شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
(گذشتہ سے پیوستہ۔ تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۴؍جولائی ۲۰۲۶ء)
مسیح موعود علیہ السلام سے بے نظیر تعلق
پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت خلیفہ اوّلؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ: ’’اس جگہ مَیں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر ادا کرنے کے بغیر نہیںرہ سکتاکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلانہیں چھوڑا۔ میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جس کو خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔ نہ مَیں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔ سب سے پہلے مَیں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتاہوں جن کا نام ان کے نور اخلاص کی طرح نور دین ہے۔ مَیں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلائے کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتاہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتاہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو ان کو میسر ہیں (یعنی جو مال ان کے قبضہ میں ہے) ہر وقت اللہ (اور) رسول کی ا طاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں اور مَیں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتاہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں۔ اوراگر مَیںاجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کرکے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق اداکرتے۔ ان کے بعض خطوط کی چندسطریں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتاہوں تا انہیں معلوم ہو کہ میرے پیار ے بھائی مولوی حکیم نورالدین بھیروی معالج ریاست جموں نے محبت اور اخلاص کے مراتب میں کہاںتک ترقی کی ہے اور وہ سطریں یہ ہیں:مولانا ، مرشد نا ، امامنا!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عالی جناب میری دعایہ ہے کہ ہروقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور اما م زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیاہے وہ مطالب حاصل کروں۔ اگر ا جازت ہو تو مَیں نوکری سے استعفیٰ دیدوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑارہوں۔ یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلائوں اور اسی راہ میں جان دوں۔ مَیں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میراجو کچھ ہے میرا نہیں ،آپ کا ہے۔ حضرت پیرومرشد !مَیں کما ل راستی سے عرض کرتاہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو مَیں مراد کو پہنچ گیا۔ … مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہوں۔ دعافرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔
مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمت اور ان کی غمخواری اور جان نثاری جیسے ان کے قال سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر ان کے حال سے ان کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہو رہاہے اور وہ محبت اور اخلاص کے جذبہ کاملہ سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنے عیال کی زندگی بسر کرنے کی ضروری چیزیں بھی اسی راہ میں فداکردیں۔ ان کی روح محبت کے جوش اور مَستی سے ان کی طاقت سے زیادہ قدم بڑھانے کی تعلیم دے رہی ہے۔ اور ہر دم اور ہر آن خدمت میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔ (فتح اسلام۔ صفحہ ۵۹ تا ۶۳۔ روحانی خزائن۔ جلد نمبر ۳۔ صفحہ ۳۵ تا ۳۷)
ایک معترض کے جواب میںحضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھتے ہیں کہ : ’’آپ کہتے ہیںکہ صرف ایک حکیم مولوی نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ رکھتے ہیں ، دوسرے ایسے ہیں اور ایسے ہیں۔ مَیں نہیں جانتا کہ آپ اس افتراء کاخدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔ مَیں حلفاً کہہ سکتاہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پرایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ اُن کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔ مَیں اپنے ہزارہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتاہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پرایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتاہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتاہوں۔ ہاںشاذونادر کے طورپر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہاہو تو وہ شاذونادر میں داخل ہے۔
مَیں دیکھتاہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں۔ اگر آ ج ان کو کہاجائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردارہو جائو تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔ پھربھی مَیں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتاہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگردل میں خوش ہوں‘‘۔ (سیرت المہدی۔ حصہ اول۔ صفحہ ۱۶۵۔ ایڈیشن دوم۔ مطبوعہ ۱۹۳۵ء)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۴۱تا۱۴۴)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: بلا وجہ جمعہ چھوڑنا منافقت کی ایک علامت ہے




