عبدالواحد شیخ صاحب
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ فرماتے ہیں:’’اس امر کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ سمندر کی تہ میں بغیر مقصد کے اپنی لاشیں بچھانے والے گھونگوں کی پہلی نسل اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ اس کی آئندہ نسلیں ضرور فتح یاب ہوں گی اور وہ نسل سب سے بڑی فتح پانے والی ہے جو سب سے پہلے ترقی کے سلیقے سکھاتی ہے۔ پس اپنے ان بزرگوں کے احسانات کو نہ بھولیں جو خدا کی راہ میں اپنی جانیں بچھاتے رہے، جن پر احمدیت کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہوئیں اور یہ عظیم الشان جزیرے اُبھرے۔ وہ لوگ ہماری دعاؤں کے خاص حق دار ہیں۔ اگر آپ اپنے پرانے بزرگوں کو اِن عظمتوں کے وقت یاد رکھیں گے جو آپ کو خدا کے فضل عطا کرتے ہیں تو آپ کو حقیقی انکساری کا عرفان نصیب ہوگا۔ تب آپ جان لیں گے کہ آپ اپنی ذات میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۸۹ء)
اور (Aur) کا تعارف:قبل اس کے کہ میں اپنے اصل مضمون کی طرف آؤں، میں اس علاقے کا تعارف پیش کرنا چاہتا ہوں جہاں سے میرے اجداد کا تعلق ہے کیونکہ جس جگہ پر آپ کے آباء و اجداد رہے ہوتے ہیں اور جہاں سے ان کا تعلق ہوتا ہے یہ لازمی بات ہے کہ وہاں کے رسوم و رواج، تہذیب و تمدن، رہن سہن، بول چال وغیرہ کا ان کی شخصیت پر اثر پڑا ہو اور وہی چیزیں پھر آگے نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں۔
اور(Aur)، بھارت کی ریاست پنجاب کے ضلع جالندھر کا ایک قصبہ ہے، جو نواں شہر سے پھگواڑہ تک قومی شاہراہ پر واقع ہے۔ یہ قصبہ کئی شہروں جیسے پھلور، نواں شہر، بنگا اور راہوں سے جڑا ہوا ہے۔ اور، ضلع شہید بھگت سنگھ نگر سے تقریباً ۱۲؍کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ سے ۱۰۱؍کلومیٹر دور ہے۔تقسیم ملک کے بعد اسی علاقے سے ہجرت کر کے دادا پڑدادا پاکستان میں آئے تھے۔
خوش قسمتی سے مجھے ہندوستان کے ایک نامور جرنلسٹ ’’درگا داس‘‘کی تاریخ پر ایک انگلش کتابIndia: From Curzon to Nehru and Afterکو پڑھنے کا موقع ملا اور یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ یہ نامور صحافی بھی Aur علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ۱۹۰۰ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور پڑدادا کی ہی عمر کے تھے۔ اپنی کتاب میں انہوں نے اپنے گاؤں کاایسا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے کہ وہ دَور آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ وہ اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں: ’’دوآبہ، جس کا مطلب دو دریاؤں کے درمیان زمین ہے، ستلج اور بیاس کے درمیان کا علاقہ ہے۔ جالندھر اور ہوشیار پور کے اضلاع اپنی زرخیزی، سخت جان اور جفاکش کسانوں کے لیے مشہور تھے۔ یہ علاقہ پنجاب کے دل کی نمائندگی کرتا تھا۔زیادہ تر زمین کنووں کے ذریعے سیراب کی جاتی تھی، اور یہاں کی ہلکی بھوری مٹی گندم، مکئی، چنا اور گنے کی بہترین فصلیں پیدا کرتی تھی۔ پھلوں کے موسم میں آم، خربوزے اور بیر وافر مقدار میں دستیاب ہوتے تھے۔
گاؤں کے زیادہ تر لوگ مٹی کی دیواروں اور چپٹے چھتوں والے گھروں میں رہتے تھے، لیکن خوشحال لوگ اینٹوں کے مکان رکھتے تھے، جن کی اونچائی کسی حد تک ان کے خاندان کی دولت کی علامت ہوتی تھی۔ یہ ایک خودکفیل علاقہ تھا، لیکن دوسرے اضلاع کے مقابلے میں زیادہ آبادی رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ زیادہ جرأت مند افراد بہتر مواقع کے لیے دور دراز کے علاقوں کا رخ کرتے تھے۔…‘‘
یہ قصبہ سماجی اور ثقافتی زندگی کا مرکز تھا، جہاں کے بڑے تہواروں جیسے دسہرہ، محرم، دیوالی، لوہڑی اور ہولی کے مواقع پر اردگرد کے دیہی علاقوں سے سینکڑوں کسان یہاں آتے تھے۔ان تمام خوشیوں بھرے مواقع پر امن اور ہم آہنگی کا ماحول ہوتا تھا۔اپنے علاقے کے حالات کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے درگا داس لکھتے ہیں: ’’…لوگ امن و سکون میں زندگی بسر کرتے تھے اور سماجی تحفظ کی فضا قائم تھی۔ ذہین اور مہم جو لوگوں کے لیے مواقع وسیع پیمانے پر موجود تھے۔ میرے بچپن کے حالات کے حوالے سے مجھے کبھی بھی کسی قسم کی شکایت یاد نہیں آتی۔
اگر گاؤں کے بزرگ کسی لڑکے کے لیے دعا کرتے تو اکثر یہی کہتے: ’’خدا تمہیں تھانیدار یا پٹواری بنائے‘‘— جو کہ طاقت اور اختیار کی علامات سمجھی جاتی تھیں۔ تھانیدار یعنی پولیس کا سب انسپکٹر، مقامی حاکم کی حیثیت رکھتا تھا، جبکہ پٹواری گاؤں کا محصول نویس ہونے کی حیثیت سے خاصا بااثر شخص ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ملامت کے الفاظ بھی معنی خیز ہوتے تھے۔ اگر کوئی مغرور یا ضدی رویّہ اختیار کرتا تو گاؤں والے طنزیہ انداز میں کہتے: ’’یہ تو لاٹ صاحب یا نواب بن رہا ہے‘‘۔ مجھے ایک واقعہ بہت یاد ہے جب بازار میں ایک کلین شیو نوجوان پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے پنجاب کے دیہی علاقوں میں مردانگی اور شجاعت کی علامت سمجھی جانے والی مونچھیں ہٹا دی تھیں۔ بغیر مونچھوں کے، خاص طور پر وہ جو خوبصورتی سے اوپر کی طرف مڑی ہوں، آدمی کو زنانہ سمجھا جاتا تھا اور مذاق کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔لارڈ کرزن، جو برصغیر کے پہلے وائسرائے تھے، وہ مونچھوں کے بغیر رہنے والے پہلے برطانوی حکمران تھے۔ اسی وجہ سے پنجاب کے دیہی علاقوں میں ان پر کئی بےباک لطیفے بنائے گئے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ شہروں میں مقامی شاعروں نے ’’کرزن‘‘ پر طنزیہ گیت اور ہجوئیں بھی لکھی تھیں، جن میں لفظ ’’زن‘‘ (عورت) پر خاص طور پر زور دیا جاتا تھا۔‘‘
’’پگڑی کے بارے میں رائج وہ عقیدہ بھی کچھ مختلف نہ تھا جو اسے پنجاب کے موسم کی شدت سے جسم کے سب سے نازک حصے کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ لیکن اس دور کے دنوں میں پگڑی صرف تحفظ کا نہیں بلکہ عزت و وقار کا نشان بھی تھی۔ ننگے سر پھرنا بے شرمی اور بڑوں کی توہین کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پگڑی کا اترنا یا کسی سے چھیننا ذاتی توہین کی ناقابلِ معافی صورت سمجھی جاتی تھی۔ جو کوئی دوسرے کی پگڑی اتارنے کی دھمکی دیتا، وہ درحقیقت اسے ذلیل کرنے کی نیت رکھتا تھا۔ البتہ صدی کے اختتام تک، غیر ملکی ٹوپیوں نے دیہات میں بھی جگہ بنانا شروع کر دی تھی، اور لڑکوں کو بھاری پگڑی کی بجائے یہ ہلکی ٹوپیاں پہننے کی اجازت دی جانے لگی۔ تاہم ننگے سر کا تصور کافی عرصے تک ممنوع رہا۔‘‘
خاندانی پسِ منظر: میرے لکڑدادا(Great-great-grandfather) یعنی والد عبد الواحد، منشی نتھو شاہ صاحب تھے، جن کی تاریخ پیدائش، تاریخ وفات اور مولد کے بارے میں یقینی معلومات دستیاب نہیں۔ البتہ آپ کا تعلق ضلع جالندھر کےقصبہ اور؍ اوڑ (Aur) سے تھا۔ آپ کی زوجہ کا نام بھی معلوم نہیں ہو سکا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین اولاد نرینہ (۱۔ عبدالعزیز صاحب، ۲۔ عبدالواحد صاحب، اور ۳۔ ایک جن کا نام معلوم نہیں) سے نوازا۔ معلومات کے مطابق آپ کی وفات نوجوانی میں ہی ہو گئی تھی۔ ان کی اولاد سے صرف عبدالواحد صاحب کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔
’’منشی نتھو شاہ‘‘ کے نام نے ہمارے خاندان میں نسلوں تک شکوک و شبہات پیدا کیے، جن کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ بچپن کی وہ یادیں اب بھی تازہ ہیں جب ربوہ کے گھر کے صحن میں خاندان کے بزرگ ان کی مذہبی شناخت پر بحث کرتے تھے—کیا وہ ہندو؍سکھ سے مسلمان ہوئے تھے (’’نتھو‘‘ نام کی وجہ سے)؟ یا پھر ’’شاہ ‘‘ نام کا حصہ ہونے کی وجہ سےسادات سے تعلق رکھتے تھے؟ ’’منشی‘‘ کا لفظ فارسی سے ہے جو کلرک، استاد یا مصنف کے لیے استعمال ہوتا تھا، جبکہ ’’نتھو‘‘ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں رائج نام ہے (جیسے علامہ اقبال کے والد ’’شیخ نتھو‘‘)۔ ’’شاہ‘‘ کے بارے میں عمومی تصور اسے سادات سے جوڑتا ہے، لیکن یہ محض ایک لقب ہے۔ بہرحال خاکسار کی معلومات و تحقیقی شواہد کے مطابق، منشی نتھو شاہ مسلمان تھے، اور ہندو اکثریتی علاقے میں رہنے کی وجہ سے ’’نتھو‘‘ جیسا نام رکھا گیا ہوگا۔
نام یا قومیت سے متعلق یہ اکیلی کنفیوژن نہیں تھی بلکہ ایک تقسیم آج تک پائی جاتی ہے۔ میرے پڑدادا نے اپنی قومیت ’’شیخ‘‘ لکھی جو کہ ان کے وصیت فارم پر بھی درج ہے جبکہ ان کے بڑے بھائی جو احمدی نہیں ہوئے تھے نے ہمیشہ اپنی قومیت ’’راجپوت، بسی ‘‘ بیان کی جس کی تاریخ ان کی اولاد کے پاس موجود رہی۔ شاید اس وجہ سے کہ جماعت احمدیہ میں ذات وغیرہ کو کچھ خاص اہمیت نہیں دی جاتی اس وجہ سے ہمارے بڑوں نے کبھی حقیقت جاننے کی سعی نہیں کی اور خود خاکسار کے دادا نے راجپوت بسی ہی اپنی قومیت بیان کی۔بہرحال خاکسار کی تحقیق کے مطابق ہماری اصل قومیت ’’بسی، راجپوت‘‘ ہی ہے۔
سک، پہلو یوں اور ترشک جو وسط ایشیا کی مشہور قومیں تھیں اور وہ ہند پر حملہ آور ہوکر ہندو مذہب میں داخل ہوکر راجپوت کہلائیں۔ کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ راجپوت قبائل راٹھور، پوار اور گہلوٹ وغیرہ یہاں پہلے سے آباد تھے۔ یہ چاروں قبائل اصل میں جاٹ ہیں جنہیں بعد میں راجپوت کہا جانے لگا ہے۔ کیوں کہ یہ اس وقت حکمران تھے۔ اس بنا پر راجپوت یا راج پتر یعنی راجاؤں کی اولاد کی اصطلاح وجود میں آئی۔ مختصراً راجپوت رسمی طور پر برہمنی مذہب میں داخل ہونے والے جاٹ اور گوجر ہیں۔ جن لوگوں نے رسمی طور پر متعصب برہمنی نظام کی شرائط کو قبول کرنے سے انکار کیا انہیں رسمی طور پر ہندو مذہب میں داخل نہیں کیا گیا اور وہ آج تک وہی جاٹ، گوجر اور آہیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاٹوں اور راجپوتوں کے مشترک قبائلی نام ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی قبیلہ ایک جگہ راجپوت ہے تو دوسری جگہ وہ جٹ کہلاتا ہے۔پنجاب کے علاقے میں کچھ اعلیٰ ذاتوں، جیسے برہمن اور کھتری نے (جو کہ جاٹ اور راجپوت تھے)اسلام قبول کیا اور شیخ کا لقب اختیار کیا۔ ایسے افراد پنجابی شیخ یا راجپوت شیخ کہلاتے ہیں۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ عبد الواحد صاحب نے اس نسبت سے اپنی قومیت شیخ تحریر کی ہو۔
پانچ ہزاری مجاہدعبد الواحد (شیخ): میرے پڑدادا محترم عبد الواحد صاحب ولد منشی نتھو شاہ (پانچ ہزاری کوڈ۱۸۸۹۔ وصیت نمبر ۲۶۱۱ ) ۱۸۹۷ء میں ہندوستان کے علاقے پنجاب میں پیدا ہوئے۔ میرے خاندان (دودھیال) میں احمدیت آپ ہی کے ذریعہ آئی اور ۱۹۱۷ء میں شملہ میں مباحثے کے دوران قبول احمدیت کی توفیق ملی۔ آپ نے اپنے ایمان اور اخلاص میں بہت جلد ترقی کی اور وصیت کے ریکارڈ کے مطابق جون۱۹۲۷ء میں آپ وصیت کے نظام میں شامل ہو گئے اور نویں حصہ کے موصی تھے اور وصیت فارم پر آپ نے اپنے دستخط ’’عبد الواحد احمدی‘‘ کیے ہیں جبکہ ا پنی قوم ’’شیخ‘‘ ساکن قصبہ اوڑ تحصیل نواشہر ضلع جالندھر درج کیے ہیں۔ آپ نے خلیفہ وقت کی تحریک جدید میں بھرپور لبیک کہا اور اپنی زوجہ ثانی محترمہ سردار بیگم صاحبہ کے ساتھ پانج ہزاری مجاہدین میں شامل ہیں۔ اپنی ملازمت کے سلسلہ میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آپ کا قیام رہا جن میں جالندھر، سرگودھا اور لاہور نمایاں ہیں۔ تقسیم ہندوستان کے بعد آپ ہجرت کر کے پاکستان کے شہر لاہور کے علاقہ دھرم پورہ میں آباد ہوئے اور وہاں لمبا عرصہ آپ کومختلف جماعتی خدمات اور ذمہ داریوں کی توفیق ملتی رہی جس میں سیکرٹری مال اور صدر جماعت حلقہ دھرم پورہ لاہور شامل ہے جو آپ وفات تک نبھا رہے تھے ۷۔ دسمبر ۱۹۶۲ء کو ۶۵ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔
محترم عبدالواحد صاحب کی پہلی زوجہ یعنی میری پڑدادی محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ میرے دادا عبدالصمد صاحب اور میری نانی امۃالسلام صاحبہ کی حقیقی والدہ تھیں۔ روایات کے مطابق آپ ایک سادہ اور گھریلو دیندار خاتون تھیں اور اپنے شوہر کے احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ بھی احمدیت کی آغوش میں آگئی تھیں۔ ۱۹۴۰ء کے قریب آپ کی وفات ہوگئی تھی اور آپ قادیان میں مدفون ہیں۔ آپ کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں ہو سکا۔ آپ کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے ۲ بیٹوں، سب سے بڑے اور میرے دادا جان محترم صوبیدار محمد عبدالصمد مولوی فاضل، محترم عبدالوہاب صاحب اور ۲ بیٹیوں، میری نانی جان محترمہ امۃالسلام صاحبہ اور محترمہ امۃاللہ بیگم صاحبہ سے نوازا۔
میری امی کے مطابق نانی جان کافی چھوٹی ۸-۱۰ سال کی تھیں جب ان کی والدہ فاطمہ بیگم کی وفات ہوئی نیز میری دادی جان بھی جب بیاہ کر آئیں تو یہ وفات پا چکی تھیں اور آپ نے ان کو نہیں دیکھا تھا۔
پہلی زوجہ کی وفات کے بعد دوسری شادی محترمہ سردار بیگم صاحبہ بنت کیپٹن نواب دین صاحب سے کی( محترم مولانا فرزند علی خان صاحب سابق امام مسجد فضل لندن آپ کے تایازاد بھائی تھے)جن سے ۳ بیٹے اور ۳ بیٹیاں مکرم پروفیسر عبدالماجد طاہر، مکرم عبدالرشید ، مکرم عبدالشکور، مکرمہ سعیدہ بیگم، مکرمہ امۃالکریم و مکرمہ امۃالباسط پیدا ہوئیں۔
ذکرِ بیعت: آپ کی بیعت کا احوال خاندان سے معلوم نہیں ہو سکا نہ ہی صحیح تاریخ معلوم ہو سکی اور نہ ہی آپ کے کتبہ پر تحریر ہے،اس سلسلے میں قریبی رشتہ داروں اور خاندان کے بزرگوں سے بھی پوچھا مگر سوائے اس بات کے کہ آپ نےشملہ میں جب حضرت مصلح موعودؓ تشریف لائے ہوئے تھے تو کسی کے زیر تبلیغ آپ بھی وہاں گئے اور شملہ کے جلسہ میں یا اس کے قریب بیعت کی سے زیادہ معلومات نہیں ملیں۔ چنانچہ میں نے ذاتی تحقیق شروع کی اور جب میں نے حضرت مصلح موعود ؓ کے اسفار کا تاریخ احمدیت میں مطالعہ کیا تو آپ کےشملہ کےابتدائی اسفار میں ایک سفر اگست ۱۹۱۷ء میں کیا گیا پہلا سفر کا ذکر ملا جبکہ دوسری دفعہ ستمبر ۱۹۲۷ء میں۔ جب ۱۹۱۷ء کے سفر کی تفاصیل تاریخ میں کھنگالیں تو ماحصل ہاتھ آ گیا۔ الحمدللہ
قدمِ ابنِ مسیحا سے یہ دولت پائی
بن گیا نورِ نظر گرد و غبارِ شملہ
(حضرت مولانا ذوالفقار علی خان گوہر)
مورخہ ۹؍ستمبر۱۹۱۷ء کو محترم منشی برکت علی خان صاحب نے بعد نمازِ عصر ایڈریس پیش کیا اور حضور انور کے شملہ ورود پر اور اہلیانِ شملہ کی درخواست قبول کرنے پر اپنی اور جماعت احمدیہ شملہ کی طرف سے دلی شکریہ ادا کیا نیز جماعت کی طرف سے ۵۰؍روپے نذرانہ حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح حضورکی خلافت کے بعد تفرقہ کی کوشش(لاہوری جماعت) کی ابتدا میں شملہ میں بھی بہت اثر ہوا اور لوگ جماعت سے الگ ہونے لگے اور تب منکرین خلافت اور ان کے زیر اثر لوگوں سے متنازعہ مسائل پر مباحثہ کا فیصلہ ہوا اور ابھی بحث جاری تھی کہ حضور انور کی شفقت کہ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب ؓکو بھجوا دیاجن کے دوروں اور لیکچروں سے لوگوں کے شکوک دور ہوئے اور وہ دوبارہ خلافت سے جڑ گئے۔ اس کے بعد منکرین خلافت سے وقتاً فوقتاً مباحثے ہوتے رہے اور ہماری طرف سے مولوی عمر الدین صاحب ہمیشہ ان کے مقابلہ پر رہے اور ہر موقع پر ان کو نیچا دکھایا۔
’’ایک مباحثے میں ماسٹر محمد عمر صاحب بطور ثالث مقرر ہوئےتھے اب تک جاری ہے جیسا کہ حضور کو معلوم ہے اس کا ایک حصہ جو مسئلہ نبوت کے متعلق تھا ہمارے حق میں فیصلہ ہو چکا ہے مسئلہ کفو اسلام کا حصہ ابھی باقی ہے۔ …غرض ان مباحثوں کا بڑا فائدہ ہوا۔ جماعت خدا کے فضل سے ایمان میں پختہ ہو گئی۔گو ابھی تک منکرین کے حملہ برابر جاری ہیں اور ان کارئیس المباحثین جو مرہم عیسیٰ کے نام سے بطور ’’بدنام بھی ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘ مشہور ہے، وقتاً فوقتاً یہاں آتا ہے اور اپنا زہر حضور کے خدام میں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ اب بھی دو تین ماہ رہ گیاہے اور دوستوں کے سامنے مولوی عمر الدین صاحب سے مباحثہ کرتا رہا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر موقع پر اسے زک ہوئی اور ہماری جماعت میں کوئی تزلزل واقع نہیں ہوا…غرض منکرین کی فتنہ پردازی سے جماعت کو خدا کے فضل سے کچھ گزند نہیں پہنچا۔ بلکہ دو تین نئے دوست مثلاً بابو اقبال محمد خانصاحب، بابو عبدالواحد صاحب اور محمد یونس صاحب جماعت میں داخل ہوئے۔ اول الذکر دو اصحاب نے تو عین دوران مباحثہ مذکور میں حضور کی بیعت کی۔‘‘(اخبار الفضل قادیان دارالامان۲۵؍ستمبر ۱۹۱۷ء)
جلسہ سالانہ ۱۹۱۷ءمیں شرکت اور بیعت
اس کے بعد عبد الواحد صاحب نے جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۱۷ء میں حاضرہو کر ایک بار پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔چنانچہ اخبار الفضل قادیان دارالامان ۲۹؍جنوری۱۹۱۸ء میں دسمبر ۱۹۱۷ء کے جلسہ سالانہ قادیان پر بیعت کرنے والوں کی فہرست میں۳۳۰ ویں نمبر پر آپ کا نام یوں درج ہے ’’عبدالواحد صاحب ضلع جالندھر‘‘ (تاریخِ احمدیت جلد۴صفحہ۱۹۸-۱۹۹)
جماعت سے محبت اور تقویٰ کا ایک دلچسپ واقعہ
میرے بڑے ماموں عبدالقادر رازی صاحب میری پڑدادی مرحومہ سے روایت کرتے ہیں، واقعہ کچھ یوں ہے کہ ۱۹۳۹-۴۰ء کے قریب پڑدادا عبدالواحد اپنے والد منشی نتھو شاہ کی وفات پر ترکہ کی تقسیم کے موقع پر جالندھر گئے ہوئے تھے جہاں جو بھی نقدی یا سامان ان کو ملا وہ لے کر شہر کی احمدیہ مسجد میں آ گئے اور سب چندے میں ادا کر دیا، وہیں دادی جان مرحومہ فوزیہ بیگم صاحبہ کےوالد بابو محمد بخش انبالوی صاحب (بعد ازاں مینیجر ضیا ءالاسلام پریس ربوہ)بھی موجود تھے جن سے آپ کی ملاقات ہوئی اور باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ وہ بھی اپنی بیٹی کا رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں جیسا کہ یہ اپنے بڑے بیٹے کے لیے اچھے رشتہ کے متلاشی تھے۔ وہیں دونوں نے رشتے کی بات پکی کر دی اور جب عبد الواحد صاحب واپس گھر آئے تو سردار بیگم صاحبہ نے پوچھا کہ ترکہ کی رقم لے آئے، جواب میں آپ نے کہا کہ وہ سب تو میں مسجد میں دے آیا ہوں البتہ عبدالصمد کا رشتہ طے کر آیا ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور ہماری نسلوں کو بھی اپنے بزرگوں کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے اور ان کے ذریعہ جو اللہ کی نعمت عظمیٰ یعنی خلافت خاندانوں میں آئی ہے اس سے ہمیشہ وابستہ و پیوستہ رکھے اور اس کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ(حدیث نبویؐ)




