متفرق مضامین

اسلام میں جنگی جرائم کی ممانعت اور موجودہ دَور کے جنگی جرائم سے موازنہ

(میم ۔الف۔ شہزاد)

آنحضرت ﷺ نے تعلیم دی کہ جنگ میں صرف ان لوگوں سے لڑنا ہے جو کہ جنگ میں براہ راست شامل ہوئے ہیں۔ آپ نے بڑا واضح حکم دیا کہ کسی بھی معصوم شخص پر ہر گز حملہ نہ کیا جائے۔ نہ ہی کسی عورت، بچے اور معمر شخص پر حملہ کیا جائے۔ آپؐ نے یہ بھی حکم دیا کہ کسی بھی مذہبی را ہنمایا پادری کو اس کی عبادت گاہ میں نشانہ نہ بنایا جائے۔ مزید آنحضرت ﷺ نے تعلیم دی کہ کسی بھی شخص کو جبری مسلمان نہ بنایا جائے(حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)

انسانی تاریخ کا کوئی دَور جنگوں کے حالات اور انسانوں کے باہمی اختلافات سے خالی نہیں۔ ہمیشہ ہی اخلاقی ضابطوں اور قوانین کو پامال کیا گیا اور ایسے سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا جن کے تصوّر سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ اس کرۂ ارضی پر لڑی جانے والی اکثر وبیش تر جنگوں میں نہ کسی اخلاقی ضابطے کا خیال رکھا جاتا ہے اورنہ کسی قانون واصول کی پاسداری کا خیال ذہن انسانی میں آتا ہے، بلکہ ان جنگوں کے ذریعے کائنات انسانی کو فتنہ وفساد کی آماج گاہ بنادیاجاتا ہے اور مدمقابل اقوام اور ملکوں کے انسانوں کو بےدریغ تہہ تیغ کردیا جاتا ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون میں مخصوص رنگ و نسل اور جنس وعلاقے کے رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے یہاں جنگ کے اغراض ومقاصد کا وجہ جواز کیاہے؟ اس کا مقصد کیاہے؟ کن حالات میں جنگ کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ اور کن مواقع پر جنگ کی اجازت نہیں ہے؟ کیا کمزور انسانوں پر اپناتسلط قائم کرنے کے لیے جنگ کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے؟ کیا یہ قرین انصاف ہے کہ جب جی چاہا اپنے جابرانہ نظام کے تسلط کے لیے کسی بھی ملک کی سرحد میں فوجیں اتار دیں؟ ان تمام سوالوں کا تشفی بخش جواب انسانی قوانینِ جنگ میں نہیں مل سکتا۔ اس کے بالمقابل دین اسلام امن وسلامتی کا دین ہے۔ اسلام نے جنگ کے اصول وضابطے مقررکیے ہیں۔ ان کا پاس ولحاظ رکھنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔ ان اصول وقواعد کی پاس داری سے کسی کو مفرنہیں ہے، کیونکہ اعلیٰ وارفع مقصد کے حصول کے لیے جب جنگ ناگزیر ضرورت بن جائے تو تلوار اٹھانے والوں کو کھلی چھوٹ نہیں مل جاتی، بلکہ حدودوقیود میں رہ کر فتنہ وفساد، سفّاکیت ودرندگی اور ظلم وجور کے سدباب کے لیے اپنی طاقت وقوت کا استعمال بجا قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اعزازتو صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس نے جنگ وجہاد کے واضح مقاصد متعین کیے اور اس کے آداب واصول مرتب کیے اور بلاجواز قتل وخون ریزی کو سنگین جرم قراردیا۔ کسی مسلمان فرد یااسلامی حکومت کو ان بنیادی اصول وضوابط میں ترمیم کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسلامی قوانین ہمہ گیر اور دائمی نوعیت کے ہیں۔ نامورمصری عالم پروفیسر محمد قطب لکھتے ہیں کہ’’اسلام کی یہ جنگیں کسی فوجی قائد کی خود غرضی اور ہوسِ ملک گیری کی پیداوار نہیں تھیں، اور نہ ان کے پیچھے دوسروں کو غلام بنانے کا جذبہ کارفرماتھا، بلکہ یہ جنگیں محض خدا کے لیے لڑی گئیں اور ان کا اصل مقصد رضاے الٰہی کے حصول کا جذبہ تھا، مگر بات صرف جذبے پر ہی ختم نہیں ہوجاتی، بلکہ اس نے ان جنگوں کے لیے باقاعدہ اصول وقوانین بھی مقررکیے‘‘۔ (اسلام اور جدید ذہن کے شبہات، صفحہ۹۰) اسلام نے آکر جنگ و جدل اور اختلافات کو کچھ حدود قیود کا پابند بنایا اور اس کے پیروکاروں نے ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کا پاس رکھا ہے اور رہتی دنیا کے لیے لازوال مثالیں چھوڑی ہیں۔ بین الاقوامی طور پر بھی امن و سلامتی کے لیے مختلف نوعیت کے معاہدات اور کنونشنز منعقد ہوئے ہیں۔ جن میں مختلف قوانین کو ترتیب دیا گیا ہے۔ لیکن ہمیشہ ہی ان قوموں نے اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے کہ الامان والحفیظ۔

جنگ کی اجازت اور ضرورت

آنحضرت ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے ایک سال بعد ۱۲؍صفر سنہ ۲؍ہجری میں سورۃ الحج کی آیات ۴۰-۴۱ آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔ فرمایا: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡاؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ ۣالَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَلَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ۔ ترجمہ:اُن لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے (قتال کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیے گئے۔ اور یقیناً اللہ اُنکی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (یعنی) وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع اُن میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بِھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ اور یقیناً اللہ ضرور اُس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بہت طاقتور (اور) کامل غلبہ والا ہے۔

یہ آیت کریمہ جو جہاد بالسیف کے متعلق سب سے پہلی آیت ہے کمال صفائی کے ساتھ یہ بتارہی ہے کہ ان جنگوں میں ابتداکفار کی طرف سے تھی جو اسلام کو بزور مٹانا چاہتے تھے اور مسلمان مظلوم تھے اور انہوں نے محض خود حفاظتی اور دفاع میں تلوار اٹھائی تھی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبیﷺ اورآپؐ کے ماننے والوں کو دفاعی جنگوں کی اجازت دے کر اپنی نصرت کا وعدہ فرمایا۔

آنحضرتﷺ کے زمانے میں اور خلفائے راشدین کے زمانے میں جو جنگیں لڑی گئیں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ان کی وجوہات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں۔۱۔ دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری۔ ۲۔ بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون۔ ۳۔ بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔ (مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵صفحہ۱۲)

جنگی جرائم

جنگی جرائم سے مراد جنگ کے قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی اور ایسے اقدامات ہیں جن سے بنیادی انسانی حقوق غصب ہوں، جیسے؛ قتل و غارت گری، ناروا سلوک،سول آبادی کو نشانا بنانا، مفتوحہ علاقے کی تباہی و بربادی، جنگی قیدیوں کا قتل،یرغمالیوں کا قتل،لوگوں کی جائیداد کی لوٹ مار،شہروں، قصبوں، دیہاتوں کی تباہی و بربادی، مفتوحین کو اپنی خدمت پر مجبور کرنا،عصمت دری کرنا، مثلہ کرنا، کیمیاوی گیس و ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال،پھانسیاں اور عمر قید، قومی و ملکی معیشت پر قبضہ،بلا جواز اور بلااشتعال حملے، غیرمحارب معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا، جانی و مالی نقصان پہنچانا، قدرتی وسائل پر غاصبانہ قبضہ،خوارک، ادویات اور راستوں کی بندش،مسافروں اور راہ گیروں کو نشانہ بنانا، عبرتناک غیرانسانی سلوک،صرف اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے حملے کرنا،عسکری برتری ظاہر کرنے کے لیے حملے کرنا،سکولوں، ہسپتالوں کو تباہ کرنا،معصوم بچوں، عورتوں اور معمر افراد کا قتل،رہائشی مکانوں اور عمارتوں کو مسمار کرنا،دہشت اور دبدبہ قائم کرنا،نسلی، قومی، ملکی اور مذہبی تعصب و اختلاف کی وجہ سے قتل کرنا،آزادیٔ رائے کی بندش، ہائبرڈحملے،سائبر حملے، میڈیا حملے، بائیولوجیکل حملے اور اکنامک حملےوغیرہ جیسی بے شمار شکلیں ہیں۔

ظلم و بربریت اور فساد کی ممانعت

جنگ نام ہی وحشت وبربریت اور قتل وغارت گری کا ہے۔ جب فاتح اقوام کسی شہر یا ملک میں داخل ہوتی ہیں تو سفّاکی اور درندگی کی تمام حدیں پارکرجاتی ہیں۔ انسانی خون ندیوں کی صورت میں بہایا جاتا ہے حتیٰ کہ معصوم بچے،بوڑھے، بیمار اور عورتوں تک کی جان اورعزت محفوظ نہیں رہتی۔ مفتوح اقوام کے گھرباراور کاروبار تباہ وبرباد کرکے ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی ہے اور اُن کے ساتھ انتہائی ذلت آمیز سلوک رَوارکھا جاتا ہے۔ یہ ماضی بعید کے قصے یا باتیں نہیں بلکہ آج بھی اہل دنیا اسی سوچ اور خود ساختہ اُصول پر کارفرما ہے۔ آج بھی جن کے پاس طاقت ہے وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے لیے اُصول و قواعد بنانا اور اُن پر عمل کروانا گویا صرف اُنہی کا حق ہے۔ قرآن کریم ایسے ہی جنونیوں کے بارے میں فرماتا ہے: قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً ۚ وَکَذٰلِکَ یَفۡعَلُوۡنَ۔ (النّمل:۳۵)یقیناً جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد برپا کردیتے ہیں اور اس کے باشندوں میں سے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔

چنانچہ جنگ عظیم اوّل اور دوم کی تباہ کاریاں، جاپان کے انڈونیشیا پر خوفناک اور انسانیت سوز مظالم، ویتنام اور بوسنیامیں وحشت وبربریت کی داستانیں اور پھر افریقی ممالک میں ہونے والی جنگوں کے المناک واقعات کوتاریخ کیسے فراموش کی سکتی ہے۔ اسی طرح ایران اور عراق جنگ، عراق اورکویت جنگ، عراق پر امریکہ اور اتحادیوں کی چڑھائی،شام، لیبیااور افغانستان پر مسلط کی جانے والی جنگیں، روس اور یوکرین کی جنگ، اسرائیل، امریکہ اور ایران کی جنگ اور خاص طور پر گذشتہ چند سالوں سے جاری معصوم فلسطینیوں اور لبنانیوں پر اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کو دیکھیں تووحشت و بربریت کی اُنہیں داستانوں کو آج پھر دہرایا جارہا ہے۔ اس کے بالمقابل اسلام نے حالت امن اور حالت جنگ ہر دو صورتوں میں غیر اخلاقی اور غیر انسانی حرکات سے نہ صرف منع کیا ہے بلکہ ہمارے آقاو ہادی حضرت اقدس محمد رسول اللہﷺ نے اپنے ماننے والوں کو یہ درس دیا ہے کہ امن ہو یا جنگ،مشکلات کا سامنا ہو یا مصائب کا زمانہ ہر حالت میں ہر انسان کی جان و مال اور عزت وآبرو کا خیال رکھا جائے اور انہیں کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہ دی جائے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابوسفیان کو ایک جنگی مہم پر روانہ کرتے ہوئے جنگوں کے بارےمیں رسول کریمﷺ کی تعلیم کو خلاصۃً بیان کرتے ہوئے فرمایا:اے یزید ! مَیں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے، اس کی اطاعت کرنے، اس کی خاطر ایثار کرنے اور اس سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔ جب دشمن سے تمہاری مڈھ بھیڑ ہو اور اللہ تمہیں فتح نصیب کرے تو تم خیانت نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا یعنی لوگوں کی، مقتولوں کی شکلیں نہ بگاڑنا اور تم بد عہدی نہ کرنا اور نہ ہی بزدلی دکھانا اور کسی چھوٹے بچے کو قتل نہ کرنا اور نہ کسی بوڑھے کو اور نہ ہی کسی عورت کو اور نہ کھجور کے درخت کو جلانا اور نہ ہی انہیں تباہ وبرباد کرنا اور کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا۔ تم کسی جانور کو ذبح نہ کرنا سوائے کھانے کے لیے۔ بلاوجہ جانوروں کو بھی ذبح نہیں کرنا یا مار نا نہیں۔ اور تم کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جنہوں نے اللہ کے لیے اپنے آپ کو گرجوں میں وقف کر رکھا ہو گا، پس تم انہیں اور اس چیز کو جس کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہوگا چھوڑ دینا۔ یعنی جو راہب ہیں، گرجوں کے پادری ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا۔ (اصحاب بدر جلد دوم صفحہ ۳۲۷ تا۳۲۸)

مصنفہ روتھ کرینسٹین(Ruth Cranston) جنگوں کے دوران آنحضرتﷺکے پاکیزہ اسوہ اور عیسائیوں کے نمونہ کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’’محمد عربی(ﷺ) نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کا آغاز نہیں کیا۔ ہر جنگ جو انہوں نے لڑی، مدافعانہ تھی۔ وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لیے اور ایسے اسلحے اور طریق سے لڑے جو اُس زمانے کا رواج تھا۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چودہ کروڑ عیسائیوں میں سے [یہ کتاب ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی تھی] جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کردیا ہو، کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو تہ تیغ کیا ہو۔ عرب کے نبی کے ہاتھوں ساتویں صدی کے تاریکی کے دَور میں جب لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہوں، ہونے والی ان ہلاکتوں کا آج کی روشن بیسویں صدی کی ہلاکتوں سے مقابلہ کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اس بیان کی تو حاجت ہی نہیں جو قتل انکویزیشن(Inquisition)اور صلیبی جنگوں کے زمانے میں ہوئے جب عیسائی جنگجوؤں نے اس بات کو ریکارڈ کیا کہ وہ ان بے دینوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے درمیان ٹخنے ٹخنے خون میں پھر رہے تھے۔ ‘‘(World Faith by Ruth Cranston, Haper and Row Publishers, New York, 1949,page 155)

دشمن کو باندھ کر ہلاک کرنے کی ممانعت

ا ٓج کی مہذب دنیا میں دشمن کے ساتھ ناروااور غیر انسانی سلوک کرنے کو معیوب اور باعث شرم وعار نہیں سمجھا جاتا بلکہ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کو فتح وکامرانی کے نشے میں روا سمجھا جاتا ہے۔ ایسے دل دوز مناظراوراذیت ناک سلوک، دل خراش والم ناک داستانیں امن عالم کے ٹھیکے داروں کے دعووں کو کھوکھلا ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اسلام ان تمام معاند ِانسانیت رویوں کوبہ نظر استحقار دیکھتا ہے اور دشمن پر قابو پالینے اذیتیں دے دے کر ہلاک کرنے سے اپنے پیروکاروں کوسختی سے منع کرتاہے۔ اوراسے انتہائی معیوب و مذموم جرم قرار دیا ہے۔ عبید بن یعلی کا بیان ہے کہ ہم عبدالرحمٰن بن خالدؓ کے ساتھ جنگ پر گئے تھے۔ ایک موقع پر ان کے پاس لشکرِاعدا میں سے چار نوجوان پکڑے ہوئے آئے۔ اُنہوں نے حکم دیا کہ انہیں باندھ کر قتل کیا جائے۔ اس کی اطلاع حضرت ابو ایوب انصاری ؓکو ہوئی تو اُنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپﷺ نے باندھ کرقتل کرنے سے روکا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر مرغی بھی ہوتی تو میں اسے باندھ کر قتل نہ کرتا۔ عبدالرحمٰن ؓکو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اس کے کفارہ میں چار غلام آزاد کیے۔ (سنن کتاب الجہاد، باب فی قتل الاسیربالنبل)

قیدیوں سے بدسلوکی کی ممانعت

بین الاقوامی انسانی حقوق کا شوروغل بلند کرنے والوں نے عہدِجدید میں قیدیوں سے ایسا ظالمانہ اور سفّاکانہ رویّہ اختیار کیا کہ خدا کی پناہ۔ قیدیوں کےجسمانی اعضاء کاٹنا، برہنہ کرکےتشدد کرنا،برقی جھٹکے لگانا وغیرہ جیسےشرمناک افعال اور ناروا سلوک کا ذکرزبان زد خاص و عام ہے۔ قیدیوں کے ساتھ سلوک کے معاملے کو ہیگ کنونشن ۱۹۰۷ء اور جنیوا کنونشنز ۱۹۲۹ء اور ۱۹۴۹ء میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اس قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

اسلام میں جنگوں کے دوران دشمن کے جتنے افراد قیدی بنتے ان سے حسن سلوک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ ہدایت فرمائی ہوئی تھی کہ قیدیوں کے آرا م کا اپنے آرام سے زیادہ خیال رکھا جائے۔ (ترمذی ابواب السیر) جو قیدی پکڑے جائیں اُن میں سے جو قریبی رشتہ دار ہوں اُن کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جائے۔ (ابو داؤد کتاب الجہاد باب فی التفریق بین الصبی)

اسیرانِ بدر کو آپﷺ نے صحابہؓ کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو کھانے کی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ چنانچہ صحابہ ؓخود کھجوروں پر گزارا کرتے لیکن اپنے قیدیوں کو کھانا کھلاتے۔ (سیرت ابن ہشام جزء۱ صفحہ۳۹۴)حضرت مصعب بن عمیرؓ کے ماں شریک بھائی ابوعزیزکہتے ہیں:’’مَیں بدرکے قیدیوںمیں انصارکے حصہ میں تھا، وہ لوگ آپﷺکے اس حکم کی وجہ سے صبح وشام مجھے روٹی کھلاتے، جب کہ خودکھجورکھاتے تھے۔ ‘‘(المعجم الکبیرللطبرانی، حدیث نمبر: ۹۷۷)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھیں انسانی ہمدردی کی انتہا۔ آپﷺ ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دشمن کے منہ پرزخم نہیں لگانا۔ کوشش کرنی ہے کہ دشمن کو کم از کم نقصان پہنچے۔ قیدیوں کے آرام کا خیال رکھنا ہے۔ غالباً جنگ بدر کے ایک قیدی نے بیان کیا کہ جس گھر میں وہ قید تھا اس گھر والے خود کھجور پر گزارا کرتے تھے اور مجھے روٹی دیا کرتے تھے اور اگر کسی بچے کے ہاتھ میں بھی روٹی آ جاتی تھی تو مجھے پیش کر دیتے تھے۔ اس نے ذکر کیاکہ مَیں بعض دفعہ شرمندہ ہوتاتھا اور واپس کرتا تھا لیکن تب بھی (کیونکہ یہ حکم تھا، اسلام کی تعلیم تھی) وہ باصرار روٹی مجھے واپس کر دیا کرتے تھے کہ نہیں تم کھاؤ۔ تو بچوں تک کا یہ حال تھا۔ یہ تھی وہ سلامتی کی تعلیم، امن کی تعلیم، ایک دوسرے سے پیار کی تعلیم، دوسروں کے حقوق کی تعلیم جوآنحضرتﷺ نے اپنی امت میں قائم کی۔ اور بچہ بچہ جانتاتھا کہ اسلام امن و سلامتی کے علاوہ کچھ نہیں۔ … پھر اس امن کوقائم کرنے کے لیے فرمایاکہ اگر جنگی قیدیوں کے ساتھ کوئی مسلمان زیادتی کا مرتکب ہو تو اس قیدی کو بلامعاوضہ آزاد کر دو۔ … پھر قیدیوں سے حسن سلوک کے بارے میں قرآنی تعلیم ہے کہ اگر کسی قیدی کو یا غلام کو فدیہ دے کر چھڑانے والا کوئی نہ ہو اور وہ خود بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو فرمایا وَالَّذِیۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَکَاتِبُوۡہُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا ٭ۖ وَّاٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰٮکُمۡ (النور:۳۴) یعنی تمہارے غلاموں یا جنگی قیدیوں میں سے جو تمہیں معاوضہ دینے کا تحریری معاہدہ کرنا چاہیں تو اگر تم ان میں صلاحیت پاؤ کہ ان میں یہ صلاحیت ہے، ان کو کوئی ہنر آتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے تحت کوئی کام کرکے اپنی روزی کما سکتے ہیں تو تحریری معاہدہ کر لو اور ان کو آزاد کر دو اور وہ مال جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے بھی کچھ انہیں دو۔ یہ جو جنگوں کا خرچ ہے کیونکہ اس وقت انفرادی طور پر پورا کیا جاتا تھا تو جس مالک کے پاس وہ غلام ہے وہ اس کا کچھ خرچ برداشت کرے یا وہ نہیں کرتا تو مسلمان اکٹھے ہو کر اس کے لیے سامان کر دیں اس طرح اس کو آزادی مل جائے یا لکھ کر آزادی مل جائے یا اگر اس کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی اپنے پاس سے پوری کر دوتاکہ وہ آزادی سے روزی کما سکے اور اس طرح معاشرے کا آزاد شہری بنتے ہوئے ملکی ترقی میں بھی شامل ہو سکے کیونکہ اس کا ہنر اس کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ملک کے بھی کام آ رہاہو گا۔ تو یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم جو ہر پہلو سے ہر طبقے پر سلامتی بکھیرنے والی ہے۔ ہر ایک کو آزادی دلوانے والی ہے‘‘۔ (خطبہ جمعہ ۲۹؍جون ۲۰۰۷ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍ جوالائی ۲۰۰۷ء)جو قید میں رہے ان سے نہایت احسان کا سلوک فرمایااسی طرح رسول اللہﷺ نے غزوۂ حنین کے چھ ہزار قیدیوں کو چھ ہزار کپڑے کے جوڑے عطا فرمائے۔ (طبقات ابن سعد جزء۲ صفحہ۱۱۰-۱۱۲) غرضیکہ رسول کریمﷺ نے جنگ کے بعد بھی دشمنوں کے حقوق کا خیال اس طرح رکھا کہ غیر بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

لمبا عرصہ قید میں رکھنے کی ممانعت

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں انسان کی آزادی اور حقوق کی بات کی تو جاتی ہے لیکن اس پر عمل ہوتا کہیں نظر نہیں آتا جنگی قیدیوں کو لمبا لمبا عرصہ جیلوں میں رکھا جاتاہے جس کی وجہ سے بیشتر دوران اسیری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسلام نے جنگی قیدیوں پر ایک یہ احسان بھی کیا کہ انہیں زیادہ دیر قید میں رکھنے سے منع کیا۔ رسول اللہﷺ اوّل تو ازراہ احسان ہی قیدیوں کو آزادکردیا کرتے تھے جیساکہ سریہ نخلہ میں دو قیدیوں،غزوہ بنومصطلق میں ۱۹؍،سریہ جموم میں ۱۰؍، سریہ عیص میں ۹؍، سریہ ضمی میں ۱۰۰؍، غزوۂ حنین میں ۶۰۰۰؍،سریہ عیینیہ میں ۶۳؍،سریہ بنوطے میں حاتم طائی کی بیٹی سنانہ پراحسان کرتے ہوئے پورے قبیلے کو آزاد کردیا۔ یعنی آپﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کل چھ ہزار سے زائدقیدیوں کو ازراہ احسان آزاد فرمایا۔

دوسرےجہاں تک فدیہ لےکر آزاد کرنے کی صورت ہے تو رسول اللہﷺ نے فدیہ یکمشت بھی لیا اور مکاتبت کے طور پر بھی۔ اور فدیہ کی ایک صورت مسلمان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ بھی تھاجیساکہ ترمذی کی روایت کے مطابق رسول اللہﷺ نے دو مسلمانوں کے بدلہ ایک مشرک کو رہا کیا۔ اور تیسری صورت جو سنت رسولﷺ سے ثابت ہے کہ قیدیوں سے ان کی قابلیت کے مطابق کوئی خدمت بطور فدیہ لےکر آزادکردینا جیساکہ جنگ بدر کے قیدیوں کے ساتھ کیا کہ مسلمانوں کے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھانا۔

اور جنگی قیدیوں کے ساتھ جو تیسرا معاملہ ہے کہ جنگ کے اختتام تک قید میں رکھا جائے تو فتح مکہ کے موقع پر تمام دشمنوں کو جنہیں قید کیاجاسکتا تھا اختتام جنگ پر قید کرنے سے قبل ہی آزاد کرتے ہوئے فرمایا:اِذْھَبُوْا اَنْتُمْ الطُّلَقَاءُکہ جاؤتم سب آزاد ہو۔

ایک مشہورمصنف سٹینلے لین پول (Stanley Lane Poole) آنحضرتﷺ کے بارےمیں یہ گواہی دیتے ہیں کہ حضرت محمد (ﷺ) اپنے آبائی شہر مکہ میں جب فاتحانہ داخل ہوئے اور اہل مکہ آپ کے جانی دشمن اور خون کے پیاسے تھے تو اُن سب کو معاف کردیا۔ یہ ایسی فتح تھی اور ایسا پاکیزہ فاتحانہ داخلہ تھا جس کی مثال ساری تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔ (The Speeches and Tablets of the Prophet Mohammad by Stanley Lanepoole, Macmillan and Co. 1882, page xlvi-xlvii)

آگ میں جلانے کی ممانعت

موجودہ دَور میں ایسا آتشیں اسلحہ تیار کر لیا گیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر مال واسباب، مکانات، جنگلات اور فصلوں کومنٹوں میں جلا کر خاکستر کیا جاسکتا ہے۔ ان آگ اگلتےہتھیاروں کے ذریعہ جنگوں کے دوران انسانی لاشوں، جانوروں اور بے گناہ معصوم زندہ لوگوں کو جلانے کے متعدد اندوہناک سانحے رونما ہو چکے ہیں۔ عرب اور غیر عرب شدّتِ انتقام میں دشمن کو زندہ جلادیا کرتے تھے۔ حضورﷺ نے اس وحشیانہ حرکت کو بھی ممنوع قرار دیا۔ آپ ﷺنے فرمایا: لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ۔ بلاشبہ آگ سے عذاب آگ کا ربّ ہی دے سکتا ہے۔ (سنن ابوداؤد کتاب الجہاد، باب فی کراھیتہ حرق العدو بالنار) نیز فرمایا:لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ۔ یعنی آگ کے رب ( اللہ تعالیٰ ) کے سوا کسی کو روا نہیں کہ کسی کو آگ سے عذاب دے۔ (سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی قتل الذر)حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے آگ میں جلانے سے منع فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللّٰهِ آگ اللہ کا عذاب ہے۔ اس سے بندوں کو عذاب نہ دو۔ (صحیح بخاری کتاب استتابہ المرتدین، باب حکم المرتد و المرتدہ )

غفلت و بے خبری میں حملہ کرنے کی ممانعت

غفلت اور بے خبری کی حالت میں اچانک حملےموجودہ دَور کے جنگی جرائم میں ایک ایسا جرم ہے جس کی زد میں آنے سے بچناانتہائی مشکل امر ہے۔ اکثر جنگوں یا باہمی کشیدگی کے دوران میں جان بوجھ کر حملوں میں کچھ وقفہ کر دیا جاتاہے۔ لوگ ایسے وقتوں میں خوراک و ادویات کے حاصل کرنے کے لیے جب اپنےگھروں اور محفوظ ٹھکانوں سے باہر نکلتے ہیں تو ایسے موقع پر بے خبرہجوم پر حملے کر کے ہلاک کیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ اکثر حملوں کے لیے ایسے مواقع اور اوقات کا انتخاب کیا جاتاہےجب سب بے خبر ہوں۔ عرب میں قاعدہ تھا کہ راتوں کواور خصوصاً رات کے آخری حصے میں جب لوگ سو رہے ہوتے اچانک حملہ کر دیتے تھے۔ دورانِ جنگ آپﷺ نے دشمنوں کے حقوق کا خیال رکھتےہوئے ان پر غافل ہونے کی حالت میں حملہ کرنے اورشب خون مارنے کی ممانعت فرمائی تاکہ ان پر کسی قسم کی کوئی زیادتی نہ ہو۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے رات کے وقت پہنچتے تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے تھے بلکہ جب صبح ہو جاتی تب حملہ کرتے تھے۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة خیبر)

پانی و خوراک روکنے کی ممانعت

جب ہم میدانِ جنگ کی بات کریں تو عام طور پر دنیاداروں کا یہ قاعدہ ہے کہ جنگ کے موقع پر اپنے مخالفین کی خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ اُنہیں تکلیف اور اذیت کا سامنا کرنا پڑے جبکہ نبی کریمﷺ کسی بھی موقع پر دوسروں کے لیے زحمت اور تکلیف گوارا نہ فرماتے۔ اسلام نے جنگ ہو یا امن ہر حالت میں انسانی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی تلقین کی ہے اور اپنے ماننے والوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ دشمن کو ہلاک یا کمزور کرنے کی غرض سے یا کسی بھی اورارادے سے پانی اور خوراک کے حصول سے روکا جائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’کہتے ہیں کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں بھی نرم دلی اور رحمت کے اعلیٰ معیارقائم فرمائے۔ مکّہ سے آئے ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا تمام تکلیفوں کے زخم ابھی تازہ تھے۔ آپؐ کو اپنے ماننے والوں کی تکلیفوں کا احساس اپنی تکلیفوں سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن پھر بھی اسلامی تعلیم اور اصول و ضوابط کو آپؐ نے نہیں توڑا۔ جو اخلاقی معیار آپؐ کی فطرت کا حصہ تھے اور جو تعلیم کا حصہ تھے ان کو نہیں توڑا۔ آج دیکھ لیں بعض مغربی ممالک جن سے جنگیں لڑرہے ہیں ان سے کیا کچھ نہیں کرتے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آپؐ کا اُسوہ دیکھیں جس کا تاریخ میں، ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔

جنگِ بدر کے موقع پر جس جگہ اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہیں تھی۔ اس پر حُبابؓ بن منذر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ منتخب کی ہے آیایہ کسی خدائی الہام کے ماتحت ہے۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے ؟ یا یہ جگہ آپؐ نے خود پسند کی ہے، آپ کا خیال ہے کہ فوجی تدبیر کے طور پر یہ جگہ اچھی ہے۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو محض جنگی حکمت عملی کے باعث میرا خیال تھا کہ یہ جگہ بہتر ہے، اونچی جگہ ہے تو انہوں نے عرض کی کہ یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو لے کر چلیں اور پانی کے چشمے پر قبضہ کر لیں۔ وہاں ایک حوض بنا لیں گے اور پھر جنگ کریں گے۔ اس صورت میں ہم تو پانی پی سکیں گے لیکن دشمن کو پا نی پینے کے لیے نہیں ملے گا۔ تو آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے چلو تمہاری رائے مان لیتے ہیں۔ چنانچہ صحابہؓ چل پڑے اور وہاں پڑاؤ ڈالا۔ تھوڑی دیر کے بعد قریش کے چند لوگ پانی پینے اس حوض پر آئے تو صحابہؓ نے روکنے کی کوشش کی تو آپؐ نے فرمایا: نہیں ان کو پانی لے لینے دو۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ذکر رؤیا عاتکہ بنت عبد اللہ …صفحہ ۴۲۴ دارالکتب العلمیۃ الطبعۃ الاولیٰ)

تو یہ ہے اعلیٰ معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کہ باوجود اس کے کہ دشمن نے کچھ عرصہ پہلے مسلمانوں کے بچوں تک کا دانہ پانی بند کیا ہوا تھا۔ لیکن آپؐ نے اس سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے دشمن کی فوج کے سپاہیوں کو جو پانی کے تالاب، چشمے تک پانی لینے کے لیے آئے تھے اور جس پر آپؐ کا تصرف تھا، آپ کے قبضے میں تھا، انہیں پانی لینے سے نہ روکا۔ کیونکہ یہ اخلاقی ضابطوں سے گری ہوئی حرکت تھی۔ ‘‘(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ ۱۰؍مارچ ۲۰۰۶ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۳۱؍مارچ۲۰۰۶ء)

انتقامی کارروائیوں کی ممانعت

تاریخِ عالم گواہ ہے کہ فاتح اقوام جوش انتقام میں فتح وکامرانی کے بعد قتل وغارت گری کا ایسا بازار گرم کردیتی ہیں کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ نت نئے اسلحہ جات کے ذریعے انسانی لاشوں کے چیتھڑے اڑادیے جاتے ہیں۔ گویا کہ مفتوح قوموں کی تباہی وبربادی مقدّر بن جاتی ہے۔ حالیہ دَور میں خاص طور پر یہ امر بکثرت دیکھنے میں آیا ہے کہ قوموں اور ملکوں کے خلاف دورانِ جنگ اور جنگ ختم ہونے کے بعد بھی انتقامی کارروائیاں جاری رہیں۔ اسلام نے ایسی تمام کارروائیوں کو سنگین جرم قراد دیا ہے۔ اسلامی ریاست ومملکت میں ا نتقامی سیاست کا کوئی تصوّر موجود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی جواز فراہم کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ جنگوں میں بھی انتقامی کارروائی کی ممانعت کردی گئی ہے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ حضرت سعدبن عبادہ ؓنے فتح مکہ کے موقع سے وفورِجذبات میں سرشاراورجوشِ جنوں میں بے خودہوکریہ کہہ دیا: الیوم یوم الملحمۃ، الیوم تستحل الکعبۃ ’’آج لڑائی کا دن ہے، آج کعبہ میں جنگ وجدل جائزہوگا۔ ‘‘حضرت ابوسفیان نے آپ ﷺسے حضرت سعدکی شکایت کی توآپﷺنے فرمایا: كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الْكَعْبَةُ۔ یعنی سعدنے غلط کہا، آج خانۂ کعبہ کی عظمت کا دن ہے، آج اس کوغلاف پہنایاجائے گا۔(بخاری، کتاب المغازی باب أین رکز النبیﷺ الرایۃ یوم الفتح)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا۔ جب آنحضرت ﷺ چلےیعنی مکےکی طرف تو آپؐ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا۔ ابوسفیان کو پہاڑ کے درّے پر روکے رکھنا تا کہ وہ مسلمانوں کو دیکھ لے۔ چنانچہ حضرت عباسؓ نے اسے روکے رکھا۔ مختلف قبائل نبی کریمﷺ کے ساتھ گزرنے لگے۔ لشکر کا ایک ایک دستہ ابوسفیان کے سامنے سے گزرتا گیا۔ جب ایک گروہ گزرا تو ابوسفیان نے کہا عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ قبیلہ غِفار کے لوگ ہیں۔ ابوسفیان نے کہا مجھے غفار سے کیا سروکار۔ پھر جُہینہ والے گزرے۔ ابوسفیان نے ویسے ہی کہا۔ پھر سعد بن ھُذَیْم والے گزرے۔ پھر اس نے ویسے ہی کہا۔ پھر سُلیم والے گزرے۔ پھر اس نے ویسے ہی کہا۔ یہاں تک کہ آخر میں ایک ایسا لشکر آیا کہ ویسا اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ابوسفیان نے پوچھا یہ کون ہیں؟ حضرت عباسؓ نے کہا انصار ہیں اور ان کے سردار سعد بن عبادہؓ ہیں جن کے پاس جھنڈا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے پکار کر کہا ابوسفیان! آج کا روز گھمسان کی لڑائی کا روز ہے۔ آج کعبہ میں لڑائی حلال ہو گی۔ ابوسفیان نے یہ سن کر کہا عباس ! بربادی کا یہ دن کیا خوب ہو گا اگر مقابلے کا موقع مل جاتا۔ یعنی کہ میں دوسری طرف ہوتا یا کہ اس طرف ہونے کی وجہ سے مجھے بھی موقع ملتا کیونکہ اسلام قبول کر لیا تھا۔ پھر ایک اَور دستہ فوج کا آیا اور وہ تمام لشکروں سے چھوٹا تھا۔ ان میں رسول اللہﷺ تھے اور آپؐ کے ساتھی مہاجرین تھے اور نبی ﷺ کا جھنڈا حضرت زبیر بن عوامؓ کے پاس تھا۔ جب رسول اللہﷺ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان نے کہا کیا آپؐ کو علم نہیں کہ سعد بن عبادہؓ نے کیا کہا ہے؟ آپؐ نے پوچھا کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ ایسا کہا ہے۔ جو بھی انہوں نے الفاظ استعمال کیے تھے (وہ بتائے)۔ آپؐ نے فرمایا سعدؓ نے درست نہیں کیا بلکہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ کعبہ کی عظمت قائم کرے گا اور کعبہ پر غلاف چڑھایا جائے گا۔ کوئی جنگ ونگ نہیں ہو گی۔ (صحیح بخاری کتاب المغازی، باب أین رکز النبیؐ الرایۃ یوم الفتح حدیث ۴۲۸۰) (معجم البلدان جلد ۴ صفحہ ۲۴۷) اس واقعےکو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذرا تھوڑی سی تفصیل سے بیان کیا ہے….انصار کے کمانڈر سعد بن عبادہؓ نے ابوسفیان کو دیکھ کر کہا۔ آج خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے مکہ میں داخل ہونا تلوار کے زور سے حلال کر دیا ہے۔ آج قریشی قوم ذلیل کر دی جائے گی۔ جب رسول اللہﷺ ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے بلند آواز سے کہا کہ یا رسول اللہؐ ! کیا آپؐ نے اپنی قوم کے قتل کی اجازت دے دی ہے۔ ابھی ابھی انصار کے سردار سعدؓ اور اس کے ساتھی ایسا کہہ رہے تھے…رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابوسفیان، سعدؓ نے غلط کہا ہے۔ آج رحم کا دن ہے۔ آج اللہ تعالیٰ قریش اور خانہ کعبہ کو عزت بخشنے والا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک آدمی کو سعدؓ کی طرف بھجوایا اور فرمایا اپنا جھنڈا اپنے بیٹے قؓیس کو دے دو کہ وہ تمہاری جگہ انصار کے لشکر کا کمانڈر ہو گا۔ اس طرح آپؐ نے جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے بیٹے کو دے دیا۔ اس طرح آپؐ نے مکہ والوں کا دل بھی رکھ لیا اور انصار کے دلوں کو بھی صدمہ پہنچنے سے محفوظ رکھا۔ (ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۳۴۱ تا ۳۴۳۔ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۲۰۲۰ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳۱؍جنوری ۲۰۲۰ء)

پھانسی دینے کی ممانعت

دور جدید میں جنگ کے دوران دشمن کو ختم کرنے کے نت نئے طریقے متعارف کروائے گئے اور ان پر عمل درآمد بھی کیا گیا۔ مثلاً پھانسی کا عمل ہے۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے دوران دہلی میں پھانسیوں کے گھاٹ قائم کیے گئے۔ رسّہ درخت سے باندھ کر پھندا بے گناہوں کے گلوں میں ڈال کر اسے کافی دیر تک تڑپنے کے لیے چھوڑ دیاجاتا تھا۔ ( پہلی جنگ آزادی، مکتبہ جمال لاہور، ٢٠٠٨ء) پھانسی سے ملتا جلتا عمل ایئرٹائٹ کنٹینرز میں بند کرکے لوگوں کو ہلاک کیا جانا ہے۔ اکثر قیدی کنٹینرز میں ہی دم توڑ جاتے یہ کنٹینرز چلتی پھرتی قبریں تھی۔ ( ۱۱؍ستمبر سے ابو غریب جیل تک، ادارہ منشورات اسلامی لاہور، ٢٠٠۴ء، صفحہ ١٢٢۔ ١٢٣)اٹالین نے لیبیا میں اپنی آمد کے موقع پر تقریباً بیس ہزار افراد کو پھانسی دی۔ ان میں اکثر خواتین کو برہنہ کرکے پھانسی پر لٹکایا۔ (تاریخ انقلابات عالم، مشتاق بک کارنر لاہور ٢٠١٠ء، صفحہ ٣٧۴) آنحضرت ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی موقع پر پھانسی کی سزا نہیں دی ۔حالتِ جنگ ہو یا امن جنگ کے میدان میں لڑنے والے ہوں یا جنگ کے نتیجے میں ہاتھ آنے والے قیدی ہر ایک کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ نرمی اور عفو کا سلوک فرمایا۔

جنگ کی ابتدا کرنے کی ممانعت

جس طرح گذشتہ زمانوں کی طاقتور اقوام کمزور قوموں پر حملے کر کے انہیں اپنے زیر نگیں کر لیا کرتی تھیں ماضی کی طرح اس دَور کی بڑی بڑی حکومتیں اور طاقتور ملک بھی اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیےاوراپنے اقتدار کےاظہار کے لیے اکثر کمزور ملکوں اور حکومتوں پر حملے کر کےاپنا قبضہ جما لیتی اور ان پر حکمرانی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ آنحضرتﷺ کی حیاتِ طیبہ سے اظہر من الشمس ہے کہ آپﷺ کا دل نوع انسان کی ہمدردی اور اُن کی خیرخواہی کے جذبات سے موجزن تھا۔ انسان تو انسان آپؐ تمام مخلوقات کے لیے نہایت مہربان اور رحیم وکریم وجودتھے۔ جنگوں کے دوران بھی دنیانے آپ کی رأفت و محبت اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے عجیب نظارے دیکھے۔

حضرت بُرَیدَہ ؓکا بیٹا اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ رسول اللہﷺ جب کسی شخص کو کسی سرِیّہ کا امیر مقرر فرماتے تو اُسے خصوصی طور پر خود تقویٰ سے کام لینے کا ارشاد فرماتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ جا رہے ہوتے ان کی خیر خواہی کا ارشاد فرماتے۔ پھر آپؐ فرماتے: اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے جاؤ اور ان لوگوں سے جنگ کرو جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ہے۔ جہاد کرو اور فساد نہ کرو اور مُثلہ نہ کرو اور بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں سے ملو تو (جنگ سے قبل) ان کو تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دو اور ان تینوں میں سے وہ جو بھی قبول کر لیں وہ ان کی طرف سے قبول کر لو اور اُن سے جنگ کرنے سے رک جائو۔ وہ تین باتیں یہ ہیں۔ ۱۔ ان کو دعوت اسلام دو۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو ان کا اسلام لانا قبول کر لو اور ان پر حملہ کرنے سے رک جاؤ۔ ۲۔ پھر اُن کوان کے گھروں سے مہاجرین کے گھروںکی طرف منتقل ہونے کا کہو اور ان کو بتا دو کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں۔ اور ان کی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین کی ہیں…۳۔ پس اگر اسلام میں آنے سے انکار کر دیں تو ان کو کہو کہ جزیہ دینا منظور کر لیں۔ پس اگر وہ جزیہ دینا منظور کرلیں تو ان سے جزیہ لینا قبول کر لو اور ان پر حملہ آور ہونے سے رُکے رہو۔ اور اگر وہ جزیہ دینے سے انکار کر دیں تو اُن کے خلاف اللہ کی مدد طلب کرو اور ان سے جنگ کرو…(سنن ابن ماجہ کتاب الجہاد باب وصیۃ الامام حدیث نمبر ۲۸۵۸)

اسی طرح ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر بھیجتے ہوئے نصیحت کے رنگ میں فرمایا:لا تقاتلوھم حتی تدعوھم فان اَبَوَا فلا تقاتلوھم حتی یبدؤوۡکم فان بدؤوۡکم فلا تقاتلوھم حتی یقتلوا منکم قتیلًا ثم اروھم ذالک القتیل وقولوا لھم ھل الٰی خیرٍ من ھٰذا سبیل؟ فلأن یھدی اللّٰہ تعالٰی علٰی یدیک خیرٌ لک مما طلعت علیہ الشمس وغربت۔ (المبسوط از امام ابوبکر محمد بن ابی سھل سرخسی جلد اول صفحہ ۱۲۱۲۔ کتاب السیر باب معاملۃ الجیش مع الکفار، بیت الافکار الدولیۃ،اردن۲۰۰۹ء ) دشمن جو مقابل پر آیا ہے سب سے پہلے اسے دعوتِ اسلام دو۔ اگر وہ انکار کرے تو بھی حملہ میں پہل نہ کرو۔ اور اگر وہ پہل کرے تو بھی آگے نہ بڑھو۔ جب وہ آگے بڑھ کر تمہارا کوئی آدمی مارڈالیں تو ا ن کو یہ شہید دکھاؤاور کہو کچھ سوچو کیا تم اس سے بہتر طرز عمل اختیار نہیں کرسکتے۔ اگر وہ پھر بھی نہ سمجھیں تو اس وقت ان کے حملہ کا بھرپور جواب دو۔ یہ تدریج اس لیے ضروری ہے کہ تیرے ذریعہ کوئی ہدایت پاجائے تو یہ تیرے لیے ساری دنیا سے بہتر ہے جس پر صبح وشام سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔

پس آنحضرتﷺ نے اپنے پیغام امن کے ذریعہ جنگوں کے دوران بھی نہ صرف بہت احتیاط اور صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی ہے بلکہ اپنے ماننے والوں کو یہاں تک نصیحت فرمائی ہے کہ اگر کسی جگہ اذان کی آواز سنو تو اُس جگہ کسی شخص کو قتل مت کرنا یعنی بلا تفریق مذہب وملت سب کو امان دے دینا۔ چنانچہ عِصَام مُزَنِی اپنے والدکے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں ایک سریہ پر روانہ کرتے ہوئے یہ ہدایات دیں کہ اگر تم کوئی مسجد دیکھو یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو کسی شخص کو بھی قتل نہ کرو۔ (ابو داؤد کتاب الجہاد، باب فی دعاء المشرکین – حدیث نمبر ۲۶۳۲)

عورتوں،بچوں،بوڑھوں کے قتل کی ممانعت

تاریخِ مذاہب اورتاریخِ سلاطین کا مطالعہ کیاجائے تو قبل از اسلام کسی مذہب میں یاکسی بادشاہ کے بارے میں یہ ذکر نہ ملے گا جس نے اپنی فوج کو مفتوح قوم کے نہتّے لوگوں، بچوں،عورتوں،بوڑھوں،معذوروں کے قتل عام سے منع کیا ہو۔ بلکہ فوجوں کو کھلی چھٹی ہوتی تھی کہ وہ جو چاہیں مفتوح قوم کے ساتھ کریں۔ اس زمانے کی جنگوں میں بھی اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ مرنے والے کون ہیں بلکہ اکثر تو جان بوجھ کر عورتوں،بچوں بوڑھوں کو نشانہ بنایا جاتاہے جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔ اسلام واحد ایسا مذہب ہے جس نے دشمنوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان کے نہتّوں، بچوں، عورتوں، بوڑھوں، ضعیفوں اور معذورں وغیرہ کے قتل کی سخت ممانعت فرمائی۔

حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے(صحابہ کو رخصت کرتے وقت)فرمایا: ’’تم لوگ اللہ کے نام سے، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ ‘‘(سنن ابو داؤد کتاب الجہاد باب فی دعاء المشرکین)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہےکہ ایک عورت رسول اللہﷺ کے زمانے میں کسی غزوہ میں مقتول پائی گئی تو نبی کریمﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ (صحيح البخاري کتاب الجہاد والسیر باب قتل النساء فی الحرب)

حضرت حنظلہ الکاتبؓ  کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے،آپؐ کو دیکھ کر لوگوں نے آپؐ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا۔‘‘ اس کے بعد ایک شخص سے کہا: خالد بن ولید کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں، بچوں، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا۔ ‘‘(ابن ماجہ کتاب الجہاد بَابُ الْغَارَةِ، وَالْبَيَاتِ، وَقَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ)

جنگ احد میں ابوسفیان کی بیوی ہندہ اورچودہ خواتین قریش اپنے لشکرکوجوش اور عار دلاکر مسلمانوں سے بدرکے مقتولین کاانتقام لینےکےلیےاکسانے کےلیے شامل ہوئیں۔ دوران جنگ وہ مرثیےاوررجزیہ اشعار پڑھ کر جوش دلارہی تھیں کہ اسی دوران حضرت ابودجانہؓ جن کے ہاتھ میں رسول اللہﷺ نے تلوار یہ تاکید کرتے ہوئے تھمائی کہ اس تلوار کا حق ادا کرنا اور وہ حق یہ ہے کہ اس سے کسی مسلم کو قتل نہ کیا جائے اور کوئی کافر بھاگ کر بچنے نہ پائے،مشرکین کو پاش پاش کرتے ہوئے ان عورتوں کے پاس جاپہنچے۔ پہلے حضرت ابودجانہؓ نے انہیں مارنےکےلیے تلوار اٹھائی مگر پھر رک گئے اور چھوڑدیا۔ حضرت زبیرؓ جو یہ سارا معاملہ دیکھ رہے تھے انہوں نے جب بعد میں ان سے پوچھا کہ عورت پر تلوار اٹھا کر پھر تم نے اسے کیوں چھوڑدیاتو ابودجانہؓ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کی تلوار کو اس سے برتر سمجھا کہ اس سے عورت کو قتل کروں۔ (تاریخ طبری جلد دوم حصہ اول صفحہ۱۸۰)

ایک اَور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:بڈھے کو نہیں مارنا چاہیے، بچے کو نہیں مارنا چاہیے، عورت کو نہیں مارنا چاہیے اور ہمیشہ صلح اور احسان کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی دعاء المشرکین)

دنیا کی عظیم طاقتیںجو اپنی طاقت اور اقتدار کے نشے میں اس قدرمدہوش ہیں کہ ذرا احساس تک نہیں ہوتاکہ اپنی عالی شان طاقتوں کے اظہار کے لیے کتنے کمزور طبقے کو اپنے ظلم وجبر کا نشانہ بنارہے ہیں۔ کچھ ہوش کریں اور عقل سے کام لیں اور دیکھیں اس ربّ عظیم کے بندہ اعظم اور عالی مرتبت نبیﷺ کو کہ کیسا پاک نمونہ اور کیسی شاندار تعلیم اس دَور میں اس نے پیش کی۔

عصمت دری کی ممانعت

صلیبی حملوں کا سلسلہ تقریباً ساڑھے تین سو سال جاری رہا۔ صلیبی جہاں جاتے تھے وہاں قتل و غارت گری، عصمت دری اور تباہی و بربادی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ ۱۲۱۸ء میں تاتاریوں نے خوارزم شہر کی عورتوں کے لباس اتروا کر ان کا آپس میں مکوں کا مقابلہ کروایا اور پھر ان کو تلواروں سے شہید کر دیا۔(طبقات ناصری، اُردو سائنس بورڈ لاہور، ٢٠٠۴ء، صفحہ ١٨۵ء، جلد ٢)۱۴۹۲ء میں سقوطِ غرناطہ کے دوران اونچے گھرانوں کی مستورات، بیواوں اور شادی شدہ عورتوں کی بے حرمتی کی گئی انہیں نیلام کیا گیا اور ذبح بھی کیا گیا۔ (سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک، الفیصل ناشران لاہور، ٢٠٠٨، صفحہ ١۴۵۔ ١۴۶)عہد جدید میں جاپان میں دوسری جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما اور ناگا ساکی کی تباہی کے بعد جنگ کے اختتام پر ایک انتہائی مہلک اور تباہ کن بم جنرل میکارتھر کی صورت میں پہنچا۔ اس کی وجہ سے عورتیں، جوان لڑکیاں رسوائی، بے آبروئی کے اس لرزہ خیز اور روح فرسا دور سے گزریں جس کے تصوّر سے آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ ( اسلام اور عدل واحسان، ادارۂ ثقافت اسلامیہ لاہور، ١٩٧٧ء، صفحہ ١۵٣)سربوں نے بوسنیا میں عصمت دری کے کیمپ قائم کیے۔ عورتوں کی عصمت دری ان کے خاندان کے لوگوں کے سامنے کی جاتی تھی۔ (مقدمۂ بوسنیا، فیروز سنز لاہور، ١٩٩۵ء، صفحہ ۵۴۔ ١٠٧)

عام عوام کے ساتھ جنگوں میں جو سلوک ہو ا سو ہوا اس شرمناک فعل سے امرا، حکمران اور بادشاہ بھی محفوظ نہیں رہے۔ ان کےخاندانوں کی عورتوں کی عصمت دری کی گئی زار روس اپنے وقت کا عظیم حکمران جب اس کی سلطنت کا تختہ الٹا تو اس کے سامنے اس کی جوان لڑکیوں کی جبراً عصمت در کی گئی۔ (انوارالعلوم جلد ۷ صفحہ ۵۵۹)

اسلام کے جنگی قوانین کے مطابق نہ تو بلاوجہ کسی عورت کو قتل کیا جائے گا اور نہ اس کی عفت وعصمت کو مخدوش وداغ دار کیاجائے گا۔ اسلام اپنے پیروکاروں کی ذہنی پاکیزگی کا پورا اہتمام اور انہیں ہر طرح کی جنسی آلودگی سے پاک رکھتاہے۔ اسلام نے عورت کو تحفظ فراہم کیا اور معاشرے میں عزّت واحترام کا مقام دیا۔ جنگ میں دشمن کی بیٹی پر ہاتھ اٹھانے اور اس کی عصمت دری کرنے کی سختی سے ممانعت کردی گئی۔ یہ امتیاز صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس نے مفتوح قوم کی عورتوں کی عصمت کی پاسبانی کا حکم دیا۔

ازمنہ ماضیہ میں جنگ کے بعدفاتح قوم مفتوح قوم کی عورتوں کی بے دریغ عصمت دری کو اپنا حق سمجھتی تھی اور اس میں فخر محسوس کرتی تھی۔ لیکن بانیٔ اسلامﷺ نے اس قبیح فعل کو جتنا حالت امن میں قابل سزا جرم قرار دیا ہے اتنا ہی میدانِ جنگ میں بھی اور جنگ کے بعد بھی قرار دیا ہے۔ یہ آپ ﷺ کی تعلیم اور تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ ﷺ کے اصحابؓ نے آپ ﷺ کی زندگی اور آپ ﷺ کے اس جہان فانی سے رخصت فرماجانے کے بعد بھی بے شمار جنگیں لڑلیں لیکن کبھی کسی ایک جنگ میں بھی دشمن کی عورتوں کی عزتوں کی پامالی نہیں کی۔

راستوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت

جنگوں کے دوران دنیا داروں کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کے آرام کی خاطر دیگر لوگوں کے حقوق کو بری طرح پامال کرتے ہیں لیکن آنحضرتﷺنے لشکر اسلام میں شامل لوگوں کو اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ جب لڑائی کے لیے نکلیں تو ایسی جگہ پر پڑاؤ نہ ڈالیں کہ لوگوں کے لیے تکلیف کا موجب ہو اور کوچ کے وقت ایسی طرز پر نہ چلیں کہ لوگوں کے لیے رستہ چلنا مشکل ہو جائے یا بلاضرورت زیادہ جگہ گھیر لیں اور راستے میں کسی کی تکلیف کا باعث بنیں۔ چنانچہ حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں رسول اللہﷺکے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا۔ جب لشکر نے ایک مقام پر پڑاؤکیا تو بعض لوگوں نے بلا ضرورت زیادہ جگہ گھیر لی اور راستے میں لوگوں کو نقصان پہنچایا۔ اس پر رسول اللہﷺنے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کے لیے مقرر فرمایا کہ جو جگہ کو تنگ کرے یا راستہ میں کسی کو نقصان پہنچائے اس کا کوئی جہاد نہیں۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد باب مایومر من انضمام العسکر)

دشمن کے اموال پر قبضے کی ممانعت

دنیا داروں کی یہ بھی رِیت رہی ہے کہ وہ جنگوں کے دوران اپنے دشمنوں کے ساتھ جوسلوک کرنا چاہیں وہ جائز سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ ترقی کے دَور میں بھی اپنے دشمن کو نیچادکھانے کے لیے ہر انسانی قدر پامال کردی جاتی ہے۔ قبل از اسلام عربوں کا پیشہ لوٹ مار تھااوردورانِ جنگ وہ دشمن کی ہر چیز کو اپنے لیے حلال سمجھتے تھے۔ لیکن رسول اللہﷺ نے آکر ان کی عملی تربیت کی اور انہیں باورکرایا کہ لوٹ مار کا مال حلال نہیں اور اس طرح دشمن کے مال پر قبضہ کرنا درست نہیں۔ جنگ خیبر کے واقعات کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ جنگِ خیبر کے موقع پر یہودیوں کا ایک چرواہا مسلمان ہوگیا۔ مسلمان ہونے کے بعد اس نے عرض کیا کہ ان سینکڑوں بکریوں کا کیا کروں جو میری تحویل میں ہیں۔ آپﷺنے فرمایا : یہودیوں کے قلعہ کی طرف اُن کو ہانک دو حسبِ عادت یہ خود بخود قلعہ کے اندر چلی جائیں گی۔ نومسلم یسار حبشی ؓنے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیں جہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کرلیا۔ (کتاب المغازی اردوجلد دوم صفحہ ۱۳۴ مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور۔ السیرۃ النبویۃ از اسماعیل بن کثیر جزء ۳صفحہ ۳۶۱سنۃ سبع من الھجرۃ، غزوہ خیبر فی اولھا، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت )

تاریخ میں لکھا ہے کہ مسلمانوں نے جب حمص پر قبضہ کر لیا جو رومیوں کے علاقہ میں تھا۔ تو کچھ عرصہ کے بعد مسلمانوں کو دوبارہ دشمن کے حملہ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اور انہوں نے مناسب سمجھا کہ اس وقت حمص کو خالی کر دیا جائے اس فیصلہ کے بعد مسلمانوں نے وہاں کے عیسائیوں کو بلایا اور اُن سے کہا کہ ہم تم سے جزیہ وصول کر چکے ہیں مگر یہ جزیہ اس شرط کے ماتحت لیا گیا تھا کہ ہم تمہارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔ اب چونکہ خود ہمارے لیے ایک نازک صورت حالات پیدا ہو گئی ہے اور ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لیے ہم جزیہ کی رقم تمہیں واپس کرتے ہیں۔ چنانچہ کئی لاکھ روپیہ جو عیسائیوں سے جزیہ کے طور پر لیا گیا تھا انہیں واپس کر دیا گیا۔ اس اعلیٰ درجہ کے نمونہ کا ان عیسائیوں پر اتنا اثر ہوا کہ جب اسلامی لشکر روانہ ہوا تو وہ ساتھ ساتھ روتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو دوبارہ ہم میں واپس لائے اور یہودی بھی بڑے جوش سے یہ کہتے جاتے تھے کہ توراۃ کی قسم جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ (تفسیر کبیر جلد ۸ تفسیر سورۃ الحج صفحہ ۱۶۸ مطبوعہ ۲۰۲۳ء)

چنانچہ ایک دفعہ دوران سفر خوراک کی قلت کی وجہ سے کافی پریشانی ہوئی۔ اتفاق سے بکریوں کا ایک ریوڑوہاں سے گزرتا نظر آیا۔ سب نےوہ بکریاں لے کر ذبح کرلیں۔ آپﷺ کو جب علم ہوا تو دیکھاکہ ہنڈیوں میں گوشت پک رہا ہے۔ آپ کے ہاتھ میں کمان تھی آپ نے اس سے ہنڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے، اور پھر فرمایا لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں، یا فرمایا: مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں۔ (ابو داؤد کتاب الجہاد باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ)

ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مالِ غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: مَیں نے رسول اللہﷺ کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ)

اسلام سے باہر اس طرح کی مثالیں کہیں نظر نہیں آئیں گی جبکہ اس کے برعکس موجودہ دَور میں جنگوں کی ایک بنیادی وجہ ہی لوگوں کے مالوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرنا ہے۔ یہ صرف اسلام ہی کا فخر اور اعزاز ہے کہ جو حالت جنگ ہو یا امن ہر حال میں دشمن کےاموال کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔

غیرمحارب سے جنگ کی ممانعت

اسلام نے جو قوانینِ جنگ وضع کیے ہیں ان میں اتنی جامعیت ہے کہ دورِ جدید کا مہذب انسان بھی ان کو قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسلام کے جنگی قوانین کے مطابق ایسے لوگوں کے ساتھ جو جنگ کی طرح نہیں ڈالتے اور پر امن رہتے ہیں ان سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں۔ قرآن مجید کی یہ بیّن تعلیم ہے : لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم اُن سے نیکی کرو اور اُن سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔ (الممتحنہ: ۹)آپ ﷺ نے فرمایا: جب لڑائی کے لیے مسلمان جائیں تو اپنے دشمنوں کے ملک میں ڈر اور خوف پید انہ کریں اور عوام الناس پر سختی نہ کریں۔ (مسلم کتاب الجہاد باب فی امرالجیوش بالتیسر و ترک التنفیر)

لاشوں کی بے حرمتی اور مثلہ کرنےکی ممانعت

عرب میں اپنے دشمنوں کی لاشوں کے ساتھ بہت بہیمانہ سلوک کیاجاتا تھا۔ اس کی باقاعدہ نذریں مانی جاتی تھیں۔ زندہ آدمی کی کھال کھینچنا، اس کے جسم کی بوٹی بوٹی کرنا، اعضاء کی قطع و برید، درندوں سے پھڑوانا، جانوروں کی کھالوں میں سی دینا ان کے معمولات میں شامل تھا۔ ( رسول اللہﷺمیدان جنگ میں، مقبول اکیڈمی انار کلی لاہور، ٢٠٠۵ء، صفحہ ٢٧٢)عہد وسطیٰ میں بھی عہد قدیم کی طرح مثلہ کی رسم باقی رہی۔ مثلاً سقوط یروشلم کے دوران انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا گیا۔ شہر کی گلیوں میں انسانی سروں، ہاتھوں اور پیروں کے ڈھیر لگ گئے۔ (اسلامی تہذیب کے چند درخشاں پہلو، اسلامک پبلی کیشنز لاہور، ٢٠٠۶ء، صفحہ١۵٣)تیمور کو انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر خوشی ملتی تھی۔ اس نے ایران، افغانستان، ہندوستان اور عراق میں بغداد پر حملوں کے دوران لاکھوں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنوائے۔ (سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک، الفیصل ناشران لاہور، ٢٠٠٨، صفحہ ۵۴۔٨٩)عہد جدید میں سقوط ڈھاکہ کے دوران، آنکھیں نکالنے، اعضاء کی قطع و برید اور عورتوں کی چھاتیاں کاٹنے جیسے المناک واقعات عام تھے۔ (سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک، الفیصل ناشران لاہور، ٢٠٠٨، صفحہ ۵٣٣۔۵۴٨) صلیب پرست سربوں نے ۱۹۴۱ء میں بوسنیا کے مسلمانوں کا ان کے گھروں اور مسجدوں میں مثلہ کیا۔ ۹/۱۱ کے بعد برما کے مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران بودھوں نے بھی لاشوں کے مثلہ میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ( مقدمۂ بوسنیا، فیروز سنز لاہور، ١٩٩۵ء، صفحہ ۵۳تا١٠٧)

عہد نبویؐ میں اس تشددپسندی کی مثال جنگ احد میں کفار مکہ کا مسلمان شہداکے ناک کان کاٹ دینا اورہندہ زوجہ ابوسفیان کا جنگ احد میں حضرت حمزہؓ کا کلیجہ سینے سے نکلوا کر چبانا ہے۔ یہ دردناک نظارہ دیکھ کررسول اللہﷺ نے فرمایا: کفّار نے خود اپنے عمل سے اپنے لیے اُس بدلےکو جائز بنا دیا ہے جس کو ہم ناجائز سمجھتے تھے۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ کفّار جو کچھ کرتے ہیں اُن کوکرنے دو تم رحم اور انصاف کادامن ہمیشہ تھامے رکھو۔ (سیرت ابن ہشام جزء۳صفحہ۱۹۶)آپﷺ نے اپنے متبعین کو ایسی اخلاق سوز اور وحشیانہ کارروائیوں سے منع فرمایا۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مثلہ(یعنی ناک،کان و دیگر اعضا کاٹنے)سے روکتے تھے۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ المُثْلَةِ)رسول اللہﷺ نے اپنے دشمنوں کی لاشوں کو بھی احترام کا حق دیا اورجنگِ بدر کے موقع پر۲۴؍مشرک سرداروں کی لاشوں پر مٹی ڈلواکردفنادیا۔ اسی طرح جنگِ خندق میں مشرکین کا سردار نوفل بن عبداللہ مخزومی عمروبن عبدودوغیرہ کے ساتھ خندق عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ حضرت زبیربن العوامؓ اس کےمقابلے میں آئے اور اسے زیر کرلیا۔ اسی دوران حضرت علیؓ نے بھی نیزہ مارا اور وہ دشمن رسولؐ خندق میں گرکر ہلاک ہوگیا۔ مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو پیغام بھجوایاکہ دس ہزاردرہم لے لیں اور نوفل کی نعش واپس کردیں۔رسول کریمؐ نے فرمایا:ہم مُردوں کی قیمت نہیں لیا کرتے۔ تم اپنی نعش واپس لے جاؤ۔ یہ کیا ہی بدترین دیت ہے۔ (سنن الترمذي جزء۴صفحہ ۲۱۴، دلائل النبوہ للبیہقی جلد۳صفحہ۴۳۷تا۴۳۸) یہ کسی بھی طرح سے جائز نہیں ہے کہ انسانی لاشوں کے ساتھ درندگی کا سلوک کیا جائے۔ عبداللہ بن یزید انصاریؓ روایت کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال لوٹنے اور جسم کو مُثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب المظالم، باب النھی بغیر اذن صاحبہ)آپ ﷺ نے فرمایا:کسی صورت میں مسلمانوں کو مثلہ کرنے کی اجازت نہیں، یعنی مسلمانوں کو مقتولین جنگ کی ہتک کرنے یا اُن کے اعضاء کاٹنے کی اجازت نہیں ہے۔(مسلم کتاب الجھاد والسیر باب تامیرالامام الامراء علی البعوث)

توحید کا اقرار کرنے والے کے قتل کی ممانعت

بانی اسلامؐ نے اس قدر رحم دلی کا نمونہ دکھایا کہ آپﷺ نے فرمایا:اگر کوئی شخص اسلام کے خلاف حالت جنگ میں مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے بھی توحید کا اقرار کر دے تو اسے قتل نہ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا یہ واقعہ کتب حدیث میں درج ہے کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے ایک سریہ کے لیے روانہ کیا ہم بنوجُھَینَہ کی ایک شاخ حُرُقَا پر صبح کے وقت حملہ آور ہوئے (دورانِ جنگ)میں نے ایک شخص پر قابو پالیا۔ اس پر اس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پڑھنا شروع کردیا۔ (اس کے باوجود)میں نے اسے نیزہ مار کر ختم کر دیا مگر یہ بات میرے دل میں کھٹکتی رہی۔ چنانچہ میں نے اس واقعہ کا ذکر نبیﷺ سے کیا۔ اس پر رسول اللہﷺنے فرمایا: کیا اس کے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا، یارسول اللہ ! اس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اسلحہ کے خوف کے باعث کہا تھا۔ اس پر آنحضورﷺنے فرمایا: أَ فَـلَا شَقَقۡتَ عَنۡ قَلۡبِہٖ حَتّٰی تَعۡلَمَ أَ قَالَھَا اَمۡ لَا۔ تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تم کو یہ معلوم ہو جاتا کہ اس نے خوف کے باعث لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ کہا تھا یا ویسے ہی توحید کا اقرار کیا تھا۔ آنحضورﷺ نے یہ بات میرے سامنے اتنے تکرار سے کہی کہ میں نے اس بات کی خواہش کی کہ کاش میں آج ہی ایمان لایا ہوتا۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)

عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور مذہبی راہنماؤں کے قتل کی ممانعت

جس طرح زمانہ قدیم میں عبادت گاہیں مسمار یا ان کی بے حرمتی کی جاتی رہی اور مذہبی رہنماؤں کا قتل کیا جاتارہا زمانہ حال میں بھی یہ ظلم پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ماضی میں عبادت گاہوں کو فاتح اقوام اپنے گھوڑوں کےاصطبل اور جانوروں کو باندھنے وغیرہ کے طور پر استعمال کیاکرتے تھے۔ اسلام نے مذہبی عبادت گاہوں اور راہنماؤں تقدس بحال کیا اور اپنے ماننے والوں کونہ صرف ان کا احترام کرنے کی تعلیم دی بلکہ ان کی حفاظت کے طریق میں بھی اسلام نے ایک نمایاں امتیاز پیدا کیا۔ آپ ﷺ جب کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تھے تو اسے نصیحت فرماتے تھے کہ مذہبی عبادت گاہوں کے لوگوں کو قتل نہ کرنا۔ (ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ جلد اول صفحہ ۳۲۷) عبد اللہ بن عباس ؓروایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے کسی لشکر کو روانہ کرتے تو حکم فرماتے کہ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ۔کہ مذہبی راہنماؤں کو قتل نہ کرنا۔(مسند احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب روایت نمبر۲۷۲۸)

چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب کسی فوج کو روانہ فرماتے تھے تو اس کے امیر کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ اَلَّذِينَ زَعَمُوا اَنَّهُمُ حَبَسُوا اَنْفُسَهُمْ لِلّٰهِ فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا اَنَّهُمْ حَبَّسُوا اَنْفُسَهُمْ لَهُ۔یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے خیال میں اپنے آپ کو خدا کی عبادت کے لیے وقف کر رکھا ہے ان کو کچھ نہ کہنا اور اسی طرح جس چیز کو وہ مقدس سمجھتے ہوں اسے بھی کچھ نہ کہنا۔ (ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ جلد اول)

۴ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سینٹ کیتھرائن متصل کوہ سینا کے راہبوں اور تمام عیسائیوں کو ایک امان لکھ کر دی جس کا مفہوم یہ تھا کہ اگر کوئی مسلمان ان احکام کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ خدا کے عہد کو توڑنے والا، اس کے احکام کے خلاف کرنے والا اور اپنے دین کو ذلیل کرنے والا خیال کیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امان نامہ میں حکم دیا کہ مسلمان عیسائیوں کے گر جاؤں، راہبوں کے مکانوں اور زیارت گاہوں کو ان کے دشمنوں سے بچائیں اور تمام مضر اور تکلیف دہ چیزوں سے پورے طور پر ان کی حفاظت کریں، نہ ان پر بےجا ٹیکس لگایا جائے، نہ کوئی اپنی حدود سے خارج کیا جائے، نہ کوئی عیسائی اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، نہ کوئی راہب اپنی خانقاہ سے نکالا جائے، نہ کوئی زائر اپنی زیارت سے روکا جائے اور نہ مسلمانوں کے مکان بنانے کے لیے عیسائیوں کے گرجا گھر مسمار کیے جائیں … اگر عیسائیوں کو اپنے گرجوں اور سومعوں کی تعمیر میں یا اپنے کسی مذہبی امر میں مدد کی ضرورت ہو تو مسلمانوں کوہر طرح ان کی اعانت کرنی چاہیے۔ تم یہ خیال مت کرو کہ اس سے ان کے مذہب میں شرکت ہوتی ہے۔ بلکہ یہ تو صرف ان کے احتیاج کو رفع کرنا ہے اور رسول خدا ؐکے ان احکام کی پیروی کرنا ہے جو خدا کے حکم سے ان کے حق میں تحریر ہوئے۔

جنگ کے وقت یا اس زمانے میں جب کہ مسلمان اپنے دشمنوں سے بر سرِ پیکار ہوں کسی عیسائی سے اس لیے نفرت یا عداوت نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ مسلمانوں میں رہتا ہے۔ جو کوئی مسلمان کسی عیسائی سے ایسا سلوک کرے گا تو وہ نا منصف اور رسول کا نافرمان اور سرکش خیال کیا جائے گا۔

اس امان نامہ کو نقل کرتے ہوئے مشہور مؤ رخ ایڈمنڈ اولی لکھتا ہے۔ یہ ایک نہایت وقیع اور عظیم الشان پروانۂ آزادی ہے اور دنیا کی تاریخ میں اعلیٰ درجہ کی مساواتِ حقوق کی ایک قابل وقعت شریفانہ یادگار ہے۔(جنگ روس و روم (کاسل) مصففہ ایڈمنولی جلد اول صفحہ ۱۷۶-۱۷۷۔ بحوالہ الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍ تا۲۸؍ اکتوبر ۲۰۲۱ء )

سفیر کے قتل کی ممانعت

گذشتہ زمانوں میں بھی اور موجودہ دور کی جنگوں میں اکثر دشمن کو کمزور کرنے کے لیے اور اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے سفیروں کو قتل کر دیا جاتا یا قیدی بنالیا جاتالیکن رسول اللہﷺ نے سفارت کی تکریم اسلامی حکومت کی ذمہ داری قرار فرمائی اور اس کی خاص تلقین فرمائی کیونکہ اگر کوئی ملک کسی سفیر سے بدسلوکی یااسے قتل کرے تو اسے اعلان جنگ سمجھا جاتا ہے۔ جیساکہ جنگ موتہ کی وجہ بھی یہ تھی کہ حاکم غسان رومی گورنرشرحبیل بن عمروغسانی نے رسول اللہﷺ کے قاصدحضرت حارث بن عمیرؓ کوگرفتارکرکے شہید کردیاتھا۔ (سیرة النبیؐ از شبلی نعمانی حصہ اول صفحہ۳۳۹)

اسلام سے پہلے سفیروں کا قتل منع نہیں تھا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہﷺ نے جو سفیر پہلے بھیجا اس کے اونٹ کو قریش نے مارڈالااور قاصد کو بھی قتل کرناچاہا لیکن باہر والوں نے بچالیا۔ (سیرت النبیؐ از شبلی نعمانی حصہ اول صفحہ ۳۶۳)جس پر آپﷺ نے اپنا سفیر حضرت عثمانؓ کو مقرر فرمایااور جب آپﷺ نے اپنے سفیرحضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ سنی تو چودہ سو صحابہ سے آپؓ کا بدلہ لینے کے لیےبیعت رضوان لی۔

مسیلمہ کذاب کےدوسفیر(ابن نواحہ اور ابن اثال)رسول اللہﷺ کی خدمت میں مسیلمہ کذاب کا خط لےکر آئےاور گستاخانہ گفتگو کی تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کیے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا۔‘‘(ابوداؤد کتاب الجہاد باب الرسل)

ابو رافع قبطیؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے قریش نے رسول اللہؐ کی خدمت میں سفیر بناکر بھجوایا۔ رسول کریمؐ  کو دیکھ کر میرے دل میں اسلام کی سچائی گھر کر گئی۔ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! میں قریش کی طرف لوٹ کر واپس نہیں جانا چاہتا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا: مَیں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ ہی سفیر کو روکتا ہوں۔ آپ اس وقت بہر حال واپس چلے جاؤپھر اگربعد میں یہی ارادہ ہو کہ اسلام قبول کرنا ہے تو وہاں جاکر واپس آجانا۔ چنانچہ یہ قریش کے پا س لوٹ گئے اور بعد میں آکر اسلام قبول کیا۔ (ابوداؤدکتاب الجہاد باب ۱۶۳ بحوالہ اسوۂ انسان کاملؐ )

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :’’ کسی بھی قوم سے اچھے تعلقات کے لیے اس کے سفیروں سے حسن سلوک انتہائی ضروری ہے۔ آپؐ کا حکم تھا کہ غیر ملکی سفیروں سے خاص سلوک کرنا ہے۔ ان کا ادب اور احترام کرنا ہے اگر غلطی بھی ہو جائے تو صرف نظر کرنی ہے، چشم پوشی کرنی ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۲۹؍جون ۲۰۰۷ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍ جوالائی ۲۰۰۷ء)

حرف آخر

سیدنا و امامنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: آنحضرت ﷺ نے تعلیم دی کہ جنگ میں صرف ان لوگوں سے لڑنا ہے جو کہ جنگ میں براہ راست شامل ہوئے ہیں۔ آپ نے بڑا واضح حکم دیا کہ کسی بھی معصوم شخص پر ہر گز حملہ نہ کیا جائے۔ نہ ہی کسی عورت، بچے اور معمر شخص پر حملہ کیا جائے۔ آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ کسی بھی مذہبی راہنمایا پادری کو اس کی عبادت گاہ میں نشانہ نہ بنایا جائے۔ مزید آنحضرت ﷺ نے تعلیم دی کہ کسی بھی شخص کو جبری مسلمان نہ بنایا جائے۔ آپ نے تعلیم دی کہ اگر مسلمانوں کو امن کی خاطر جنگ کرنا پڑے تو عوام الناس میں خوف و ہراس نہ پیدا کریں اور نہ ہی عوام الناس پر سختی کی جائے۔ آپ نے تعلیم دی کہ جنگی قیدیوں کو توجہ دی جائے اور ان کا ایسا خیال رکھا جائے کہ جیسے انسان خود اپنا خیال رکھتا ہے۔ آپ نے تعلیم دی کہ نہ کوئی عمارت گرائی جائے اور نہ ہی درخت کاٹے جائیں۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں حالات اس قدر سنگین ہوگئے کہ جنگ کرنا پڑی، ان حالات میں بھی آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو بیشمار ایسی ہدایات دیں جن پر عمل ضروری تھا۔ میں نے صرف چند ایک کا ذکر کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بڑے واضح انداز میں فرما دیا کہ جو کوئی بھی ان ہدایات پر عمل نہ کرے گا وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں امن قائم کرنے کی خاطر لڑنے والا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایسا شخص اپنے ذاتی مفادات کی خاطر لڑنے والا ہوگا۔ (خطاب فرمودہ مورخہ ۱۱؍مئی ۲۰۱۳ء مطبوعہ روزنامہ الفضل ۶؍جون ۲۰۱۳ء )

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اُسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں فتح و نصرت کے مواقع پرعفوو درگزر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button