مولا مری دنیا کو تباہی سے بچالے
کس رخ پہ چلے جائیں گے یہ جنگ کے حالات
نکلے ہیں تباہی کے کئی قسم کے آلات
انسان ہی انسانوں کا خوں چوس رہے ہیں
اک دوجے کی شہ رگ میں جو یوں دانت گڑے ہیں
بڑھتے چلے جاتے ہیں تصادم کے اندھیرے
بارود میں روپوش ہیں خوش رنگ سویرے
یہ جنگ وہ عفریت ہے کھا جائے گی سب کو
خوں لگ گیا منہ کو تو چبا ڈالے گی سب کو
مقصود ہے انساں کا فقط دنیا کی دولت
اللہ سے نہیں پیسے سے ہے سب کو محبت
اپنے ہی مفادات فقط پیش نظر ہیں
اب کون سے طاغوت کے یہ زیر اثر ہیں
مسلم بھی نہیں جانتے اب راہِ ہدٰی کو
عیسائی یہودی بھی بھلا بیٹھے خدا کو
اب فیصلہ گم راہوں کا اللہ ہی کرے گا
لکھا ہے صحیفوں میں جو اب ہو کے رہے گا
اللہ نے بھیجا ہے زمانے کا منادیؑ
اللہ کے فرمان پہ اس نے یہ صدا دی
اب میری طرف آؤ یہیں خیر ملے گی
اسلام کے پیغام سے اب دنیا سجے گی
مولا مری دنیا کو تباہی سے بچالے
بھولے ہیں یہ خالق کو انہیں اپنا بنا لے
(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)
مزید پڑھیں: جنگوں میں بھی سرکارؐ کی تعلیم ملی ہے




