایا۔ جس کی شفقتیں گذشتہ بتیس سالوں پر محیط ہیں اور آخری سانس تک زندگی آپ کی عنایات کی مقروض ہے۔ اگر میر صاحب نہ ہوتے تو میرا مربی بننا تو کجا، جامعہ میں داخلہ ملنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ یہ میر صاحب ہی تھے جنہوں نے انٹرویو بورڈ کے ممبران کو قائل کیااور مجھے جامعہ میں داخلہ دے کر خدمت دین کا موقع عطا فرمایا۔

اگست ۱۹۹۳ء کا ایک دن ہے۔ جامعہ میں داخلہ کے خواہش مند بیسیوں امیدوار تحریری امتحان کے بعد باری باری میر صاحب کے دفترمیں انٹرویو کے لیے جا رہے ہیں۔ اپنی باری پر میں بھی حاضر ہوتا ہوں۔ سامنے ایک نفیس، منحنی ساوجود دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرتا ہے۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے میر صاحب نے مجھے میرے بائیں بازو سے پکڑا اور گویا ہوئے:’’باجوے ہو باجوے؟‘‘
عرض کیا جی۔
کہنے لگے جاؤ جا کر کسی گاؤں میں چودھراہٹ کرو۔ یہاں کیا کرنے آئے ہو؟
میں آدھا جھکا ہوا۔ کچھ نروس۔ کچھ پریشان۔ خاموش کھڑ ا رہا۔
پھرفرمایا ’’یہاں تو خدمت کرنی ہے۔ کر لو گے۔‘‘عرض کیا۔ جی کر لوں گا۔ کہنے لگے ٹھیک ہے۔ بیٹھ جاؤ۔
گویا پہلا سبق ہی یہ دیا کہ اپنی اکڑپھوں اور چودھراہٹ نکال کر عاجزی کے ساتھ خدمت کرنے کا جذبہ ہے تو اس میدان میں آجاؤ۔
بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ دراصل آپ مجھے دیکھتے ہی جامعہ میں داخلہ دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
بیٹھنے کے بعد تلاوت کرنے کا کہا گیا۔ جس میں یقیناً غلطیاں تھیں۔ کہا نقل اچھی اتار لیتے ہو لیکن قرآن پڑھنا نہیں آتا۔ ان دنوں جامعہ میں تحریری امتحان اور زبانی جائزے کے بعدتحریک جدید میں ایک اور بورڈ کے سامنے بھی انٹرویو کے لیے پیش ہونا ہوتا تھا۔
’’ نہیں۔ نہیں۔ قرآن پڑھنا آتا ہے اسے‘‘: تحریک جدید میں انٹرویو کے لیے حاضر ہوئے تو میر صاحب کے ساتھ دو اور بزرگان پر مشتمل بورڈ سامنے تھا۔ ایک معزز ممبر میرے ایک جواب پر خفاہوگئےاور پھر مجھ سے کہا کہ قرآن پڑھو۔ مکرم میر صاحب کو معلوم تھا کہ میں ناظرہ میں غلطیاں کروں گا اور اس وجہ سے نکال دیا جاؤں گا۔ آپ بجلی کی تیزی سے باقی دو ممبران بورڈ سےگویا ہوئے: ’’نہیں۔ نہیں۔ قرآن پڑھنا آتا ہے اسے۔‘‘
چنانچہ مجھ سے ناظرہ نہیں سنا گیا۔ انٹرویو ختم ہو گیا اور مجھےباہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس جائزے میں کامیاب قرار پانے والے امیدواروں کو طبی معائنہ کے لیے ایک رقعہ دیا جاتاتھا۔ لیکن مجھے ایسا کوئی رقعہ نہیں دیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جنہیں ہسپتال جانے کا رقعہ نہیں دیا گیا وہ انٹرویو میں کامیاب قرار نہیں پائے تھے۔
تحریک جدید گیسٹ ہاؤس سے نکل کر میں باہر کی جانب جارہا تھا کہ ایک کارکن دوڑتا ہوا آیا کہ مجھے دوبارہ اندر بلایا جا رہا ہے۔ چنانچہ حاضر ہوا تو مجھے فضل عمر ہسپتال جا کر میڈیکل کروانے کے لیے رقعہ دیا گیا۔ دراصل میرے باہر نکلنے کے بعد یہی وہ لمحہ تھا جس میں میرے محسن محترم میر صاحب نے باقی بورڈ ممبران کو قائل کر کے میری نسلوں پر احسان کیا۔ آج بھی یہ فقرات لکھتے ہوئے آنکھیں بھر آئیں اور میر صاحب کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا نکل رہی ہے۔
پہلے روز ہی کلاس سیکرٹری مقرر کر دیا: ۵؍ستمبر ۱۹۹۳ء ہمارا جامعہ میں پہلا دن تھا۔ کیسٹ کے پیریڈ کے بعد آپ ہال میں تشریف لائے۔ درجہ ممہدہ کے دو سیکشنز بنے تھے جن کے کلاس سیکرٹری مقرر ہونے تھے۔ ہمارے سیکشن کو کھڑا کیا تو میری طرف اشارہ کرتے ہوئے ’’آپ ‘‘ کہہ کر گاؤں سے آنے والے اس ’’باجوے ‘‘کو کلاس سیکرٹری نامزد کردیا۔ پھر یہ اعتماد سات سال تک قائم رہا۔
ایک یادگار ٹرپ: میر صاحب نے طلبہ میں ہائیکنگ کا شوق پیدا کرنے کےلیے جامعہ میں’’ مشاہدہ فطرت کلب‘‘ قائم کر رکھا تھا۔ اسی کے تحت ہماری کلاس نے ہائیکنگ پر جانا تھا اورہر طالب علم نے غالباًآٹھ صد روپے جمع کروانے تھے۔ میں میر صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ میں ہائیکنگ پر نہیں جانا چاہتا۔ آپ فوراً سمجھ گئے اور کہا پیسے نہیں ہیں؟ میں خاموش کھڑا رہا۔ آپ نے مددگارکو بلاکر اکاؤنٹنٹ کو پیغام بھجوایا کہ میرے کھاتے میں سے نعیم کو یہ رقم دے دی جائے۔ چنانچہ ہائیکنگ پر گئے اور میر صاحب کی بدولت آج تک وہ ایک یادگار ٹرپ ہے۔
شغل مغل سپورٹس ریلی اور اس کا انجام: ایک دفعہ درجہ خامسہ کے طلبہ نے بطور تفریح کھیل کا ایک پروگرام بنا لیا جس کا نام ’’ آل خامسہ شغل مغل سپورٹس ریلی ‘‘ رکھا گیا۔ انہوں نے اس ریلی کا مزاحیہ اشتہار بنایا اور جامعہ کی تمام کلاسز میں اعلان کروادیا۔ ہماری کلاس میں بھی درجہ خامسہ کےایک طالب علم وہ اشتہار دے گئے کہ کلاس میں پڑھ دیں۔ بطور کلاس سیکرٹری میں نے وہ اشتہار کلاس کو سنا دیا۔ اسی روز دوپہر کے کھانے کے بعد وہ مزاحیہ کھیلیں منعقد ہوئیں جو جامعہ میں ہونے والی عام روایتی کھیلوں سے ہٹ کر تھیں۔ جیسا کہ گلی ڈنڈا، بندرکِلا وغیرہ۔ اگلے روز میر صاحب کو رپورٹ ملی تو درجہ خامسہ کو سخت ڈانٹ پڑی۔ ڈانٹنے کی وجہ کھیلوں کی نوعیت تھی کہ جو آپ کے خیال میں ایک واقف زندگی کی شان کے خلاف تھیں۔ میر صاحب کا ایک فقرہ اب بھی یاد ہے فرمایا: ’’میں آپ کو مبلغ بنانے کی کوشش کررہا ہوں اور تم لوگ بندروں جیسی حرکتیں کر رہے ہو‘‘
آپ نے تمام کلاس سیکرٹریان کو بھی بلالیا اور معطل کردیا۔ سب کو ڈانٹ پڑی کہ ایسا اعلان جس پر پرنسپل کے دستخط موجود نہیں تھے کلاس میں کیوں پڑھا گیا۔ فرمایا:’’نظام جماعت اور خلافت کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ غیرمصدقہ بات کو جماعت کے سامنے پیش نہ کیا جائے۔ اس سے فتنے پھیلتے ہیں‘‘
اس کے ساتھ ہی درجہ خامسہ اور تمام کلاس سیکرٹریان کو مسجد حسن اقبال میں ایک دن کے لیے اعتکاف بٹھا دیا گیا۔ نوافل پڑھنے اور استغفار کرنے کی تلقین کی۔ اگلے روز سب کو بحال بھی کردیا۔ لیکن اس عمل سے کبھی نہ بھولنے والا سبق دے دیا۔ اسی کا فائدہ ہوا کہ میدان عمل میں ایسے مواقع بھی آئے جہاں بچوں اور بڑوں کی کھیلوں میں سے نامناسب الفاظ اورحرکات کو درست کروانے کا موقع ملا۔
تہجد کے لیے جگا دینا: مجھے درجہ ثالثہ میں ناصر ہوسٹل میں بطور نقیبِ اعلیٰ خدمت کی توفیق ملی۔ ایک دفعہ رات نو بجے کے قریب فون آیا میر صاحب لائن پر تھے اور مجھے بلایا تھا۔ فرمایا کہ میں سفر سے آیا ہوں اور تھکا ہوا ہوں ممکن ہے صبح تہجد کے لیے آنکھ نہ کھلے۔ صبح تین بجے فون کر کے مجھے جگا دینا۔ اس رات عاجز تو سو نہیں سکا۔ کئی بار اٹھ کر وقت دیکھا کہ کہیں دیر نہ ہو جائے۔ صبح تین بجے مکرم میر صاحب کے گھر کال کی تو آپ نے پہلی یادوسری گھنٹی پر ہی فون ریسیو کر لیا۔ آپ کی آواز سے صاف ظاہر تھا کہ آپ جاگے ہوئے تھے۔
طلبہ جامعہ کو اپنے بچوں پر ترجیح: آپ فرمایا کرتے تھے میں ہمیشہ اپنے بچوں سے پہلے جامعہ کے طلبہ کے لیے دعا کرتا ہوں۔ اُس وقت یہ بات اتنی سمجھ نہیں آتی تھی۔ لیکن جب عاجز پرنسپل جامعہ احمدیہ برکینا فاسو مقرر ہوا تو محترم میر صاحب کی بات سمجھ آئی اور ہمیشہ اسی طریق پر عمل رہا اور اپنے بچوں سے پہلے جامعہ کے طلبہ کے لیے دعا کی توفیق ملتی رہی۔ الحمدللہ
عشق رسولﷺ: آپ کی ہر بات میں عشق رسولﷺ کی جھلک نظر آ جاتی تھی۔ میری شادی طے ہوئی تو آپ کی خدمت میں شادی کارڈ لے کر حاضر ہوا۔ تاریخ دیکھتے ہی فرمایا۔ ’’۲۰؍اپریل کی تاریخ کس وجہ سے اہم ہے‘‘ عرض کیا آنحضرت ﷺ کی تاریخ پیدائش ہے۔ مسکرائے اور خوش ہوئے۔ آپ ہماری شادی پر تو نہ آسکے لیکن شادی کے بعد ہم دونوں میاں بیوی کو گھر بلایا۔ عاجز کی اہلیہ کو بی بی جان سے ملایا اور چائے سے تواضع کی۔
ہماری آزمائش: ان دنوں جامعہ سے ڈاور کی جانب ساہیوال روڈ پر چھبیس کلومیٹرز کراس کنٹری ریس ہوا کرتی تھی۔ ایک بار میں نے اور میرے ایک ساتھی نے ریس کے بعد ایک دن کی رخصت لےکرگھر جانے کا پروگرام بنا لیا۔ جمعرات کو ریس تھی۔ خیال تھا کہ ریس مکمل کرنے کے بعد ربوہ سے روانہ ہوں گے جمعہ کو چھٹی ہے اس کے ساتھ ہفتہ والے دن کی رخصت مل جائے تو گھر والوں سے ملاقات اور سردیوں کے لیے بستر وغیرہ لے آئیں گے۔ ریس کے بعد درخواست لے کر میر صاحب کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے صاف انکار کر دیا۔ کہا اگر جانا ضروری ہے تو کل جمعہ کی شام تک واپس آنا ہوگا۔ ہمیں تو اجازت کے ساتھ ہفتہ والے دن کی ایک رخصت درکار تھی۔ آپ نے درخواست رکھ لی اور کہا رونا ہے تو رو لو لیکن رخصت نہیں ملے گی۔ ہم پریشان حال دفتر سے نکل آئے۔
دور طالب علمی اور نوخیز عمر کے اپنے بہاؤ ہوتے ہیں ہم بھی گھر جانے کی ٹھان چکے تھے۔ چنانچہ دوبارہ حاضر ہوئے اور کہا کہ ٹھیک ہے ہم کل واپس آجائیں گے۔ آپ نے رخصت دے دی ۔
ان دنوں سیالکوٹ تک کا سفر آسان نہ تھا اور وہ بھی دوپہر کے بعد ربوہ سے نکلنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے جیسا تھا۔ بہرحال ہم روانہ ہوگئے اور جو گاڑی یا ذریعہ میسر آیا اس پر سفر کرتے آدھی رات کے بعد گھر پہنچے۔ میر صاحب سے کیے گئے وعدے اور رخصت کے مطابق اگلے دن واپس آنا تھا۔ والدین کے پاس صرف چند گھنٹے وقت ہی میسر آیا اور واپسی کے لیے نکل پڑے اور جمعہ کی رات واپس ہوسٹل پہنچ گئے۔ ہفتہ کے روزجامعہ حاضر ہوئے تو اسمبلی میں بہت کم طلبہ موجود تھے۔ یہ حیران کن تھا کہ طلبہ کہاں گئے۔ معلوم ہوا کہ ہمارے جانے کے بعد سب کو ہفتہ کی چھٹی مل گئی اور طلبہ گھروں کو چلے گئے۔ صرف سندھ والے طلبہ نہیں گئے تھے ۔ آج کلاس بھی نہیں ہوگی لائبریری میں بیٹھ کراپنا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس وقت ہماری حالت بہت عجیب تھی۔ چنانچہ اسمبلی کے بعد سیدھا آپ کے دفتر چلے گئے سلام کیا تو آپ نے اندر بلالیا اور فرمایا:’’میں نے اسمبلی میں آپ کو دیکھ لیا تھا کہ واپس آگئے ہیں۔ دراصل (رخصت نہ دے کر ) میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا تم حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ اور حضرت چودھری فتح محمد صاحبؓ کی طرح بن سکتے ہو کہ نہیں۔ ‘‘ پھر کمر پر تھپکی دی اور فرمایا ’’ جاؤ۔ بن سکتے ہو‘‘
صلہ رحمی کے لیے حوصلہ افزائی اور اعتماد: عاجز کی ہمشیرہ بیمار تھی اور مجھے ان کے علاج کے لیے بار بار لاہور سرگودھا اور اسلام آبا دجانا پڑتا تھا۔ مکرم میر صاحب نے عاجز پر بہت شفقت فرمائی اور کہا کہ جب بھی جانا ہو چلے جایا کرو۔ باقاعدہ رخصت اور اجازت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ نہ دنوں کی پابندی ہے۔ صرف مجھے بتا دیا کرو۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک سال چلتا رہا۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ PCOسے کال کر کے بتادیا کہ لاہور جانا ہے اور اجازت عنایت فرمائی۔ آپ کی شفقت کی وجہ سے عاجز کواپنی بہن کی بیماری میں ان کا اور والدین کا خیال رکھنے اور فیملی کا سہارا بننے کا موقع مل گیا۔ میر صاحب کی مجھ پر یہ شفقت اور اعتماد کبھی نہیں بھولتا۔
وصیت اور احتیاط: عاجز کو درجہ ثانیہ میں وصیت کرنے کی توفیق ملی۔ وصیت فارم تصدیق کے لیے مکرم میر صاحب کو پیش کیے تو فرمانے لگےاب جامعہ سے کوئی چھٹی نہیں کرنا ہوگی۔ عرض کیا وہ تو پہلے بھی نہیں کرتا۔ فرمایا اسی لیے تو توفیق مل رہی ہے۔ ایک لمحہ میں توجہ دلا دی کہ وصیت کرنے لگے ہو تو مزید محتاط ہو جاؤ اور نیکیوں سے ہی دوسری نیکیاں جنم لیتی ہیں۔
عید پر صرف ایک دن کی رخصت: عید الفطر پر جامعہ میں رخصت ہوتی تو طلبہ آخری عشرہ میں سفر کرتے اور گھروں کو روانہ ہوتے۔ میر صاحب کی طبیعت پر یہ بات گراں تھی کہ رمضان کا آخری عشرہ، عبادات کے دن لیکن طلبہ سفر میں ہونے کی وجہ سے روزہ بھی نہیں رکھ پاتے۔
فیصلہ ہوا کہ عیدالفطر پر صرف ایک دن کی رخصت ہوگی اور کوئی گھر نہیں جائے گا۔ چنانچہ اسی پر عمل ہوا۔ بظاہر طلبہ خوش نہیں تھے کہ گھروں میں جا کر عید منانا چاہتے تھے۔ عید کے روز زیادہ تر طلبہ ڈیوٹی پر تھے۔ نماز عید کے بعد ناصر ہوسٹل پہنچے تو تھوڑی دیر میں ہی میر صاحب وہاں تشریف لے آئے۔ آپ نماز عید کے بعد اپنےگھر جانے کی بجائے سیدھا ناصر ہوسٹل ہی آگئے تھے۔ ہوسٹل کے گیٹ پر ہی آپ طلبہ سے ملنا شروع ہوئے۔ میر صاحب عام طو رپر بہت کم مصافحہ کرتے تھے لیکن اس دن آپ نے ہم سب کو باری باری گلے لگایا۔ بھر پور معانقے ہوئے۔ عید مبارک دی۔ قبل ازیں طلبہ کو حضور انور کی طرف سے عیدی مل چکی تھی۔ تاہم اس دن آپ نے بھی ہر طالب علم کو دس دس روپے عیدی عنایت کی۔ گھر نہ جانے کی ساری کوفت دور ہوئی۔ ہماری عید یادگار عید بن گئی۔ آپ نے اس دن ہوسٹل میں اسپیشل کھانا پکانے کی بھی ہدایت کی تھی۔
صدقہ و خیرات: ایک دن جامعہ میں میرے سامنے آپ کا الاؤنس آیا۔ مکرم مبشر ایاز صاحب نے لفافہ آپ کی طرف کیا تو آپ نے فوری واپس کردیا کہ اس میں سے اپنی مرضی سے ایک رقم نکال کر صدقہ کر دیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ معلوم نہیں کس قدر رقم نکالی گئی لیکن دائیں ہاتھ سے ایسے صدقہ کرو کہ بائیں ہاتھ کو علم نہ ہو ،کا عجیب منظر دیکھا۔ یقیناً اس الاؤنس میں چندہ جات کی رقم منہا ہو چکی ہوگی لیکن پھر بھی انفاق فی سبیل اللہ کی ایک راہ پر قدم مارنا ضروری سمجھا۔
خلافت جوبلی دیکھ لوں: میر صاحب کا خلافت سے عشق اور اس کی اطاعت کی داستان تو الگ ہی جہان ہے۔ ایک دفعہ فرمانے لگے ’’ بڑی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنی عمر دے دے کہ خلافت جوبلی کا سال دیکھ لوں۔ ‘‘اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ کی یہ خواہش پوری فرمائی بلکہ خلافت جوبلی کے بعد مقبول خدمت کے بھرپور مزید سترہ سال بھی عنایت فرما دیے۔
خلافت کے لیے عجز ونیاز: جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر بصد ادب بصد احترام قصر خلافت کے سامنے سے گزرتے، مسجد فضل آتے جاتے، خلیفہ وقت کی مجلس میں عجیب عجز و نیا ز اور اطاعت سے بیٹھے بار ہا دیکھا ۔ یہ اعلیٰ درجہ کی محبت، بےمثال اطاعت، غیر معمولی عجز و نیاز دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا بیان کیا جانا ممکن نہیں۔ خوش قسمت ہوں کہ بار ہا یہ نظارے دیکھے۔
سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۰۰۹ء میں عاجز کو کونگو کنشاسا کا امیر مقرر فرمایا تو ایک دن خاکسار نے دعا کی غرض سے محترم میر صاحب کو فون کیا۔ اس وقت آپ جامعہ میں اپنے دفتر میں تھے او رکوئی کلاس آپ کے سامنے تھی۔ فون اٹھایا دعا کی درخواست کی تو فرمانے لگے ’’جس نے امیر مقرر کیا ہے اسے ہی دعا کے لیے کہو‘‘
آپ کی ہمیشہ یہ عادت تھی کہ جب بھی آپ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی جاتی آپ یہ ضرور کہتے کہ خلیفہ وقت کو دعا کا لکھو۔
اسی کال کے دوران آپ نے کونگو کی جماعت پر ایک تبصرہ کیا جس نے مجھے ہمیشہ حیران کیا کہ آپ کو کیسے جماعت کونگو کے حالات کا علم تھا۔ یہ معمہ کبھی حل نہ ہوا۔
خلفاء کی تصاویر کس طرح لگائی جائیں: محترم میر صاحب کے پاس اپنی بات کی دلیل کی کوئی نہ کوئی وجہ اسلامی تعلیمات اور اخلاق و اطوار پر ہی ہوتی تھی۔
ایک دفعہ فرمایا : ’’بہت لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کرام کی تصاویر کس ترتیب سے لگائی جائیں۔ اس کا فیصلہ کرنا تو بہت آسان ہے۔ جو پہلے آئے وہ امام کے دائیں طرف اور بعد میں آنے والا بائیں طرف۔ ‘‘
کبھیPanicنہیں ہونا: سالانہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب کی تیاری کررہے تھے۔ خاکسار صدر مجلس العاب تھا۔ طلبہ کی ایک ٹیم انتظامات میں مصروف تھی۔ مکرم میر صاحب جلدی تشریف لے آئے اور اسٹیج پر ہی کھڑے تھے۔ اسی دوران میں نے ایک ساتھی طالب علم کو جلدی میز پوش لانے کا کہا۔ کام کے پریشر اور تقریب کی تیاری میں کم وقت کی وجہ سے میرا انداز تھوڑا گھبراہٹ اورڈانٹ والا تھا۔ وہ طالب علم چلے گئے۔ لیکن میرصاحب نے مجھے توجہ دلائی کہ جتنا بھی کام ہو گھبرانا کبھی نہیں۔ ویسے بھی یہ میز ایسی ہے کہ اس پر میز پوش نہ بھی بچھایا جائے تو حرج نہیں۔ اس بات نے ہمیشہ فائدہ دیا کہ صورت حال کو قابو میں کیسے رکھنا ہے اور موجود وسائل کے ساتھ ہی بہترین انتظامات کرنے ہیں۔
سالانہ کھیلوں کے مقابلہ جات ہو رہے تھے۔ کلائی پکڑنے میں عاجز کی تیسری پوزیشن آئی۔ میر صاحب مقابلہ دیکھ رہے تھے۔ بعد میں کہنے لگے مجھے نہیں لگتا تھا کہ تم میں یہ صلاحیت بھی اس قدر موجود ہے۔
ہمیشہ تیاری کرکے آؤ: آپ نے ہماری تربیت میں اس بات کو بھی مد نظر رکھا کہ جب بھی کوئی تقریر کرنی ہو یا درس دینا ہو یا پڑھانا ہو تو ہمیشہ تیاری کرکے آؤ۔ ایک دن فرمایا: ’’اگر یسرنا القرآن بھی پڑھانا ہو تو تیاری کر کے آؤ‘‘
آپ کی اس بات نے میدان عمل میں بہت فائدہ دیا اور کبھی کوئی تقریر، خطبہ یا درس بغیر تیاری کے نہیں دیا۔ اس سے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کیا بات کرنی ہے اور کتنے وقت میں کرنی ہے۔ ایسے مقررین بھی دیکھنے کو ملے جو سمجھتے ہیں کہ ان کو تیاری کی ضرورت نہیں اور پھر غیر واضح، منتشر اور متفرق خیالات پیش کر کے سامعین کو بھی مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ الا ما شا ءاللہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انگوٹھی پہننے کی سعادت: محترم میر صاحب طلبہ کی بھلائی، ان کو خلافت سے جوڑنے اور روایات کو برقرار رکھنے کا سوچتے رہتے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ مقرر ہوئے تو میر صاحب نے آپ کو جامعہ مدعو کیا۔ آپ جامعہ تشریف لائے طلبہ کے ساتھ نشست ہوئی۔ آپ نے بہت مختصر خطاب فرمایا۔ لیکن اس آمد کی سب سے متبرک بات وہ سعادت تھی جو اس دن تمام طلبہ اور اساتذہ کے حصہ میں آئی۔ محترم میر صاحب کی درخواست پر محترم ناظر صاحب اعلیٰ، حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی’’مولیٰ بس‘‘ والی انگوٹھی پکڑ کر کھڑے ہو گئے اور ہم سب باری باری آکر اسے پہن کر تبرک حاصل کرتے رہے۔
اسی روز حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ نے ناصر ہوسٹل میں ایک یادگاری پودا بھی لگایا۔
آپ تو گولیوں کی بارش میں بھی لیٹ نہیں ہو سکتے: ایک دن صبح جامعہ جانے کے وقت شدید بارش آگئی۔ چنانچہ طاہر ہوسٹل سے آنے والے بعض طلبہ بارش کی وجہ سے لیٹ ہوگئے۔ جب یہ طلبہ جامعہ پہنچے تو محترم میر صاحب کو سامنے کھڑے پایا۔ آپ نے فرمایا : ’’ آپ لوگ اس بارش سے ڈر کر لیٹ ہوگئے۔ آپ کو تو گولیوں کی بارش میں بھی لیٹ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ اتنی دیر میں کیسٹ کا پیریڈ ختم ہوگیا اور طلبہ ہال سے نکل کر کلاس رومز میں جانا شروع ہوئے۔ محترم میر صاحب نے لیٹ آنے والے طلبہ کو جامعہ کی عمارت میں اوپر جانے والی سیڑھیوں کے پاس کھڑا کر دیا اور گزرنے والے سب طلبہ کو ہدایت کی کہ ان کو سیلوٹ کر کے اوپر جائیں۔ بغیرکسی ڈانٹ یا سزا کے لیٹ آنے والے طلبہ کو’’عزت افزائی ‘‘ کے ذریعہ ایسی سرزنش کی گئی جو یادگار بن گئی۔ ان طلبہ میں اس دن عجیب احساس ندامت تھا۔
خدا کی ہستی کی دلیل: مکرم میر صاحب کم ہی اجتماعی طور پر طلبہ سے خطاب کرتے تھے۔ تاہم ایک دن کسی سیمینار کےموقع پر جامعہ کے ہال میں ہم سب جمع تھے۔ پروگرام کے اختتام پر آپ ڈائس پر تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ لوگ خدا کی ہستی کی دلیل مانگتے ہیں۔ میں تو ہر روز خدا کی ہستی کا ثبوت دیکھتا ہوں۔ چھوٹے چھوٹے چوزوں کی طرح بچے جامعہ میں داخل ہوتے ہیں اور علماء بن کر یہاں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ کیا یہ زندہ خدا کی ہستی کی دلیل نہیں۔
ہم لوگ اس وقت درجہ خامسہ میں تھے اور میں آپ کےسامنے بائیں ہاتھ پہلی قطار میں بیٹھا تھا۔ میری طرف اشارہ کرکے کہا : ’’ یہ دیکھ لو۔ نعیم بیٹھا ہوا ہے۔ جس دن جامعہ میں انٹرویو کے لیے آیا تھا تو اس نے المر(الف لام میم را) کو ’’آلار‘‘پڑھا تھا۔ ‘‘
مجھے یاد نہیں تھا لیکن میر صاحب نے چھ سال پہلے کی بات یاد رکھی تھی۔ پورے جامعہ کے سامنے آپ کے ایسا کہنے پر میرا چہرہ ذرا سرخ سا ہو گیا تو فرمانے لگے کہ ’’یہ زندگی کی شگفتگیاں ہوتی ہیں انہیں ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ ‘‘
حضورانور کی ایک مسکراہٹ پر سب کچھ قربان: میر صاحب آپ کے صدقے کہ میرے’’ آلار‘‘ کو آپ نے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ تک بھی پہنچا دیا۔ یہ واقعہ سن کر جس قدر حضور مسکرائے اور پیار اور شفقت کی نگاہ سے مجھے دیکھا وہ ایسا منظرتھا کہ دنیا کی ہزار وں بادشاہتیں اس پر قربان۔
ہوا کچھ یوں کہ ۲۰۱۵ء میں کونگو کنشاسا سے عاجز کے ساتھ اسپیکر صوبائی اسمبلی جلسہ برطانیہ میں بطور مہمان شامل ہوئے۔ جلسہ کے بعد برطانیہ جماعت کی طرف سے ظہرانے کے موقع پر اس معزز مہمان کی کرسی حضور انور کے بائیں جانب لگائی گئی تھی جبکہ دائیں طرف مکرم میر صاحب کی کرسی تھی۔ مہمان کو فرنچ زبان آتی تھی اور وہ انگریزی نہیں بول سکتے تھے۔ میں نے یہ دیکھا تو انتظامیہ کو توجہ دلائی کہ عام طورپر حضور انور اپنے ساتھ بیٹھنے والے معزز مہمانوں سے گفتگو فرماتے ہیں لیکن یہ تو انگریزی میں بات نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ مجھے حضور انور کی نشست کے بالکل سامنے والی میز پر جگہ دی گئی کہ اگر کسی وقت ترجمہ کی ضرورت محسوس ہو تو فوری حاضر ہوا جا سکے۔ اس دعوت میں دو دفعہ براہ راست خدمت اقدس میں حاضر ہونے کی سعادت عطا ہوئی۔
اسی دوران میں نے نوٹس کیا کہ میر صاحب حضور انور سے بات کر رہے ہیں اور حضور انور بہت شفقت، محبت اور عجیب پیار کی نظر سے مجھے دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ تو ہوگیا کہ یقیناً میری ہی بات ہو رہی ہے۔ اگلے ہی روز میری ذاتی ملاقات میں حضور انو رکی زبان مبارک سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ میر صاحب نے میرا ’’ آلار ‘‘ والا واقعہ خدمت اقدس میں پیش کر دیا تھا۔
’’جامعہ کے پرنسپل لگ جاؤ گے‘‘: اگست ۲۰۰۰ء میں عاجز نےخواب دیکھا کہ جامعہ احمدیہ ربوہ کے چوک میں محترم میر صاحب کھڑے ہیں۔ میں باہر کی طرف سے آتا ہوں اور آپ میرے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر عقیق کی ایک خوبصورت انگوٹھی پہناتے ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد خاکسار میر صاحب کی خدمت میں حاضرہوا۔ آپ اس وقت اپنے دفتر جامعہ احمدیہ میں تشریف رکھتے تھے۔ خواب عرض کیا تو چند لمحات میں فرمایا: ’’ اگر میری کوئی دوسری بیٹی ہوتی تو میں اس کی شادی آپ سے کر دیتا۔‘‘
میں بصد ادب خاموش کھڑا رہا۔ آپ کا یہ ارشاد آپ کی طبیعت کے لحاظ سے بہت غیرمعمولی تھا۔ پھر چند سیکنڈ کے وقفہ کے بعد گویا ہوئے: ’’جامعہ کے پرنسپل لگ جاؤ گے۔‘‘ یہ سن کر مجھے بہت عجیب لگا اور ناممکن بھی۔ پھر چند سیکنڈ کے وقفہ کے بعد فرمایا: ’’آج نہیں۔ بیس سال کے بعد۔‘‘
عاجز نے یہ واقعہ ایک دو بہت قریبی دوستوں کے علاوہ کبھی کسی سے ذکر نہیں کیا۔
۲۰۰۹ء میں سیدنا حضور انور نے عاجز کو کونگو کنشاسا کا امیر مقر فرمایا تو خیال آیا کہ وہ خواب اور میر صاحب کی تعبیر پوری ہوگئی۔ لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر اپنا کام کر رہی تھی۔ ۲۰۱۷ء میں فرنچ ممالک کے لیے مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو میں جامعۃ المبشرین کا قیام عمل میں آیا۔ عین اسی سال میرا تبادلہ کونگوکنشاساسے مالی ہو گیا۔ اور پھر ۲۰۱۹ء میں مالی سے برکینافاسو بطور ڈائریکٹر ایم ٹی اے برکینا فاسو تقرری ہوگئی۔ جولائی ۲۰۲۰ء میں کورونا وائرس کے دنوں میں ایم ٹی اے اسٹوڈیوز برکینا فاسو کو بند کرکے تمام لوکل اسٹاف کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہواجس پر فوری عمل ہو گیا۔ اب عاجز کی تقرری کا انتظار تھا۔ اور پھر خدائی تقدیر کے مطابق اوراس کے ایک صوفی منش بندے کی زبان سے نکلے حرف حرف کی تصدیق کرنے والا ایک فیصلہ جاری ہوا۔ اور اگست۲۰۲۰ء میں جب اس خواب کواور میر صاحب کی بیان کردہ تعبیر کو عین بیس سال پورے ہو ئےتو سیدنا حضور انور نے عاجز کو جامعہ احمدیہ برکینا فاسو کا پرنسپل مقرر فرمادیا۔
اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی اور جون ۲۰۲۵ء تک عاجز کے دور میں اس جامعۃ المبشرین برکینا فاسو سے پہلی چھ کلاسز کے ایک سو تین مبلغین فارغ التحصیل ہو کر گیارہ فرنچ افریقن ممالک میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔
جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
محترم میر صاحب کو یہ واقعہ یاد تھا۔ آپ نے خود بھی کئی لوگوں کو سنایا۔ ۲۰۲۱ء میں مجھے بتایا کہ میں نے الفضل کو لکھ کر بھی بھجوا دیا ہے۔
’’ایک تو باجوے دوسرے مخلص احمدی ‘‘: چودھری عتیق احمد باجوہ صاحب آف وہاڑی کی جون ۱۹۹۷ء میں شہادت ہوئی تو حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے ان کی جرأت اور بہادری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک تو باجوے اور دوسرے مخلص احمدی۔ اگلے روز میر صاحب جامعہ آئے تو مجھے دیکھ کر کہنے لگے: ’’ایک تو باجوے دوسرے مخلص احمدی‘‘
اللہ کرے پیارے اور محترم میر صاحب کے حُسنِ ظنّ کے مطابق ہم اخلاص و وفا میں ترقی کرتے ہوئے خلافت کے خادم اور سلطان نصیر بن کر مقبول خدمت کی توفیق پاتے جائیں کہ اپنے شاگردوں سے میر صاحب یہی توقع رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ محترم میر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آپ کے شاگردوں کے ذریعہ تکمیل اشاعت ہدایت کا کام نئی جہتوں کو چھوتا رہے۔ آپ کا چھوڑا ہوا علمی ورثہ سعید روحوں کی ہدایت کا باعث بنتا رہے۔
مزید پڑھیں: کیا امیرعبد الرحمٰن اور امیر حبیب اللہ کاجذبۂ جہاد احمدیوں کو شہید کرانے کا باعث بنا تھا؟




