ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۶)(قسط ۱۵۱)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
آیوڈم
Iodum
آیوڈم بہت گرم مزاج دوا ہے۔ اس کا مریض بہت شدت سے گرمی محسوس کرتا ہے۔ اسے بے حد بھوک لگتی ہے لیکن بہت کھانے کے باوجود اس کا جسم دبلا پتلا رہتا ہے۔ بہت تیز طرّار ہو تا ہے ، نچلا نہیں بیٹھ سکتا، اِدھر اُدھر گھومتا رہتا ہے۔ جسم میں ہر جگہ غدود بڑھ جاتے ہیں اور بہت سخت ہو جاتے ہیں۔ یہ سختی کو نیم سے مشابہ ہوتی ہے۔ آیوڈین کا مریض سوکھے پن کے لحاظ سے ابراٹینم اور نیٹرم میور کی یاد دلاتا ہے لیکن یہ دونوں دوائیں ٹھنڈے مزاج کی ہیں۔(صفحہ۴۶۹)
آیوڈم کے مریض کی بے چینی کا تعلق اعصابی گھبراہٹ سے ہو تا ہے۔ یہ گھبراہٹ آرسینک کی طرح کی نہیں ہوتی بلکہ اعصاب میں ضرورت سے زیادہ توانائی پائی جانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ چونکہ خوب کھاتا پیتا ہے اور چربی نہیں بنتی اس لیے جسم میں پیدا ہونے والی زائد توانائی اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ چنانچہ یہ مسلسل حرکت کر تا رہتا ہے اور بھاگ دوڑ کر اپنی طاقت خرچ کرتا ہے۔ اگر ایسے مریض کو زبردستی بٹھانے کی کوشش کی جائے تو اس میں شدید غصے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ مار دھاڑ اور قتل تک کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اگر ایسے مریض کا بچپن میں آیوڈین سے علاج نہ کیا جائے تو بڑا ہو کر نہایت خطرناک مجرم بھی بن سکتا ہے اور بغیر کسی محرک کے قتل وغارت میں ملوث ہو سکتا ہے۔ گو نیٹرم میور اور ہیپرسلف میں بھی تشدد اور بلا وجہ قتل کرنے کا رجحان پایا جا تا ہے لیکن ان کی دیگر علامتوں میں بہت فرق ہے۔ نکس وامیکا میں بھی یہ خطرناک علا مت پائی جاتی ہے کہ اس کی مریضہ کے دل میں بے اختیار یہ خواہش ابھرنے لگتی ہے کہ اپنے بچے کو آگ میں جھونک دے یا بےحد محبت ہونے کے باوجود خاوند کو موت کے گھاٹ اتار دے۔ پھر وہ اس ارادے سے سخت خوفزدہ بھی ہو جاتی ہے لیکن اسے رد نہیں کر سکتی اور یہ خیال سایہ کی طرح اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ اگر مریضہ بہت خوفزدہ بھی ہو تو یہی علامتیں پاگل پن میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اگر مریض کی دیگر علامتیں آیوڈین کا تقاضا کرتی ہوں تو یہ دوا بہت مفید ثابت ہوگی۔ (صفحہ۴۶۹-۴۷۰)
کالی آیوڈائیڈ میں بھی آیوڈین کی کچھ علامتیں پائی جاتی ہیں۔ اس کا مریض بہت چلتا ہے اور چلنے سے تھکتا نہیں۔ اگر کسی دن نہ چلے تو اعصاب میں تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اس کے مزاج میں بھی گرمی پائی جاتی ہے۔ البتہ ایک فرق ہے کہ اس کے جسم میں گہرے زخم بن جاتے ہیں جو ناسور بننے کا رجحان رکھتے ہیں جبکہ آیوڈین میں غدودوں کے اندر کی سوزش اور ان کے سخت ہونے کی علامت پائی جاتی ہے۔ تپ دق کا رجحان بھی ملتاہے۔(صفحہ۴۷۰)
آیوڈین کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ سارے جسم کے غدود پھولنے لگتے ہیں اور سخت ہو جاتے ہیں لیکن عورتوں کی چھاتیوں کے غدود سکڑنے لگتے ہیں اور بالکل جھلی سی باقی رہ جاتی ہے۔ یہ اس کی ایک استثنائی علامت ہے ورنہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ سارا جسم سوکھ رہا ہو تا ہے اور غدود بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کا جسم سوکھ رہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ غدود بڑھ رہے ہوں تو ایسے مریض کو آیوڈم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں غدود اور جسم بیک وقت موٹے نہیں ہوتے۔ عموماً پیٹ کے غدود بہت زیادہ پھول جاتے ہیں اور ان میں گانٹھیں نمودار ہو جاتی ہیں۔ بغلوں کے نیچے بھی غدود بڑے اور سخت ہو جاتے ہیں۔(صفحہ۴۷۰)
چونکہ آیوڈم گرم مزاج کی دوا ہے اس لیے اس کی کھانسی بھی گرمی سے بڑھتی ہے چنانچہ گرم کمرے میں جانے سے کھانسی کا دورہ پڑ جاتا ہے مگر آیوڈم کی پہچان کے لیے صرف یہی علامت کافی نہیں۔ باقی علامتیں بھی موجو د ہونا ضروری ہیں۔ (صفحہ۴۷۰)
اس دوا میں جگر تلی اور گلے کی سوزش بھی ملتی ہے۔ عموماً ایسی سوزش اور غدودوں کی تکلیف کے نتیجہ میں مریض کو دست لگ جاتے ہیں۔ آیوڈم میں ہر جگہ دھڑکن پائی جاتی ہے۔ یہ علامت بیلاڈونا اور آیوڈم میں مشترک ہے۔ (صفحہ۴۷۰-۴۷۱)
چونکہ آیوڈم گرم مزاج کی دوا ہے اس لیے اس کی ایپس (Apis) سے بھی مشابہت ہوتی ہے۔ یہ دونوں دوائیں گر دوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایپس کی طرح آیوڈم میں بھی آنکھ کے نیچے سوزش ہو جاتی ہے لیکن یہ سوزش صرف نچلے حصہ میں ہی محدود نہیں رہتی بلکہ اس سے آنکھوں کے چھپر بھی سوج جاتے ہیں۔ اگر پوری آنکھ میں سوزش ہو تو اس کے لیے فاسفورس بھی مفید ہے۔ اگر آنکھ کا صرف چھپر اور غلاف سوجے ہوں تو یہ کالی کارب کی علامت ہے۔ وہ مریض جو لمبی بیماریوں کے نتیجہ میں بالکل نڈھال ہو جائیں اور خون کی کمی کا شکار ہوں تو ان کی آنکھوں کے نیچے تھیلیاں سی لٹک جاتی ہیں اور وہ چھوٹی عمر میں ہی بوڑھے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ان کے لیے چینینم آرس (Chininum ars) اور سار سپریلا(Sarsaparilla) وغیرہ مفید ہو سکتی ہیں۔ (صفحہ۴۷۱)
آیوڈم کے مریض کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ اسے بھوک بہت لگتی ہے۔ ہر بیماری میں بھوک بےچین رکھتی ہے اور بھوک کے دوران بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سورائینم میں بھی بھوک اور بیماری کا باہمی تعلق ہے لیکن سورائینم میں بھوک خصوصاً رات کے وقت چمکتی ہے اور اس کا مریض عموماً ٹھنڈا ہو تا ہے اس لیے ان دونوں دواؤں میں فرق کرنا مشکل نہیں ہے۔ (صفحہ۴۷۱)
ہر قسم کے چھالے اور زخم جو نزلاتی جھلیوں میں بنتے ہیں ان کا بھی آیوڈم سے بہترین علاج ہو سکتا ہے بشرطیکہ مریض مزاجی طور پر آیوڈم کا ہو۔ اس کا مریض گرم مزاج ہونے کے باوجود سردی لگ جانے سے نزلہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کے لیے یہ ضروری شرط نہیں ہے کہ گرمی سے ہی نزلہ ہو۔ آیوڈم کے مریض کی نزلاتی جھلیاں جواب دے جاتی ہیں اس لیے معمولی بہانے سے بھی نزلہ ہو تا رہتا ہے۔ ناک میں مواد جم جاتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ ذرا سی ٹھنڈ لگنے یا کھانے پینے میں بداحتیاطی سے نزلہ ہو جاتا ہے۔ نزلہ کی بعض دواؤں کا سردی اور گرمی سے تعلق ہے جو اپنی الگ علامتیں رکھتی ہیں اور آیوڈم سے ممتاز ہیں لیکن اگر ناک بند رہے اور ہر وقت نزلاتی کیفیت ہو۔ ناک سے خون نکلے اور اس کے ساتھ بھوک بھی بہت ہو تو ایسے مریض کے لیے خدا تعالیٰ کے فضل سے آیوڈم اس کی تمام بیماریوں میں شفا کا موجب بن جاتی ہے۔ (صفحہ۴۷۲)
وجع المفاصل میں بھی مفید ہے۔آیوڈم کے مریض کو ٹھنڈی ٹکور سے فائدہ ہوتا ہے۔آیوڈم کی تکالیف خاموش رہنے ،محنت کرنے اور گرمی سے بڑھتی ہیں۔کھانا کھانے سے اور کھانے کے بعد کچھ دیر تک آرام رہتا ہے۔کھلی ہوا میں چہل قدمی سے افاقہ رہتا ہے۔ (صفحہ۴۷۲-۴۷۳)
اپی کاک
Ipecacuanha
(Ipecac-Root)
اپی کاک ملیریا کی بہت اہم دوا ہے۔ ملیریا کا بھی متلی سے گہرا تعلق ہے اور اس کا معدے پر بھی حملہ ہو تا ہے۔ اس پہلو سے اپی کاک کا ملیریا سے طبعی تعلق ہے۔ اپی کاک کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ کمر میں سخت سردی محسوس ہوتی ہے اور سردی کی لہریں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر جاتی ہیں۔ سردی کے علاوہ درد کی لہریں بھی یونہی اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کمر میں چلتی ہیں۔ اگر بچے کو ملیریا ہو رہا ہو اور وہ یہ ساری باتیں بتا نہ سکے اور اپی کاک کی ضرورت ہو تو اس کی دو تین علامتیں نمایاں طور پر اپی کاک کی طرف اشارہ کریں گی۔ شدید سردی سے بدن کانپے گا اور دانت بجیں گے۔ اگر ایسے بچے میں اپی کاک کی دوسری علامتیں بھی ملیں تو ایسے ملیریا کے علاج کے لیے اسے اپی کاک دینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ (صفحہ۴۷۵)
معدے میں بھی کاٹنے والے درد اٹھتے ہیں اور ان کی حرکت بائیں طرف سے دائیں طرف ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہو تا ہے جیسے کسی نے چاقو مار دیا ہو اور مریض حرکت نہیں کرسکتا بلکہ ساکت و جامد ہو جاتا ہے اور پھر ذرا سی دیر میں ہی درد ختم ہو جاتا ہے۔ وہ درد جو مستقل بیٹھ رہنے والے نہ ہوں بلکہ بجلی کے کوندوں کی طرح آئیں اور ایک دم مریض کو نڈھال کرکے چلے جائیں وہ اپی کاک سے تعلق رکھتے ہیں۔اپی کاک کے ہر مرض میں متلی ضرور ہوتی ہے۔ کھانسی سے بھی متلی ہو جاتی ہے۔ (صفحہ۴۷۵۔۴۷۶)
اپی کاک جریان خون کی بہترین دوا ہے۔اس میں یکدم بڑے زور سے خون نکلتا ہے۔اپی کاک کے مریض میں کہیں سے بھی خون جاری ہو متلی بھی ضرور ہوتی ہے۔مریض پیاس بالکل محسوس نہیں کرتا۔بسا اوقات آرسینک کی طرح کمزوری اور بے چینی بھی پائی جاتی ہےلیکن اس کا مزاج دوسری باتوں میں آرسینک سے مختلف ہے۔ہرتکلیف دورے کی شکل میں آتی ہے۔کمزوری ہوگی تو کمزوری کا دورہ پڑے گا۔سردی لگے گی تو دورے کی شکل میں آئے گی۔ خون بہنے کا بھی دورہ پڑے گا اور کچھ عرصہ کے بعد ختم ہوجائے گا۔یہ دورے لمبے نہیں ہوتے۔اس میں مستقل جاری رہنے والی اور آگے بڑھنے والی بیماریاں نہیں ہوتیں البتہ اس میں مرض کے تیزی سے بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔جب بھی کوئی تکلیف شروع ہوتی ہےتو مرض تیزی سے بڑھتا ہےاور جلدہی چھوڑ بھی دیتا ہے۔ (صفحہ۴۷۶ )
اپی کاک کی اعصابی بیماریوں میں تشنج پایا جاتا ہے۔سیکوٹا اور ڈائسکوریا (Dioscorea)کی طرح اعصابی تشنج میں پیچھے کی طرف اکڑنے کا رجحان ملتا ہے۔ (صفحہ۴۷۶ )
اپی کاک کالی کھانسی میں بھی مفید ہے کیونکہ اس میں تشنج کی علامت پائی جاتی ہے۔ اگر تشنج کے ساتھ سارا جسم اکڑ جائے، چہرہ سرخ ہو اور متلی بھی ہو تو ایسی صورت میں اپی کاک غیرمعمولی فائدہ پہنچاتی ہے۔ عموماً ایسی کیفیت میں بیلاڈونا کا خیال آتا ہے لیکن پہلے اپی کاک دیں۔ (صفحہ۴۷۸)
اپی کاک کا ٹیٹنس (Tetanus)کے تشنج سے بھی تعلق ہے۔ اپی کاک کی تکلیفیں گرم مرطوب موسم میں بڑھ جاتی ہیں۔ (صفحہ۴۷۸ )
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۵)(قسط ۱۵۰)




