نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۴؍جون ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم میاں بشیر احمد ناگی صاحب (یوکے) ابن مکرم میاں محمد یحییٰ صاحب (آف نیلاگنبد۔ لاہور) اور مکرمہ شاہدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری ناصر احمد ججہ صاحب مرحوم (ساؤتھ چیم۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
۱۔مکرم میاں بشیر احمد ناگی صاحب(یوکے) ابن مکرم میاں محمد یحییٰ صاحب (آف نیلا گنبد۔ لاہور)
۲۰؍جون ۲۰۲۶ء کو ۷۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے اور حضرت میاں جان محمد صاحب رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے۔مرحوم نے لاہور میں مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ اپنے کاروبار کے دوران شعبہ مال سے وابستہ رہے اور پھر ۲۰۲۱ء میں یوکے شفٹ ہوگئے۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، بہت خوش اخلاق،نیک اور مخلص انسان تھے۔ چندہ جات کی ادائیگی میں بڑے باقاعدہ اور مستحق لوگوں کی مالی امداد کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جماعتی رسائل اور کتب پڑھنے کا بہت شوق تھا اور MTA با قاعدگی کے ساتھ دیکھتے تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی خدمت دین اور خلافت کے ساتھ وفا کا تعلق نبھاتے ہوئے گزاری۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے، دوبیٹیاں،چار بھائی، پانچ بہنیں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ کے اکثر بچے جماعتی خدمت میں نمایاں حصہ لے رہے ہیں۔
۲۔مکرمہ شاہدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری ناصر احمد ججہ صاحب مرحوم (ساؤتھ چیم۔ یوکے)
۲۱؍جون۲۰۲۶ء کو ۷۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نماز اورروزہ کی پابند، باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی، غریبوں کی ہمدرد، بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ چندہ جات با قاعدگی سے ادا کرتیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ مل کر ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کے مخالفانہ حالات کا بڑے صبر و ہمت کے ساتھ مقابلہ کیااور اس کا ذکر اکثر اپنے بچوں کےساتھ بھی کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم چودھری ظہور احمد سندھو صاحب ابن مکرم چودھری غلام رسول سندھو صاحب (چک نمبر ۴۳ جنوبی سرگودھا)
۱۹؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۸۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری غلام محمد گوندل صاحب رضی اللہ عنہ (آف چک نمبر ۹۹ شمالی سرگودھا) کے نواسے اور مکرم محمود احمد مبشر صاحب (درویش قادیان) کے بھانجے تھے۔ آپ نے جنرل ہسپتال راولپنڈی میں بطور ایکسرے ٹیکنیشن کام کیا۔ آپ ایکسرے ٹیکنیشن ویلفیئر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ممبر اور پاکستان اٹامک انرجی ہسپتال چشمہ بیراج میانوالی میں چیف ریڈیو گرافر بھی رہے۔ اس دوران احمدی ہونے پر آپ کی شدید مخالفت شروع ہوئی تو بالآخر آپ کو جاب سے دستبردار ہونا پڑا اور پھر اپنے آبائی گاؤں چک نمبر ۴۳ جنوبی سرگودھا آگئے اور اپنی آبائی زمین پر زمینداری کے کام سے منسلک رہے۔آپ نے لمبا عرصہ اپنے گاؤں میں زعیم انصاراللہ اور سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کے پابند، تہجد گزار، مہمان نواز، کم گو، بڑے ہمدرد، شفیق،عاجز اور منکسرالمزاج انسان تھے۔ جماعتی مہمانوں کی خدمت بڑی خوش دلی سے کیا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ناصر احمد سرمد صاحب معلم سلسلہ کے والد اور مکرم افتخار احمد گوندل صاحب (ریٹائرڈ مربی سلسلہ سیر الیون۔حال رضاکار کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری یوکے) کے بہنوئی تھے۔
۲۔مکرم محمد اکرم صاحب ابن مکرم محمد بشیر صاحب (حلقہ سروبا گارڈن۔ ماڈل ٹاؤن۔لاہور)
۱۴؍اپریل ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ ۱۹۷۷ء میں خاندان کی مخالفت کے باوجودا کیلے بیعت کر کے احمدی ہوئے تھے اورپھر ہمیشہ ثابت قدم اور ایمان پر پکے رہے۔ مرحوم مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ جب بھی کوئی آپ کے پاس چندہ لینے جاتا تو کبھی اس کو خالی ہاتھ نہ لوٹا تے۔جماعت کے ساتھ بڑا پیار اور اخلاص کا تعلق تھا۔مرحوم بہت مہمان نواز تھے۔ جب بھی کوئی عہدیداریا جماعتی نمائندہ آپ کے پاس جاتا تو اس کی خوب خاطر مدارت کرتے اور ہمیشہ بڑے پیار اور اخلاص سے ملتے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرمہ انیسہ حبیب صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ حبیب الرحمٰن صاحب مرحوم (کینیڈا)
۱۶؍اپریل ۲۰۲۶ء کو۸۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت کریم بخش صاحب رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی اور مکرم خواجہ محمد امین بٹ صاحب (سابق امیر ضلع سیالکوٹ) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ آپ نے ’’تاریخ لجنہ پاکستان‘‘ کے ابتدائی تین ایڈیشنر کی تیاری میں معاونت کی اور اس پر سند خوشنودی بھی حاصل کی۔ آپ نے اپنی زندگی جماعتی خدمت کےلئے وقف کررکھی تھی۔ لاہور میں لجنہ اماء اللہ کی آفس سیکرٹری، لوکل اور ریجنل صدر لجنہ، نگران قیادت دارالذکر، انچارج ترجمۃالقرآن کلاس اور سیکرٹری خدمت خلق ضلع لاہور کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ اصلاحی کمیٹی کی بھی ایک فعال رکن تھیں۔تبلیغ کا بہت کام کرتی رہیں اور متعدد بیعتیں کرانے کی بھی توفیق پائی۔ مرحومہ پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار،نرم دل، شفیق،مخلص اور بڑی خوش اخلاق خاتون تھیں۔ خلافت سے بے پناہ محبت اور پیار کا تعلق تھا۔ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بھی ہمیشہ خلیفۂ وقت سے ایک مضبوط تعلق قائم رکھنے اور باقاعدگی سےخطوط لکھنے کی تلقین کرتی رہیں۔ حضورانو رکا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتی تھیں اور اونچی آواز میں ٹی وی لگاتیں تاکہ کمر ے میں موجود تمام افراد اس طرف متوجہ ہوں اور فائدہ اُٹھا سکیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔
۴۔مکرم غلام رسول صدیقی پشاوری صاحب ابن مکرم غلام سرور صدیقی صاحب (کینیڈا)
۱۶؍اپریل کو ۸۳ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ پشاور میں پیداہوئے۔ اپنے والد کے قبول احمدیت کے بعد ابتدا میں آپ نے جماعت کی سخت مخالفت کی لیکن ۱۹۶۲ء میں ایک خواب دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کرلی۔ آپ کو احمدیت کی وجہ سے گھر اور جائیداد سے بےدخل ہونا پڑا مگر آپ نے اس کی کوئی پروا نہیں کی۔ آپ کی شادی حضرت محمدحسن تاج صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی مکرمہ طاہرہ نسیم صاحبہ سے ہوئی جس کے بعد آپ کراچی منتقل ہوگئے۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، جماعت کے لیے غیر ت رکھنے والے بڑے نیک،مخلص اور باوفا انسان تھے۔ خلافت سے گہری محبت اور عقیدت رکھتے تھے اور حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں باقاعدگی سے اپنے ہاتھ سے تیار کردہ بڑے پُر خلوص اور خوبصورت خطوط اور تحائف ارسال کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن کریم کی مختلف تفاسیر، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ اور ان کے خلاصے تیار کرنے سے خاص شغف تھا۔ آپ کا کمرہ قرآن کریم کے نسخوں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور مختلف تفاسیر قرآن سے بھرا رہتا تھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
۵۔مکرمہ شمیم اختر منہاس صاحبہ اہلیہ مکرم مبشر احمد منہاس صاحب (جرمنی )
۲۰؍اپریل۲۰۲۶ء کو ۷۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا تعلق چک ۱۶۶ مراد ضلع بہاولنگر پاکستان سے تھا اور ۱۹۸۹ء سے جرمنی میں مقیم تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، نمایاں مالی قربانی کرنے والی، غریب پرور، مہمان نواز، بہت نیک سیرت، مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔مرکز ی مہمانوں کا بہت احترام کرتیں اور انہیں اپنے گھر بلاکر خدمت کیا کرتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
۶۔مکرمہ امتہ الحفیظ ریحان صاحبہ اہلیہ مکرم ملک دوست محمد ریحان صاحب (امریکہ)
۲۲؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۷۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت ملک محمد صادق صاحب ککے زئی جہلمی رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نواسی تھیں۔ مرحومہ نے لجنہ اماء اللہ کراچی میں صدر حلقہ کے علاوہ مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ لجنہ اماء اللہ کراچی کی جانب سےآپ کو بچوں کے لیے دو چھوٹی کتب تیارکرنے کی بھی توفیق ملی۔ اپنے تمام چندہ جات بڑی باقاعدگی سے بروقت ادا کرتی رہیں اور اپنی زندگی میں اپنا مکمل حصہ جائیداد بھی ادا کر دیاتھا۔ بہت زیادہ صدقہ دیا کرتی تھیں۔ آپ نے ساری عمر جماعت کا کام کیا۔ تمام جماعتی پروگراموں میں نہ صرف خود بھر پور شوق سے حصہ لیتی تھیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لیکر جایا کرتی تھیں۔ حقیقی معنوں میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی خاتون تھیں۔ اپنی اولاد کو بھی جماعت سے وابستہ رکھنے کے لیے غیر معمولی ہمت اور محنت سے کوشش کرتی رہیں۔ نیکی اور عبادت آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔ بڑی دعا گواور جوانی سے ہی تہجد کی عادی تھیں۔رمضان کے روزے بڑی با قاعدگی اور پابندی سے رکھا کرتی تھیں۔ خلافت کی ہر تحریک پر پورے دل و جان سے لبیک کہنے والوں میں سے تھیں۔ اولاد کی تربیت میں بھی اس بات کا غیر معمولی خیال رکھا کہ وہ ہر صورت میں جماعت کے ساتھ وابستہ رہیں۔ بہت زیادہ صلہ رحمی کرنے والی،ارد گرد رہنے والوں کاخیال رکھنے والی اور غرباء کی مدد کرنے والی تھیں۔ قرآن کریم سے عشق کی حد تک وابستگی تھی۔ ہر ماہ ایک یا دو دور مکمل کیا کرتی تھیں۔ بہت سے غیر احمدیوں کو بھی قرآن پڑھایا۔ قرآن پڑھانے کیلئے متعدد مرتبہ وقف عارضی کی اور بعض جگہوں پر تو ایک ایک گھنٹہ پیدل چل کر بھی جایا کرتی تھیں۔بڑی حیا والی اور پردے کی سختی سے پابند، غیر معمولی جماعتی غیرت رکھنے والی ایک بہادرخاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم مقصود احمد ریحان صاحب مربی سلسلہ کی والدہ تھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭



