خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰؍جنوری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: آنحضرتﷺ کے زمانے کے سریات اور غزوات کا ذکر گذشتہ خطبہ سے پہلے چل رہا تھا۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سریہ حضرت زید بن حارثہ ؓ میں ام قرفہ کے قتل کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب :فرمایا:آپؓ نے یہ لکھا کہ ابن سعد نے ایک ایسے سریہ کا ذکر کیا ہے جس میں زید بن حارثہ امیر تھے۔ یہ مہم بنو فزارہ کی گو شمالی کے لیے تھی جو وَادِی الْقُرٰی کے پاس آباد تھے اور جنہوں نے مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ پر چھاپہ مار کر اس کا سارا مال واسباب چھین لیا تھا۔ اس مفسد گروہ کی روح رواں ایک بوڑھی عورت تھی جس کا نام امِ قِرفہ تھا جو اسلام کی سخت دشمن تھی۔ جب یہ عورت اس لڑائی میں پکڑی گئی تو زید کی پارٹی کے ایک شخص قیس نامی نے اس عورت کو قتل کر دیا۔اور ابن سعد اس قتل کا قصہ یوں بیان کرتا ہے‘‘یہ لکھنے والا تاریخ کا ’’ کہ اس کے دونوں پاؤں دو مختلف اونٹوں کے ساتھ باندھے گئے اور پھر ان اونٹوں کو مختلف جہات میں ہنکایا گیا جس کے نتیجہ میں یہ عورت درمیان میں سے چر کر دو ٹکڑے ہو گئی اور اس کے بعد اس بوڑھی عورت کی لڑکی سلمہ بن اکوع کے سپرد کر دی گئی۔یہی قصہ کسی قدر اختصار اور اجمال اور اختلا ف کے ساتھ ابنِ اسحاق نے بھی بیان کیا ہے۔ اس روایت کی بنا پر سر ولیم میور نے‘‘جو orientalist ہے ’’جو دوسرے یورپین مؤرخین کی نسبت زیادہ تفصیل دینے کا عادی ہے اس واقعہ کو مسلمانوں کی ’’وحشیانہ روح ‘‘کی مثال میں بڑے شوق سے اپنی کتاب کی زینت بنایا ہے بلکہ سرولیم میور نے اسے اپنی کتاب میں درج کرنے کی وجہ ہی یہ لکھی ہے کہ اس مہم میں مسلمان ایک ظالمانہ فعل کے مرتکب ہوئے تھے۔… کہتے ہیں میں ’’ابھی‘‘ ثابت کروں گا یہ ’’ظاہر ہو جائے گا کہ یہ واقعہ بالکل غلط اور قطعاً بے بنیاد ہے اور نقل و عقل ہر دو طرح سے اس کا بناوٹی ہونا ثابت ہے۔عقلی طریق پر تو یہ جاننا چاہیے کہ ایک عورت کو جس پر قتل کا الزام نہیں ہے قید کرکے ٹھنڈے لمحات میں قتل کرنا اور پھر قتل بھی اس طریق پر کرنا جو اس روایت میں بیان کیا گیا ہے یہ تو ایک بہت دور کی بات ہے۔ اسلام تو عین جنگ کے میدان میں بھی عورت کے قتل کو سختی کے ساتھ روکتا ہے۔‘‘ اس بارے میں آنحضرت ﷺنے متعدد مرتبہ واضح فرمایا کہ جو عورتیں ہیں ان کو قتل نہیں کرنا۔ ’’…چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک موقع پر میدانِ جنگ میں کسی دشمن قبیلہ کی ایک عورت مقتول پائی گئی تو باوجود اس کے کہ یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ عورت کن حالات میں اور کس کے ہاتھ سے قتل ہوئی ہے آپؐ اسے دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور صحابہؓ سے یہ تاکیداً فرمایا کہ ایسا کام آئندہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘کسی عورت کو قتل نہیں کرنا۔ ’’…اسی طرح جب کبھی آنحضرت ﷺکوئی دستہ روانہ فرماتے تھے تو منجملہ اَور نصیحتوں کے صحابہؓ سے ایک اَور نصیحت یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کسی عورت اور بچے کو قتل نہ کرنا۔ ان اصولی ہدایات کے ہوتے ہوئے صحابہؓ کے متعلق اور صحابہؓ میں سے زید بن حارثہؓ کے متعلق جو گویا آنحضرت ﷺکے گھر کے آدمی تھے یہ خیال کرنا کہ انہوں نے کسی عورت کو اس طریق پر قتل کیا یا کروایا تھا جو ابن سعد نے بیان کیا ہے ہر گز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ بیشک روایت میں قتل کرنے کا فعل زید کی طرف منسوب نہیں کیا گیا بلکہ ایک دوسرے مسلمان کی طرف کیا گیا ہے لیکن جبکہ یہ واقعہ زید کی کمان میں ہوا تو بہرحال اس کی آخری ذمہ داری زید پر ہی سمجھی جائے گی اور زید کے متعلق یہ خیال کرنا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺکی تعلیم کو جانتے ہوئے اس قسم کے کام کی اجازت دی ہو گی ہر گز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ بیشک اگر کوئی عورت کسی جرم کی مرتکب ہوتی ہے تو وہ اس جرم کی سزا پائے گی اور کسی مذہب کی شریعت اور کسی ملک کے قانون نے عورت کو جرم کی سزا سے مستثنیٰ نہیں رکھا اور آئے دن عورتوں کی سزا بلکہ قتل کے جرم میں پھانسی تک کے واقعات چھپتے رہتے ہیں مگر محض مذہبی عداوت کی وجہ سے یا شرکت جنگ کی وجہ سے کسی عورت کو قتل کرنا اور قتل بھی اس طریق پر کرنا جو اس روایت میں بیان ہوا ہے ایک ایسا فعل ہے جسے آنحضرت ﷺکی اصولی ہدایت اور ساری اسلامی تاریخ صریح طور پر ردّ کرتی ہے … اب رہا منقولی طریقہ سواول توابن سعد یاابن اسحاق نے اس روایت کی کوئی سند نہیں دی اور بغیر کسی معتبر سند کے اس قسم کی روایت جو آنحضرت ﷺکی صریح ہدایت اور صحابہ کے عام اور معروف طریق کے خلاف ہو ہرگز قبول نہیں کی جا سکتی۔ دوسرے یہ کہ یہی واقعہ حدیث کی نہایت معتبر کتب صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد میں بیان ہوا ہے مگراس میں امِ قِرفہ کے قتل کئے جانے کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے اور بعض دوسری تفصیلات میں بھی اس بیان کو ابن سعد وغیرہ کے بیان سے اختلاف ہے۔ اور چونکہ صحیح احادیث عام تاریخی روایات سے یقیناًاور مسلمہ طورپر بہت زیادہ مضبوط اور قابل ترجیح ہوتی ہیں۔ اس لیے صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد کی روایت کے سامنے ابن سعد وغیرہ کی روایت کوئی وزن نہیں رکھتی۔ یہ امتیاز اور بھی نمایاں ہوجاتا ہے جب ہم اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جہاں ابن سعد اورابن اسحاق نے اپنی روایتوں کو یونہی بلاسند بیان کیا ہے وہاں امام مسلم اور ابوداؤد نے اپنی روایتوں کو پوری پوری سند دی ہے اور ویسے بھی محدثین کی احتیاط کے مقابلہ میں جنہوں نے انتہائی احتیاط سے کام لیا ہے مؤرخین کی عام روایت کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سلّام بن ابی حُقَیق یعنی ابو رافع کے قتل کا کیا پس منظربیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:سریہ عبداللہ بن عتیکؓ ہے۔ اس کا ذکر تاریخ میں آتا ہے جو ابورافع کی طرف تھا۔ ابن سعد نے بیان کیا ہے یہ سریہ رمضان چھ ہجری میں ہوا…ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب غزوہ خندق اور بنو قریظہ کا معاملہ ختم ہوا اورسلّام بن ابی حُقَیق یعنی ابورافع ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رسول اللہ ﷺکے خلاف لشکر جمع کیا تھا اور قبیلہ اوس غزوہ احد سے پہلے کعب بن اشرف یہودی کو رسول اللہ ﷺکی دشمنی اور آپ کے خلاف بھڑکانے کی وجہ سے قتل کر چکا تھا تو قبیلہ خزرج نے رسول اللہ ﷺسے سلام بن ابی حقیق کے قتل کی اجازت چاہی۔ اس وقت وہ خیبر میں تھا ۔آپؐ نے ان کو اجازت دے دی۔ یہ دونوں قبیلے یعنی اوس اور خزرج آپ ﷺکے ہمراہ دو نر اونٹوں کی مانند مقابلے کرتے تھے۔ قبیلہ اوس جب رسول اللہ ﷺکے لیے کوئی کام سرانجام دیتا تو قبیلہ خزرج والے کہتے یہ تو اس کام کی وجہ سے رسول اللہ ﷺکے نزدیک اور اسلام میں ہم سے فضیلت لے جائے گا۔ پس وہ نہیں رکتے تھے یہاں تک کہ وہ اس جیسا کوئی کام سرانجام دیتے۔ اور خزرج نے کوئی ایسا کام کردیا تو قبیلہ اوس بھی اس کی مثل کرتا تھا۔ جب اوس والوں نے کعب بن اشرف کو رسول اللہ ﷺسےعداوت کی وجہ سے قتل کیا تو خزرج والوں نے کہا اللہ کی قسم! قبیلہ اوس اس کی وجہ سے کبھی بھی ہم سے فضیلت نہیں لے سکتا اور وہ ان کاموں میں مقابلے کرتے تھے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکے قریب کر دیں۔ پس انہوں نے غور و فکر کی کہ کون سا آدمی رسول اللہ ﷺکی دشمنی میں کعب بن اشرف کے برابر ہے تو انہوں نے ابن ابی حُقَیق کو یاد کیا جو خیبر یا حجاز کی زمین میں تھا۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ خزرج نے کہا ابورافع بن ابی حُقَیق نے قبیلہ غطفان اور اس کے ارد گرد کے مشرکین عرب کو جمع کیا اور ان کے لیے رسول اللہ ﷺسے لڑائی کے لیے بہت بڑا وظیفہ مقرر کر دیا۔ پس خزرج نے رسول اللہ ﷺسےاس کے قتل کی اجازت طلب کی۔ آپ ﷺنے ان کو اجازت دے دی۔اس طرح خزرج میں سے بنو سلمہ کے پانچ آدمی عبداللہ بن عتیک، مسعود بن سِنَان، عبداللہ بن اُنیس جُہَنِی جو کہ انصار کے حلیف تھے، ابوقتادہ حَرْث بن رِبْعِی، خُزَاعِی بن اَسْوَد، یہ سب لوگ نکلے۔ محمد بن عمر اور ابن سعد کے نزدیک یہ اسود بن خُزَاعِی تھا جو قبیلہ اسلم میں سے انصار کا حلیف تھا اور بَرَاء بن عَازِب نے عبداللہ بن عُتْبَہ کا اضافہ کیا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے پس وہ چھ افراد ہو گئے اور ابن عقبہ اور سُہَیلِی نے اَسْعَدبن حَرَام کا اضافہ کیا اس طرح یہ سات آدمی ہو گئے اور رسول اللہ ﷺنے ان پر حضرت عبداللہ بن عتیک کو امیر مقرر فرمایا اور ان کو بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ تو دیکھیں یہاں بھی بڑا واضح طور پر فرمایا عورت کو قتل نہیں کرنا۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ابو رافع کے قتل کےجوازکی بابت حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کا کیا تجزیہ بیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا:آپ لکھتے ہیں کہ ابورافع نے جو ایک بہت بڑا تاجر اور امیر کبیر انسان تھا دستور بنا لیا تھا کہ نجد کے وحشی اور جنگجوقبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہتا تھا اور رسول اللہ ﷺکی عداوت میں وہ کعب بن اشرف کا پورا پورا مثیل تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں جس کا ذکر کر رہے ہیں اس نے غطفانیوں کو آنحضرت ﷺکے خلاف حملہ آور ہونے کے لیے اموال کثیر سے امداد دی تھی۔‘‘بہت زیادہ مال دیا ان کو ’’اور تاریخ سے ثابت ہے کہ ماہ شعبان میں بنو سعد کی طرف سے جوخطرہ مسلمانوں کو پیدا ہوا تھا اور اس کے سدّباب کے لیے حضرت علیؓ کی کمان میں ایک فوجی دستہ مدینہ سے روانہ کیا گیا تھا اس کی تہ میں بھی خیبر کے یہودیوں کاہاتھ تھا جو ابورافع کی قیادت میں یہ سب شرارتیں کررہے تھے۔ مگرابورافع نے اسی پر بس نہیں کی۔ اس کی عداوت کی آگ مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھی اور آنحضرت ﷺکا وجود اس کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا تھا۔ چنانچہ بالآخر اس نے یہ تدبیر اختیار کی کہ جنگ احزاب کی طرح نجد کے قبائل غطفان اور دوسرے قبیلوں کا پھر ایک دورہ کرنا شروع کیا اور انہیں مسلمانوں کے تباہ کرنے کے لیے ایک لشکر عظیم کی صورت میں جمع کرنا شروع کر دیا۔‘‘ جنگ احزاب کے بعد پھر اس نے دوبارہ حملہ کرنے کے لیے ایک اور گروہ بنانا شروع کیا۔ ’’جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے پھر وہی احزاب والے منظر پھرنے لگ گئے تو آنحضرت ﷺکی خدمت میں قبیلہ خزرج کے بعض انصاری حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اب اس فتنہ کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کسی طرح اس فتنہ کے بانی مبانی ابورافع کا خاتمہ کر دیا جائے۔‘‘ یہی ایک علاج ہے۔ ’’آنحضرت ﷺنے اس بات کو سوچتے وقت کہ ملک میں وسیع کُشت وخون کی بجائے ایک مفسد اور فتنہ انگیز آدمی کا مارا جانا بہت بہتر ہے ان صحابیوں کو اجازت مرحمت فرمائی اور عبداللہ بن عتیک انصاری کی سرداری میں چار خزرجی صحابیوں کو ابورافع کی طرف روانہ فرمایا مگر چلتے ہوئے تاکید فرمائی کہ دیکھنا کسی عورت یا بچے کو ہرگز قتل نہ کرنا۔‘‘ دوبارہ تاکید فرمائی تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہاں عورت کو قتل کر دیا۔ ’’چنانچہ 6ھ کے ماہ رمضان میں یہ پارٹی روانہ ہوئی اورنہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنا کام کرکے واپس آ گئی اور اس طرح اس مصیبت کے بادل مدینہ کی فضا سے ٹل گئے۔’’ابورافع کے قتل کے جواز کے متعلق ہمیں اس جگہ کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ابورافع کی خون آشام کارروائیاں تاریخ کاایک کھلاہوا ورق ہیں … اصولاً اس قدر یاد رکھنا چاہیے کہ1۔ اس وقت مسلمان نہایت کمزوری کی حالت میں چاروں طرف سے مصیبت میں مبتلا تھے اور ہر طرف مخالفت کی آگ شعلہ زن تھی۔ اور گویا ساراملک مسلمانوں کو مٹانے کے لیے متحد ہورہا تھا۔2۔ایسے نازک وقت میں ابورافع اس آگ پرتیل ڈال رہاتھا جومسلمانوں کے خلاف مشتعل تھی اور اپنے اثر اور رسوخ اور دولت سے عرب کے مختلف قبائل کو اسلام کے خلاف ابھار رہا تھا اور اس بات کی تیاری کررہا تھاکہ غزوہ احزاب کی طرح عرب کے وحشی قبائل پھر متحد ہو کر مدینہ پردھاوا بول دیں۔3۔عرب میں اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی کہ جس کے ذریعہ دادرسی چاہی جاتی بلکہ ہر قبیلہ اپنی جگہ آزاد اور خود مختار تھا۔ پس سوائے اس کے کہ اپنی حفاظت کے لیے خود کوئی تدبیر کی جاتی اور کوئی صورت نہیں تھی۔4یہودی لوگ پہلے سے اسلام کے خلاف برسرپیکار تھے اور مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جنگ کی حالت قائم تھی۔5اس وقت ایسے حالات تھے کہ اگر کھلے طورپر یہود کے خلاف فوج کشی کی جاتی تو اس سے جان اور مال کا بہت نقصان ہوتا اور اس بات کااندیشہ تھا کہ جنگ کی آگ وسیع ہوکر ملک میں عالمگیر تباہی کا رنگ نہ پیدا کر دے۔ ان حالات میں صحابہؓ نے جو کچھ کیا وہ بالکل درست اور بجا تھا اور حالت جنگ میں جبکہ ایک قوم موت وحیات کے ماحول میں سے گزر رہی ہو اس قسم کی تدابیر بالکل جائز سمجھی جاتی ہیں اور ہر قوم اور ہر ملت انہیں حسبِ ضرورت ہرزمانہ میں اختیار کرتی رہی ہے۔

مزید پڑھیں: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مصروفیات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button