حالاتِ حاضرہ

مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(ماہ جون ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)

اسلام

ماہ محرّم: عالم اسلام آج کل قمری کیلنڈر کے پہلے مہینہ محرم الحرام سے گزر رہا ہے۔ عام طور پر جب سال کا پہلا مہینہ آتا ہے تو لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں اُمّتِ مسلمہ کی حالتِ زار، وحدت کے فقدان، دشمن کی پیہم یلغار کو دیکھتے ہوئے نئے سال کے آغاز کی مبارکبادیں دینے کی بجائے خیر مانگنے کا موقع ہے۔

دراصل ماہ محرم کا بنیادی درس مسلمان کے ليے ہر طرح کی قربانی کے ليے تیاررہنے کا ہے۔ خلفائے احمدیت نے ہر دور میں محرم کے دوران بکثرت درود پڑھنے کی تحریک فرمائی ہوئی ہے کیونکہ یہ مہینہ نواسۂ رسول حضرت امام حسین ؓکی واقعۂ کربلامیں دردناک شہادت اور ان کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ تاہم بعض لوگوں نے محرم کو محض غم، ماتم اور خود اذیتی کی رسومات تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ اسلام ایسی انتہاؤں کی تعلیم نہیں دیتا۔

احمدیوں کے بعض شیعہ دوست اور واقف کار بھی سوال کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا مقام اور مرتبہ کیا ہے؟ جہاں تک حضرت امام حسینؓ کے مقام و مرتبہ کا تعلق ہے تو احمدیہ لٹریچر میں بکثرت ذکر موجود ہے۔ لیکن عاشورہ منانے کے مروجہ تمام طریقے اور رسمیں ایک ایسا نیا راستہ ہے جو غیر اسلامی رواج ہے، جس کی کوئی سند کوئی بنیاد نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں ہے نہ آنحضرتﷺ کے اسوہ میں ہے نہ آپ کے صحابہ کے اسوہ میں ہے۔

حضرت علیؓ کی اولاد نے خود تو عاشورہ نہیں منایا۔ جن پر یہ گزری ان کو نہیں پتہ چلا کس طرح منانا چاہیے۔ یہ سب بعد میں آنے والے شیعوں کے اختیار کردہ طریق ہیں۔ بلاشبہ کربلا کا حادثہ کسی طور پر بھی چھوٹا نہیں ہے۔ مگر ایک حادثہ ہے اور اب تک بے شمار حادثے ہوچکے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ بھی بہت دردناک واقعہ گزرا ہے اور اس سے پہلے مظالم ہوئے ہیں، بڑے بڑے سخت حالات رسول اللہ پرآئے۔ خود آنحضرتﷺ کوسفّاکانہ مظالم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آل رسول نے ہر طرح کے تکلیف دہ حالات اور ظلم سہے۔ حضرت حمزہؓ نہایت بےدردی سے شہید ہوئے اور صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ اور بڑے دردناک طریقے سے شہید کيے گئے۔ گلیوں میں گھسیٹے گئے۔ دراصل یہ سارا کربلا ہی کا تو مضمون تھا جو جاری ہوا ہے۔ لیکن تب کس نے ان باتوں پر کسی قسم کا واویلانہیں کیا ہے، سر پر خاک نہیں ڈالی، تعزیئے نہیں نکالے۔ رسول اللہﷺ کے دانت شہید ہوئے آپؐ اس حالت میں پہنچ گئے کہ لوگوں نے اعلان کردیا کہ وفات پا گئے ہیں نعوذ باللہ من ذالک قتل ہوگئے ہیں۔ اور اس کے بعد کسی صحابہؓ نے کوئی سوگ کا کپڑا نہیں پہنا، کوئی رونا پیٹنا نہیں شروع کیا تو اس سے بڑی کربلا کیا گزر سکتی ہے دنیا میں کہ رحمۃ للّعالمین کے ساتھ ایسا ظلم ہوا ہو۔ جب طائف تشریف لے گئے تو جو ظلم ہوئے اس کے بیان سے ہی انسان لرز جاتا ہے۔ خود وہ آنحضرتﷺ کی آل جو ان دکھوں سے گزری جن کے نام پر اب یہ پیٹتے ہیں وہ تو نہیں پیٹے انہوں نے تو بڑا صبر کیا تھا، بس بناوٹی اور فرضی قصوں اور روایات پر تو ہم یقین ہی نہیں کرتے۔ احمدی صرف حقیقت پر جاتے ہیں اس لیے ان دنوں میں کثرت سے آل پر درود بھیجنا جماعت احمدیہ کا طریقہ ہے۔

عیسائیت

رومن کیتھولک پوپ کا دورہ سپین :رومن کیتھولک چرچ سے وابستہ عیسائیوں کے راہنما پوپ لیونے ۶ سے ۱۲؍جون ۲۰۲۶ء تک سپین کا دورہ کیا۔ پریس کے مطابق اس دورے کے مقاصد میں تارکین وطن کے بحران کو اجاگر کرنا، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور اسپین کے کیتھولک چرچ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا تھا۔

اس دورہ کے دوران پوپ نے اولا شہر میڈرڈمیں ۶ سے ۹؍جون تک قیام کیا۔ وہاں شاہ فلپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا سے ملاقات کی، سپین کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا، اورPlaza de Cibeles کے مقام پر لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کیا۔ پھر بارسلونا پہنچے اورSagrada Família کے بلند و بالا مینار کی باقاعدہ نقاب کشائی کی۔ (جس کا تعارف ہم اپنے قارئین کو کرواچکے ہیں)

اپنے دورے کے آخری مرحلے میں پوپ صاحب کناری جزائر گئے اور یہاں تارکین وطن کے مراکز کا دورہ کیا۔

اس دورے کے دوران پوپ نے پہلی مرتبہ ہسپانوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت گہرے روحانی اور تہذیبی بحران سے گزر رہی ہے، جس کی علامات بڑھتی ہوئی جنگیں، سیاسی و سماجی تقسیم، باہمی عدم اعتماد اور انسانی حقوق کی پامالی ہیں۔ پوپ کے مطابق موجودہ عالمی قیادت تنازعات کو حل کرنے کے بجائے بعض اوقات تقسیم کو بڑھا رہی ہے۔

مذہب اور جنگ:روس اور یوکرائن کے درمیان جاری جنگ میں حال ہی میں روس نے ایک بڑا میزائل اور ڈرون حملہ کیا، جس سے یوکرائن کے صدر مقام کیف کے تاریخ گرجا گھر کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی چھت میں آگ لگ گئی۔ یہ خانقاہ اور گرجا گھر تقریباً ایک ہزار سال پرانا ہے اور مشرقی آرتھوڈوکس عیسایت کے مقدس ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یوکرائن کے صدرنے کہا کہ یہ حملہ صرف ایک عمارت پر نہیں بلکہ عیسائی تہذیب اور ثقافتی ورثے پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق روس خود کو آرتھوڈوکس عیسائیت کا محافظ قرار دیتا ہے، لیکن اسی نے مشرقی یورپ کے اہم ترین مسیحی مراکز میں سے ایک کو نشانہ بنایا۔

اس مقام کی تاریخی اہمیت کودیکھیں تو اس خانقاہ کی بنیاد ۱۰۰۰ء میں رکھی گئی تھی۔ اوریہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ صدیوں سے مشرقی یورپ کی آرتھوڈوکس روحانیت کا مرکز رہی ہے۔ اس میں متعدد مقدس شخصیات کے مزارات اور تاریخی نوادرات موجود ہیں۔

وسیع تر تناظرمیں دیکھیں تو یہ پہلا موقع نہیں کہ جنگ میں مذہبی مقامات متاثر ہوئے ہوں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ۲۰۲۲ء میں جنگ کے آغاز سے اب تک سینکڑوں گرجا گھر اور دیگر مذہبی عمارات تباہ یا نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے عبادت گاہوں کا احترام بنیادی اصول ہے۔ قرآن کریم سورۃ الحج میں خانقاہوں، گرجوں، عبادت خانوں اور مساجد کے تحفظ کا ذکر کرتا ہے۔ الغرض جنگ میں بھی مذہبی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اخلاقی اور بین الاقوامی قانون دونوں اعتبار سے ایک سنگین جرم ہے۔

(اواب سعد حیات)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(ماہ ِمئی و جون ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)(قسط نہم)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button