حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ہر وقت خدا یا د رہے

اللہ تعالیٰ کا ذکر کس طرح کرنا چاہئے؟ اس بارہ میں بھی قرآن کریم میں کئی جگہ مختلف حوالوں سے بیان کیا گیا ہے مثلاً سورۃ آل عمران میں تخلیق کے بارے میں، کائنات کے بارے میں، زمین و آسمان کے بارے میں ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران: 192) وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں اور بے ساختہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ تُو نے کسی چیز کو بھی بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ پاک ہے تُو۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

پس ذکر الٰہی اس طرح ہونا چاہئے کہ ہر وقت خدا یا د رہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش کی طرف توجہ دلا کر پھر یہ جو فرمایا کہ اس پیدائش پر غور کرنے والے کہتے ہیں کہ سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ تُو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ یہ اس لئے ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ سب اللہ کی مخلوق ہے۔ ہماری زندگی کے تمام انحصار اور ذرائع اصل میں اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں اور اس کے درمیان ہے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ پس جب ہر چیز ہی خدا کی ہے اور خدا کے فضل سے ملتی ہے اور ملنی ہے تو خداتعالیٰ کو چھوڑ کر اور کسی طرف انسان کس طرح جا سکتا ہے۔ اسے شریک بنائیں گے تو اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا۔ اللہ کے مقابلے میں اگر تجارتوں کو شریک بناؤ گے تو معاف نہیں ہوگے۔ فرمایا یہ چیزیں پھر آگ کی طرف لے جانے والی ہیں۔ اس لئے انسان دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ ہر لمحہ ہر آن اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہمیں ہر قسم کے فضلوں سے نوازنے والا ہے۔ اس لئے انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ کبھی ایسا موقع اس کی زندگی میں نہ آئے۔ اور یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ! کبھی ہماری زندگی میں ایسا موقع نہ آئے کہ تیرے مقابل پر ہم کوئی چیز لائیں۔ یہ دعا ہمیشہ کرنی چاہئے کہ اے اللہ! ہم ہمیشہ تیرے عبادت گزار اور ذکر کرنے والے رہیں تاکہ دین و دنیا میں بھی ذلیل و رسوا نہ ہوں اور آخرت کے عذاب سے بھی بچے رہیں۔ پس جب اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد اس کے فضلوں کو تلاش کرو اور ذکر الٰہی کرتے رہو تو یہ یاددہانی ہے کہ تمہارے تمام نفع و نقصان میرے ہاتھ میں ہیں۔ پس یہ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ میرے سے تعلق جوڑ کر تم روحانی فائدہ بھی اٹھا رہے ہو اور دنیاوی فائدہ بھی اٹھا رہے ہو۔

(خطبہ جمعہ ۲۶؍ستمبر ۲۰۰۸ء الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۲۰۰۸ء )

مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کی مثال

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button