اداریہ: وَمَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(سخی وہ جسے غربت کا خوف نہیں)
انسان کی شخصیت کا امتحان تب بھی ہوتا ہے جب اس کے پاس کچھ نہ ہو اور اس وقت بھی ہوتا ہے جب اس کے پاس کچھ ہو اور کوئی دوسرا اس کو لینے کا سوال ڈال دے۔ اپنا مال، اپنا وقت، اپنی آسائش اور اپنی پسند کی چیز کسی دوسرے کے لیے چھوڑ دینا بظاہر ایک چھوٹا سا عمل ہے مگر حقیقت میں اس کے پیچھے ایک پوری نفسیات کارفرما ہوتی ہے۔ سخی انسان کے ہاتھ کی کشادگی اس کے دل کی فیاضی کا عندیہ دیتی ہے۔ وہ اپنے رزق میں سے دوسرے کو اس لیے دے سکتا ہے کہ اس کے اندر محرومی کا خوف نسبتاً کم اور انسانی ہم دردی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
ایک دوست اپنی کم سِن بیٹی کے ساتھ پاکستان کا سفر کررہے تھے۔ بازار میں خریداری کے دوران باپ نے محبت سے بچی کو موتیے اور گلاب کے پھولوں کا گجرا لے دیا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک پریشان حال مانگنے والی سامنے آگئی۔ بچی کے پاس اسے دینے کے لیے پیسے تو نہیں تھے البتہ اس نے وہی گجرا جو ابھی اس کے والد نے اسے لے کر دیا تھا اور جس کی خوش بو اُسے بہت عزیز تھی اس کو تھما دیا۔ ممکن ہے مانگنے والی کے لیے وہ کوئی قیمت نہ رکھتا ہو مگر بچی کے اس عمل نے ہمیں سخاوت کا ایک بنیادی اصول سمجھا دیا کہ سخاوت فالتو چیز کسی کو دے دینے کا نام نہیں بلکہ اپنی پسندیدہ چیز میں دوسرے کو شریک کرنے کا نام ہے۔ قرآن کریم نے یہی معیار نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ(آل عمران:93) یعنی تم ہرگز کامل نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔
سخاوت سے ایک قدم آگے ایثار کا مقام آتا ہے: وَيُؤْثِرُونَ عَلٰى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر:10) یعنی وہ (مومنین) اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ جدید تحقیقات میں دوسروں پر خرچ کرنے، یعنی prosocial spending، اور خوشی و ذہنی آسودگی کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا ہے۔ ایک تحقیقی جائزے کے مطابق اپنے رزق میں سے کسی کو کچھ دینے سے حاصل ہونے والی خوشی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب انسان اپنی مرضی سے ایسا کرے، کیونکہ اسے وصول کرنے والے سے اس کا ایک تعلق بن جاتا ہے اور اسے لگتاہے کہ اس نے کسی کو فائدہ پہنچایا ہے۔ گویا مال دینے کے نتیجے میں صرف مال لینے والے کا دامن نہیں بھرتا بلکہ خرچ کرنے والے کے اندر بھی مثبت تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ انسان بے لوث ہو کر خرچ کیوں کرتا ہے؟ اور بعض لوگ آسانی سے کیوں اپنا مال کسی کو دے دیتے ہیں جبکہ بعض کے لیے مال ہوتے ہوئے بھی اسے کسی کو مالی مدد دینا مشکل ہوتا ہے؟
نفسیات کی بعض تحقیقات میں دوسروں کے لیے ہم دردی، مدد کا جذبہ، ایثار اور سخی رویوں میں باہمی تعلق پایا گیا ہے۔ مخلوقِ خدا کی خدمت کے نتیجے میں حاصل ہونے والا دلی سکون و اطمینان ایک طرف۔ لیکن ایک مومن جب خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو وہ اللہ پر توکّل کا ایک عملی نمونہ بھی قائم کر رہا ہوتا ہے۔ اسے علم ہوتا ہے کہ یہ سب دینے والا بھی خدا ہی ہے اور اُس کی راہ میں واپس دے دینے سے وقتی طور پر اگرچہ اس کے ہاتھ خالی ہوجاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح اپنی راہ میں کیے جانے والے خرچ کا اجر ضرور دے دیتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو سخاوت محض آپؐ کی ایک عادت دکھائی نہیں دیتی بلکہ آپؐ کی پوری شخصیت، خدا تعالیٰ پر غیر معمولی توکّل اور مخلوقِ خدا کی ہم دردی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ آپؐ کو اکثر دنیا ’’رسولِ کریم‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ کریم کا مطلب ہی بغیر کسی غرض سے بہت زیادہ عطا کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ (صحیح بخاری)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ لیکن نبی اکرمﷺ کی سخاوت کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان آپؐ کے حالات بھی سامنے رکھے۔ یہ کسی ایسے بادشاہ کی سخاوت نہ تھی جس کے خزانے بھرے ہوئے ہوں اور ان میں سے چند سکّے تقسیم کردیے جائیں۔ کبھی گھر میں فاقہ ہے، کبھی چولہا نہیں جلتا، کبھی اپنی ضرورت موجود ہے، لیکن دروازے پر سوالی آ جائے تو اسے خالی ہاتھ لوٹانا طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حال ہی میں آنحضرتﷺ کی سخاوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک شخص نے آپؐ سے دو پہاڑوں کے درمیان موجود بکریوں کا پورا ریوڑ مانگ لیا۔ آپؐ نے وہ سب اسے عطا فرمادیا۔ وہ اپنی قوم میں واپس گیا اور کہنے لگا کہ اسلام قبول کر لو، محمدؐ اس شخص کی طرح دیتے ہیں جسے غربت کا کوئی خوف ہی نہیں۔ ذرا اس آخری فقرے پر غور کریں’’جسے غربت کا خوف نہیں۔‘‘ یہی سخاوت کی نفسیات کا شاید سب سے گہرا راز ہے۔ سخی مال کو محض ایک زائل ہوجانے والی نعمت سمجھتا ہے اپنی زندگی کا محور نہیں۔ رسول کریمؐ کے ہاں یہ یقین اور توکّل اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا کہ اصل خزانے خدا کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ حضرت بلالؓ کے پاس کھجوروں کا ڈھیر دیکھا تو انہیں اللہ کی راہ میں دے دینے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ خرچ کرو اور غربت کا خوف نہ کرو، رزق دینے والا خدا ہے۔ حضورؐ اپنے آپ کو مال کا تقسیم کرنے والا قرار دیتے تھے۔
ایک مرتبہ کہیں سے رقم آئی تو نبی اکرمﷺ نے اسے حسبِ دستور تقسیم فرما دیا۔ رات گزر گئی اور چند دینار تقسیم ہونے سے رہ گئے۔ آپؐ کی طبیعت اس قدر بوجھل ہوئی کہ جس قدر جلد ممکن ہوسکا باقی ماندہ بھی تقسیم فرما دیے۔ ایک اَور موقع پر نماز کے بعد جلدی سے گھر تشریف لے گئے کیونکہ کچھ مال تقسیم ہونے سے رہ گیا تھا اور آپؐ نہیں چاہتے تھے کہ وہ مال آپؐ کی توجہ میں حائل ہو۔ چنانچہ اسے تقسیم کرنے کا انتظام فرمایا۔ ایک موقع پر ستر ہزار درہم آئے اور مانگنے والوں میں تقسیم ہوتے گئے یہاں تک کہ ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔
نبی اکرمﷺ کی سخاوت کا سوچیں تو اس میدان میں آپؐ کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو سامنے آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق زمین کے طول و عرض کے مال آپؐ کی دسترس میں تھے مگر آپؐ نے نہ تو کبھی اُس سے دل لگایا اور نہ اس پر بھروسا فرمایا۔ ایک ایک پائی اللہ کی راہ میں لٹا دی۔ فرمایامَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ (صحیح مسلم) صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔ بظاہر نظر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے۔ سو میں سے دس نکال لیں تو نوّے باقی رہ جاتے ہیں، لیکن زندگی محض جمع تفریق کا نام نہیں۔ مال میں برکت، دلی اطمینان، انسانی رشتوں کی خوشیاں، کسی مجبور کی دعا اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی رضا بھی ایک بہت بڑی قیمت رکھتے ہیں۔ قرآن کریم نے خرچ کرنے والے کے ایک دانے کے بدلے سات بالیوں اور ہر بالی میں سو دانوں سے بڑھانے کی تشبیہ دے کر یہی حقیقت سمجھائی ہے۔
سخاوت کی ایک پاکیزہ صورت وہ ہے جہاں خرچ کرنے والے کا عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہو اور وہ جواب میں شکریے کا بھی خواہاں نہ ہو:لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدہر:10) کہ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ انسان جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کی شخصیت کے نکھار اور مضبوطی کی کیا ہی بات ہوتی ہے۔ وہ شخص اس دنیا میں رہتے ہوئے خدا تعالیٰ کی جنتوں کی سیریں کر رہا ہوتا ہے کیونکہ اسے کسی انسان کی تعریف اور شکریے کی حاجت نہیں رہتی اور وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کا حقیقی طلب گار بن جاتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نہایت لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ بعض اعلیٰ اخلاق کا اظہار اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان کے پاس اختیار اور مال موجود ہو۔ غربت میں مال سے بےرغبتی آسان ہے اصل امتحان اس وقت ہے جب مال آجائے اور انسان پھر بھی بخیل نہ ہو۔ اقتدار آجائے اور انتقام نہ لے۔ طاقت آجائے اور ظلم نہ کرے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکہ کی بے بسی بھی آئی اور مدینہ کی حکومت بھی۔ آپؐ نے شعبِ ابی طالب کی تنگی بھی دیکھی اور وہ وقت بھی آیا جب مالِ غنیمت کے ڈھیر سامنے تھے۔ مگر نہ تنگ دستی نے آپؐ کو ناشکرا بنایا اور نہ فراوانی نے مال کا اسیر۔ یہی ایک کامل شخصیت کی علامت ہے۔
آج دنیا شخصیت کی مضبوطی کو اکثر دولت جمع کرنے، دوسروں سے آگے نکلنے اور اپنے مفاد کا تحفظ کرنے سے تعبیر کرتی ہے۔ سیرتِ رسولؐ ایک اورمعیار بھی پیش کرتی ہے۔ مضبوط وہ بھی ہے جو اپنے پاس موجود قیمتی چیز سے بخوشی جدا ہوسکتا ہے، جو اپنی ضرورت کے باوجود دوسرے کا درد محسوس کرسکتا ہے،جو اللہ کی خاطر کسی انسان کی مدد کرنے کے بعد احسان نہیں جتاتا اور جو حقیقی طور پر لمحۂ موجود میں جیتا ہے گویا لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (الحدید) کی عملی تصویر بن جاتا ہے۔ وہی وہ شخص ہوتا ہے جو حقیقی طور پر کامیاب ہوتا ہے کیونکہ اپنے نفس کے بخل سے بچایا جاتا ہے۔ نبی اکرمﷺ بخل سے خداتعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے کیونکہ بخل صرف ایک عادت نہیں بلکہ کردار کی ایک کمزوری بن جاتا ہے۔
سخاوت صرف چندہ، صدقہ یا کسی ضرورت مند کو رقم دینے تک محدود نہیں۔ کسی کو ہنر سکھانا، پڑھانا، پریشانی میں کسی کا ساتھ دینا، محض للہ کسی کی غلطی کو معاف کردینا، اپنے آرام میں سے کسی کے لیے وقت نکالنا بھی اور کسی کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اس کی مدد کرنا بھی طبیعت کی فیاضی کی نشاندہی کرتے ہیں۔اور یہ سب کام جو شخص کر سکتا ہے وہ اگر ایک طرف مزاج کا سخی اور انسانیت کا ہم درد ہو گا تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ پر کمال توکّل رکھنے والا ہو گا۔ اور اگر ان دونوں کو ایک کامل انسانی وجود میں دیکھنا ہو تو وہ وجود ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔آپؐ نے دنیا کو صرف یہ نہیں بتایا کہ مال کے مالک ہونے کے باوجود اس سے لاتعلق رہو اور اسے دل کھول کر خلقِ خدا پر خرچ کرو بلکہ یہ سکھایا کہ اس یقین سے خرچ کرو کہ تمام خزانوں کا اصل مالک خدا تعالیٰ ہے اور تم جس کو دے رہے ہو وہ خدا کی ہی مخلوق، اس لیے تم اس بے نیازی سے خرچو کہ دل سے بے اختیار آواز اٹھے کہ بدلے میں لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا، نہ صلہ چاہیے، نہ شکریہ۔مخلوق کے لیے انسان کا ہاتھ کھلا ہو اور خدا تعالیٰ کے سامنے دل کا کشکول۔
مزید پڑھیں: اداریہ: ہم کو نہ مل سکا تو فقط اِک سکونِ دل




