ہنسنا منع ہے

ہنسنامنع ہے!

فیوزبلب اور دکان

کنجوس: (دکاندار سے) بھائی! مجھے ایک فیوز بلب دے دو۔

دکاندار: (حیرت سے) فیوز بلب؟وہ آپ نے کیا کرنا ہے؟

کنجوس: ہال میں اندھیرا کر کے فلم دیکھنی ہے، تونئے بلب پر اتنے پیسے کیوں ضائع کروں؟

سنسنی خیز سردی کی لہر

سلیم: یار! اس بار گرمی نے تو پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

کلیم: ہاں یار! میں نے تو اب گرمی سے بچنے کا ایک بہترین طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

سلیم: (حیرت سے) اچھا! وہ کیا؟

کلیم: میں روزانہ دوپہر کو بجلی کا بل دیکھ لیتا ہوں، اسے دیکھتے ہی میرے تن بدن میں سنسنی خیز سردی کی لہر دوڑ جاتی ہے!

شاندارتہذیب

ریاض: جناب ہم دھیرے دھیرے اپنی شاندار تہذیب کو کھو رہے ہیں ۔

فیاض: وہ کیسے ؟جناب

ریاض: کل میں نے ایک بچے کو دیکھا اس نے آئسکریم کے کپ کو کھولا اور اس کے ڈھکن کو بنا چاٹے ہی پھینک دیا۔

وٹس ایپ کا سٹیٹس

اسد: امی مجھے چوٹ لگی ہے ،کیا لگاؤں؟

امی:(غصے سے): بیٹا سب سے پہلے وٹس ایپ پر سٹیٹس لگا لو۔

چاند پر پانی

نعیم: یار! یہ سائنسدان بھی کتنے پاگل ہیں!

فہیم: وہ کیسے؟

نعیم: کہتے ہیں کہ چاند پر پانی موجود ہے۔

فہیم:تو اس میں پاگل پن کیا ہے؟

نعیم: ارے بھائی! اتنی دُور پانی لینے کون جائے گا؟ ہمارے محلے کا فلٹر پلانٹ کیا کم ہے؟

برانڈڈ

تین دوست کار میں جا رہے تھے کہ اچانک کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔پہلا دوست (روتے ہوئے):ہائے میری نئی کار تباہ ہو گئی!

دوسرا دوست (اپنے ہاتھ کو دیکھ کر): ہائے میری برانڈڈ گھڑی ٹوٹ گئی!

تیسرا دوست (غصے سے): تم دونوں کو اپنی چیزوں کی پڑی ہے، ذرا نیچے دیکھو میرا تو پورا پاؤں کٹ گیا ہے!

پہلا دوست (روتے ہوئے دوست کے پاؤں کو دیکھ کر):اوئے ہوئے! اس کا مطلب ہے تمہارا نیا برانڈڈ جوتا بھی ضائع ہو گیا!

دو دو

مریض: ڈاکٹر صاحب! مجھے ہر چیز دو دو نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر: سامنے والی کرسی پر بیٹھ جاؤ۔

مریض: چاروں کرسیوں میں سے کون سی والی پر بیٹھوں؟

بے ہوش

ڈاکٹر (کامیڈین سے): آپ کا آپریشن کرنا پڑے گا، لیکن آپ کو بے ہوش کرنے کے لیے گیس دی جائے گی۔

کامیڈین: ڈاکٹر صاحب! گیس سلنڈر مہنگا ہو گیا ہے، آپ ایسا کریں مجھے دو چار لطیفے سنا دیں، میں ہنس ہنس کے خود ہی بے ہوش ہو جاؤں گا!

سروس چارجز

ایک کنجوس ہوٹل میں کھانا کھانے گیا۔ جب بل آیا۔ تو اس نے مینیجر سے کہا: جناب! یہ سروس چارجز کس چیز کے ہیں؟

مینیجر: سر! یہ ویٹر کے آپ تک کھانا لانے کے چارجز ہیں۔

کنجوس: اچھا! تو اگلی بار میں خود کچن سے جا کر کھانا لے آؤں گا، یہ چارجز کاٹ دو!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button