ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۶)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

نزولِ برکات کے مقامات

آج حضرت بختیار کاکیؒ کے مزار پر حضورؑ نے دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔واپس آتے ہوئے حضرتؑ نے راستہ میں فرمایا کہ : ’’بعض مقامات نزولِ برکات کے ہوتے ہیں اور یہ بزرگ چونکہ اولیاء اﷲ تھے اس واسطے ہم انکے مزار پرگئے۔ ان کے واسطے بھی ہم نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے واسطے بھی اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی اور دیگر بہت دعائیں کیں۔ لیکن یہ دو چار بزرگوں کے مقامات تھے جو جلد ختم ہو گئے۔اور دہلی کے لوگ تو سخت دل ہیں۔ یہی خیال تھا کہ واپس آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے ہوئے الہام ہوا۔؎ٰ

دست تو دعائے تو ترحم ز خدا‘‘

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۲۱۳ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)

تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی مصرع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا جس کی تفصیل بحوالہ تذکرہ کچھ یوں ہے: ’’یہ الہام قطب مینار(دہلی۔ مرتب)سے واپس آتے ہوئے گاڑی میں مقبرہ منصور صفدر جنگ وزیر ہمایوں کے پاس ہوا۔ میر ناصر نواب صاحب کو خطرناک دردقولنج تھی۔ دعا کرنے پر یہ الہام ہوا۔ اور خدا نے شفا دی۔ ‘‘

الہام مع اعراب و اردو ترجمہ:

دَسْتِ تُو دُعَائے تُو تَرَحُّمْ زِخُدَا

ترجمہ: تیرا ہاتھ ہے اور تیری دعا اور خدا کی طرف سے رحم ہے۔

لغوی بحث: دَسْتِ تُو(تیرا ہاتھ) دُعَائے تُو(تیری دعا) تَرَحُّمْ(رحم) زِ(سے) خُدَا(خدا)

مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۵)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button