الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
رسول اللہﷺ کی جانوروں پر شفقت
آنحضورﷺ کے جانوروں پر احسانات کے چند واقعات رسالہ ’’انصارالدین‘‘ جولائی اگست ۲۰۱۴ء میں مکرم طارق حیات صاحب کے قلم سےشامل اشاعت ہیں۔
ہمارے محسن، نبیٔ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کے وقت صورت حال یہ تھی ایک طرف تو انسان کو ہی انسان نہیں سمجھا جارہا تھا وہاں کسی جانور پر شفقت تو محض ایک نادر عمل تھا۔ مختلف معاشروں میں کسی بے زبان جانور کو باندھ کر اس پر چاندماری کرنا شجاعت اور مردانگی کا وصف شمار کیا جاتا تھا،اہل عرب زندہ جانور کے گوشت کا ٹکڑا کاٹ لینا برا نہ سمجھتے تھے۔ظلم کا ایک نقشہ یہ تھاکہ (ملک عرب کے)بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی آدمی مر جاتا تھاتو اس کی قبر کے پاس اس کے اونٹ کو باندھ دیتے تھے حتیٰ کہ وہ بھوک پیاس سے مرجاتا تھا۔ اور دوسری طرف دنیا میں جانوروں کی عبادت کرنے والے بھی موجود تھے مثلاً برصغیر ہندوستان میں جانوروں اور پودوں کی پرستش بھی کی جاتی تھی۔ ناگ اور بندر قبیلے کے اراکین کا خصوصی احترام کیا جاتا۔زیادہ خطرناک جانوروں بالخصوص کوبرا سانپ کی پرستش عام تھی۔ ہندوستان کے طول وعرض میں بیل کو آج بھی مقدس مانا جاتا ہے۔ عظیم دیوتا ؤںکے جانوروں والے رتھ بذات خود خصوصی معروض پرستش ہیں۔ چنانچہ برہما کی مقدس مرغابی، گروڈ، وشنو کا افسانوی عقاب یا گدھ، نندن یا شیو کا بیل، اس کی بیوی درگا کا شیر،گنیش کا چوہا اور دیوتائے محبت کام دیو کا طوطا اپنے سے منسوب دیوتاؤں کی تعظیم میں حصہ دار ہیں۔ خطرناک درندوں سے بچنے کے لیے انہیں پرستش کے ذریعہ خوش کیاگیا۔ مگر کچھ جانورو ں کی مفید خدمات نے انہیں احترام دلایا۔
آنحضورﷺ کو رحمۃٌللعالمین کاعظیم خطاب دے کر بھیجا گیا اس ناتے آپؐ کی رحمت کا دائرہ ذی روح، اشرف المخلوقات سے بڑھ کر جانوروں کو بھی سمیٹے ہوئے ہے بلکہ بہت زیادہ وسعت پذیرہے۔ چنانچہ آپؐ نے اپنی اُمّت کو انذار وتبشیر کے رنگ میں درس دیا کہ بنی اسرائیل کی ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس نے اس کو قید کردیا تھا۔ نہ توخود اس بلی کو کچھ کھانے پینے کودیااور نہ ہی اُسے آزادی دی کہ وہ زمین سے ہی کوئی چیز کھالیتی۔اس سبب سے وہ عورت آگ میں ڈالی گئی۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص سفر پر جارہا تھااس نے پیاس محسوس کی۔ کنواں دیکھ پانی پیا۔دیکھا کہ پاس ہی ایک کتا پیاس کی شدت کے باعث گیلی مٹی چاٹ رہاہے۔ وہ آدمی دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کرباہر آیا اور کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ ادا پسندآئی اوراسے بخش دیا۔ صحابہؓ نے پوچھاکہ اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں جانوروں سے حسن سلوک کا بھی اجرملے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں ہر ذی روح اور جاندار چیز کے ساتھ نیکی اور احسان کا بدلہ ملتا ہے۔
آپ ﷺ نے جانور کو لعنت ملامت کرنے اور اسے گالیاں دینے سے روکا۔پھر ایک دفعہ یہ ہدایت بھی فرمائی کہ جانور کوبطور آرام کرسی نہ استعمال کرو۔ بعد سفر جانور کو بھی آرام و راحت کے لیے کھلا چھوڑ دیا کرو۔
دنیا کے دیگر معاشروں کی طرح عرب بھی اپنے ملکیتی جانوروں پر نشان لگانے کے لیے ان کے جسم پر گرم لوہے سے داغ لگایا کرتے تھے۔ آپ ﷺنے بعض جانوروں کے چہرے وغیرہ پر داغ کا نشان دیکھاتوناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان جانوروں کو آگ کی اذیت سے بچانا چاہیے اور ان کے منہ اورنرم گوشت والے حصوں پر گرم لوہے سے نشان نہیں لگانا چاہیے۔ دُم کے قریب پیٹھ کی ہڈی پر نشان لگانے سے جانور کو کم سے کم تکلیف ہو تی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے جہاںشرف انسانیت کی خاطر کسی کے چہرے پر مارنے سے منع کیاوہاں جانوروں پر بھی رحم کرتے ہوئے اور ان کے چہرے کی عزت قائم کرتے ہوئے فرمایاکہ جانوروں کے چہرے پر نہ ماراکرو کیونکہ ہر چیز منہ سے تسبیح کرتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا اور ایک انصاری کے باغ میں لے گئے۔ وہاں پرایک اونٹ نبی کریم ؐکو دیکھ کر بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے پانی بہ نکلا۔حضورؐ اس کے پاس آئے اور اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا تو وہ پُرسکون ہوگیا۔نبی کریمؐ نے پوچھا: یہ کس کا اونٹ ہے ؟ ایک انصاری نوجوان آگے بڑھا اور کہا کہ میرا اونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اس جانور کے بارے میں تم اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کرتے جس کا خدا نے تجھے مالک بنایا ہے! اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے ۔
دور حاضر میںماہر حیاتیات John Ray (وفات ۱۷۰۵ء)نے بطور خاص بڑی جدوجہد اور دیگر سائنسدانوں کی برس ہا برس کی محنت و تحقیق کے بعد جانوروں میں آٹھ اقسام یعنی Eight Phylemsکا سراغ لگایا تھا جبکہ بانی اسلام حضرت محمد ﷺ پر چودہ سو سال قبل نازل ہونے والے قرآن کریم کی سورۃالزمر کی آیت 7میں یوں بیان ہے: ’’وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِنَ الْاَنعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ‘‘۔ (ترجمہ: اور اس نے تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے نازل کئے۔)
حضرت عبدالرحمٰنؓ کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ ایک سفر کے دوران ایک جگہ رُکے تو ایک شخص چڑیاکے گھونسلے سے انڈے نکال لایا۔ وہ چڑیاآکر حضورؐ اور صحابہؓ کے سر پر منڈلانے لگی۔آپؐ کی نظر اس ننھی چڑیا پر پڑی تو فرمایا کہ اس پرندے کو کس نے دُکھ دیا ہے؟ اس آدمی نے بتایا کہ مَیں نے اس کے انڈے اُٹھائے ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس کے انڈے واپس گھونسلے میں رکھ دو۔
آپؐ زمین پر رینگنے والی چیونٹیوںکے لیے بھی رحمت تھے۔ ایک دفعہ چیونٹیوں کی بل کو آتشزدگی کا شکار دیکھ کر فرمایا: مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا عذاب دینا ہرگزمناسب نہیں۔
نبی کریم ﷺنے جانوروں کو باندھ کر نشانہ بنانے سے بھی منع فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک دفعہ وہ قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے،جو ایک پرندے کوباندھ کر اس کے نشانے لے رہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو دیکھ کر وہ اِدھر اُدھر منتشر ہوگئے۔ آپؐ نے کہا کس نے پرندے کوباندھ کر نشانے بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ آنحضرت ﷺنے ان لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو اس طرح جانداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓکی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شکاری پرندوںبلکہ چیونٹی، شہد کی مکھی اور ہدہد کو مارنے سے بھی روکاہے۔دراصل پیغام یہ دیا گیا ہے کہ بلامقصد کسی جانورکی جان لینا منع ہے نیز بعض پرندوں کا حسن ماحول میں خوبصورتی کا موجب ہوا کرتا ہے اور یہ بھی کہ ایسا کرنے سے قدرتی نظام میں خلل آنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔
انہی اخلاق عالیہ کا اعادہ اس زمانہ کے امام حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بھی فرمایا جب ایک دفعہ آپؑ نے گھر میں کھڑکیاں دروازے بند کرکے پرندے پکڑنے والے برخوردار کو منع فرمایا۔ اور طوطا شکار کرکے لانے والے بچے کو یہ کہہ کر حسین نصیحت فرمائی کہ ہر پرندہ شکار کھیلنے اور بطور خوراک استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔
آنحضورﷺ کو جانور کے جسم کے اعضاء پر کسی بھی قسم کی تکلیف گوارانہ تھی حتٰی کہ آپ کسی جانور کو گردن سے پکڑ کر گھسیٹنے سے بھی بے چین ہوجایا کرتے تھے۔ حتٰی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر (ذی روح) چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے۔ جب تم کوئی جانور ذبح کرو تو احسان کا دامن نہ چھوڑو۔اورذبح کرنے میں احسان یہ ہے کہ چھری تیز کرلو اورذبح ہونے والے جانور کو اس کے ذریعے آرام پہنچائو۔(یعنی کند چھری کی وجہ سے جانور کی جان دیر سے نکلے گی اور اُسے تکلیف ہوگی۔)
عیسائی راہبہ پروفیسر کیرن آرمسٹرانگ نے نبی کریم ﷺ کی جانوروں سے محبت کے ذکر میںلکھا: مغرب میں صدیوں تک ہم محمدؐ کو ناپسندیدہ شخصیت خیال کرتے رہے ہیں۔ ایک ظالم جنگجو اور ایک بےرحم سیاستدان۔ لیکن آپؐ ایک عظیم ہمدرد اور دوسروں کا احساس رکھنے والے انسان تھے۔آپؐ جانوروں سے بھی محبت کرتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر آپؐ نے ایک بلی کو اپنے کپڑے پر سوئے ہوئے پایا تو اسے وہاں سے اُٹھانا پسند نہیں کیا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی معاشرے کا ایک امتحان جانوروں کے ساتھ لوگوں کا رویہ ہوتا ہے۔ تمام مذاہب محبت کے رویے کی حوصلہ افزائی کرتے اور عالم قدرت کی عزت کرتے ہیں۔ محمدﷺ مسلمانوں کو یہی سبق دینا چاہتے تھے۔ جاہلیت میں عرب جانوروں سے بہت برا سلوک کرتے تھے۔ وہ زندہ جانوروں سے کھانے کے لیے گوشت کاٹ لینے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے۔ وہ اونٹوں کی گردنوں میں تکلیف دہ حلقے ڈال دیتے تھے۔ محمدﷺ نے جانوروں کوداغنے کے ظالمانہ طریق اور جانوروں کی لڑائیوں سے روک دیا۔
بعض مسلمان محققین نے جانوروں کے حوالے سے گرانقدر تحقیق کی توفیق پائی ہے۔ مثلاً عباسی دَور میںبصرہ (عراق) میں جنم لینے والے مسلم نابغہ الجاحظؔ (ولادت ۷۷۶ء وفات ۸۶۹ء) نے بعد تحقیقات ومشاہدات ’’کتاب الحیوان‘‘ تحریر کی۔ اس مسلم سکالر نے Food Chainکا نظریہ درج کیا، نیز Animal Evolution and Natural Selection نیز Environmental determinism کے موضوعات پر بحث کی ہوئی ہے۔ الغرض یہ سات جلدوں پرمشتمل کتاب جانوروں کی ۳۵۰؍اقسام کے متعلق تحقیقات، نظم ونثر اور محاورات سے بھرپور ہے جسے انسائیکلو پیڈیا کہاجاسکتا ہے۔
اسی طرح اہل مصر میں سے علامہ کمال الدین محمد بن موسیٰ الدمیری (ولادت:۱۳۴۴ء۔وفات۱۴۰۵ء) نے ’’کتاب الحیوان الکبریٰ‘‘تصنیف فرمائی جس میں حروف تہجی کے اعتبار سے ۹۳۱ حیوانات کا ذکر کیا جن کے اسماء مصنف کو قرآن کریم، احادیث اور اہل عرب کی شاعری و محاورات میں میسر آئے۔ اس کتاب میں پانچ سو ادباء اور دو سو شعراء کے کلام سے استفادہ کیا گیاہے۔ہر مذکور جانور کے نام کے درست ہجے ، تلفظ اور معانی کا بیان ہے۔ الغرض جانوروں کے متعلق علوم اور مشاہدات سے پُر یہ کتاب متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور اہل اسلام کے جانوروں پر شفقت واحسانات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس زمانہ کے حَکَم وعَدَل حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام سے جب ایک احمدی سائنسدان Dr Clement Lindley Wragge نے ۱۸؍مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں حاضر ہوکر حیوانات کے متعلق علمی دنیا میں گردش کرنے والے متفرق سوالات پیش کیے۔ سوالات یہ تھے:
٭…جب خدا محبت ہے ۔ عدل ہے ۔انصاف ہے ۔تو کیا وجہ کہ نظام دنیا میں اس نے مخلوق میں سے بعض میں ایسی کیفیت اور قویٰ رکھ دیے ہیں کہ وہ دوسروں کو کھا جائیں حالانکہ مخلوق ہونے میں دونوں برابر ہیں؟
٭…خدا نے یہ خاصہ کیوں رکھ د یا کہ ادنیٰ اعلیٰ کا خادم ہو یا اس کی خوراک بنے اور اس کے سامنے ذلیل رہے ؟
٭…کیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ حیوانات کو بھی آئندہ عالم میں کوئی بدلہ دیا جاوے گا؟
٭…توپھر اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ وہ حیوانات جن کو ہم مارتے ہیں ان کومُردہ نہیں بلکہ زندہ یقین کریں؟
ان سوالات کے پُرمعارف جواب ’’ملفوظات جلد پنجم‘‘ (پانچ جلدوں والے ایڈیشن) میں پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
………٭………٭………٭………
حضرت کعب بن زہیرؓ اور قصیدہ بردہ
دربار نبوی ﷺ کے شاعر حضرت کعب بن زہیر ؓ کے بارے میں ایک مضمون لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ (جلد۲۰۱۴ء) میں محترم صوفی محمد اسحٰق صاحب کی کتاب ’’عربی ادب کے شہ پارے‘‘سے منقول ہے۔
حضرت کعبؓ کے والد بھی شاعر تھے اور بھائی بھی بلکہ یہ کہنا بعید از حقیقت نہ ہوگا کہ یہ سارا گھرانہ ہی شاعروں کا تھا۔ چنانچہ اُن کا ذکر بھی کتب سیئرو تواریخ میں موجود ہے۔کعبؓ کے والد زمانہ جاہلیت ہی میں فوت ہوگئے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے بجیر کو بتلادیاتھاکہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا زمانہ قریب ہے لیکن پھر بھی یہ دو نوں بھائی آنحضرت ﷺ کے قیامِ مکہ کے دوران اور بعد میں بھی مسلمان نہ ہوئے بلکہ جب فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺنے حکومت کے باغیوں بالخصوص باغی شعراء کے قتل کا اعلان کردیا تو پھر ان دونوں کو فکر لاحق ہوئی اور یہ روپوش ہوگئے۔
آخر ایک دن دونوں نے باہم مشورہ کیا اور بجیر نے اپنے بھائی کعبؓ سے کہا کہ تُو ذرا ٹھہر میں اس آدمی کا (یعنی آنحضرت ﷺ)کا پتہ کر کے آتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کس وجہ سے لوگ اُس کے گرویدہ ہورہے ہیں۔ چنانچہ وہ مدینہ آیا اور آنحضرت ﷺکا کلام سنتے ہی مسلمان ہو گیا اور پھر کعب کو لکھا کہ آپؐ کی دعوت سچی ہے اور میں ایمان لے آیا ہوں، تُو بھی آکر اسلام قبول کر لے اور خط میں شعر بھی لکھے جن کا ترجمہ یہ تھا: ’’…کون میری طرف سے کعبؓ کو یہ پیغام پہنچائے گا کہ کیا تُو کلمہ شہادت (جس پر تو مجھے ملامت کرتا ہے)پڑھنا چاہتا ہے یا نہیں؟ عقل مندی اسے قبول کرنے میں ہے اگر تمہارے بچاؤ کی کوئی صورت ہے تو تُولات و عزیٰ کو چھوڑ کر صرف خدائے واحد کی طرف لَوٹ آ۔ہمارے باپ ابوسلمیٰ (زہیر کی کنیت) کا دین بالکل لایعنی چیز ہے اس لیے اب وہ مجھ پر حرام ہے۔‘‘
ان ا شعار کے ساتھ بجیر نے کعب کو لکھا کہ تمہاراخون بھی مباح قرار دیا جاچکا ہے اس لیے تم جلد یہاں آ کرتوبہ کر لو کیونکہ آنحضرت ﷺکسی توبہ کرنے والے کی توبہ ردّ نہیں کرتے بلکہ اسے معاف کر دیتے ہیں اور اگر تمہیں یہ صورت حال منظور نہ ہو تو پھر اپنے بچاؤ کی کوئی اَور صورت کرلو۔ بجیر کی تحریر دیکھتے ہی کعب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور زمین باوجود اپنی فراخی کے اُسے تنگ نظر آنے لگی۔ اُس نے بہت سوچا لیکن سوائے اسلام قبول کرنے کے اُسے بچاؤ کی کوئی اَور صورت نظر نہ آئی۔ اس لیے وہ ناچار مدینہ کی طرف روانہ ہوپڑا۔ مدینہ پہنچ کر کعب جہینہ قبیلہ کے ایک فرد کے ہاں قیام پذیر ہوا اور اُسے اپنی کہانی سنائی۔ وہ شخص دوسرے دن صبح کی نماز میں کعب کو اپنے ساتھ لے گیا اور جب حضورﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اس جہینی نے کعب سے کہا ’’آگے بڑھ کر رسول مقبولؐ سے امان طلب کرو‘‘ کعبؓ فوراًحضورﷺ کے روبرو جا بیٹھے اور اپنا ہاتھ حضور ﷺ کے دست مبارک پر رکھ کر عرض کی کہ ‘‘یارسول اللہ ﷺ!کعب بن زہیر آپؐ کی خدمت میں امان مانگنے آیا ہے اگر مَیں اُس کو لے آؤں تو حضورؐ اس کی توبہ قبول فرمالیں گے؟ آنحضرتﷺتو مجسم عفو و رحمت تھے۔ آپؐ نے فرمایا:ہاں۔ اس پر کعب کہنے لگا: یا رسول اللہ! مَیں ہی کعب بن زہیر ہوں۔ اَشْھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُولُ اللّٰہِ۔
پھر کعب نے آنحضرت ﷺکے سامنے اپنا وہ قصیدہ پڑھا جو اُس نے اپنی معافی سے قبل ہی تیار کر رکھا تھا اور جواسلامی اور عربی ادب (دونوں ) کی تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے اس کے چند اشعار کا ترجمہ یوں ہے: مجھے بتادیا گیا کہ رسولؐ خدا نے مجھے دھمکی دی ہے حالانکہ رسول خدا سے توعفو کی امید کی جاتی ہے اور مَیں رسولِ خدا کے پاس عذر خواہ ہو کر آیا ہوں اور رسولِ خدا کی شان یہ ہے کہ وہ عذر قبول فرماتے ہیں۔مجھے مہلت عطاہو کہ مَیں اپنا حال بیان کروں۔ وہ خدا جس نے اَور علوم کے علاوہ آپؐ کو قرآن کریم جیسا عطیہ دیا ہے جو وعظ و نصیحت سے معمور ہے وہ میری عفو کے لیے راہنمائی کرے۔ چغل خوروں اور غمازوں کی باتوں پر اعتبار کرکے مجھ سے مؤاخذہ نہ فرمائیے کیونکہ انہوں نے بےحقیقت باتیں کی ہیں۔میں ان گناہوں کا ہرگز مرتکب نہیں ہوا جو وہ میری طرف منسوب کرتے ہیں۔
جب کعب اپنا قصیدہ سناتے سناتے اس شعر پر پہنچا کہ
اِنَّ الرَّسُوْلَ لَسَیْفٌ یُسْتَضَاءُ بِہٖ
مُھَنَّدٌ مِنْ سُیُوْفِ الھِنْدِ مَسْلُوْلَ
یعنی رسول خدا ایک ایسی چمکتی تلوار ہیں کہ جس سے راہِ حق کے لیے روشنی طلب کی جاتی ہے اور ایک عمدہ برہنہ شمشیر ہندی ہیں۔
تو آنحضرت ﷺنے بطور ’صلہ‘ کعب کی طرف اپنی ردائے مبارک پھینکتے ہوئے اس شعر کی اصلاح یوں فرمائی کہ ’’سُیُوْفِ الھِنْدِ مَسْلُوْلَ‘‘ مسلول کی بجائے ’’سُیُوْفِ اللّٰہِ مَسْلُوْلَ‘‘کہو۔چنانچہ مطبوعہ قصائد میں یہ شعر اسی طرح مرقوم چلا آرہا ہے۔
کعب کو جو ردائے مبارک آنحضرت ؐ نے عطا فرمائی تھی اس چادر کے باعث ہی اس قصیدہ کا نام ’’قصیدۃالبردَۃِ‘‘ مشہور ہوگیا یعنی ’’قصیدہ چادر‘‘۔ یہ چادر تا عمر اس کے پاس رہی۔ امیر معاویہ نے کعب سے دس ہزار درہم کے عوض یہ چادر خریدنا چاہی مگر کعب نے کہا کہ مَیں اپنی زندگی میں کسی کو اس چادر کے لیے اپنے آپ پر ترجیح نہیں دوں گا۔
کعب کی موت کے بعد امیر معاویہ نے اس چادر کو اس کے وارثوں سے بیس ہزار در ہم کے عوض خرید لیا جسے خلفائے بنی امیہ یکے بعد دیگرے عیدین کے موقع پر اوڑھتے رہے۔ بعد ازاں یہ چادر بنو عباس کے قبضے میں آئی اور اُس کے بعد سلاطین آل عثمانؓ کے توشہ خانے میں پہنچی اور اغلباً اب یہ ترکی میں موجود ہے لیکن بعض کہتے ہیں کہ تاتاریوں کے حملے کے وقت ضائع ہو گئی تھی۔
بعض لوگ ناواقفیت کے باعث ’’بوصیری‘‘ کے قصیدہ کو ’’قصیدہ بردہ ‘‘کانام دیتے ہیں لیکن اس کا نام ’’قصیدۃالبرأۃ‘‘ ہے جس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ بوصیری کو فالج ہو گیا تھا اور اطباء و حکماء اُس کا علاج کرنے میں ناکام رہے تھے اس پر علامہ موصوف نے اپنا یہ مشہور قصیدہ لکھا جس کے بارے میں ادباء و محققین کی متفقہ رائے ہے کہ کعب کے قصیدہ کے بعد بوصیری کا قصیدہ آنحضرتﷺ کی بہترین مدح ہے۔ جب بوصیری نے آنحضرتؐ کے عشق میں ڈوب کر علیل ہونے کے باوجود یہ قصیدہ کہا تو خواب میں انہیں آنحضرت ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔حضورؐ نے خوش ہو کر آپ کے جسم پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ پھر جب بیدار ہوئے تو اپنے آپ کو کاملًاصحت یاب پایا جس پر انہوں نے اپنے اس قصیدے کا نام ’’قصیدۃالبرأۃ‘‘ یعنی ’’قصیدہ شفاء‘‘ رکھ دیا اور بعض لوگوں نے اس پس منظر سے ناآگہی کے باعث ’ء‘ کو ’د‘ سمجھ کر اسے ہی قصیدہ بردہ سمجھ لیا۔
فن شعر کے اعتبار سے کعبؓ کا مقام بہت بلند ہے لیکن آپ کے اشعار میں غیر معروف الفاظ اور پیچیدہ تراکیب بہت آتی ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو یہ یقیناً اپنے والد زہیر کے ہم پلّہ سمجھے جاتے لیکن کعب کے لیے یہ فخر کیا کم ہے کہ حطیہ جیسے مشہور معروف شاعر نے ان سے یہ درخواست کی کہ اپنے شعروں میں اس کا ذکر کریں۔ جسے کعب نے قبول کر لیا اور پھر کئی اشعار میں ذکر کیا۔
حضرت کعبؓ نے ۹ہجری میں اسلام قبول کیا اور امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔
………٭………٭………٭………
رسول اللہﷺ کا عظیم حوصلہ
آنحضورﷺ نے جب دعویٔ نبوت فرمایا تو آپؐ کو کذاب، جادوگر، دیوانہ اور نہ جانے کیا کیا نام دیا گیا اور مخالفت میں شدید جسمانی اذیتیں دینے کا لامتناہی سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ لیکن ایسے میں بھی آپؐ اپنے مولا سے یہی عرض کرتے: اے اللہ! میری قوم کو بخش دے کہ یہ سب کچھ لاعلمی میں کررہے ہیں۔ (بخاری)
رسول اللہﷺ کے عظیم الشان حوصلے اور فقیدالمثال قوّت برداشت کی چند جھلکیاں روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۰؍جنوری۲۰۱۴ء میں مکرم عبدالقدیر قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔
آنحضورﷺ اپنے مقام سے آشنا ہونے کے باوجود غیرقوموں کی دلداری کا خاص خیال رکھتے۔ چنانچہ جب کسی شخص نے آپؐ کو خَیْرُالْبَرِیَّۃ (مخلوق میں سے بہترین وجود) کہا تو آپؐ نے فوراً فرمایا: ذَاکَ اِبْرَاہِیْم (وہ تو ابراہیمؑ تھے)۔ اسی طرح ایک مسلمان نے کسی یہودی کو اُس وقت تھپڑ مار دیا جب اُس نے خریدوفروخت کے دوران یوں قسم کھائی کہ وہ جس نے موسیٰؑ کو سب انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ یہودی نے آنحضورﷺ سے شکایت کی تو آپؐ نے واقعہ معلوم ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیااور فرمایا: ’’اللہ کے انبیاء کے مابین فضیلتوں کی بات نہ کیا کرو‘‘۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا: ’’مجھے موسیٰؑ پر فضیلت مت دو۔‘‘ (مسلم)
ایک موقع پر آپؐ نے مسلمانوں کو یہ کہنے سے منع فرمایا کہ آنحضرتﷺ حضرت یونسؑ سے افضل ہیں۔ (بخاری)
رسول اللہﷺ نے کبھی کسی سے اپنی اہانت یا اذیّت کا بدلہ نہیں لیا بلکہ اپنا معاملہ ہمیشہ خدا پر چھوڑ دیا۔ چنانچہ ایک بار جب آپؐ خانہ کعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے تو ابوجہل نے کسی سے ایک ذبح شدہ اونٹنی کی اوجھڑی منگوائی اور اُس وقت آپؐ کی پشت پر رکھوادی جب آپؐ سجدہ کی حالت میں تھے۔ جب آپؐ اُس کے بوجھ تلے سر نہ اٹھاسکے تو بدبخت قہقہے لگانے اور ٹھٹھہ اڑانے لگے۔ ایسے میں حضرت فاطمہؓ کو خبر ہوئی تو وہ آئیں اور آپؐ کی پشت سے اس اوجھڑی کو اُتارا۔ آپؐ نے نماز ختم کرکے صرف اپنے ربّ سے یہ عرض کیا کہ اے اللہ! ان قریش سے تُو ہی نپٹ سکتا ہے۔ اے اللہ! تُو ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ اور ولید اور امیہ اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت کر اور ان کا مواخذہ کر۔ چنانچہ یہ سب غزوہ بدر میں قتل ہوکر ایک کنوئیں میں ڈال دیے گئے۔ (بخاری)
آنحضورﷺ کی بددعا کے نتیجے میں جب اہل مکہ کو شدید قحط نے جکڑ لیا اور وہ چمڑا، ہڈیاں وغیرہ کھانے پر مجبور ہوگئے تو ایسے میں اپنے دکھوں کا مداوا، اُنہیں آپؐ کی ذات میں نظر آیا۔ چنانچہ ابوسفیان نے خدمتِ رسالتؐ میں حاضر ہوکر باران رحمت کے لیے دعا کی درخواست کی۔ تب آپؐ نے دعا کی تو سات دن مسلسل بارش ہوتی رہی اور اہل مکہ کی خشک سالی ختم ہوگئی۔
ایک غزوے سے واپسی پر دوپہر کے وقت جب سارا لشکر درختوں کے سائے تلے آرام کررہا تھا تو اچانک صحابہؓ نے آنحضورﷺ کی آواز سنی تو وہ تیزی سے اُدھر لپکے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدوی آپؐ کے پاس بیٹھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مَیں سو رہا تھا کہ یہ شخص آیا اور اس نے میری تلوار درخت سے اتاری اور میرے پر سونت لی اور مجھے کہنے لگا کہ تمہیں اب میرے ہاتھ سے کون بچاسکتا ہے؟ مَیں نے اللہ کا نام لیا تو تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ پھر مَیں نے تلوار پکڑکر پوچھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ آپؐ ہی مہربانی فرمائیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ ایک ہے اور مَیں اللہ کا رسول ہوں۔ اُس نے کہا: نہیں۔ لیکن مَیں عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپؐ کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لوں گا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اسے جانے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہﷺ ایک گدھے پر سوار ہوکر حضرت سعد بن عبادہ ؓکی عیادت کے لیے تشریف لے جارہے تھے۔ آپؐ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زیدؓ بیٹھے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ سرِِ راہ ایک مجلس کے پاس سے ہمارا گزر ہوا جس میں عبداللہ بن سلول بھی تھا جو ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی اس مجلس میں تھے۔ جب گدھے کی گرد اُڑی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک اپنی چادر سے ڈھانپ کر کہا: ہم پر گرد نہ اُڑاؤ۔ …نبی کریمﷺ سواری سے نیچے اُترے۔ السلام علیکم کہا اور انہیں اللہ کی طرف بلایا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔ عبداللہ بن ابی کہنے لگا: اے شخص! تم بڑی اچھی باتیں کرتے ہو لیکن ہماری مجالس میں آکر ہمیں تکلیف کیوں دیتے ہو، اپنے ٹھکانے پر واپس جاؤ اور جو تمہارے پاس آئے اُسے تبلیغ کرو۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ ضرور ہماری مجالس میں تشریف لاکر ہمیں یہ باتیں سنایا کریں کیونکہ ہمیں یہ باتیں سننا اچھا لگتا ہے۔ اس پر مسلمان، یہودی اور مشرک باہم جھگڑنے لگے۔ رسول اللہﷺ کے باربار منع کرنے پر وہ رُک گئے تو آپؐ اپنی سواری پر روانہ ہوگئے۔
عبداللہ بن ابی نے ہر نازک موقع پر انتشار پیدا کرنا چاہا اور آنحضورﷺ کی ذات کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں رہا۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوے میں مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے کسی کی کمر پر ہاتھ مارا تو اُس انصاری نے انصار کو اپنی مدد کے لیے پکارا۔ مہاجر نے بھی مہاجرین کو آواز دی۔ آنحضورﷺ نے یہ آوازیں سنیں تو پوچھا کہ یہ جاہلیت کی طرح کیوں پکارا جارہا ہے؟ جب وجہ بتائی گئی تو آپؐ کے سمجھانے پر بات ختم ہوگئی۔ لیکن عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ ہمیں مدینہ واپس جا لینے دو تو وہاں کا معزز ترین شخص وہاں کے بدترین شخص کو نکال باہر کرے گا۔ یہ سن کر ایک صحابیؓ نے آنحضورﷺ سے عبداللہ بن ابی کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: مَیں لوگوں کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ کہیں کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کررہا ہے۔
ان زیادتیوں کے باوجود جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اُس کے بیٹے کی درخواست پر آنحضورﷺ نے نہ صرف اُس کا جنازہ پڑھایا بلکہ کفن کے لیے اپنا قمیض بھی عطا فرمایا۔
ایک بار کچھ یہود نے آپؐ کو کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ یعنی تجھ پر ہلاکت ہو۔ حضرت عائشہؓ نے یہ بات سنی تو فرمایا: تم پر لعنت ہو، تم پر ہلاکت ہو۔ آنحضورﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔ وہ کہنے لگیں کہ آپؐ نے اُن کی بات نہیں سنی؟ فرمایا: مَیں نے انہیں عَلَیْکُمْ کہا ہے یعنی جو تم کہہ رہے ہو وہ تم پر ہو۔
ایک بار آپؐ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپؐ کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ یہ یہودی کا جنازہ ہے۔ فرمایا: کیا یہودی انسان نہیں ہیں!
ایک یہودی لڑکا نبی کریمﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہوا تو آپؐ اُس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اُسے فرمایا کہ اسلام قبول کرلے۔ اُس نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ والد نے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لو۔ چنانچہ اُس لڑکے نے اسلام قبول کرلیا۔ جب آنحضورﷺ اُس کے پاس سے اُٹھے تو فرمایا: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اسے آگ سے بچالیا ہے۔
ایک دن ایک دیہاتی نے آنحضورﷺ سے عرض کیا کہ مَیں نے فلاں قبیلے کو تبلیغ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اُن پر غیرمعمولی فضل نازل کرے گا۔ وہ مسلمان تو ہوگئے لیکن ابتلا یہ آیا کہ بارشیں نہ ہونے سے قحط ہونے لگا ہے۔ مجھے اُن کے ارتداد کا ڈر ہے۔ آپؐ اُن کی دلداری کے لیے کچھ مدد فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا میرے پاس تو کچھ نہیں ہے جو مَیں اُن کی طرف بھجواؤں۔ ایک مالدار یہودی زید بن سعنہ یہ گفتگو سُن رہا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ مجھ سے کھجوریں لے کر اُنہیں بھجوادیں اور اتنی مدت میں مجھے کھجوریں واپس کردیں۔ چنانچہ آپؐ نے معاہدہ کرلیا۔ لیکن ابھی مقررہ مدّت میں دو تین دن باقی تھے کہ زید نے آکر بڑے غصّے سے کہا کہ اے محمد! میرا حق مجھے کیوں نہیں دیتے؟ خدا کی قسم! تم بنوعبدالمطلب قرض کی ادائیگی کے معاملے میں بہت بُرے ہو اور تمہاری اس عادت کو مَیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ حضرت عمرؓ اُس کی گستاخانہ گفتگو کو برداشت نہ کرسکے اور سخت جواب دیا۔ اس پر آنحضورﷺ نے حضرت عمرؓ کو روکا اور فرمایا کہ اگر کچھ کہنا ہی ہے تو مجھے حُسنِ ادائیگی کے لیے کہو اور اُسے حُسنِ تقاضا کے لیے۔ اب اسے لے جاؤ اور بیس صاع کھجوریں اس کے حق سے زیادہ دے دو۔ جب حضرت عمرؓ نے اُس کو زاید کھجوریں دیں تو اُس نے پوچھا: یہ کس لیے؟ حضرت عمرؓ کہنے لگے کہ جو سختی مَیں نے کی تھی اُس کے بدلے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ دی ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ دراصل مَیں یہود کا عالم ہوں۔ جتنی بھی علاماتِ نبوت تھیں اُن کا مَیں آپؐ کی ذات میں مشاہدہ کرچکا تھا۔ صرف یہ علامت رہتی تھی کہ اس نبیؐ کا حلم اس کے غصے پر غالب رہے گا۔ اس کی آزمائش مَیں نے آج کرلی ہے۔ عمر! گواہ رہنا مَیں مسلمان ہوتا ہوں۔ پھر آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر زیدبن سعنہ نے اسلام قبول کرلیا۔
ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ایسا بغض آنحضورﷺ کی ذات سے رکھتا تھا کہ فتح کے بعد مکہ چھوڑ کر چلاگیا۔ اُس کے مظالم کی وجہ سے اُس کے قتل کرنے کا حکم جاری ہوچکا تھا کہ اُس کی بیوی آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اُس کی معافی کے لیے یوں درخواست گزار ہوئی کہ کیا یہ بہتر ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں ذلیل ہوکر رہے یا یہ بہتر ہے کہ آپؐ کے ملک میں آپؐ کی رعایا بن رہے اور آپؐ کا عفو اُس کے سر کو نیچا رکھے۔ آپؐ کو یہ بات پسند آئی اور آپؐ نے عکرمہ کو معاف کردیا۔ چنانچہ عکرمہ کی بیوی اُس کی تلاش میں نکلی اور اُسے حبشہ جانے کے لیے ایک کشتی میں بیٹھتے ہوئے پایا۔ بیوی نے اُسے ساری بات بتائی تو عکرمہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ اُس کے مظالم کیسے معاف کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن پھر بیوی کے ساتھ آنحضورﷺ کے حضور چلا آیا اور عرض کیا کہ کیا آپؐ نے مجھے معاف فرمادیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہم نے تمہیں سچے دل سے معاف کردیا ہے۔ اُس نے عرض کی: کیا مَیں کافر ہونے کی حالت میں مکہ میں رہ سکتا ہوں؟ فرمایا: ہاں۔اس پر اُس نے کلمہ پڑھ لیا اور بعد میں حضرت عمرؓ کے دَور میں میدان جہاد میں شہادت پائی۔
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک بدوی نے آنحضورﷺ کی چادر کو اس زور سے کھینچا کہ آپؐ کی گردن پر نشان پڑگئے۔ پھر وہ بولا کہ اے محمد! اللہ کے مال میں سے میرے دو اونٹوں پر لاد دو کیونکہ آپ اپنے یا اپنے والد کے مال میں سے مجھے کچھ نہیں دیں گے۔ پہلے تو نبی کریمﷺ خاموش رہے اور پھر فرمایا: مال تو اللہ ہی کا ہے مگر مَیں اُس کا بندہ ہوں۔ جو تکلیف تم نے پہنچائی ہے اس کا بدلہ تم سے لیا جائے گا۔ وہ بولا: نہیں، کیونکہ آپؐ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔ اس پر آنحضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے ایک اونٹ پر جَو اور دوسرے پر کھجور لاد دو۔
سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے فرماتے ہیں:
’’مَیں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لیے خدانے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین وآخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔‘‘
(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد۲۲صفحہ۱۱۸)
………٭………٭………٭………
آنحضورﷺ کا مصائب میں صبر
صبر و استقامت کے حوالے آنحضورﷺ کی سیرت روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۴؍جنوری۲۰۱۴ء میں مکرم نصیراحمد شریف صاحب کے قلم سے پیش کی گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی قبر پر رو رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ آپؐ کو پہچانتی نہ تھی اس لیے کہنے لگی کہ آپ کو میری مصیبت کی کیا پرواہ۔ حضورؐ جب چلے گئے تو اُس عورت کو بتایا گیا کہ یہ رسول اللہﷺ تھے (جن کے کئی بچے وفات پاچکے ہیں)۔ اس پر وہ پریشانی میں آپؐ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ آپؐ کو پہچان نہ پائی تھی۔ آپؐ نے فرمایاکہ صبر تو وہی ہے جو صدمے کی ابتداء میں ہو۔
فقروفاقہ بہت بڑا ابتلا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے فقروفاقہ لوگوں کے سامنے بیان کیا تو اُس کا فقروفاقہ دُور نہ ہوگا اور جس نے اسے اللہ تعالیٰ کے آگے ہی بیان کیا تو جلد یا بدیر اللہ تعالیٰ اُسے رزق عطا فرمادے گا۔
آنحضورﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدا کی راہ میں اتنا ڈرایا گیا کہ کسی اَور کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھے خدا کی راہ میں اتنی اذیتیں دی گئیں کہ کسی اَور کو اتنی نہیں دی گئیں۔ مجھ پر تیس راتیں اور تیس دن اس طرح گزرے کہ میرے اور بلال کے لیے اتنا کھانا نہیں تھا جسے کوئی جاندار کھائے سوائے اس تھوڑی سی شے کے جسے بلال کی بغل چھپالیتی تھی۔
آنحضورﷺ نے جسمانی بیماری کو خطائیں معاف ہوجانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ آپؐ کے سامنے ایک بار کسی نے بخار کو گالی دی تو آپؐ نے فرمایا کہ اسے گالی نہ دو، بےشک یہ گناہوں کو اس طرح صاف کردیتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔
آنحضورﷺ طبعاً بہت صابر و شاکر تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی تھیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کی آخری بیماری میں آپؐ کی تکلیف سے زیادہ کسی کی تکلیف نہیں دیکھی۔
رسول کریمﷺ کی آخری بیماری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ خدمتِ رسالت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو ہاتھ لگاکر عرض کیا کہ آپؐ کو تو بخار ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مجھ اکیلے کو تمہارے دو آدمیوں کے برابر سخت بخار کی تکلیف ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ پھر آپؐ کو اجر بھی دُھرا ملے گا؟ فرمایا: ہاں۔ پھر فرمانے لگے کہ ایک مسلمان کو جب تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی خطائیں اس طرح معاف کردیتا ہے جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔
آنحضورﷺ نے اپنے گیارہ بچوں کی وفات کا صدمہ یوں برداشت کیا کہ خود کفن دفن میں شامل ہوئے، آنکھیں نم تھیں لیکن کوئی شکوہ شکایت زباں پر نہیں تھی۔ ایک بیٹے کی پیدائش پر آپؐ نے اسے اپنے باپ ابراہیم کا نام دیا۔ یہ بچہ پرورش کے لیے ایک لوہار ابو سیف کی بیوی کے سپرد کیا۔ آپؐ کبھی کبھی اُس کے ہاں جاتے اور بچے کو منگواکر گلے لگاتے، پیار کرتے اور دعائیں دیتے۔ جب ابراہیم پر جان کندنی کی حالت طاری ہوئی تو آپؐ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آپؐ نے فرمایا: آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل غمگین ہے مگر ہم وہی کہیں گے کہ جس پر ہمارا ربّ راضی ہے۔ اے ابراہیم! ہم تیرے جانے کی وجہ سے غمگین ہیں۔
آنحضورﷺ نے زندگی کے آغاز سے ہی اپنوں کی جدائی پر بےانتہا صبر کا نمونہ دکھایا۔ والدہ کی وفات، دادا کی وفات، پرورش کرنے والے چچا کی وفات، عزیز بیوی خدیجہؓ کی جدائی۔ حضرت خدیجہؓ کے بطن سے آپؐ کی نرینہ اولاد قاسمؓ، طاہرؓ اور طیب ؓکمسنی میں وفات پاگئے۔ ایک روایت کے مطابق گیارہ بچوں کا صدمہ آپؐ نے برداشت کیا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول کریمﷺ کی دو بیٹیوں کے جنازوں میں شرکت کا موقع ملا۔ آپؐ قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
جب حضورﷺ کی صاحبزادی رقیہؓ فوت ہوئیں تو عورتیں رونے لگیں۔ تب آپؐ نے عورتوں کو نصیحت فرمائی کہ شیطانی آوازوں (یعنی چیخ و پکار) سے اجتناب کرو۔ پھر فرمایا کہ بےشک ایسے صدمے میں آنکھ کا اشکبار ہوجانا اور دل کا غمگین ہونا تو اللہ کی طرف سے ہے جو دل کی نرمی اور طبعی محبت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ہاتھ اور زبان سے ماتم شیطانی فعل ہے۔
رسول اللہﷺ کی ایک بیٹی حضرت زینبؓ جب ہجرت کرکے مدینہ روانہ ہونے لگیں تو ایک بدبخت ھبار بن اسود نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر آپؓ کے اونٹ پر نیزے سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں آپؓ کھڑے اونٹ سے گرگئیں اور شدید اندرونی چوٹ کی وجہ سے چند سال بیمار رہ کر وفات پاگئیں۔ اُن کی وفات پر آنحضورﷺ نے افسردگی سے فرمایا: یہ میری سب سے اچھی بچی تھی جو میری محبت میں ستائی گئی۔
سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اہل اللہ کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔ جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضاوقدر اس طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں۔
تبلیغ سے روکنے کے لیے رسول اللہﷺ کو ازحد اذیت دی گئی۔ ہر حربہ اپنایا گیا۔ حتّٰی کہ بیٹیوں کو طلاق تک دلوائی گئی۔ چنانچہ ابولہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے حضرت رقیہؓ اور حضرت امّ کلثومؓ کا نکاح بالترتیب ہوچکا تھا جنہیں اُن دونوں نے طلاق دے دی۔
تبلیغ کے جرم میں ایک بدبخت نے آنحضورﷺ کے گلے کی چادر کو بل دے کر آپؐ کا گلا گھونٹنا شروع کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے آخر اُس کو پرے ہٹایا اور روتے ہوئے کہا کہ تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے۔ اسی طرح خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے سجدے کی حالت میں آپ کے کندھوں پر ایک اونٹنی کی بچہ دانی ڈال دی گئی کہ آپؐ سر بھی نہ اٹھاسکتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ نے آکر یہ گند ہٹایا تو آپؐ سر اٹھاسکے۔
ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ کیا آپؐ کو کبھی جنگ اُحد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہ! تیری قوم کی طرف سے مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں۔ پھر آپؐ نے طائف کے حالات سنائے جب طائف کے رئیس عبدیالیل کے کہنے پر وہاں کے آوارہ لڑکوں نے آنحضورﷺ اور زیدبن حارثہؓ کو پتھر مار مار کر شدید زخمی کردیا گیا۔ لیکن ایسے میں بھی آپؐ میں عفو اور رحم موجزن تھا۔ فرمایا: اس سفر سے واپسی پر میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا ہے کہ ارشاد ہو تو مَیں پہلو کے دونوں پہاڑ ان لوگوں پر پیوست کرکے اس بستی کا خاتمہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، نہیں۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں میں خدائے واحد کی پرستش کرنے والے پیدا کردے گا۔
………٭………٭………٭………
’’سوانح عمری حضرت محمد صاحب‘‘
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۲؍مئی۲۰۱۴ء میں ایک منصف مزاج آریہ پرکاش دیوجی کی کتاب ’’سوانح عمری حضرت محمد صاحب‘‘ سے متعلق ایک مختصر مضمون مکرم انجینئر محمود مجیب اصغر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مذکورہ کتاب کا تذکرہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف ’’چشمۂ معرفت‘‘ میں کرتے ہوئے فرمایا ہے:’’اس پُرآشوب زمانہ میں کہ ہر ایک فرقہ خواہ آریہ ہیں خواہ پادری صاحبان دیدہ دانستہ کئی طور کے افتراء کرکے ہمارے سیّدومولیٰ آنحضرتﷺ کی توہین اور اسلام کی تحقیر کو بڑا ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں آریہ قوم میں سے ایسا منصف مزاج پیدا ہونا جو برہمو مذہب رکھتے ہیں نہایت عجیب بات ہے۔ مؤلف کتاب نے اپنی دیانت داری اور انصاف پسندی اور حق گوئی اور بےتعصّبی کا عمدہ نمونہ دکھلایا ہے۔‘‘
پرکاش دیوجی کی تحریر سے اخذ کردہ چند اقتباسات ذیل میں ہدیۂ قارئین ہیں:
٭… حضرت محمد صاحب بانیٔ مذہب اسلام منجملہ ان بزرگ اشخاص کے ہیں جنہوں نے قانونِ قدرت کے موافق جہالت اور تاریکی کے زمانے میں پیدا ہوکر دنیا میں بہت کچھ صداقت کی روشنی کو پھیلایا اور لوگوں کو روحانی و دنیاوی ترقی کا راستہ دکھایا ہے۔ جس طرح ہندوستان کو شاکیہ حسن گوتم عرف بدھ اور راجہ رام موہن رائے اور فارس کو زرتشت اور چین کو کنفیوشس اور یہودیہ کو حضرت عیسیٰ کے وجود پر فخر ہے ویسے ہی ریگستانِ عرب کے لیے محمد صاحب کا وجود اس کی عزت و عظمت کا باعث ہے بلکہ آنحضرت کی ذات سے جو جو فیض دنیا کو پہنچے ان کے لیے نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا کو ان کا شکرگزار ہونا مناسب ہے۔
٭… محمد صاحب سے پہلے دنیا میں بہت سے نبی گزر چکے تھے اور ان میں سے بعض جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح نہایت اولوالعزم پیغمبر تھے لیکن اُن کی رسالت اور آنحضرت کی رسالت میںیہ بڑا فرق تھا کہ وہ نبی صرف اپنے بھائیوں یعنی بنی اسرائیل کی ہدایت کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ حضرت موسیٰ کی نبوت اور ان کی کُل زندگی بنی اسرائیل اور ان کے ہی معاملات میں صرف ہوئی۔ حضرت مسیح بھی ہمیشہ یہی فرماتے رہے کہ مَیں بنی اسرائیل کی بھولی بھٹکی بھیڑوں کو راستہ دکھانے آیا ہوں۔ چنانچہ انہی کی ہدایت میں لگے رہے۔ لیکن آنحضرت نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مَیں بنی اسماعیل کی ہدایت کے لیے آیا ہوں۔ انہوں نے تمام دنیا کو اپنا بھائی جانا اور سب کو یکساں محبت اور دردمندی سے پیغامِ الٰہی سنایا۔ بادشاہوں کے شان و شکوہ کا رعب بھی انہیں پیغامِ الٰہی کے پہنچانے سے مانع نہیں ہوتا تھا۔ وہ جس آزادی سے ایک ادنیٰ غریب آدمی کو صداقت کی طرف بلاتے تھے اسی آزادی سے بےدھڑک عظیم الشان بادشاہوں اور شہنشاہوں کو پیغامِ حق بھیجتے تھے۔
٭…حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی تفصیل کے ساتھ کتاب میں بیان کیا گیا ہے جو ابوجہل اور دیگر مشرک سرداروں کی طرف سے ایک سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں آکر گھر سے تلوار لے کر آنحضورﷺ کے قتل کے لیے نکلے لیکن راستے میں کسی کے یہ بتانے پر کہ اُن کی بہن اور بہنوئی بھی ایمان لاچکے ہیں، اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ پہلے اُن کو دھمکایا لیکن اُن کے اصرار پر حضرت خبابؓ سے قرآن کریم سننے کی خواہش کی جنہوں نے سورۃ طٰہٰ کی چند آیات سنائیں۔ (ان آیات کا ترجمہ مصنف نے تحریر کیا ہے اور پھر لکھتے ہیں کہ) عمر جنہیں ہم آئندہ حضرت عمر کہیں گے، یہ کلام سن کر بےخود ہوگئے اور اُن کو بےاختیار ہوکر کہنا پڑا کہ یہ انسانی کلام نہیں، یہ کچھ اَور چیز ہے۔ پھر درخواست کی گئی کہ مجھے آنحضرتؐ کی خدمت میں لے چلو۔ چنانچہ خباب کے ہمراہ ارقم کے گھر پہنچے جہاں مسلمان کفار کی طرف سے قتل کے انعام کا اعلان سُن کر خوف زدہ ہوئے بیٹھے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ دروازہ کھولیں لیکن آنحضرتؐ نے خود اُٹھ کر دروازہ کھولا۔ شجاع عمر کی کیفیت یہ بھی کہ تلوار اُن کے گلے میں اس طرح پڑی تھی جس طرح بےہتھیار ہارے دشمن کی، آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ چاہا کہ قدموں پر گر پڑیں۔ حضرت نے گلے سے لگالیا اور اس قدر جوش محبت سے بغلگیر ہوکر ملے اور اس محبت سے اُن کی پیشانی پر بوسہ دیا جس طرح کوئی مدّتوں کے بچھڑے ہوئے سگے بھائی ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ تمام مسلمانوں میں یہ خوشی کی خبر بجلی کی طرح پھیل گئی۔
٭…۱۱؍ہجری میں محمد صاحب کو معلوم ہوگیا کہ جس مطلب کے لیے خدا نے مجھ کو پیدا کیا تھا وہ ہوچکا۔ اور یقین کرلیا کہ اب میری موت کے دن قریب ہیں۔ تب انہوں نے ایک الوداعی حج کرنے کی ٹھانی اور قافلہ مکہ روانہ ہوا۔ آمنہ کا وہی یتیم بچہ جیسے دائی حلیمہ پرورش کے لیے لینے میں بھی تامل کرتی تھی وہی شخص جسے مکہ میں کوئی پناہ نہ دیتا تھا اور جسے بھاگتے وقت صرف دو جاں نثار رفیق ملے کہ ایک بستر پر لیٹا اور ایک نے اُن کے ساتھ جان جوکھوں میں ڈال کر پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لی۔ کچھ خیال کرسکتے ہو کہ آج اس کے جھنڈے کے نیچے کتنے آدمی ہیں؟ آج اس کے ساتھ ایک لاکھ چوبیس ہزار خداپرست (تعداد بیان کرنے میں مصنف سے غلطی ہوئی ہے) میدانِ عرفات میں خدائے واحد کے حضور سرننگے کھڑے، بِن سلے کپڑے کفن کی طرح پہنے، امیری غریبی کا فرق دُور کیے، میدانِ حشر کو نمونہ بنائے کھڑے ہیں۔ اللہ اکبر صداقت کی کامیابی!کیسا عالیشان نظارہ ہے!!
اس کے بعد مصنف نے خطبہ حجۃالوداع کے چند اقتباسات بھی بیان کیے ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام برہمو صاحب کی بعض عبارتیں خلاصۃً بیان کرکے تحریر فرماتے ہیں:
’’برہمو صاحب کی کتاب میں ایک دو جگہ خفیف غلطی پائی گئی ہے۔ یہ بشریت ہے۔ مگر یہ تو ممکن نہیں تھا کہ ایک مسلمان کی طرح اُن کی تقریر ہوتی۔ ایسی صورت میں شبہات پیدا ہوتے اور کچھ اثر نہ ہوتا۔‘‘
آخر میں حضورعلیہ السلام نے کتاب کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی رقم فرمایا:
’’آپ کی کتاب … کے دیکھنے سے آپ کی انصاف پسندی اور حُسنِ اخلاق اور خداترسی اور وسعتِ معلومات ثابت ہوتی ہے۔ …درحقیقت دوسری قوموں میں اس طبیعت اور سلامت روش اور حق گوئی کی عادت کے لوگ بہت کم ہیں۔ مَیں آپ کی کتاب دیکھنے سے بہت خوش ہوا۔‘‘
………٭………٭………٭………
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۱۰؍مارچ۲۰۱۴ء میں مکرم مولانا ظفرمحمد ظفر صاحب کا طویل نعتیہ کلام شامل اشاعت ہے جس میں اُس ایمان افروز دعوے کی تکرار ہے جب غزوۂ حنین کے موقع پر کفّار کے تیروں کی بوچھاڑ سے مسلمانوں کی سواریاں بھاگ اُٹھیں اور آنحضورﷺ بجز چند صحابہؓ کے میدان میں تنہا رہ گئے۔ حضرت عباسؓ نے حضورﷺ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا تو آپؐ نے فرمایا: مجھے مت روکو۔ اَنَالنَّبِیُّ لَاکَذِبْ، اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ۔
اس خوبصورت نعت میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
یا حبیبَ اللہ ، اللہ کے محبّ
جانتا تھا مسمریزم تُو نہ طبّ
صدیوں کے بیمار اچھے کر دیے
تُو ہے عیسیٰ یا ابن عبدالمطّلب
لَاکَذِبْ اَنْتَ النَّبِیُّ لَاکَذِبْ
موسوی اعجاز اِنشقّ الحجر
آپؐ کا اعجاز و انشقّ القمر
دونوں میں ہے قدرتِ حق جلوہ گر
تُو ہے موسیٰ یا ابن عبدالمطّلب
لَاکَذِبْ اَنْتَ النَّبِیُّ لَاکَذِبْ
کعبۃُاللہ میں جو رکھے تھے صنم
جن کے آگے گردنیں تھیں سب کی خَم
کر دیے اُن سب کے تُو نے سر قَلم
تُو ہے ابراہیم یا ابن عبدالمطّلب
لَاکَذِبْ اَنْتَ النَّبِیُّ لَاکَذِبْ
تُو ہے سرِّ ابتدائے زندگی
تیری ہستی منتہائے زندگی
تجھ سے وابستہ بقائے زندگی
تُو ہے آدمؑ یا ابن عبدالمطّلب
لَاکَذِبْ اَنْتَ النَّبِیُّ لَاکَذِبْ
الغرض جتنے ہوئے پیغامبر
تھے وہ جن جن خوبیوں سے بہرہ وَر
تُو ہے جامع سب کا قصّہ مختصر
یا محمدؐ یا ابن عبدالمطّلب
لَاکَذِبْ اَنْتَ النَّبِیُّ لَاکَذِبْ
جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ دسمبر۲۰۱۴ء میں مکرمہ امۃالباری ناصر صاحبہ کی ایک نظم شائع ہو ئی ہے جو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے نعتیہ کلام سے متأثر ہوکر کہی گئی ہے۔
نور سیرت کی چمک تابندگی کیا بات ہے
حُسنِ صورت کی دمک اور روشنی کیا بات ہے
وہ شہِ کَون و مکاںؐ اور بوریے کا تخت و تاج
عجز کہتے ہیں کسے اور سادگی کیا بات ہے
حضرت اقدسؑ کی نعتیں پڑھ کے یہ کھلنے لگا
عشق کہتے ہیں کسے اور عاشقی کیا بات ہے
وہ سراپا نُور ہے نظروں میں ہم کو علم ہے
چاند کہتے ہیں کسے اور چاندنی کیا بات ہے
نیم شب کی گریہ و زاری سکھاتی ہے ہمیں
عبد کہتے ہیں کسے اور بندگی کیا بات ہے
دل میں ہے شوقِ شہادت کاش وہ چُن لے مجھے
کام آئےدین کے یہ زندگی کیا بات ہے
ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ کینیڈا‘‘ جنوری ۲۰۱۴ء میں مکرم مولانا مرزا محمد افضل صاحب کا نعتیہ کلام شامل اشاعت ہے۔ اس نعت میں سے انتخاب پیش ہے:
اُترا ہے تیری ذات میں نوروں کا انقلاب
ہر دَور کے لیے تیری ہستی ہے آفتاب
لکھی گئی حرا میں جو اُلفت کی داستان
سارے جہاں میں اس کا نہیں کوئی بھی جواب
کمزوروں ، بےنواؤں کو آواز مل گئی
بنجر دلوں میں کِھلنے لگے پھر نئے گلاب
سب کو خدا سے منسلک کرنے کے واسطے
محبوبِ کائناتؐ کو دے دی نئی کتاب
مُردوں کو زندگی کے قرینے سکھا دیے
لمحوں میں دُور ہونے لگے جو بھی تھے حجاب
مجھ پہ رسول پاکؐ کا سایہ رہے مدام
مجھ سے بھی روزِ حشر نہ ہو کوئی بھی حساب
جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ اکتوبر و نومبر۲۰۱۴ء میں مکرم طارق احمد مرزا صاحب کا نعتیہ کلام شامل اشاعت ہے۔ اس نعت میں سے انتخاب پیش ہے:
وہ تشریف لائے عجب ہی سماں تھا
’زمیں پر سے اِک نُور تا آسماں تھا‘
حریمِ تقدّس میں جوہرِ عالَم
حضورِ خدا آج رطب اللّساں تھا
تھے مسرور قدّوسیانِ فلک بھی
کہ دنیا پہ پھر سے خدا مہرباں تھا
وجودِ بشر میں ظہورِ خدائی
زمانے کو اپنی نظر پہ گماں تھا
وہ احسنِ تقویم ، معراجِ آدم
وہ باعثِ تخلیقِ کَون و مکاں تھا
دعائے خلیلؑ اور نویدِ مسیحاؑ
وہ منجّی وہ محییٖ ، شہِ دو جہاں تھا
دکھا دی نگاہوں کو دیدار کی رَہ
ہٹایا ’وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا‘
یہ اعزاز بھی اُس کی امّت نے پایا
غلامِ محمدؐ مسیح الزّماں تھا
مزید پڑھیں: اسلامی آداب ِجنگ، قیام امن کا دوسرا نام




