حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کی نیشنل مجلسِ عاملہ اور ریجنل قائدین کی ملاقات

یہ سوچ کے کام کرو کہ ہم دین کی خاطر کام کر رہے ہیں اور دین کی خاطر کام کرنے کے لیے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے، وہ بھی ادا کرنا ضروری ہے، اس کے بعد ہمارے کام میں برکت پڑے گی۔ اور اس کے لیے دعا، نماز، نفل، یہ چیزیں ضروری ہیں۔ کیونکہ دنیا داری کے کاموں میں تو آپ کہہ سکتے ہیں کوئی علم آپ کومل سکتا ہے، لیکن دین کے کام میں تو بالکل خالصتاً اللہ کی طرف جھکنا ہوگا۔

مورخہ ۱۰؍ مئی ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کی نیشنل مجلسِ عاملہ اور ریجنل قائدین پر مشتمل اِکاون (۵۱) افرادکوبالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔ جبکہ ملاقات کا باقاعدہ آغاز دعا سے ہوا۔

بعدازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا اور اپنی مفوّضہ ذمہ داریوں کی بابت مختصر تعارف پیش کرنے اور اس کے نتیجے میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

سب سے پہلے حضورِ انور نے شعبہ جات کی رپورٹس بھجوانے اور کام کرنے کی بابت دریافت فرمایا۔

حضورِ انور نے لائحہ عمل کے مطابق دینی خدمت انجام دینے، اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنے اور دعا و عبادت کے ذریعے اس سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کا لائحہ عمل بنا ہوا ہے، constitutionہے، اس کے مطابق کام کر رہے ہیں؟ اور یہی اصل چیزہے کہ اس کے مطابق کام کیے جاؤ اور یہ سوچ کے کام کرو کہ ہم دین کی خاطر کام کر رہے ہیں اور دین کی خاطر کام کرنے کے لیے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے، وہ بھی ادا کرنا ضروری ہے، اس کے بعد ہمارے کام میں برکت پڑے گی۔ اور اس کے لیے دعا، نماز، نفل، یہ چیزیں ضروری ہیں۔ کیونکہ دنیا داری کے کاموں میں تو آپ کہہ سکتے ہیں کوئی علم آپ کومل سکتا ہے، لیکن دین کے کام میں تو بالکل خالصتاً اللہ کی طرف جھکنا ہوگا۔

معتمد سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کتنا وقت دیتے ہو، اس پر تو بڑا وقت دینا پڑتا ہے، اتنا ٹائم ہے؟

اس پر انہوں نے عرض کیا کہ جتنا وقت دے سکتا ہوں مَیں دیتا ہوں۔

کام کی بابت دریافت کرنے پر حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا گیا کہ وہ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ تو پھر اتنا وقت مل جاتا ہے کہ آپ روزانہ دو گھنٹے اعتماد کے شعبے کو دے سکیں ؟

جس پر اثبات میں عرض کیا گیا کہ آپ نے حال ہی میں مجھے فرمایا تھا کہ آفس بھی جایا کرو،تو اب مَیں روزانہ جاتا ہوں۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے تبصرہ کیا کہ اچھا! مجبوری سے؟

جس پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ دل لگا کے کام کرتا ہوں۔ تو حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ دل لگا کے کام کرتے ہو، تو بس! پھر باقی کمی جو ہے، وہ اللہ سے دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ پُوری کر دے۔

جس پر موصوف نے آمین کہتے ہوئے ان شاء اللہ کے دعائیہ کلمات سے اپنے مصمم ارادے اور عزم کا اظہار کیا۔

ایک معاون صدر کے تعارف کروانے پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئےانتہائی مشفقانہ انداز میں فرمایا کہ ماشاء اللہ !تم بڑے مولوی بن گئے ہو، کل تک تو تم ریس میں لُڑکھڑیاں کھاتے پھرتے تھے۔تمہیں یاد ہے کہ حدیقة المہدی میں ایک ریس میں تم لُڑھک گئے تھے۔

حضورِ انور کے اس برجستہ تبصرے پر تمام شاملینِ مجلس بھی کھل کرمسکرا دیے۔

موصوف نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے توجیہ پیش کی کہ میرا قصور نہیں تھا، وہ downhillیعنی ڈھلوان تھی، اس لیے ایسا ہوا تھا۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے دوبارہ بہت ہی دلنشین انداز میں مسکراتے ہوئے پُر حکمت نصیحت سے نوازا کہ عادت ڈالو کہ اپنا قصور مان لو۔ پھر ترقی بہت اچھی ہوتی ہے۔ جب قصور آدمی مان لیتا ہے توپھرimproveکرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس طرح حضورِ انور نے فرمایا کہ مَیں دس پندرہ بیس سال پیچھے جاؤں تو تم بچے تھے۔ آج تم ماشاء اللہ! پُورے مولوی ہو۔

مہتمم تربیت سے بات کرتے ہوئے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ پہلے یہ بتاؤ کہ خود باجماعت کتنی نمازیں پڑھتے ہو؟ حضورِ انور نے تربیتِ خدام کے لیے ذاتی عملی نمونہ قائم کرنے، عبادات کی پابندی پیدا کرنے اور دینی علم کے ساتھ اعتماد و جرأت پیدا کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ خود پہلے نماز پڑھیں گے، خود قرآنِ شریف پڑھیں گے، خود نفلوں کو پڑھنے کی طرف توجہ ہو گی اور دعائیں کرنے کی طرف توجہ ہو گی، ذکرِ الٰہی کی طرف توجہ ہو گی، تو پھر آپ کی تربیت کے نتیجے بھی اچھے نکلیں گے۔ پہلے اپنا نمونہ پیش کرو۔ اصل چیز ہے کہ خدام میں نماز کی عادت ڈال دیں۔ پھر قرآنِ شریف پڑھنے کی عادت ڈال دیں۔ پھر چھوٹے چھوٹےpassages حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کتابوں میں سے اور خلفاء کے خطبات میں سے لے کے ان کو دیں۔ ان کو یاد ہوں تو کوئی تھوڑی سی جرأت پیدا ہو۔ علم بھی ہو اور جرأت بھی ہو۔ دونوں چیزیں ہونی چاہئیں۔

مہتمم صنعت و تجارت، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، اس کا علم ہونے پر حضورِ انور نے تبصرہ فرمایا کہ ڈاکٹری پڑھا کر آپ کو صنعت و تجارت پر لگایا ہوا ہے، کیا صنعت و تجارت کر رہے ہو، اس بیچارے ڈاکٹر کو کیا پتا کہ بزنس کیا ہوتا ہے؟ ڈاکٹر نے تو مریض دیکھنے ہیں، تنخواہ لینی ہے اور کام کرنا ہے۔

حضورِ انور کی جانب سے صنعت و تجارت کے پلان کی بابت استفسار پر موصوف نے عرض کیا کہ ہمارے پاس اٹھارہ سال سے زائد عمر کے خدام کی تعداد ۷۶۶۰؍ ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہر ایک کا پیشہ ورانہ سٹیٹس معلوم کیا جائے، یعنی یہ کہ کون کیا کام کرتا ہے اور کہاں ملازمت کرتا ہے۔

اس پر حضورِ انور نے منظّم انداز میں نوجوانوں کی اصلاح، انہیں مفید سرگرمیوں سے جوڑنے اور تربیت و شعبہ جاتی تعاون کے ذریعے ان کی راہنمائی کی بابت تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ جو پڑھائی چھوڑ بیٹھے ہیں اور فارغ بیٹھے ہیں اور غلط قسم کی دوستیوں میں لگے ہوئے ہیں، ان کو کسی کام پر لگائیں۔ کوئی drugمیں چلا گیا ہے، کوئی فلاں جگہ چلا گیا ہے، غلط دوستوں میں جا کےaddictہو گئے۔ ان لوگوں کی بھی فہرست بنا کے ان کو بھی کوئی چھوٹا موٹا کام دیں کہ تم کماؤ اور کھاؤ اور یہ تربیت کے ساتھ مل کے co-ordinatedپروگرام بنا کے دونوں کوکرنا چاہیے۔ اس طرح کاپروگرام ہر شعبہ بھی آپس میں مل کے کر سکتا ہے۔ تربیت اور آپ لوگ مل کے کریں تو بہت سارے بچوں کو سنبھال سکتے ہیں۔

مہتمم صحتِ جسمانی سے حضورِ انور نے دریافت کیا کہ گراؤنڈز میں خدام کی اپنی ٹیمیں ہیں یا دوسرے کلب میں جا کے کھیلتے ہیں؟

انہوں نے عرض کیا کہ کنگسٹن میں بیت الفتوح کے قریب ایک گراؤنڈ ہے، جہاں ہمارا ایک کلب ہے، ایکسٹرنل کاؤنسل کا گراؤنڈ ہے۔

حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ تو وہ گراؤنڈ ملی ہوئی ہے؟

جس پر عرض کیا گیا کہ اس سال ہمیں ملی ہے، لیکن ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال ہمیں ان شاء اللہ ایک مستقبل گراؤنڈ مل جائے، ہم اس کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے اصلاح فرمائی کہ مستقبل نہیں مستقل۔

مزید برآں حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے ذکر کیا کہ پچھلے دنوں باہر سے کہیں سے ناروے سے یا جرمنی سے خدا م آئے ہوئے تھے۔ وہ بے چارہ لکھ کے پڑھ رہا تھا، اُردو میں بول رہا تھا، سوال کر رہا تھا۔ اس نے مستقبل کہنا تھا تو مستقل کہہ دیا اور تم نے مستقل کہنا تھا لیکن مستقبل کہہ دیا۔

مہتمم تعلیم سے بات کرتے ہوئے حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ خدام کا اپنا مذہبی علم تو ہونا چاہیے، کچھ کتابیں کوئی ان کوprescribe کی ہوئی ہیں؟اس پر عرض کیا گیا کہ اس دفعہ ہمارا عنوان ’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے‘کی مناسبت سے کتاب’ذکرِ الٰہی ‘حضورِ انور نے منظور فرمائی تھی۔

جس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اچھا! اس دفعہ ذکرِ الٰہیrecommendکیا ہوا ہے۔ حضورِ انور نے نوجوانوں میں دینی مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لیے خلاصے اور دلچسپ انداز میں مواد فراہم کرنے کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا کہ ان کو یہ کہہ دینا کہ پڑھ لو تو نہیں پڑھیں گے۔ ان کو کچھ بیچ میں اس کی تھوڑی سی سمری بنا کے بھیجنی پڑے گی تا کہ ان کاانٹرسٹ developہو۔ پھر وہ ہر ایک کے پاس جائے۔ پھر وہ اگرdetailمیں پڑھنا چاہیں تو پڑھیں۔ شوق بھی تو پیدا کرنا پڑے گا۔ کافی محنت کرنی پڑے گی۔

مہتمم تعلیم نے عرض کیا کہ ہمquizzesبناتے ہیں کہ جو پڑھیں تو اس میں وہ جواب دے سکیں۔

اس پرحضور انور نے فرمایا کہ آگے کافی محنت والا کام ہے۔

معاون صدر وقفِ نَو سے حضورِ انور نےحالیہ منعقد ہونے والے وقفِ نَو اجتماع کی بابت دریافت فرمایا کہ پھر وقف ِنَو کے اجتماع میں کیسا اور کیا اثر ہوا، تقریر سنی اور چلے گئے؟ اسی تناظر میں حضورِ انور نے واقفینِ نَو کی مسلسل راہنمائی اور تربیت کے ضمن میں ہدایت فرمائی کہ پوائنٹس نکال کے ہر ایک وقفِ نَو کو دو، ہر ایک کے گھر میں پہنچیں اور وقتاً فوقتاً بھیجتے رہو کہ یہ یہ کام ہم نے کرنے ہیں اور اس طرف توجہ دینی ہے۔

معاون صدر SEND Special Educational Needs and Disabilities کو حضورِ انور نے ایسے جملہ خدام کے لیےباقاعدہ گروپس، کھیلوں اور ٹورنامنٹس کے ذریعے مسلسل رابطہ اور تنظیم سے وابستگی قائم رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے مختلف گروپ بنا کے دیکھیں، ان کی گیمز وغیرہ کے لیے بھی دیکھا کریں، بعض ان کے ٹورنامنٹس چھوٹے چھوٹے دوسرے تیسرے مہینے کرا دیا کریں تا کہ وہ آپ سے attach رہیں۔ بعض وہیل چیئرز پر کرتے ہیں اوربعض اور طرح کر رہے ہوتے ہیں۔ ہاکی، فُٹ بال، اس طرح کی جو گیمز ہوتی ہیں، وہ کر رہے ہوتے ہیں؟

انہوں نے عرض کیا کہ ابھی اتنی زیادہ سپورٹس نہیں کیں۔ جس پر حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ ساری چیزوں کا سوچو۔

بعدازاں حضورِ انور نے ریجنل قائدین سے گفتگو فرماتے ہوئے خدام سے مضبوط تعلق قائم کرنے، انہیں فعّال بنانے اور ان کا مسجد کے ساتھ تعلق مستحکم کرنے کے حوالے سے جامع ہدایات عطا فرمائیں۔

ریجنل قائد بیت السبّحان سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ اس ریجن میں کتنے خدام ہیں؟

جس پر عرض کیا گیا کہ ۴۲۲؍ خدام اور ۵۶۵؍ خدام اور اطفال ہیں۔

پھر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ activeکتنے ہیں؟

اس پر عرض کیا گیا کہ نماز پر روزانہ آنے والے تقریباً پچیس ہیں اور جمعہ پر اور کُل آنے والے تقریباً ڈیڑھ سو ہیں۔

یہ سماعت فرماکر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ تو باقی جو تین سو ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟

تو انہوں نے عرض کیا کہ باقی تین سو میں سے ایک تعداد ایسی ہے کہ جواجتماع وغیرہ اور الگ جماعتی پروگرام پر آ جاتے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے قائدین کو اُن کی بنیادی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فعّال خدام کی تعداد بڑھانے اور انہیں مسجد و تنظیمی سرگرمیوں سے مستقل وابستہ رکھنے کے ضمن میں ہدایت فرمائی کہ مسجد میں کبھی کبھی آنے والے تو ہونے چاہئیں۔ کام کے دوران اگر نہیں آ سکتے، تو ایک نماز پر آ گئے، عشاء پر آ گئے، مغرب پرآ گئے، فجر پر آ گئے۔ جو ماہانہ میٹنگز ہوتی ہیں ان میں آ گئے۔ذرا توجہ کرنی چاہیے۔ آپ لوگ قائدین اتنی بات پرrelaxنہ ہو جائیں کہ اتنے لوگ آ گئے، مسجد میں دو صفیں بن گئیں، تو دو کافی ہیں۔ اصل چیز یہ دیکھنی ہے کہ کتنے پرسنٹ ہمارےممبران activeہیں اور اس کی زیادہ سے زیادہ تعداد بڑھانی چاہیے۔ قائدین کا یہ کام ہے۔

ریجنل قائد نارتھ ویسٹ سے بات کرتے ہوئےحضورِ انور نے خدام کو مسجد، نماز اور قرآن سے جوڑنےاور ان کی روحانیت بڑھانے کوہی تنظیمی کام کا اصل مقصد قرار دیتے ہوئے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ تعلق زیادہ سے زیادہ بڑھاؤ، قریب لاؤ، اصل کام تو یہی ہے کہ ان کو مسجد سے attach کرنا۔ اگر یہ نہیں ہے تو پھر تنظیموں کا فائدہ کوئی نہیں۔ اگر نماز پڑھنے والے نہیں، حاضری ہماری ستّر فیصد کم از کم اور قرآن پڑھنے والے نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اپنے کوئیpromisingنتیجے نہیں آ رہے۔ اس کے لیے ہر قائد کو کوشش کرنی چاہیے۔اور مربی لگانے کا فائدہ تبھی تھا کہ اپنے ساتھ کوئی روحانیت بھی بڑھائیں گے۔

ریجنل قائد بیت النّور سے بات کرتے ہوئے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کمزور ہو گئے ہو، وزن کم کیا ہے؟

اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے مزید دریافت کیا کہ اچھا! کیا وجہ ہے؟

تو انہوں نے عرض کیا کہ کھانا بھی تھوڑا سا کم کیا ہے اور جِم وغیرہ بھی جا رہا ہوں۔

جس پر حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ جِم جاؤ، کھانا بےشک کھاؤ۔

آخر میں حضورِ انور نے دعا، تعلق باللہ اور اخلاص کے ساتھ خدمتِ دین کے جذبے کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنے کی بابت تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ دعاؤ ں پر زور دیں اور میرا جو جامعہ والا مربیان سے خطاب تھا، اس پر سارے مربیان بھی عمل کریں، ویسے تو ساروں کے لیے ہی ہےکہ جو عہدیدار بنتے ہیں، خاص طور پر مربیان کے لیے ہے۔ باتیں جو ہونی تھیں، وہ ساتھ ساتھ ہی ہو گئیں، اس سے زیادہ باتیں کرنی کوئی نہیں اور شروع میں مَیں نے بتا دیا تھا کہ اللہ سے تعلق اور خدمت کا جذبہ اور ہر وقت خیال رکھو کہ ہم جو بھی کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے اور اللہ کی خاطر ہم نے کرنا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

الغرض یہ روح پرور علمی و تربیتی نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’اچھا، السلام علیکم!‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ ناروے کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button