حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ٹال وَرتھ سے حدیقۃ المہدی تک

جماعت احمدیہ کی ترقی سے متعلق الٰہی نوشتوں کے پورا ہونے کی ایک زندہ تعبیر

چند روز قبل مجلس خدام الاحمدیہ اور پھر مجلس انصاراللہ یوکے کے سپورٹس پروگرام کے سلسلے میں ٹال وَرتھ (Tolworth) ریکریشن سینٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں اِن ڈور کرکٹ کے مقابلہ جات جاری تھے،ہر طرف خوشگوار ماحول تھا۔ اس دوران ایک خیال بار بار ذہن میں آتا رہا کہ شاید انصاراللہ کے ممبران یا خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں میں سے کسی کو ہی معلوم ہو کہ یہی ٹال وَرتھ ریکریشن سینٹر جماعت احمدیہ مسلمہ کی تاریخ کے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ۱۹۸۴ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے برطانیہ ہجرت کے بعد پہلے جلسہ سالانہ یوکے کے اختتامی اجلاس سے خطاب فرمایا تھا۔

اپریل ۱۹۸۴ء میں جب پاکستان میں احمدیوں کے بنیادی مذہبی حقوق کو سلب کرنے والے امتناعی قوانین نافذ ہوئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے منشائے الٰہی کے تحت ہجرت فرمائی۔ کسے معلوم تھا کہ ابتدائی طور پر چند ماہ پر محیط رہنے والا یہ سفر حقیقت میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تاریخ کا ایک نیا باب تھا۔ چند ہی ماہ بعد، ۲۵ اور ۲۶؍ اگست ۱۹۸۴ء کو برطانیہ کا انیسواں جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ اس وقت جماعت کے وسائل محدود تھے، تعداد کم تھی اور حالات غیریقینی۔ جلسے کا ابتدائی اجلاس محمود ہال میں منعقد ہوئے جبکہ اختتامی اجلاس ٹال وَرتھ ریکریشن سینٹر میں رکھا گیا جہاں تقریباً دو ہزار افراد نے شرکت کی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس خطاب میں خاص طور پر احمدی نوجوانوں کو تبلیغِ اسلام کی تلقین فرمائی۔ اس خطاب کی ویڈیو جھلکیاں بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرماتا ہے: أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا۔ (الرعد: ۴۲) یعنی اور کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ملک کو اس کی تمام اطراف سے کم کرتے چلے آرہے ہیںاہلِ تفسیر نے اس آیت کے مختلف معانی بیان کیے ہیں، مگر جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بارہا یہ حقیقت نمایاں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ باطل کی ظاہری قوتوں کو رفتہ رفتہ کمزور کرتا اور اپنے دین کو نئے علاقوں میں وسعت عطا فرماتا ہے۔ جب ایک ملک میں راستے بند کیے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دوسرے ملکوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جب ایک جگہ ظلم بڑھتا ہے تو اسی ظلم کے نتیجے میں تبلیغ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔

۱۹۸۴ء میں بظاہر پاکستان میں جماعت پر پابندیاں لگائی گئیں، مگر درحقیقت اسی سال اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک عالمی مرکز عطا فرمایا۔یہ انسانی منصوبہ بندی نہیں تھی۔ یہ خدائی تقدیر کا ظہور تھا۔ کیا اُس وقت کوئی شخص ٹال وَرتھ ریکریشن سینٹر میں بیٹھا یہ سوچ سکتا تھا کہ اتنا جلد یہ جلسہ اس قدر ترقی کر جائے گا کہ لاکھوں افراد خلیفۂ وقت کے خطابات براہِ راست سنیں گے، درجنوں زبانوں میں تراجم کا انتظام ہو گا، دنیا بھر سے وفود آئیں گے اور حديقة المہدی جیسا وسیع و عریض میدان بھی چھوٹا پڑ جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کے حق میں اپنے وعدے پورے کر کے رہتا ہے۔ آج ۲۰۲۶ء میں جب حدیقۃ المہدی کے وسیع و عریض جلسہ گاہ نگاہ پڑتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ گویا ٹال وَرتھ کی وہ مختصر سی محفل کی کونپل ایک تناور شجر میں بدل چکی ہے۔ اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے مختلف ممالک سے اکاون ہزار سے زائد مہمان ساٹھویں جلسہ سالانہ برطانیہ میں شریک ہوئے۔ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خاندان، مختلف زبانیں، مختلف رنگ، مختلف قومیتیں اور مختلف ثقافتیں ایک ہی امام کے ہاتھ پر جمع ہوئیں۔

۱۹۸۴ء میں جلسے کے کُل شاملین تقریباً دو ہزار تھے۔آج جلسے کے انتظامات کے لیے صرف مرد رضاکاروں کی تعداد ہی اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ۱۹۸۴ء میں جلسہ محمود ہال اور پھر ایک سپورٹس سینٹر میں منعقد ہوا تھا۔آج حدیقۃ المہدی میں سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل ایک عارضی شہر آباد ہوتا ہے۔ نمازوں کی ادائیگی، جلسہ کے اجلاسات، رہائش، ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی، طبی سہولیات، میڈیا سینٹر، ایم ٹی اے کی براہِ راست نشریات، بچوں، خواتین اور بزرگوں کے علیحدہ انتظامات، سینکڑوں شعبے اور ہزاروں رضاکار مل کر ایک ایسا نظام قائم کرتے ہیں جسے دیکھ کر غیر از جماعت مہمان بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ اور یہ سب کسی ریاستی سرپرستی اور مالی امداد کے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خلافتِ احمدیہ کی محبت میں اور رضاکارانہ جذبےکے تحت کیا جاتا ہے۔

۱۹۸۴ء کے ماحول کو یاد کیجیے۔پاکستان میں جماعت پر مشکلات کا سایہ تھا۔نماز، اذان، تبلیغ، اسلامی شعائر اور مذہبی آزادی سب خطرے میں تھے۔احمدیوں کو اپنی شناخت چھپانی پڑتی تھی۔ احمدیوں کو اپنے عقیدے کے اظہار کی پاداش میں گرفتاریوں، مقدمات، معاشرتی بائیکاٹ اور مسلسل ظلم و زیادتی کا سامنا تھا۔

کیا اس مشکل وقت میں کسی کے ذہن میں یہ تصوّر بھی پیدا ہو سکتا تھا کہ یہی جماعت چند دہائیوں بعد دنیا کے طاقتور ممالک کے سربراہان، پارلیمنٹیرینز، سفراء، پروفیسرز، دانشوروں اور مختلف مذاہب کے نمائندگان کی توجہ کا مرکز بن جائے گی؟

آج دنیابھر سے لوگ اسلام آباد (ٹلفورڈ) حاضر ہوتے ہیں۔حدیقۃ المہدی حاضر ہوتے ہیں۔خلیفۂ وقت سے ملاقات کو اپنی زندگی کا اعزاز سمجھتے ہیں۔بہت سے مہمان ایک ہی بات کہتے ہیں کہ یہاں آکر ہمیں امن محسوس ہوا، محبت محسوس ہوئی، راحت محسوس ہوئی، اپنائیت اور انسانیت کی قدر محسوس ہوئی۔

یہ وہی جماعت ہے جو ۱۹۸۴ء کے جلسے میں بظاہر ایک کمزور حالت میں تھی اور آج وہی جماعت خلافتِ احمدیہ کے زیرِ سایہ ترقیات کی کتنی ہی منزلیں طے کر چکی ہے، خود بھی امن میں ہے اور دنیابھر میں امن کی علم بردار بھی۔ بلکہ اپنوں اور غیروں کے نزدیک لفظ ’’امن‘‘ آج اس جماعت کی شناخت بن چکا ہے۔

قرآن کریم کا وعدہ ہے:يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُورِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (الصف: ۹) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے چھوڑے گا خواہ کافر (لوگ) کتنا ہی ناپسند کریں۔آج جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس آیت کی عملی تفسیر دیکھی جاسکتی ہے۔پاکستان میں آج بھی احمدیوں پر ظلم جاری ہے۔مساجد کو نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔قبروں کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔اذان، قرآن کریم اور اسلامی شعائر کے استعمال پر مقدمات قائم کر دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ بھی کئی ممالک میں احمدیت کی شدید مخالفت دیکھنے میں آتی ہےلیکن اس کے باوجود مسیح دوراں کی جماعت کا قافلہ رُکا نہیں بلکہ ہر مخالفت کے بعد پہلے سے زیادہ وسعت اختیار کرتا گیا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہجرت کے بعد بارہا اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ آپؒ تبلیغ کو جماعت کی زندگی قرار دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اگر ہر احمدی اپنا فرض ادا کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام احمدیت کی اشاعت کو روک نہیں سکتی۔

آج جب دنیا کے مختلف براعظموں میں جماعت کی مساجد، مشن ہاؤسز، تعلیمی ادارے، انسانی خدمت کے منصوبے، ایم ٹی اے کی عالمی نشریات اور لاکھوں نفوس پر مشتمل جماعت نظر آتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ ٹال وَرتھ کا وہ خطاب دراصل ایک عالمی انقلاب کی تمہید تھا۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ صرف تعداد میں اضافہ اور بڑے جلسوں کا انعقاد جماعت کی اصل ترقی کی ضامن نہیں۔ اصل ترقی خلافت سے حقیقی وابستگی میں ہے، اصل ترقی ایک احمدی کے کردار کی مضبوطی میں ہے، اصل ترقی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہے، اصل ترقی خدمتِ انسانیت اور عبادتِ الٰہی میں ہے جس کا اظہار جلسہ سالانہ کے موقع پر ہوتا ہے۔ حدیقۃ المہدی میں دنیا کے ہر خطے سے آنے والے افراد ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ زبان الگ ہے، رنگ مختلف ہے، قومیت جدا ہے، لیکن سب کا امام ایک ہے، سب کا قبلہ ایک ہے اور سب کا مقصد ایک۔

یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے ایسے راستے کھولتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔

ٹال وَرتھ سے حدیقۃ المہدی تک کا یہ سفر محض بیالیس برسوں کی داستان نہیں، بلکہ الٰہی وعدوںکی تکمیل، خلافت کی برکات، خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کی گئی عاجزانہ قربانیوں کے ثمرات اور اس زندہ خدا کی قدرت کا روشن نشان ہے جو آج بھی اپنے دین کی تائید فرماتا اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔

ہر قدم پہ میرے مولیٰ نے دیے مجھ کو نشاں

ہر عدو پر حجت حق کی پڑی ہے ذوالفقار

نعمتیں وہ دیں مرے مولیٰ نے اپنے فضل سے

جن سے ہیں معنئ ’’أتممت علیکم‘‘آشکار

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کے کامیاب انعقاد پراللہ تعالیٰ اور کارکنان کا شکریہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button