نظم
اپنی اس عمر کو اِک نعمتِ عظمیٰ سمجھو
نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے
پر ہے یہ شرط کہ ضائع مِرا پیغام نہ ہو
چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو
تاکہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو
جب گزر جائیں گے ہم تم پہ پڑے گا سب بار
سُستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو
خدمتِ دین کو اِک فضلِ الٰہی جانو
اس کے بدلے میں کبھی طالبِ انعام نہ ہو
اپنی اس عمر کو اِک نعمتِ عظمیٰ سمجھو
بعد میں تاکہ تمہیں شکوۂ ایّام نہ ہو
(کلامِ محمود صفحہ 96-97)
