ہمارے نبی، پیارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم

تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں

معرور بن سُوید سے روایت ہے میں نے حضرت ابو ذرؓ کو دیکھا۔ انہوں نے ایک جوڑا پہن رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ویسا ہی پہنا ہوا تھا۔ میں نے اس بارہ میں ان سے سوال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں انہوں نے ایک شخص کو گالی دی اور اس کی ماں کا اسے طعنہ دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے اس بات کا ذکر کیا۔ نبی ﷺ نے (مجھے) فرمایا تم ایسے شخص ہو جس میں جاہلیت ہے۔ (یہ تمہارے خادم) تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے کاموں کا خیال رکھنے والے ہیں اور انہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو چاہئے کہ وہ جو خود کھائے اس میں سے اسے کھلائے اور جو خود پہنے اسے پہنائے ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر ذمہ داری نہ ڈالو اور اگر ان پر کوئی ایسا بوجھ ڈال دو تو اس پر ان کی مدد کرو۔

(مسلم کتاب الاَیمان باب اِطعام المملوک مما یاکل و الباسہ مما یلبس…3126)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button