ہینٹا وائرس: علامات، خطرات اور بچاؤ کی تدابیر
آج کے دور میں جہاں دنیا نت نئی وبائی بیماریوں کی زد میں ہے، وہاں کچھ ایسے وائرس بھی موجود ہیں جو خاموشی سے انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ’’ہینٹا وائرس‘‘(Hantavirus) ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر چوہوں ؍ Rodentsکے ذریعے پھیلتا ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

ہینٹا وائرس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟
ہینٹا وائرس کا تعلق وائرس کے اس خاندان سے ہے جو چوہوں ؍ Rodentsکے فضلے، پیشاب اور تھوک میں پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس عام طور پر انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا پھیلاؤ اس وقت ہوتا ہے جب چوہوں کا فضلہ خشک ہو کر ہوا میں شامل ہو جاتا ہے اور انسان اس آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ چوہے کے کاٹنے یا وائرس سے آلودہ سطح کو چھونے کے بعد منہ اور ناک پر ہاتھ لگانے سے بھی یہ انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
بیماری کی اقسام اور علامات
ابتدائی علامات: اس کی شروعات عام فلو ؍ بخار جیسی ہوتی ہے جس میں تیز بخار، سر درد، پٹھوں میں کھچاؤ، متلی اور قے شامل ہیں۔ اگر ان علامات کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن یا تیزی سے بگڑتی حالت ہو تو فوراً طبی مدد حاصل کرنا ہے۔
ہینٹا وائرس انسانی جسم میں دو طرح کی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ایک پھیپھڑوں کی بیماری (HPS) جس میں مریض کو سانس لینے میں شدید دشواری ہوتی ہے اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے۔دوسری گردوں کی بیماری (HFRS) جو گردوں کے فیل ہونے اور اندرونی خون بہنے کا باعث بن سکتی ہے۔
حفاظتی تدابیر: احتیاط ہی علاج ہے
چونکہ ہینٹا وائرس کے لیے اب تک کوئی مخصوص ویکسین یا قطعی علاج دستیاب نہیں ہے، اس لیے طبی ماہرین احتیاط کو ہی واحد راستہ قرار دیتے ہیں۔ اس کا علاج عموماً مریض کی علامات اور پیچیدگیوں کو سنبھالنے پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے بروقت تشخیص اور فوری طبی امداد زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کچھ ادارے ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ویکسین جلد عام استعمال کے لیے دستیاب ہو جائے گی۔
درج ذیل تدابیر اختیار کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے۔
٭… گھروں، گوداموں اور کام کی جگہوں کو چوہوں اور دیگر rodent جانوروںسے پاک رکھیں۔
٭… ایسی جگہیں جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، وہاں صفائی کرتے وقت ماسک اور دستانوں کا لازمی استعمال کریں۔ خشک جھاڑو دینے کے بجائے جراثیم کش محلول (Disinfectant) کا چھڑکاؤ کریں تاکہ گرد نہ اڑے۔
٭… کھانے پینے کی اشیاء کو ہمیشہ ایئر ٹائٹ ڈبوں میں رکھیں تاکہ چوہے ان تک نہ پہنچ سکیں۔
٭… گھر کی دیواروں یا دروازوں میں موجود سوراخوں کو بند کریں جہاں سے چوہے داخل ہو سکتے ہوں۔
حالیہ واقعات اور تازہ صورتحال
عالمی خبر رساں ایجنسیوں کی مئی ۲۰۲۶ء کی رپورٹس کے مطابق، ایک بحری جہاز ’’MV Hondius‘‘ پر ہینٹاوائرس کے پھیلاؤ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے تازہ صورتحال یوں ہے۔
رپورٹس کے مطابق MV Hondius outbreak سے منسلک تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ۱۱ تک پہنچ گئی ہے، جن میں تین اموات شامل ہیں۔ متاثرہ افراد میں مختلف ممالک کے مسافر اور عملے کے ارکان شامل ہیں۔ جہاز سے متعدد افراد کو نیدرلینڈز، فرانس، امریکا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور جنوبی افریقہ سمیت مختلف مقامات پر طبی نگرانی یا علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔
نیدرلینڈز میں ایک ہسپتال کے عملہ کے ۱۲ ارکان کو چھ ہفتوں کے لیے قرنطینہ کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے ایک متاثرہ مریض کے خون اور پیشاب کے نمونے سخت حفاظتی protocol کے بغیر handle کیے تھے۔ ریوٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ مریض MV Hondius کا مسافر تھا۔
اس واقعے کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس میں Andes virus ملوث ہے، جو ہینٹا وائرس کی وہ قسم ہے جو شاذ و نادر صورتوں میں قریبی اور طویل رابطے کے ذریعے انسان سے انسان منتقل ہو سکتی ہے۔ تاہم WHO اور یورپی اداروں کے مطابق عام آبادی کے لیے خطرہ فی الحال کم ہے، البتہ جہاز کے مسافروں، عملے اور قریبی رابطے میں آنے والے افراد کی مسلسل نگرانی، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ ضروری قرار دی گئی ہے۔
نوٹ: ہینٹا وائرس اگرچہ کورونا کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، مگر اس کی شرحِ اموات کافی زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں اور گوداموں میں کام کرنے والے افراد کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ معمولی سی احتیاط اور صفائی ستھرائی کے بہتر نظام سے ہم اس خاموش قاتل سے خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
(مرسلہ: مسز منظر محمود ۔ جرمنی)
مزید پڑھیں: قدرت کا ننھا رقاص مکڑا: Peacock Spider



