متفرق

اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ

ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:عمومی طور پر بچوں کی تربیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ گھروں میں نظام جماعت پر اعتراض یا غلط رنگ میں باتیں نہ ہوں۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ بچوں کے ذہنوں میں یہ باتیں بیٹھ جاتی ہیں اور پھر وہ سمجھتے ہیں کہ سارا نظام ہی ایسا ہے اور پھر وہ ایک قدم اور آگے جاتے ہیں اور خلیفۂ وقت پر اعتراض کرتے ہیں اور جب یہ اعتراض شروع ہو جاتے ہیں تو پھر وحدت سے علیحدہ ہو جاتے ہیں اور جماعت سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اور جماعت سے تعلق اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے اور اپنے دل میں جماعت سے پیار اور محبت کا اگر جذبہ ہے تو اس کو ظاہر کرتے ہوئے اپنے گھروں میں ایسی باتوں سے پرہیز کریں۔ اگر کہیں یہ باتیں نہیں بھی ہو رہیں تو یہ سوچ نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری شکایت نہ ہو جائے اور ہم پر کوئی ایکشن نہ لے لیا جائے بلکہ اس سوچ سے گھروں میں خلافت اور جماعت کے احترام کے متعلق باتیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا یہ حکم ہے۔ بندوں سے ڈرنے کی بجائے خدا تعالیٰ سے ڈریں۔ اور وحدت کے جس نظام کو ہم نے حاصل کیا ہے اسے ہم نے ضائع نہیں ہونے دینا۔ اگر کسی عہدیدار سے شکوہ ہے تو خلیفہ وقت تک اپنی بات پہنچا دیں اور پھر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑیں۔ یہی چیز ہے جو اگلی نسلوں کو جماعت اور خلافت سے جوڑ کر رکھے گی۔(جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۱۸ء کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا مستورات سے خطاب)(مرسلہ:قدسیہ محمود سردار۔ کینیڈا)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button