متفرق مضامین

اسلامی آداب ِجنگ، قیام امن کا دوسرا نام

(ظہیر احمد طاہر۔ جرمنی)

قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ ﷺ کے مطالعے سے واضح ہے کہ اسلام نے جنگ کو اخلاقیات اور انسانیت کے تابع رکھا ہے۔ اسلام کی نظر میں جنگ ایک مجبوری اوردفاع کی آخری راہ ہے جبکہ امن، صلح، عدل اور انسانیت کا احترام اس کے اصل مقاصد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور خلفائےراشدینؓ نے اپنے عملی نمونوں سے ثابت کیا ہے کہ طاقت کے باوجود ظلم، انتقام اور بربریت کسی طور جائز نہیں

جنگ اور امن انسانی معاشرے کی دواہم حقیقتیں ہیں۔جنگوں کی یہ حقیقتیں ماضی کے قصے اوردور از قیاس باتیں نہیں ہیں بلکہ آج بھی اہل دنیا اسی سوچ اور انہی خود ساختہ اُصولوں پر کارفرماہیں۔ آج کا طاقتوراپنے زعم میں امن کا داعی اور انسان دوست ہے۔ وہ اپنے چہرے پر امن پسندی اور انسان دوستی کا لیبل سجاکر خودکو امن اور انسانیت کا علمبردار گردانتا ہے لیکن اُس کا عمل ثابت کررہا ہے کہ اس نقاب کے پیچھےنہایت مکروہ سوچ اور ایک سفّاک چہرہ چھپا بیٹھا ہے۔ جو اپنے ناجائز اور خود غرضانہ مفادات کے حصول کے لیے نہایت دلسوز مظالم ڈھاتا اور ظلم وبربریت کی انتہا کردیتا ہے۔اُس کے اس گھناؤنے فعل کو دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ وہ جنگ کے دوران تمام بین الاقوامی اُصول، ضابطے، ہر قاعدہ اور اُصول بھول جاتا ہے۔ وہ معصوم بچوں کی جانیں لیتا رہتاہے لیکن شرمندہ اور نادم نہیں ہوتا۔ وہ نہ دن دیکھتا ہے اور نہ رات اوراپنے مخالفین پر اندھا دھند اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہے۔ وہ ٹنوں کے حساب سے گولہ بارود پھینکتا ہے جس سےعلاقے کے علاقےآناً فاناً تباہ برباد ہوجاتے ہیں۔ اَن گنت جانیں تلف ہوجاتی ہیں اور بے شمار گھراور املاک ملیا میٹ ہوجاتی ہیں۔ وہ نہ عورتوں کا خیال کرتا ہے ، نہ بچوں اور بوڑھوں پر رحم کھاتا ہے، اسے نہ بیمار نظر آتے ہیں اور نہ ہی بے قصور اُس کی وحشت اور بربریت سے بچ پاتے ہیں۔ وہ دہائیوں سے ظلم پر ظلم، سفاکیت پر سفاکیت اور وحشت پر وحشت پھیلاتارہا ہے اور اب بھی اپنے ایجنڈے پر کارفرماہے لیکن اس کے باوجود وہ مہذب اور انسان دوست ہونے کا پرچار کرنا کبھی نہیں بھولتا۔یقین جانیں اگر جانور اور حشرات الارض اس سفاکیت کو جان جائیں تو وہ بھی ان سفاکانہ مظالم پر تف کیے بغیر نہ رہ پائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگوں کے دوران انسانیت سوز مظاہرے، انسان دشمنی اورگھٹیا ذہنیتوں کی پیداوارہیں جن کا کسی خاص مذہب،علاقے اور ملک و قوم سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ اس طرح کےخبطی ہر دور، ہر خطے اور علاقے میں پائے جاتے رہے ہیں۔ وہ اب بھی موجود ہیں اور شاید شیطان کے یہ ہمنوا رہتی دنیا تک موجود رہیں گے۔ پس اگر جنگوں کا نام لیا جائے توشاید ہی دنیا کاکوئی خطہ اور علاقہ ان کی بھیانک،المناک اور دردناک تباہ کاروں سے محفوظ رہاہوگا۔

اسلام میں جنگ کا تصور: جنگوں کے ان دل دہلا دینے والے منظر نامےکے برعکس اسلامی تعلیم پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام نے جنگ کو سخت اخلاقی اصولوں اور قانونی ضابطوں کانہ صرف پابند بنایاہے بلکہ اس کے حقیقی پیروکاراس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ اسلام میں جنگ ایک استثنائی صورت ہے جس کی اجازت صرف مخصوص حالات میں دی گئی ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیم میں پہلے صبر،حکمت، نصیحت اور صلح کی تعلیم دی گئی ہے۔دراصل اسلام میں جنگ مطلوب و الذّات نہیں بلکہ ایک اضطراری اور ناگزیر عمل کا نام ہے جس کی اجازت ظلم وجورکے خاتمے، فتنہ و فساد کے قلع قمع، بےرواہ روی کی روک تھام،دفاعِ نفس، مذہبی آزادی کے تحفظ، معاشرے میں امن کے قیام اور اصلاح احوال کی خاطردی گئی ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویﷺ میں جنگ کے ایسےراہنما اُصول بیان کردیے گئے ہیں جن کی مثال قدیم اور جدیدانسانی تاریخ میں پائی نہیں جاتی۔ اسلام نے جنگ یا امن ہر دو حالات میں اعلیٰ انسانی اقداراپنانے کا درس دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے جنگ کے احکام دیتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ مسلمانوں کو صرف ان لوگوں سے لڑنے کی اجازت ہے جو ظلم کے مرتکب ہوں۔ اسلام کے دَور اوّل میں جب مسلمانوں پر ظلم حد سے بڑھ گیا تو انہیں دفاع اور ظلم کے خاتمے کے لیے قتال کی اجازت دی گئی۔ جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: ’’مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا تھا سب کچھ کفّارمکہ کے جوروستم اور ظلم و تعدّی کے بعد کیا تھا۔ ان کے مظالم کے کارنامے دیکھ کر پھر مسلمانوں پر اعتراض کرنا چاہیے…مسلمانوں کے تمام جنگ اور کفّار کے ساتھ تمام سلوک دفاعی رنگ میں ہیں۔ ابتدا ہرگز ہرگز مسلمانوں نے کبھی نہیں کی۔ ‘‘(ملفوظات جلد۱۰صفحہ ۱۳۹،۱۳۸۔ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

اسلام نے جنگی اخلاقیات کے جو اُصول وضع فرمائےہیں اُن میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں، مذہبی راہنماؤں، گھریلو ملازمین، کسانوں اور غیر جنگجو افراد کو نقصان پہنچانے کی ممانعت کی گئی ہے نیزدشمن کی فصلیں اُجاڑنے، بلا وجہ اُن کے درخت کاٹنےیا جلانے اور ان کے اموال تباہ کرنے سے روکاگیا ہے۔ پس اسلام میں جنگ کا مقصد زمینوں پر قبضہ، دولت کا حصول یا سیاسی برتری کا حصول نہیں بلکہ اپنادفاع، ظلم کا خاتمہ اور عدل کا قیام ہے۔اسی وجہ سے اسلام نے اپنےماننے والوں کو توسیع پسندانہ عزائم کی خاطر دوسروں پر چڑھائی کرنے سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔ (البقرۃ:۱۹۱) اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ یقیناً اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ ایک عام فہم اور نہایت واضح تعلیم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو صرف اُن لوگوں کے خلاف لڑنے کی اجازت ہے جو اُن پر حملہ آور ہوں۔ اگر اُن پر جنگ مسلط کی جائے تو اس صورت میں بھی انہیں زیادتی اور ظلم کی اجازت نہیں ہے بلکہ جنگ کے دوران اعلیٰ اسلامی اقداراپنانا اور اخلاقی حدود قائم رکھنا اُن کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کے حوالے سے فرماتے ہیں :’’جب بے رحم کافروں کا ظلم اِس حد تک پہنچ گیا۔ خدا نے جو آخر اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے۔ اپنے رسول پر اپنی وحی نازل کی کہ مظلوموں کی فریاد میرے تک پہنچ گئی۔ آج میں اجازت دیتا ہوں کہ تم بھی اُن کا مقابلہ کرو اور یادرکھو کہ جو لوگ بے گناہ لوگوں پر تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کیے جائیں گے مگر تم کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ‘‘ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۶۸،۴۶۷)

جنگ کی اجازت کا بنیادی مقصد: مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر تیرہ سال کا لمبا عرصہ بے انتہا ظلم ڈھائے گئے۔ انہیں اپنے دین پر کھلے عام عمل کی اجازت نہ تھی۔ وہ آئے روز اپنے دین پر عمل کی وجہ سے زدو کوب کیے جاتے۔ ایمان لانے والوں کو تشدد اور قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتیں۔ یہاں تک کہ باپ اپنے بیٹے کو بیٹریاں پہنا کر اذیت دینے سے گریز نہ کرتا۔ خاوندوں کو بیویوں سے زبردستی جدا کردیا جاتا۔ ماؤں سے اُن کے بچے چھین لیے جاتے۔ معصوموں کے اموال لوٹے جاتے۔ اُن کے گھر باراور کاروبار غصب کرلیے جاتے۔ یہاں تک کہ خود بانی اسلام ﷺ کی ذات اقدس بھی بار بار دشمن کے مظالم کا نشانہ بنتی رہی لیکن اس کے باوجود انہیں جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔دشمن کے مظالم جب حد سے بڑھ گئے اور انہیں برداشت کرنا اُن کے لیے مشکل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہجرت کی اجازت عطا فرمادی۔ چنانچہ انہوں نے امن کی خاطر اپنے گھربار، کاروبار، عزیزو اقارب یہاں تک کہ اپنا محبوب وطن چھوڑ دیا۔ وہ ایک دوردراز بستی میں جا بسےتاکہ اپنے دین پر پوری طرح عمل کرسکیں لیکن دشمن کو ان کا امن کے ساتھ رہنا پسند نہ آیا اور اُس نے اُن کا پیچھا کیا۔وہ اُن کے سکون کے درپے ہوا اور اُس نے چاہا کہ وہ انہیں ختم کرکے اُن کے دین کو مٹادے۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مکہ میں اسلام دشمنوں کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’نہایت جابرانہ اور ظالمانہ کارروائیاں اُن سے ظہور میں آئیں اور انہوں نے دردناک طریقوں سے اکثر مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ایک زمانہ دراز تک جو تیرہ برس کی مدت تھی اُن کی طرف سے یہی کارروائی رہی اور نہایت بےرحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے اور نوع انسان کے فخر اُن شریر درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے اور یتیم بچے اور عاجز اور مسکین عورتیں کوچوں اور گلیوں میں ذبح کیے گئے اس پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے قطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شرّ کا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔…خدا کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام ہیں بارہا پتھر مارمارکر خون سے آلودہ کیا گیا مگر اُس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کی دلی انشراح اور محبت سے برداشت کی اور ان صابرانہ اور عاجزانہ روشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور اُنہوں نے اس مقدس جماعت کو اپناایک شکار سمجھ لیا۔ تب اُس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پر ظلم اور بےرحمی حد سے گذر جائے اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اُس کا غضب شریروں پر بھڑکا اور اُس نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہورہا ہے میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں میں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور میں خدائے قادر ہوں ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۶،۵)

پس جب دشمن کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دفاع کی اجازت دی تاکہ ظالم کو اُس کے ظلم سے روکا جاسکے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو تعلیم دی ہے وہ نہایت واضح ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے:اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ (الحج:۴۰) اُن لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جارہا ہے (قتال کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیے گئے۔ اور یقیناً اللہ اُن کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اسلام کی اسی امن پسندی کا ذکر کرتے ہوئے مشہور عالم مؤرخ جناب ایڈورڈ گبن لکھتے ہیں :’’ہر انصاف پسند آدمی اس حقیقت کا اقرار کرنے کے لیے مجبور ہے کہ قرآن ایک بے نظیر قانون ہدایت ہے۔ اس کی تعلیمات فطرتِ انسانی کے مطابق ہیں اور وہ اپنے اثر کے لحاظ سے ایک حیرت انگیز پوزیشن رکھتا ہے۔ اس نے وحشی عربوں کی زبردست اصلاح کی۔ ہمدردی اور محبت کے جذبات سے ان کے دلوں کو معمور کردیا اور قتل وخونریزی کو ممنوع قرار دیا۔ یہ اس کا عظیم الشان کارنامہ ہے۔ (ہسٹری آف دی ورلڈ صفحہ ۲۸۸بحوالہ ماہنامہ الفرقان ربوہ فروری ۱۹۵۵ء صفحہ ۲۸)

جنگ میں پہل کرنے کی ممانعت: اسلامی تعلیم میں مسلمانوں کوکہیں بھی جنگ میں پہل کرنے کا کوئی حکم موجود نہیں گویا اسلام جنگ وجدل کے قطعاً خلاف ہے۔ اسلام میں جنگ کا یہی پہلا ادب ہے جو سراسر انصا ف پر مبنی اور دنیا میں امن کی بنیادڈالنے والا طرز عمل ہے۔

دشمن کی زیادتی کا اسی قدر بدلہ لیاجائے:اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہر دو حالات یعنی امن یا جنگ کی صورت میں کسی پر زیادتی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اگر دشمن اُن کے ساتھ زیادتی کرے تو اُنہیں اُسی قدر بدلہ لینے کی اجازت ہے جس قدر اُن پر زیادتی کی جائے بلکہ اسلام نےمعاشرے کی بھلائی، اُس کی بہبود، امن کے قیام اور اصلاح کی خاطر ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے درگزر اور معاف کردینے کو ترجیح دی ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کا مبارک اُسوہ اس کی بہترین مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیۡکُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ ۪ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ۔ (البقرۃ:۱۹۵) پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر ویسی ہی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر کی ہو۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ یقیناً متقیوں کے ساتھ ہے۔ قرآن کریم کے ایک اَور مقام پر فرمایا ہے:وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ۔وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ۔ (الشوریٰ :۴۱،۴۰) اور وہ جن پر جب زیادتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور بدی کا بدلہ، کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے۔ پس جو کوئی معاف کرے بشرطیکہ وہ اصلاح کرنے والا ہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔ یقیناً وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

جنگ کے بغیر لوگوں کو قیدی بنانے کی ممانعت: اسلام نے معاشرے کے امن کی خاطر اپنے ماننے والوں کو یہ ادب سکھلایا ہے کہ جنگ کے بغیر یونہی لوگوں کو پکڑنا اور قیدی بنالینا تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں۔ البتہ اگر مصدقہ خبریں ملیں کہ کوئی ملک یا گروہ اُن کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف ہے تو جائز ہوگا کہ وہ دشمن کو تیاری کا موقع نہ دیں اور فتنے کو پھیلنے سے پہلے اُس کا قلع قمع کردیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَاللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَاللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ۔ (الانفال:۶۸) کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ زمین خونریز جنگ کیے بغیر قیدی بنائے۔ تم دنیا کی متاع چاہتے ہو جبکہ اللہ آخرت پسند کرتا ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔ قرآن کریم کے ایک اَور مقام پر فرمایا ہے :فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ۟ۛ ذٰلِکَ ؕۛ وَلَوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَانۡتَصَرَ مِنۡہُمۡ وَلٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَا۠ بَعۡضَکُمۡ بِبَعۡضٍ ؕ وَالَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَنۡ یُّضِلَّ اَعۡمَالَہُمۡ ۔(محمد:۵) پس جب تم ان لوگوں سے بِھڑ جاؤ جنہوں نے کفر کیا تو گردنوں پر وار کرنا یہاں تک کہ جب تم ان کا بکثرت خون بہالو تو مضبوطی سے بندھن کسو۔ پھر بعد ازاں احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر آزاد کرنا یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لیتا لیکن غرض یہ ہے کہ وہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائے۔ اور وہ لوگ جنہیں اللہ کی راہ میں سخت تکلیف پہنچائی گئی، ان کے اعمال وہ ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔

ظلم اور فتنہ کے خاتمے کے لیے قتال: اسلام کے جنگی آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ اگر ان پر جنگ مسلط کی جائے تو بغاوت اور فتنے کا خاتمہ کیا جائے تاکہ لوگ امن اور سکون سے رہ سکیں۔ اس بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَقٰتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّیَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلّٰہِ ؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ۔ (البقرۃ:۱۹۴) اور ان سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (اختیار کرنا) اللہ کی خاطر ہوجائے۔ پس اگر وہ باز آجائیں تو (زیادتی کرنے والے) ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :’’ یعنی عرب کے اُن مشرکوں کو قتل کرو یہاں تک کہ بغاوت باقی نہ رہ جاوے اور دین یعنی حکومت اللہ تعالیٰ کی ہوجائے۔ اس سے کہاں جبر نکلتا ہے۔ اس سے تو صرف اس قدر پایا جاتا ہے کہ اُس حدتک لڑو کہ اُن کا زور ٹوٹ جائے اورشرارت اور فساد اُٹھ جائے اور بعض لوگ جیسے خفیہ طور پر اسلام لائے ہوئے ہیں ظاہر بھی اسلامی احکام ادا کرسکیں۔ اگر اللہ جل ّ شانہ ٗ کا ایمان بالجبر منشاءہوتا…تو پھر جزیہ اور صلح اور معاہدات کیوں جائز رکھے جاتے اور کیا وجہ تھی کہ یہود اور عیسائیوں کے لیے یہ اجازت دی جاتی کہ وہ جزیہ دے کر امن میں آجائیں اور مسلمانوں کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کریں۔ ‘‘(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶صفحہ ۲۶۳)

امن و سلامتی کو ترجیح دینا: اگر دشمن جنگ سے باز آجائے تو اس صورت میں دشمن کے خلاف زیادتی کی ممانعت کی گئی ہے۔ پس اسلام میں جنگوں کا ایک ادب یہ ہے کہ جنگوں کے دوران بھی بلا وجہ زیادتی کا مرتکب نہ ہوا جائے۔اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے : فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ۔ (البقرۃ:۱۹۴) پس اگر وہ باز آجائیں تو (زیادتی کرنے والے ) ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنی۔

صلح کی پیشکش قبول کرنے کی ہدایت : اسلام نے جنگ کو طول دینے اور بے جا انسانی جانوں کے ضیاع کو سخت ناپسند کیاہے۔ اگرچہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو مدافعتی جنگ کی اجازت دی ہے یا پھر فتنہ کے تدارک کے لیے اُس حد تک اجازت ہے کہ فتنے کو کچل کر اس کے بداثرات ختم کردیے جائیں۔ اگر دشمن اپنی کارستانیوں سے باز آجائے اور آئندہ فتنہ نہ پھیلانے کا وعدہ کرتے ہوئے صلح کی پیشکش کرے تو ایسی صورت میں صلح پر آمادگی ضروری ہے۔ جنگ کا ایک اور ادب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔ (الانفال:۶۲) اور اگر وہ صلح کے لیے جُھک جائیں تو تُو بھی اُس کے لیے جُھک جا اور اللہ پر توکل کر۔ یقیناً وہی بہت سننے والا(اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کے لیے ایک راہنما اُصول بیان فرمایا گیا ہے کہ جب بھی انہیں دنیا میں قیام امن، صلح جوئی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے بلایا جائے تو اس سے انکار مت کرنا بلکہ امن کی ہر راہ بخوشی اختیار کرو۔

جنگ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش: اسلام کا اصل مقصد امن اور سلامتی کا قیام ہے۔ اس لیے اُس نے اپنے ماننے والوں کو جنگ ناگزیر ہوجانے کی صورت میں بھی سفر اختیار کرتے وقت بہت احتیاط برتنے کی تعلیم دی ہے تاکہ وہ کسی قسم کی زیادتی کے مرتکب نہ ہوجائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ فَعِنۡدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیۡرَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَتَبَیَّنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا۔ (النساء:۹۵) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کررہے ہوتو اچھی طرح چھان بین کرلیا کرو اور جو تم پر سلام بھیجے اس سے یہ نہ کہا کرو کہ تُو مومن نہیں ہے۔ تم دنیاوی زندگی کے اموال چاہتے ہو تو اللہ کے پاس غنیمت کے کثیر سامان ہیں۔ اس سے پہلے تم اسی طرح ہوا کرتے تھے پھر اللہ نے تم پر فضل کیا۔ پس خوب چھان بین کرلیاکرو۔ یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہوبہت باخبر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو یہاں تک ہدایت فرمائی ہے کہ وہ دشمن سے جنگ کی تمنا ہی نہ کیا کریں۔آپ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے :لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّفَاِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا (صحیح البخاری کتاب الجھاد والسیربابلَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ حدیث نمبر:۳۰۲۶) دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرواور اگر مقابلہ ہوجائے تو پھر استقلال دکھاؤ۔

عہد و پیمان کی پابندی: اسلام کی امن پسند اور صلح جُو تعلیم کا ایک اَور ثبوت یہ ہے کہ اُس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر معاملے اور ہر موقع پر خواہ امن ہو یا جنگ، معاہدوں اور عہدوں کاپابند بنایا ہے۔ اس بارے میں قرآن شریف میں واضح تعلیم موجود ہے۔ جس پر نبی کریم ﷺنے ہمیشہ عمل کیا۔ آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی نصائح فرمائی ہیں۔ پس جنگ ہو یا عام حالات مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عہدوں کو پورا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا۔ (بنی اسرائیل :۳۵) اور عہد کو پورا کرو یقیناً عہد کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔ ایک اَور مقام پر فرمایا ہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ (المائدۃ:۲) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! عہدوں کو پورا کرو۔ اس ضمن میں صحیح البخاری کتاب الشروط کی حدیث ۲۷۳۱ اور ۲۷۳۲میں بیان آنحضرتﷺ کاراہ نماعمل ہمارے سامنے ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب معاہدہ ابھی لکھا جارہا تھا کہ کفار مکہ کے نمائندہ سہیل نے ایک شرط یہ لکھوائی کہ ہم میں سے جو شخص بھی خواہ وہ آپؐ کے دین پر ہی ہو آپؐ کے پاس آئے تو آپؐ اُسے ہماری طرف واپس کردیں گے۔ابھی وہ انہی باتوں میں تھے کہ حضرت ابوجندل ؓ بن سہیل بن عمرو اپنی زنجیروں میں لڑکھڑاتے ہوئے آئے اوروہ مکہ کے نچلے حصہ سے کی طرف سے نکل کر آئے تھے اور آکر انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان ڈال دیا۔ اس وقت تک معاہدہ مکمل نہ ہوا تھا اور نہ ہی اُس پر دستخط ہوئے تھے لیکن کفار مکہ کے نمائندہ سہیل نے کہا: محمدؐ! یہ وہ پہلا شخص ہے جس کا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کو مجھے واپس کردیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ابھی تو ہم یہ تحریر نہیں لکھ چکے۔ سہیل نے کہا: پھر تو میں اللہ کی قسم! آپؐ سے کسی بات پر بھی کبھی صلح نہیں کروں گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: پھر میری خاطر اس کی اجازت دے دو۔ اُس نے کہا: میں توآپؐ کی خاطر اس کی اجازت نہیں دوں گا۔اس موقع پر ابوجندلؓ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت ! کیا میں مشرکوں کے حوالے کیا جاؤں گا، حالانکہ میں مسلمان ہوکر آیا ہوں۔ کہا: کیا تم نہیں دیکھتے جو مصائب میں جھیل چکا ہوں۔ ابو جندل کو اللہ کی راہ میں فی الحقیقت سخت دکھ اُٹھانا پڑاتھا۔ اس موقع پر آنحضرتﷺ نے ایک ایسے معاہدے کا پاس کیا جو ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ کو کفار مکہ کے حوالے کردیا۔

اگر کوئی قوم صلح اور عہد باندھنے کے بعد عہد شکنی کی مرتکب ہوتو اس کے بارے میں بھی اسلام نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ کھلے بندوں اُس کا اعلان کردو تاکہ دونوں فریق جان لیں کہ اب معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ اس بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنۡ قَوۡمٍ خِیَانَۃً فَانۡۢبِذۡ اِلَیۡہِمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡخَآئِنِیۡنَ۔ (الانفال :۵۹) اور اگر تو کسی قوم سے عہد شکنی کا ڈر رکھتا ہو تو تُو اس طرح اُن کا عہد ختم کردے جس سے وہ سمجھ لیں کہ اب تم دونوں (فریق اپنی پابندیوں سے) آزاد ہو۔ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں صلح حدیبیہ کا معاہدہ مصالحت اور صلح جوئی کی ایک بہترین مثال ہے۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی عہد والے کو بغیر کسی وجہ کے قتل کیا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجہاد بَابٌ فِی الْوَفَاءِ لِلْمُعَاھِدِ وَحُرْمَۃِ ذِمَّیِّہِ حدیث:۲۷۶۰)

عدل و انصاف کا قیام: اسلام نے اپنے ماننےوالوں کو حکم دیا ہے کہ ہر حالت میں انصاف کا قیام اُن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ خواہ سامنے دشمن ہی کیوں نہ ہواُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں۔ جنگ کی صورت میں بھی یہ حکم لاگو ہوگا اور یہ بھی جنگ کا ایک ادب شمار ہوگا کہ دشمن کے ساتھ بہرحال انصاف کا سلوک روا رکھا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایمان لانے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَلَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡاؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۔ (المائدہ :۹) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔

بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت: اسلام نے جنگ کا ایک اَور اہم ادب یہ بیان کیا ہے کہ جنگ کے دوران بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ روایت ہے کہ نبی ﷺ کی جنگوں میں سے کسی ایک جنگ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو آپؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کیے جانے کو ناپسند فرمایا۔ (صحیح البخاری کتاب الجھاد والسیر بَابقُتْلُ الصِّبْیَانِ فِی الْحَرْبِ حدیث:۳۰۱۴) ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓکو ایک غزوہ پر بھیجتے ہوئے فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کی راہ میں غزوہ کرو، اس شخص سے جہاد کرو جو اللہ کا انکار کرے، غدر نہ کرو، خیانت نہ کرو، مقتولین کے اعضانہ کاٹو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجھاد بابٌ فِی دُعَاءِ المشرکین حدیث نمبر:۲۶۱۳)

عورتوں کے قتل کی ممانعت: (حضرت عبداللہ) بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ کی جنگوں میں سے کسی جنگ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔(صحیح البخاری کتاب الجھاد والسیر بَاب قُتْلُ النِّسَاءِ فِی الْحَرْبِ حدیث:۳۰۱۵)غزوۂ حنین سے متعلق حضرت رباح بن ربیعؓ کی حدیث میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی حضرت خالد بن ولیدؓ کی طرف بھیجا کہ ان سے کہو:لَا تَقْتُلْ ذُرِّیَّۃً وَّلا عَسِیْفًا (سنن ابو داؤد کتاب الجہاد بابٌ فِی قَتْلِ النِّسَاءِ حدیث:۲۶۶۹) یعنی بچوں اور خدمت گاروں کو قتل نہ کریں۔

بوڑھوں کو قتل کرنے کی ممانعت: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چلو اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد حاصل کرتے ہوئے اور رسول اللہ کی ملت پر قائم رہتے ہوئے۔ بہت بوڑھے آدمی کو قتل نہ کرنا، نہ کسی بچے یا نابالغ کو اور نہ کسی عورت کو۔ خیانت سے باز رہنا، غنائم کو جمع رکھنا اور اصلاح کا معاملہ کرنا، نیکی اور احسان کا سلوک کرنا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سنن ابوداؤدکتاب الجھاد بابٌ فِی دُعَاءِالمشرکین حدیث نمبر:۲۶۱۴)

گھریلو ملازمین کو قتل کرنے کی ممانعت: اسلام نےجنگوں کے بارے میں ایک ادب یہ بیان کیا ہے کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے علاوہ گھریلو ملازمین کو بھی قتل نہیں کرنا۔ چنانچہ غزوۂ حنین کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ کو یہ حکم دیا :لَا تَقْتُلُنَّ امْرَأۃً وَلَا عَسِیفًا (سنن ابو داؤد کتاب الجہاد بابٌ فِی قَتْلِ النِّسَاءِ حدیث نمبر:۲۶۶۹) کسی عورت یا کسی خدمت گزار کوہرگز قتل نہ کریں۔ ایک اَور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جنگ کے دوران بچوں اور مزدوروں کے قتل سے ممنع کرتے ہوئے فرمایا: فَلَا یُقْتُلَنَّ ذُرِّیَّۃً وَلَا عَسِیْفًا۔ (المستدرک کِتَابُ الْجِھَادِ حدیث نمبر:۲۵۶۵)بچوں اور کو مزدوروں کو قتل نہ کریں۔

دھوکہ دہی کی ممانعت: اسلام میں جنگ کا ایک اور ادب یہ ہے کہ جنگ کے دوران بھی دشمن کو دھوکہ نہ دیاجائے بلکہ اس فعل کو سخت ناپسند کیا ہے۔ یہاں تک کہ دھوکہ دے کرکسی کو قتل کرنا قابل جرم فعل قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے :عہد وپیمان میں دھوکہ کرنے والے کے لیے قیامت کے روز ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا :یہ فلاں بن فلاں کا دھوکا ہے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجہاد بَابٌ فِی الوَفَاءِالْعَھْدِ حدیث نمبر:۲۷۵۶) اسی طرح احادیث میں خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دَور کا ایک واقعہ اس طرح درج ہے:اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ اِلَی عَامِلِ جَیْشٍ کَانَ بَعْثَہُ اِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالًا مِنْکُمْ یَطْلُبُونَ الْعِلُجَ حَتَّی اِذَا أَسْنَدَ فِی الْجَبَلِ وَامْتَنَعَ قَالَ رَجُلٌ مَطْرَسُ یَقُولُ لَا تَخَفْ فَاِذَا أَدْرَکَہُ قَتَلَہُ وَاِنِّی وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ لَا أَعْلَمُ مَکَانَ وَاحِدٍ فَعَلَ ذَلِکَ اِلَّا ضَرَبْتُ عُنُقَہُ ۔(مؤطا امام مالک کتاب الجہاد باب ماجاء فی الوفا بالامان حدیث نمبر:۹۷۰)ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک افسر جنگ کو لکھا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک کافر عجمی کو جبکہ وہ پہاڑ پرچڑھ گیا اور لڑائی سے باز آگیا، بعض لوگوں نے اسے بلایا کہ مت ڈرو اور اسے مار ڈالا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو میں اس شخص کی گردن ماروں گا۔یعنی ایسا کرنے والے کو موت کی سزا دوں گا۔

عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت:اسلام نے جنگ کے دوران دشمن کی عبادت گاہوں (جیسے مندر، گرجے یا کنیسہ) کو نقصان پہنچانے یا منہدم کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے بلکہ جنگ کے دوران اپنی عبادت گاہوں میں پناہ لینے والوں کو بھی مکمل تحفظ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: ۣالَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَلَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ۔(الحج:۴۱)(یعنی) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع اُن میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بِھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ اور یقیناً اللہ ضرور اُس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔

راہبوں اور عبادت گزاروں کے احترام کی تعلیم: اسلام میں جنگ کا ایک ادب یہ ہے کہ دشمن کی عبادت گاہوں میں متعین افراد کا احترام کیا جائے اور اُنہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ کرتے وقت امیر لشکر کو نصیحت کے رنگ میں فرمایا:اِنَّکَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّھُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَھُمْ لِلّٰہِ۔..لَاتَقْتُلَنَّ امْرَأۃً، وَلَا صَبِیًّا، وَلَا کَبِیْرًا ھَرمًا۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الجہاد باب النَّھی عن قَتْل النِّساء والوِلْدان فی الغَزْو حدیث:۹۲۸۔الناشر دارالغرب الاسلامی بیروت۔الطبعۃ الثانیۃ ۱۹۹۷ء)ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جو عبادت گاہوں میں عبادت میں مشغول ہوں گے، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا۔کسی عورت کو مت قتل کرواور نہ بچوں کو اور نہ ہی بہت بوڑھوں کو۔

لاشوں کی بے حرمتی کی ممانعت: اسلام سے پہلے عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ دشمن کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے تھے۔ مقتولین کے مختلف اعضاء کاٹ دیتے۔ ناک کان اور چہرے کے دیگر اعضا ءکاٹ کر چہرہ مسخ کردیتے۔ جنگِ اُحد کا مشہور واقعہ ہے جب آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اُن کا چہرہ مسخ کردیا گیا اور ہندہ نے آپ کا کلیجہ نکلوا کر چبالیا تھا۔ اسلام نے ایسے قبیح فعل کو سخت ناپسند کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نےاپنے ماننے والوں کو دشمن کی لاش کی بے حرمتی کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن یزید انصاری ؓسے روایت ہے : نبی ﷺ نے لوٹ مار کرنے اور لڑائی میں مقتولین کے ناک اور کان کاٹنے سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری کتاب المظالم باب النُّھْبَی بِغَیْرِ اِذْنِ صَاحِبِہِ حدیث نمبر:۲۴۷۴) آنحضرت ﷺنے صحابہ ؓکو ایک غزوہ پر بھیجتے ہوئے فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کی راہ میں غزوہ کرو، غدر نہ کرو، خیانت نہ کرو، مقتولین کے اعضانہ کاٹو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو۔ (سنن ابی داؤد کتاب الجھاد بابٌ فِی دُعَاءِ حدیث نمبر:۲۶۱۳)

لوٹ مار کی ممانعت:پیغمبر اسلام ﷺ نے جنگ کا ایک ادب یہ سکھایا ہے کہ جنگ سے پہلے دشمن کے مال کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ ہی اُن کا مال اسباب لوٹا جائے بلکہ آپؐ نے ایسے مال کو ناجائزاور حرام قرار دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی ﷺ نے لوٹ مار کرنے اور لڑائی میں مقتولین کے ناک اور کان کاٹنے سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری کتاب المظالم باب النُّھْبَی بِغَیْرِ اِذْنِ صَاحِبِہِ حدیث نمبر:۲۴۷۴) نبی کریم ﷺنےیہ بھی فرمایا:مَنِ انْتَھَبَ فَلَیْسَ مِنَّا (جامع ترمذی کتاب السیر عن رسول اللّٰہ ﷺ باب ماجاء فی کراھیۃ النھبۃ)جس نے لوٹ کھسوٹ کی اُس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ حضرت ثعلبہ بن حکم ؓسے مروی ہے : ہم نے دشمن کی بکریاں لوٹیں اور ہانڈیاں چڑھادیں۔ نبی ﷺ ہانڈیوں کے پاس سے گزرے اور اُن کی نسبت حکم دیا اور وہ اُنڈیل دی گئیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: لوٹ کا مال جائز نہیں۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن، باب النھی عن النھبۃ حدیث نمبر:۳۹۳۸)پس نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ کی تربیت میں اس قدر احتیاط برتی ہے کہ انہیں بھوک کی حالت میں بھی لوٹ مارکا مال استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ اس پر ناراضی کا اظہار فرمایا۔ پس اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جنگوں کے جو آداب سکھائے ہیں اُن میں دشمنوں کے حقوق کا بھی پوری طرح خیال رکھا گیا ہے۔

درختوں اور کھیتیوں کو تباہ کرنے کی ممانعت:جنگوں کاایک ادب یہ بیان ہوا ہے کہ دشمن کے درختوں اور کھیتوں کو بلا وجہ نہ کاٹا جائے اور نہ ہی بستیوں کو اُجاڑا جائے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان کو ایک لشکر کے چوتھائی حصے کا نگران مقرر فرمایا۔ آپؓ نے ان کو روانہ کرتے وقت جو وصیت فرمائی اُس میں سے چند نصائح درج ذیل ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: کسی عورت کو مت مارنا اور نہ بچوں کو اور نہ بوڑھوں کو اور درخت نہ کاٹنا،کسی بستی کو نہ اجاڑنا، کسی بکری اور اونٹ کی کونچیں مت کاٹنامگر کھانے کےواسطے، کھجور کے درخت کو مٹ جلانا۔(مؤطا امام مالک، کتاب الجہادباب النھی عن قتل النساء والولدان فی الغزو حدیث:۹۶۸)

جانوروں کو بلاوجہ مارنے اور تکلیف دینے کی ممانعت: اسلام نے جنگوں کا ایک ادب یہ بیان کیا ہے کہ جنگ کے دوران احسان کو رَوا رکھنا ہے تاکہ دشمن کو کم سے کم تکلیف پہنچے۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ کرتے وقت فرمایا: کسی بستی کو نہ اجاڑنا، کسی بکری اور اونٹ کی کونچیں مت کاٹنامگر کھانے کےواسطے، کھجور کے درخت کو مٹ جلانا۔(موطا امام مالک، کتاب الجہادباب النھی عن قتل النساء والولدان فی الغزو حدیث نمبر:۹۶۸)

اسلام نے جانوروں کے ساتھ عام حالات میں ہی رحم کا سلوک روا رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ جنگ کے دوران دشمن کے جانوروں کے ساتھ بھی رحم کا سلوک کرنےحکم دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے احسان کو فرض کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو اچھے طریق سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھےطریقہ سے ذبح کرو۔ تم میں سے جو کوئی ذبح کرنا چاہے وہ اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچائے۔ (صحیح مسلم کتاب الصید والذبائح وَمَایُؤْکَلُ مِنَ الْحَیَوَانِ، بَاب الْأَمْرُ بِاِحْسَانِ الذَّبْحِ وَالْقَتْلِ وَتَحْدِیْدِ الشَّفْرَۃِ حدیث نمبر:۵۰۵۵)

جنگ کے دوران جب دشمن کا آمنا سامنا ہو تو ایک دوسرے کا خون بہانا ایک لازمی امر ہے۔تلوار وں کے ساتھ لڑی جانے والی جنگوں میں عام طور پر دنیا داروں کا یہ اصول رہا ہے کہ وہ دشمن پر قابو پالینے کے بعد ایک ایک کرکے اُس کے اعضاءکاٹنے اور اسے اذیت ناک موت دیتے لیکن اس موقع پر بھی نبی کریم ﷺ نے دشمن کے ساتھ احسان کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ دشمن کو اذیت پہنچا کر قتل نہ کرو بلکہ جہاں تک ممکن ہو ایک ہی وار میں اُس کا کام تمام کردو تاکہ وہ مزید تکلیف سے محفوظ رہے۔

قیدیوں سے حسن سلوک : اسلامی جنگوں کا ایک ادب یہ ہے کہ قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اور اچھا برتاؤ رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایاہے:وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیۡرًا۔ (الدّھر:۹)اور وہ کھانے کو، اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے، مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔ یہ آیت قیدیوں کے حسنِ سلوک کی واضح دلیل ہے۔جنگی قیدیوں کے بارے میں قرآن کریم نے یہ راہنما اُصول بیان فرمایا ہے : فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا (محمد:۵)پھر بعد ازاں احسان کے طورپر یا فدیہ لے کر آزاد کرنا یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ پس اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اسیران ِ جنگ کو بغیر تاوانِ جنگ لیے، بطور احسان یا تاوان لے کر آزاد کرنے کی تعلیم دی ہے اورانہیں باور کرایا ہے کہ تم یہ خیال نہ کرو کہ تم نے اُن کے مظالم کا انتقام نہیں لیا یا اس طرح تمہارے شہیدوں کا خون رائیگاں جائے گابلکہ اس امر کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ غزوۂ بدر کے علاوہ آنحضرت ﷺ نے غزوۂ ہوازن کے قیدی آزاد فرمائے بعض سے تاوان لیا گیا اور بعض بے تاوان آزاد کردیے گئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے : مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَاللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَاللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ۔ (الانفال:۶۸)کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کیے بغیر قیدی بنائے۔ تم دنیا کی متاع چاہتے ہو جبکہ اللہ آخرت پسند کرتا ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔آیت مذکورہ بالا سے واضح ہے کہ اگر کسی نبی کو مجبوراً جنگ لڑنی پڑے تو اسی صورت میں فتح پانے پر لڑنے والوں کو قیدی بنایا جاسکتا ہے یعنی بغیر جنگ کے کسی کو قید کرنا جائز نہیں۔

فتح کے بعد عام معافی دینا:اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جنگ کا ایک اہم ادب یہ سکھایا ہے کہ اگر فتح کے بعد مفتوح قوم کو عام معافی دینا زیادہ سود مند ہو تو معاف کرنا زیادہ بہتر ہے۔ جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے شدید ترین دشمنوں سےمخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ مَا تَرَوْنَ اَنِّیْ فَاعِلٌ فِیْکُمْ؟ قَالُوْا خَیْرًا، اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ۔ قَالَ اذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ذکر فتح مکۃ، طواف الرسول بالبیت وکلمۃ فیہ، جزء۲ صفحہ۴۱۲) اے قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تم سے کیا کرنے والا ہوں؟ انہوں نے کہا : اچھا ہی کریں گے۔ شریف بھائی ہو۔ شریف بھائی کے بیٹے ہو۔ فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو۔ یہ کہہ کر آپؐ بیٹھ گئے۔ آنحضرت ﷺ کا کفار مکہ سے یہ حسن سلوک تاریخِ انسانی کی ایک عظیم ترین مثال شمار ہوتی ہے۔

جنگی آداب کا خلاصہ: اسلامی تعلیم کی روشنی میں جنگ کے آداب کو مختصراً اور یکجائی صورت میں اگر دیکھا جائے تو اس کے اہم آداب درج ذیل ہیں۔ بلاوجہ جنگ مسلط کرنا جائز نہیں بلکہ جنگ صرف جائز مقصد کے لیے ہونی چاہئے۔ظلم اور زیادتی ممنوع ہے۔امن کی پیشکش قبول کی جائے۔عورتوں کو قتل نہ کیا جائے۔بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے۔عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ راہبوں اور عبادت گزاروں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔لاشوں کی بے حرمتی نہ کی جائے۔عہد شکنی نہ کی جائے۔لوٹ مار نہ کی جائے۔درخت اور فصلیں تباہ نہ کی جائیں۔جانوروں کو بلاوجہ نقصان نہ پہنچایا جائے۔قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔عدل و انصاف کو برقرار رکھا جائے۔مذہبی جبر نہ کیا جائے۔

خلاصہ کلام یہ کہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ ﷺ کے مطالعے سے واضح ہے کہ اسلام نے جنگ کو اخلاقیات اور انسانیت کے تابع رکھا ہے۔ اسلام کی نظر میں جنگ ایک مجبوری اوردفاع کی آخری راہ ہے جبکہ امن، صلح، عدل اور انسانیت کا احترام اس کے اصل مقاصد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور خلفائےراشدینؓ نے اپنے عملی نمونوں سے ثابت کیا ہے کہ طاقت کے باوجود ظلم، انتقام اور بربریت کسی طور جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دَور جدید میں مہذب اور امن عالم کی داعی کہلانے والی قومیں نہ تو اسلامی جنگوں کے آداب کے قریب پہنچ پائی ہیں اور نہ ہی اُن کا عمل ان سنہری اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ ایک منصف مزاج مصنفہ روتھ کرینسٹین (Ruth Cransto)کی مشہور تصنیف ورلڈ فیتھ جوکہ ۱۹۴۹ء میں امریکہ میں شائع ہوئی تھی، جنگوں کے دوران آنحضرت ﷺ کے پاکیزہ اسوہ اور مسیحیوں کے نمونہ کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں:

Mohammed never instigated fighting and bloodshed. Every battle that he fought was in rebuttal. He fought in order to survive—and he fought with the weapons and in the fashion of his time.

Fashions in brutality change, as in everything else. It seems almost incredible now that in 1917 people were shocked at the killing of civilians in wartime. Certainly no ‘‘Christian’’ nation of 140,000,000 people who today dispatch 120,000 helpless civilians with a single bomb can look askance at a leader who at his worst killed a bare five or six hundred. The slayings of the Prophet of Arabia in the benighted and bloodthirsty age of the seventh century look positively puerile compared with our own in this ‘‘advanced’’ and enlightened twentieth. Not to mention the mass slaughter by the Christians during the Inquisition and the Crusades—when, Christian warriors proudly recorded, they waded ankle-deep in the gore of the Moslem infidels. (World Faith by Ruth Cranston, Skeffington Stratford Place London, 1953,page 204,205)

محمد عربی(ﷺ) نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کاآغاز نہیں کیا۔ ہر جنگ جو انہوں نے لڑی، مدافعانہ تھی۔ وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لیے اور ایسے اسلحے اور طریق سے لڑے جو اُس زمانے کا رواج تھا۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چودہ کروڑ عیسائیوں میں سے جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کردیا ہو، کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو تہ تیغ کیاہو۔ عرب کے نبی کے ہاتھوں ساتویں صدی کے تاریکی کے دور میں جب لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہوں، ہونے والی ان ہلاکتوں کا آج کی روشن بیسویں صدی کی ہلاکتوں سے مقابلہ کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اس بیان کی تو حاجت ہی نہیں جو قتل انکوزیشن (Inquisition) اور صلیبی جنگوں کے زمانے میں ہوئے جب عیسائی جنگجوؤں نے اس بات کو ریکارڈ کیا کہ وہ ان بے دینوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے درمیان ٹخنے ٹخنے خون میں پھر رہے تھے۔

مزید پڑھیں: دَورِ خلفائے راشدین میں لڑی جانے والی جنگوں کے مقاصد اور ان کے شیریں ثمرات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button