متفرق مضامین

رسول اللہﷺ کی غزوات میں دعائیں

(ایم۔اے۔طیب)

ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضورﷺ کی حالتِ جنگ کی دعائیں بھی صحابہ کرامؓ نے محفوظ کیں جن میں کہیں تو آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی غیرت کو اُبھاراہے، کہیں اللہ تعالیٰ کو اس کا وعدہ یاد دلایا ہےکہیں بڑے عجز وانکسار سے اس کی مدد ونصرت طلب کی ہے اور کہیں محض دشمن کی پسپائی اور ہلاکت کی دعا کی ہے

رسول اللہﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں، التجائیں اور گریہ وزاری کرتے ہوئے گزرتا تھا۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوتے وقت اور بیدار ہوتے ہوئے یہاں تک کہ بیت الخلا جاتے وقت اور آتے وقت کی دعائیں اور اذکار بھی ملتے ہیں۔جہاں خوشی اور مسرت کے وقت کی آپؐ کی دعائیں محفوظ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا سے لبریز ہیں وہاں تکلیف اور کرب وبلا کی دعائیں بھی محفوظ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی صفت صمدیت اور غنا کو مد نظر رکھتے ہوئے آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے کرب وبلا سے نجات کی دعائیں کی ہیں۔ حالتِ جنگ بھی تکلیف اور کرب وبلا کی ایک شاخ ہے اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضورﷺ کی حالتِ جنگ کی دعائیں بھی صحابہ کرامؓ نے محفوظ کیں جن میں کہیں تو آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی غیرت کو اُبھاراہے، کہیں اللہ تعالیٰ کو اس کا وعدہ یاد دلایا ہےکہیں بڑے عجز وانکسار سے اس کی مدد ونصرت طلب کی ہے اور کہیں محض دشمن کی پسپائی اور ہلاکت کی دعا کی ہے۔ آئیے! رسول اللہﷺ سے حالت جنگ میں دعاؤں کے گُر سیکھتے ہیں۔

غزوہ پر جاتے ہوئے کامل توکّل کی دعا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ إِذَا غَزَا قَالَ اللّٰهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيْرِي، بِكَ أَحُولُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ۔ (ابو داؤد کتاب الجھاد باب ما یدعی عند اللقاء: ۲۶۳۲) ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ کے لیے جاتے تو کہتے : اے اللہ! تُو ہی میرا دست و بازو اور میرا مددگار ہے۔ تیرے ذریعہ سے میں تدبیر کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے میں لڑتا ہوں۔

خوف کے وقت اللہ تعالیٰ کو سپر اور ڈھال بنانے کی دعا

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قَالَ اللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ۔ (ابوداؤد ابواب قراءۃ القرآن باب ما يقول الرجل إذا خاف قوما:۱۵۳۷) حضرت ابو بردہ بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب کسی قو م(کے حملہ) کا اندیشہ ہوتا تو آپؐ کہتے اے اللہ !ہم تجھے دشمنوں کے سینوں کے آگے کرتے ہیں اور ان کے شرور سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

غزوۂ بدر کے دوران دعا

اللّٰهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللّٰهُمّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللّٰهُمّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ۔ ترجمہ: اے اللہ! جو تُو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! جو تُو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ مجھے عطا فرما۔ اے اللہ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔

آپﷺ اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے قبلہ رخ ہو کر مسلسل اپنے رب کو پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپؐ کی چادر مبارک آپؐ کے کندھوں سے گر گئی۔ پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ آپؐ کے پاس آئے، انہوں نے آپؐ کی چادر اٹھائی اور اسے آپؐ کے کندھوں پر ڈال دیا، پھر وہ آپؐ کے پیچھے سے آپؐ سے لپٹ گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ! آپ کا اپنے رب کو پکارنا آپ کے لیے کافی ہے۔ یقیناً وہ آپؐ سے کیا ہوا اپنا وعدہ جلد پورا فرمائے گا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ۔ (الانفال: ۱۰) (ىاد کرو) جب تم اپنے ربّ سے فرىاد کر رہے تھے تو اس نے تمہارى التجا کو قبول کرلىا (اس وعدہ کے ساتھ) کہ مىں ضرور اىک ہزار قطار در قطار فرشتوں سے تمہارى مدد کروں گا۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ آپؐ کی مدد فرمائی۔ (مسلم کتاب الجہاد والسیر باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر واباحۃ الغنائم :۴۵۸۸)

غزوۂ بدر کے موقع پر بے سرو سامانی کی دعا

غزوۂ بدر کے موقع پر مومنوں کی بے سرو سامانی کا یہ عالَم تھا کہ کفار کے ایک ہزار کے لشکر کے مقابل پر صرف تین سو تیرہ مسلمان تھے ساری فوج میں ۷۰؍اونٹ اور ۲؍گھوڑے تھے جن پر مسلمان باری باری سوار ہوتے تھے اور سامان حرب بھی معمولی تھا اس بے سرو سامانی کی حالت دیکھ کر حضور ﷺ نے یہ دعا کی:

اللّٰهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ، اللّٰهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ، اللّٰهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ۔( ابو داؤد کتاب الجھاد باب في نفل السرية تخرج من العسكر :۲۷۴۷) ترجمہ:اے اللہ! یہ پیدل ہیں انہیں سواری دے۔ اے اللہ! یہ ننگے ہیں انہیں کپڑاوڑھا دے۔اے اللہ! یہ بھوکے ہیں انہیں سیر کر دے ۔

دعا کی قبولیت: چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور غزوۂ بدر سے واپس آنے والوں میں سے کوئی ایسا شخص نہیں تھا کہ اگر اس نے سواری پر جانا چاہا تو اس کو ایک دو ایسے اونٹ نہ مل گئے ہوں جنہیں وہ استعمال کرسکے۔ اسی طرح جن کے پاس کپڑے نہیں تھے انہیں کپڑے مل گئے اور سامانِ رسد اتنا ملا کہ کھانے پینے کی کوئی تنگی نہ رہی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کی رہائی کا اس قدر معاوضہ ملا کہ ہر خاندان دولت مند ہوگیا۔ (ماخوذ از السیرۃ الحلبیۃ جلد۲صفحہ ۲۰۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت۲۰۰۲ء)

بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کی اللہ تعالیٰ کے حضور آہ وزاری

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَاتَلْتُ يَوْمَ بَدْرٍ قِتَالًا، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقَاتَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ سَاجِدٌ يَقُولُ ’’يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ‘‘، قَالَ فَفَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْهِ۔ (مسند ابی یعلی مسند ابی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ :۵۳۰) ترجمہ: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے غزوۂ بدر کے دن کچھ دیر قتال (جنگ) کیا، پھر میں نبی کریم ﷺ کی طرف آیا تو دیکھا کہ آپ ﷺ سجدے کی حالت میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ (اے زندہ اور قائم رہنے والے!) پھر میں (واپس) چلا گیا اور قتال میں مصروف ہو گیا، پھر دوبارہ آیا تو نبی کریم ﷺ اب بھی سجدے میں یہی کہہ رہے تھے: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح عطا فرما دی۔

غزوۂ احد کے موقع پرحضرت سعدؓ کے لیے دعا

غزوۂ احد کے دوران جب اچانک افراتفری مچ گئی، تو کثیر تعداد میں صحابہ کرامؓ وقتی طور پر منتشر ہو گئے۔ اس انتہائی نازک وقت میں کفارِ مکہ نے سیدھے رسول اللہ ﷺ پر جان لیوا حملے شروع کر دیے تاکہ (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کا خاتمہ کر سکیں۔

حضرت سعدؓ  کا دفاعِ رسول ﷺ: اس ہولناک موڑ پر جو چند صحابہ کرامؓ پامردی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے گرد ڈھال بن کر کھڑے ہوئے، ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے۔ وہ عرب کے بہترین تیر انداز تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ کر کفار پر اندھا دھند اور انتہائی تیزی سے تیر برسانا شروع کر دیے تاکہ انہیں آپ ﷺ کے قریب آنے سے روکا جا سکے۔

آپ ﷺ کا فدایانہ انداز اور دعا

آپ ﷺ خود اپنے دستِ مبارک سے حضرت سعدؓ کو ترکش سے تیر نکال نکال کر پکڑانے لگے اور جوش و محبت میں فرمانے لگے: اِرْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، ( ابن ماجہ کتاب السنۃ باب فضل سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ :۱۳۰) ترجمہ: سعد! تیر چلاؤ۔تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔مسند البزار میں یہ الفاظ بھی ہیں: اللّٰهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ، وَأَجِبْ دَعْوَتَهُ (مسند البزار :۱۲۱۳)اے اللہ! اس کے نشانے کو سیدھا رکھ اور اس کی دعا کو قبول فرما۔

حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ مجھے ایسے تیر بھی پکڑا دیتے تھے جن کے آگے لوہے کا پھل (نوک) بھی نہیں ہوتا تھا (صرف لکڑی ہوتی تھی)، لیکن آپ ﷺ کے فرمانے پر جب میں وہ چلاتا تو وہ بھی دشمن کو جا لگتا۔ اسی دوران میدانِ جنگ میں آپ ﷺ مجاہدین کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کے حق میں موقع پر ہی دعا فرماتے تھے۔

غزوۂ احد کے آخر میں ایک جامع دعا

اللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كلُّهٗ، اَللّٰهمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بسَطْتَ، وَلَا باسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَاديَ لِمَنْ أضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَن هدَيْتَ، وَلَا مُعْطيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أعْطَيْتَ، وَلَا مُقرِّبَ لِمَا بَعَّدْتَ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اَللّٰهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكاتِكَ وَ رَحْمَتِكَ وَ فَضْلِكَ وَ رِزْقِكَ، اللّٰهُمَّ إنِّي أسْأَلُكَ النَّعِيْمَ الْمُقيْمَ الَّذِي لَا يَحُوْلُ وَلَا یَزُوْلُ، اللّٰهُمَّ إنِّي أسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الخَوْفِ، اللّٰهُمَّ عَائِذٌ مِنْ شَرِّ مَا أعْطَيْتَنَا، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللّٰهمَّ حَبِّبْ إلَيْنَا الإيْمَانَ وَزَيِّنْه فِيْ قُلُوْبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدينَ، اللّٰهمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِميْنَ، وَأَحْيِنَا مُسلِميْنَ، وألْحِقْنَا بِالصَّالِحيْنَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُوْنِيْنَ، اللّٰهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرةَ الَّذِيْنَ يُكذِّبُوْنَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِم رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ إلَهَ الحَقِّ آمِيْنَ۔ (مسند احمد بن حنبل،حدیث نمبر : ۱۵۴۹۲) اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ اے اللہ! جسے تُو پھیلا دے اسے کوئی سمٹانے والا نہیں، اور جسے تُو سمٹائے اسے کوئی پھیلانے والا نہیں۔ اور جسے تُوگمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، اور جسے تُو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ اور جو چیز تُو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور جو تُو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور جس چیز کو تُو دور کر دے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں، اور جسے تُو قریب کر دے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں۔اے اللہ! ہم پر اپنی برکات، اپنی رحمت، اپنے فضل اور اپنے رزق کے دروازے کھول (پھیلا) دے۔ اے اللہ! مَیں تجھ سے ایسی دائمی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی بدلیں نہ اور کبھی ختم نہ ہوں۔ اے اللہ! مَیں تجھ سے خوف کے دن امن و امان کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جو تو نے ہمیں عطا فرمائی، اور اس چیز کے شر سے بھی جو تو نے ہم سے روک لی۔ اے اللہ! ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں خوبصورت کر دکھا، اور ہمارے دلوں میں کفر، گناہ اور نافرمانی کی نفرت پیدا کر دے، اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔اے اللہ! ہمیں اسلام کی حالت میں موت عطا فرما، ہمیں اسلام کی حالت میں زندہ رکھ، اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے، اس حال میں کہ ہم نہ رسوا ہوں اور نہ کسی فتنے میں مبتلا ہوں۔اے اللہ! ان کافروں کو ہلاک فرما جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے سے روکتے ہیں، اور ان پر اپنا عذاب اور سخت سزا نازل فرما، اے سچے معبود! میری یہ دعا قبول فرما۔

غزوۂ احد کے موقع پر زخمی ہونے پر قوم کی ہدایت کی دعا

غزوۂ احد کے دن جب آپ ﷺ شدید زخمی ہوئے اور آپؐ کےدودندانِ مبارک شہید ہوگئے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تکلیف دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ؐ! آپ ان ظالموں پر بددعا کیوں نہیں فرما دیتے؟ اس پر رحمتِ عالم ﷺ نے غصہ ہونے کے بجائے یہ فرمایا کہ میرا مقصدِ بعثت لوگوں پر لعنتیں بھیجنا یا انہیں خدا کی رحمت سے دور کرنا نہیں، بلکہ انہیں خدا کی طرف بلانا اور ان پر رحم کرنا ہے تب آپ ﷺ نے دشمن کے لیے بددعا کرنے کی بجائے اپنی قوم کی ہدایت کے لیے یہ دعا کی: اللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِی فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُون۔ ( شعب الایمان :۱۳۷۵) ترجمہ: اے اللہ! میری قوم کو معاف فرما دے کیونکہ یہ (سچائی کو) جانتے نہیں ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس دعا کہ حوالے سے فرماتے ہیں: ’’آنحضرت ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا خاص طور پر میں کہنا چاہتا ہوں جس طرح شروع میں مَیں نےذکر بھی کیا تھا کہ اللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِی فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُون۔ جب غزوہ احد کے وقت آنحضرت ﷺ کا دانت مبارک شہید ہوا، بلکہ دندان شہید ہوئے اور آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا تو یہ صحابہ کرام کے لیے بڑی تکلیف دہ بات تھی۔انہوں نے کہا کہ آپ ان لوگوں کے خلاف بددعا کریں۔ آپ نے فرمایا “ مجھے لعنت ملامت کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا گیا بلکہ میں خدا کی طرف دعوت دینے والا باعث رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔ پھر آپ نے یوں دعا کی اللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِی فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُون کہ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے۔‘‘(خطبات مسرور جلد ۷ صفحہ ۱۱۷)

غزوۂ خندق (احزاب)کے موقع پر دعا

حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم خندق میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے حضور ﷺ مٹی کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے آپؐ ہمارے پاس سے گزرتے تو فرماتے : اللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الآخِرَهْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالمُهَاجِرَهْ۔ ( بخاری کتاب الرقاق باب لا عیش الا عیش الآخرۃ : ۶۴۱۴) اے اللہ!آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔

غزوۂ احزاب کے موقع پر جب تمام کافر قبیلوں نے مل کرجو دس ہزار کے قریب تھے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور مسلمان شدید آزمائش اور خوف میں تھے، تب آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ التجا کی: اللّٰهُمّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ۔ (بخاری کتاب الجھاد والسیر باب لَا تَمَنَّوا لِقاء العدو:۳۰۲۵) ترجمہ: اے اللہ! کتاب نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! ان (کافروں) کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ ایک روایت میں اللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ کے الفاظ ہیں یعنی اے اللہ!انہیں شکست دے اور ان پر زلزلہ طاری کردے۔ (بخاری : ۲۹۳۳)

محاصرے کے وقت کی ایک اور دعا

غزوۂ خندق کے موقع پر جب دشمن نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور مسلمان شدید پریشانی کا شکار ہوئے، تو صحابہ کرامؓ نے پوچھا: یا رسول اللہؐ! کیا ایسی کوئی دعا ہے جو ہم پڑھیں؟ کیونکہ دل حلق کو آ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے یہ دعا سکھائی: اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا۔ (مسند احمد بن حنبل مسند المکثرین من الصحابہ :۱۰۹۹۶) ترجمہ: اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہمارے خوف کو امن سے تبدیل فرما۔

اس دعا کے بعد اللہ نے شدید ہوا کا طوفان بھیجا جس نے دشمن کے خیمے اکھاڑ دیے۔

غزوۂ خندق (احزاب) کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے شدید سردی، بھوک اور محاصرے کی حالت میں یہ دعا مانگی، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائی۔ مادی اسباب کے بغیر، اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لشکر پر دو طرح کا عذاب نازل کیا جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۃالاحزاب میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّجُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۔ اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَمِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا۔ ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا۔ (الاحزاب:۱۰-۱۲) اے لوگو جو اىمان لائے ہو! اپنے اوپر اللہ کى نعمت کو ىاد کرو جب تمہارے پاس لشکر آئے تھے تو ہم نے ان کے خلاف اىک ہَوا بھىجى اور اىسے لشکر بھىجے جن کو تم دىکھ نہىں رہے تھے اور ىقىناً اللہ جو تم کرتے ہو اس پر گہرى نظر رکھنے والا ہے ۔ اے لوگو جو اىمان لائے ہو! اپنے اوپر اللہ کى نعمت کو ىاد کرو جب تمہارے پاس لشکر آئے تھے تو ہم نے ان کے خلاف اىک ہَوا بھىجى اور اىسے لشکر بھىجے جن کو تم دىکھ نہىں رہے تھے اور ىقىناً اللہ جو تم کرتے ہو اس پر گہرى نظر رکھنے والا ہے ۔

دشمن پر آنے والے عذاب کی تفصیل درج ذیل ہے: اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے خیموں کی طرف ایک ایسی ہولناک اور سرد ہوا بھیجی جس نے ان کا سب کچھ تہ و بالا کر دیا۔

تیز ہوا نے کافروں کے خیموں کی طنابیں کاٹ دیں اور خیمے ہوا میں اڑ گئے۔ کھانا پکانے کے لیے چولہوں پر چڑھائی گئی ہانڈیاں اور دیگیں اوندھی ہو گئیں۔ اندھیری رات میں روشنی اور گرمی کے لیے جلائی گئی تمام آگ بجھ گئی، جس سے وہ شدید سردی میں ٹھٹھر کر رہ گئے۔ہوا کے خوف اور شور سے ان کے گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑوا کر بھاگ گئے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لشکر بھیجے جنہیں انسان دیکھ نہیں سکتے تھے۔ ان فرشتوں نے دو کام کیے۔فرشتوں نے کافروں کے دلوں میں ایسا خوف اور دہشت ڈال دی کہ ان کے حوصلے بالکل پست ہوگئے مشرکین کے کانوں میں غیبی طور پر اللہ اکبر کی ہیبت ناک آوازیں گونجنے لگیں، جس سے انہیں لگا کہ ان پر ہر طرف سے حملہ ہو چکا ہے۔( مسلم کتاب الجھاد والسیر باب غزوۃ الاحزاب )

انجام اور واپسی: اس الٰہی عذاب، شدید سردی اور نفسیاتی خوف کی وجہ سے کافروں کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ لشکرِ کفار کا امیر ابو سفیان، اس قدر خوفزدہ ہوا کہ اس نے رات کے اندھیرے میں ہی پکار کر کہا: ’’اب یہاں ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنے اونٹ سنبھالو اور نکلو۔‘‘

صبح ہونے تک دس ہزار کا وہ عظیم لشکر، جو مدینہ کو مٹانے آیا تھا، ذلیل و رسوا ہو کر بنا کوئی جنگ جیتے واپس بھاگ چکا تھا۔ یوں اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی دعا ’’ہَازِمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ‘‘ کو سچ کر دکھایا اور ’’اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دے دی۔‘‘

دورانِ جنگ نماز رہ جانے پر حضورﷺ کی دعا

رسول کریم ﷺ جس طرح حالتِ امن میں نمازوں کا اہتمام فرماتے اسی طرح حالتِ جنگ میں بھی نماز کا اہتمام فرماتے۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب حضور ﷺ نماز اپنے وقت پر ادا نہ فرماسکے تو حضور ﷺ نے یوں کفار کے خلاف بددعا کی: مَلَأٰ اللّٰهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ۔ ( بخاری کتاب الجھاد والسیر باب الدعاء علی المشرکین بالھزیمۃ والزلزلۃ : ۲۹۳۱) اے اللہ! ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے جنہوں نے ہمیں نماز عصر سے روکا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ۔

فتح خیبر سے قبل دعائیہ کلمات

حضرت معتب بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب خیبر کے پاس آئے تو آپؐ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ ٹھہرو پھر یہ دعا پڑھی: ’’اَللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِيْنَ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِيْنَ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيْهَا۔‘‘ ( السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق جلد ۱ صفحہ ۴۷۱ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان مطبوعہ ۲۰۰۴ء) یعنی اے اللہ! اے آسمانوں کے ربّ اور ان چیزوں کے (ربّ) جن پر انہوں نے سایہ کر رکھا ہے، اور زمینوں کے رب اور ان چیزوں کے (ربّ) جن کو انہوں نے اٹھا رکھا ہے، اور شیطانوں کے رب اور ان کے (ربّ) جنہیں انہوں نے گمراہ کر رکھا ہے، اور ہواؤں کے رب اور ان چیزوں کے (ربّ) جنہیں انہوں نے اڑا رکھا ہے! ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی، اس کے رہنے والوں کی بھلائی اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور ہم اس کی برائی سے، اس کے رہنے والوں کی برائی سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کے نام کے ساتھ آگے بڑھو۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ دعا حضور ﷺ عموماً ہر بستی میں داخلہ کے وقت پڑھا کرتے تھے۔

فتح خیبر کے بعد دعائیہ کلمات

جب خیبر فتح ہوگیا تو حضور ﷺ نے بآواز بلند یہ دعائیہ کلمات کہے: اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ۔( بخاری کتاب الصلاۃ باب ما یذکر فی الفخذ ،حدیث نمبر:۳۷۱) اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے خیبر ویران ہوگیا ہم جب کسی قوم کو تنبیہ کرنے اور ہوشیار کرنے کے بعد اس کے میدان میں اترتے ہیں تو اس کی صبح نامبارک صبح ہوا کرتی ہے۔

خیبر میں محمود بن سلمہؓ  کی شہادت کے بعد جب ان کے بھائی محمد بن مسلمہؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بھائی کویہودیوں نے زیادتی سے قتل کیا ہے میں اس کا انتقام لے کر رہوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر بھی محمد بن مسلمہؓ  کی تربیت فرمائی اور انہیں دعا سکھائی آپؐ نے فرمایا دشمن سے مقابلہ کی خواہش نہیں کرنی چاہیئے اور خدا سے عافیت مانگتے ہوئے ابتلا سے بچنا چاہیے اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتو پھر دعا اور تدبیر سے اس کا مقابلہ کرو اور یہ دعا کرو: اللّٰهُمّ أَنْتَ رَبُّنَا، وَنَوَاصِيْنَا وَنَوَاصِيْهِمْ بِيَدِكَ، وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ۔( مستدرک علی الصحیحین کتاب المغازی والسرایا ،حدیث نمبر:۴۳۴۲) اے اللہ! تُو ہی ہمارا بھی ربّ ہے اور ان کا بھی ربّ ہے، اور ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے ہی ہاتھ (قبضے) میں ہیں، اور انہیں تُو ہی قتل کرنے والا ہے۔ پھر زمین پر جم کر بیٹھ جاؤ اور جب وہ تم پر چھا جائیں تو اٹھ کھڑے ہو اور تکبیر (اللہ اکبر) کہو۔

آپ ﷺ میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف مسلسل اس دعا کا وِرد بھی فرماتے تھے۔

مکہ میں داخلے اور فتح کے وقت کے کلمات (شکر و توحید)

حضورﷺ ہر مشکل اور کٹھن مرحلہ کے لیے دعا اور تدبیر دونوں سے کام لیتے تھے۔آغاز سفر میں حضور ﷺ نے اپنے ربّ کے حضور یہ دعا کی اَللّٰهُمّ خُذِ الْعُيُوْنَ وَالْاَخْبَارَ عَنْ قُرَيْشٍ اے اللہ !قریش کے جاسوسوں کو روک رکھ اور ہماری خبریں ان تک نہ پہنچ پائیں۔اس کے ساتھ آپؐ نے یہ تدبیر فرمائی کہ مدینہ سے مکہ جانے والے راستوں پر پہرے بٹھادیے۔ (سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۸۵)

فتح مکہ تاریخِ اسلام کا وہ عظیم الشان موقع ہے جب رسول اللہ ﷺ اپنے دس ہزار صحابہؓ کے لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں فاتح بن کر داخل ہوئے، تو آپ ﷺ نے انتہائی عاجزی کے ساتھ اللہ کی توحید اور اس کے احسان کا اقرار کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھے: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ۔ (بخاری ابواب العمرۃ باب ما يقول إذا رجع من الحج أو العمرة أو الغزو:۱۷۹۷) ترجمہ: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے (محمد ﷺ) کی مدد فرمائی، اور اس اکیلے نے ہی تمام لشکروں کو شکست دے دی۔

مکہ کے کافروں کے لیے معافی کی تاریخی دعا

جب مکہ کے وہ مشرکین جنہوں نے مسلمانوں پر سالہا سال ظلم ڈھائے تھے، کعبہ کے صحن میں خوفزدہ کھڑے اپنی سزا کا انتظار کر رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ’’تمہیں مجھ سے کس سلوک کی امید ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں‘‘ اس پر آپﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے کلمات دہراتے ہوئے ان کے لیے یہ تاریخی دعا معافی فرمائی: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، اِذْهَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ۔ ترجمہ: آج تم پر کوئی گرفت (یا ملامت) نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے، اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ جاؤ، تم سب آزاد ہو۔فرق صرف یہ تھا کہ حضرت یوسفؑ نے تو اپنے سگے بھائیوں کو معاف کیا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنے جانی دشمنوں کو معافی کی ندا سنائی۔

میدانِ جنگ سے واپسی پر شکرانے کی دعا

جب رسول اللہ ﷺ کسی غزوے سے فتح یاب ہوکر واپس مدینہ منورہ لوٹتے، تو بلند مقام پر چڑھ کر تین بار ’’اللّٰہ اکبر‘‘ کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: آيِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِسَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ، صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ۔ ( بخاری کتاب الجھاد والسیر باب ما يقول إذا رجع من الغزو ،حدیث نمبر:۳۰۸۴) ترجمہ: ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، سجدہ کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی تمام (دشمن کے) لشکروں کو شکست دے دی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: دنیا میں قیامِ امن کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کاوشیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button