یورپ (رپورٹس)

تاثرات نیشنل پیس سمپوزیم ۲۰۲۶ء

اللہ تعالیٰ کے فضل سے کل مورخہ ۱۶؍مئی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ ایوان مسرور، اسلام آباد میں ۱۹ویں نیشنل پیس سمپوزیم کا کامیاب انعقاد ہوا جہاں حضور انور نے بصیرت افروز خطاب فرمایا جس کا خلاصہ قارئین الفضل ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ ذیل میں پیس سمپوزیم کے حوالے سے چند تاثرات درج ہیں:

مکرم رفیق احمد حیات صاحب، امیر جماعت احمدیہ یوکے: مکرم امیر صاحب یوکے نے نمائندہ الفضل انٹرنیشنل کو تقریب کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے بیان کیا کہ دنیا میں اس وقت مختلف خطوں میں جنگیں اور قتل و غارت جاری ہے، جس کی وجہ سے لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں، خاص طور پر غزہ، لبنان، سوڈان اور افغانستان جیسے علاقوں میں حالات بہت خراب ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں کی کوششوں کے باوجود جنگوں کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوا بلکہ یہ صرف نقصان اور تباہی کا سبب بنی ہیں۔

امیر صاحب نے کہا کہ راہنما اگر اپنی انا چھوڑ دیں اور حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات اور امن و انسانیت کے پیغام پر غور کریں تو دنیا میں بہتر امن قائم ہو سکتا ہے۔ آپ نے کہا کہ بعض عالمی راہنما صرف جنگوں کے لیے مالی یا سیاسی مدد کی بات کرتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ جنگوں کو ختم کر کے مستقل امن کی طرف عملی قدم اٹھایا جائے۔

امیر صاحب نے پیس سمپوزیم کی ترویج کے حوالے سے کہا کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگوں تک پیغام پہنچ جاتا ہے۔

امیر صاحب کا یوکے کے پیس سمپوزیم میں خلافت کی موجودگی کی انفرادیت کے حوالے سے کہنا تھا کہ
اس سبب سے اس کی بہت اہمیت ہے۔ بہت سے ملکوں سے مہمان آئے ہیں۔ وزراء بھی ہیں۔ یہ سب اچھا پیغام لے کر واپس جائیں گے۔ بڑے ممالک کو اپنا نمونہ دکھانے کے بارے میں کہنا تھا کہ جب تک بڑے ملک لیڈر شپ نہیں دکھاتے، امن کی طرف نہیں جاتے تو چھوٹے ملک بھی ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔

مکرم فرید احمد صاحب، سیکرٹری امور خارجیہ جماعت احمدیہ یوکے: مکرم فرید احمد صاحب نے نیشنل پیس سمپوزیم کی گزشتہ 20 سالہ ترقی اور اثرات کے بارے میں کہا کہ یہ تقریب نہ صرف تعداد کے لحاظ سے بڑھی ہے بلکہ اس کے پیغام اور اثر میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں مختلف ممالک سے لوگ شرکت کرتے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح کے امن، انسانیت اور ہمدردی پر مبنی پیغام سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی اے کے ذریعے یہ پیغام دنیا بھر میں پہنچ رہا ہے اور یہ تقریب عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے ایک مضبوط ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں تنازعات زیادہ کھل کر سامنے آرہے ہیں، اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح اب پہلے سے زیادہ واضح اور براہِ راست انداز میں امن اور انسانیت کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔

کلیئر ڈیسمنڈ، Christian Solidarity Worldwide: یہ تقریب مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھا کرنے کا ایک بہترین موقع ثابت ہوئی، جہاں مختلف خیالات سننے اور خاص طور پر حضورِ انور کی گفتگو سے راہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اہم سبق یہ ہے کہ امن کے لیے صرف عالمی رہنماؤں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہر فرد کو اپنے معاشرے اور اپنے دائرۂ اثر میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج کے مشکل حالات میں ایسی تقریبات امید، حوصلہ اور یکجہتی پیدا کرتی ہیں اور لوگوں سے ملاقات اور گفتگو نے بہت متاثر اور حوصلہ افزا محسوس کرایا۔ بس آپ کوشش جاری رکھیں، یہی امن لاتی ہے۔

Linda Stephens صاحبہ، جو ’’Women’s Wellbeing‘‘ نامی ادارہ چلاتی ہیں اور خاص طور پر خواتین کی صحت، پری و پوسٹ مینوپاز اور ماں بننے سے پہلے اور بعد کی دیکھ بھال پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں Vaughan James Pharmacy سے وابستہ بشریٰ یہاں لائیں اور وہ پہلے بھی اس تقریب میں آچکی ہیں۔ ان کے مطابق اس بار کا تجربہ بہت خاص تھا کیونکہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی گفتگو، ماحول میں موجود امن، محبت اور باہمی تعلق کے احساس کو بہت گہرائی سے محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ممکنہ عالمی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے، اس لیے انسانیت، اتحاد اور امن کا پیغام بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر فرد محبت، خاندانی اقدار، مختلف مذاہب کے احترام اور عالمی بھائی چارے کا عملی نمونہ نظر آتا ہے اور وہ خود کو اس تقریب میں شرکت پر خوش قسمت اور بابرکت محسوس کرتی ہیں۔

Catherine Clark، کونسلر برائے وائٹ ہل اینڈ بورڈن، اور Alex Page، ایک سماجی و عوامی مہم چلانے والے کارکن، نے اس تقریب کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی ایسی تقریبات مقامی اور بین الاقوامی کمیونٹیز کو قریب لانے، محبت اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مختلف پس منظر کے لوگوں کا ایک جگہ بیٹھ کر بات چیت کرنا غلط فہمیوں کو ختم کرتا ہے اور ایک دوسرے کی طاقتوں اور کمزوریوں کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر امن کے لیے مکالمہ اور تعلقات ضروری ہیں، کیونکہ جتنا لوگ ایک دوسرے کو سمجھیں گے اتنا ہی تنازعات کم ہوں گے۔ دونوں مہمانوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی تقریر کو تقریب کا سب سے متاثرکن حصہ قرار دیا، جبکہ کونسلر کیتھرین کلارک نے بتایا کہ انہیں نجی طور پر ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، جسے انہوں نے ایک یادگار تجربہ کہا۔

Jill Barstow (جِل بارسٹو)۔ چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس، کنوینر انٹرفیتھ ملٹن کینز: حضور انور کا خطاب انتہائی متاثر کن تھا۔ یہ بات واضح تھی کہ آپ دنیا کے مختلف خطوں کے حالات سے گہری آگاہی رکھتے ہیں اور آپ کا نقطۂ نظر بہت وسیع ہے۔ ایک مذہبی رہنما کی زبان سے جنگوں، تنازعات اور امن کی اہمیت پر اتنی جرأت اور دلسوزی سے بات سننا نہایت خوشگوار تھا۔ یہ واقعۃً ایک روح پرور تقریب تھی۔

Sarah Day (سارا ڈے)۔ Mayoress of Newport Pagnell: خطاب کے دوران میں مسلسل سر ہلا رہی تھی کیونکہ ہر بات سے اتفاق تھا۔ مجھے چند سال پہلے حضور انور کا خطاب بھی یاد آیا۔ آپ یہ باتیں بہت عرصے سے فرماتے آرہے ہیں۔ حضور انور کی شان یہ ہے کہ آپ یہ نہیں کہتے کہ مَیں نے پہلے خبردار کیا تھا، لیکن سچائی یہ ہے کہ آپ نے واقعی خبردار کیا تھا اور آج پھر کیا۔ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ سب آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔ یہ سوچ کر تو خوف آتا ہے مگر خطاب بے حد مؤثر اور پُراثر تھا۔

(رپورٹ: جواد احمد قمر، ڈاکٹر علی احسن خالد، ذیشان محمود)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button