متفرق مضامین

محترم سید میر محمود احمد ناصر صاحب

(سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ سلسلہ امریکہ)

ایک قابل قدر بزرگ ہستی اور جیّد عالم دین کے ساتھ گزرے ہوئے چند خوشگوار لمحات و واقعات

زندگی کی چند باتیں اور کچھ یاداشتیں ایسی ہوتی ہیں کہ بھلائے سے بھی نہیں بھول سکتیں اور یہ ہر انسان کے ساتھ ہے۔ اس لیے یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔

مَیں تو جب بھی اپنے وقف اور جامعہ کے بارے میں سوچتا ہوں یا ماضی میں جھانک کر دیکھتا ہوں۔ اور یہ قریباً روزانہ کی بنیاد پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ تو چند بزرگ ہستیاں خود سامنے آجاتی ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ اُن میں سے ایک بزرگ ہستی ، جیّد عالم دین ، استاذی المحترم جناب سید میر محمود احمد صاحب ناصر کی شخصیت ہے۔

خاکسار کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مئی ۲۰۲۵ءکے پہلے ہفتہ میں جلسہ سالانہ ہالینڈ میں مرکزی نمائندے کے طور پر بھجوایا تھا۔

۱۱؍مئی کی صبح خاکسار ہالینڈ میں اٹھا ۔ حسب عادت نماز تہجد پڑھی اور پھر مسجد میں نماز فجر کے لیے جانے لگا تو اچانک فون کھول لیا۔ مکرم عزیزم آصف ڈار صاحب مربی سلسلہ کا یہ دل دہلا دینے والا پیغام پڑھاکہ ’’ہمارے پیارے محسن سید میرمحمود احمد ناصر صاحب اپنے پیارے اللہ تعالیٰ کے حضورحاضر ہوگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ‘‘

مکرم آصف ڈار صاحب نے محترم میر صاحب کی ایک نظم بعنوان’’ حمد باری تعالیٰ‘‘ بھی ساتھ ہی واٹس ایپ میں بھیج دی

میرے دلبر ہو تم میرے دلدار بھی

تم میرے یار ہو اور میرا پیار بھی

تم سے ڈرتا بھی ہوں تم پہ مرتا بھی ہوں

تم میری جیت ہو اور میری ہار بھی

ترے حسنِ جلوہ کی خاطر چڑھے ہم

سرِ طور بھی اور سرِ دار بھی

نماز فجر کے بعد پھر فون دیکھا تو کئی اَور دوستوں کے تعزیت کے پیغامات آچکے تھے اور حضرت میر صاحب مرحوم کے لیے دعاؤں کے ساتھ ساتھ یہ شعر بھی زبان پر آتا رہا کہ

آئی جب اُن کی یاد تو آتی چلی گئی

ہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی

جامعہ کا زمانہ یاد آگیا۔ آپ کے ساتھ بے تکلفی کے واقعات ، آپ کے پڑھانے کا انداز، آپ کی طلبہ اور خصوصاً ہمارے کلاس فیلوز کے ساتھ باتیں اور نہ جانے پھر کن کن خیالات میں خاکسار گم ہوگیا۔

اسی دن خاکسار کی ہالینڈ سے لندن کی فلائٹ تھی۔ اس لیے خاکسار صبح ہی سے تیاری میں بھی مصروف تھا۔ عجیب قسم کی دماغ میں کشمکش جاری تھی۔مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر کی صاحبزادی عائشہ فخرصاحبہ اہلیہ صاحبزادہ مرزا فخر احمد صاحب بھی ہالینڈہی میں مقیم ہیں۔ خیال تھا کہ جاتے جاتے ان سے بھی تعزیت کر لوں مگر فلائٹ کے ٹائم کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا اور پھر میسج کے ذریعہ ہی یہ فریضہ سر انجام دیا۔

اُسی روز چند گھنٹوں بعد خاکسار لندن سے یوکے اسلام آباد پہنچ گیا۔ اور جب سیدی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی تو خاکسار نے سب سے اوّل حضور کی خدمت میں محترم میر صاحب کی وفات پر اظہار تعزیت کیا اور آپ سے نومبر اور دسمبر ۲۰۲۵ء میں ہونے والی آخری ملاقات کا بھی ذکر کیا۔

اُسی روز مکرم سید محمد احمد صاحب ابن محترم میر محمود احمد صاحب ناصر سے ساتھ مل کر تعزیت کی۔خدا کا کرنا یہ ہوا کہ عزیزہ عائشہ فخرصاحبہ بھی وہاں پہنچ چکی تھیں اور ان سے بھی مل کر تعزیت کرنے کا موقع مل گیا۔

خاکسار یہ بھی اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے کہ حضورِانور کی اقتدا میں محترم میر صاحب کی نماز جنازہ غائب پڑھ لی اور حضورِانور کی زبانی بھی میر صاحب کا ذکر خیر سنا۔

محترم میر صاحب کے ایک پوتے عزیزم سید حاشر احمد جنہوں نے حال ہی میں جامعہ احمدیہ کینیڈاسے شاہد کا امتحان پاس کیا تھا اور اُن دنوں اسلام آباد یوکے میں خدمات بجالارہے تھے، اُن کے ساتھ بھی تعزیت کی ۔اللہ تعالیٰ انہیں اور ہم سب واقفینِ زندگی کو میر صاحب کے نقش قدم پر چلائے۔ آمین

محترم میر محمود احمد صاحب ناصر کی شخصیت کے بارے میں جب لکھ رہا ہوں تو آپ کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ بھی خودبخود یاد آرہے ہیں۔ کیونکہ ان سب کا آپس میں ایسا گہرا تعلق تھا جسے جدا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اس میں سرفہرست مکرم سید میر داؤد احمدصاحب ہیں جو آپ کے بڑے بھائی تھے۔ اور جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔

ایک دفعہ باہر سے ایک اعلیٰ شخصیت جامعہ دیکھنے آئی۔ محترم سید میر داؤد احمد صاحب انہیں جامعہ کا تعارف کروا رہے تھے کہ اچانک میر محمود احمد صاحب ناصر بھی سامنے آگئے تو میر داؤد احمد صاحب نے فرمایا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔ عمر میں مَیں بڑا ہوں۔ علم میں یہ بڑے ہیں۔

خاکسار ۱۹۷۳ء میں جامعہ سے فارغ ہوا۔ اس تمام عرصۂ تعلیم کے دوران آپ سے تدریس کے علاوہ بھی کئی معاملات میں استفادے کی توفیق ملی۔

ایک دفعہ خاکسار مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے وقت سے کچھ دیر پہلے پہنچ گیا۔ میرصاحب مرحوم بھی وہاں موجود تھے۔ خاکسار سامنے کی طرف منہ کرنے کے بجائے اِدھر اُدھر نظریں دوڑا رہا تھا۔ آپ نے میری گردن پکڑی اور منہ سامنے کرکے فرمانے لگے کہ ذکرِ الٰہی کرو اور سامنے نگاہ رکھو۔

آپ کا طریق تدریس بھی بہت ہی منفرد تھا۔ آپ نے ہمیں موازنہ مذاہب پڑھایا۔ خود نوٹس لکھ کر لاتے تھے اور طلبہ کو لکھواتے ، پڑھاتے ، خوش دلی کے ساتھ اُن کےسوالوں کے جواب دیتے۔ اُن کے پیریڈ میں کبھی کسی کو سُستی اور غفلت نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی بوریت محسوس ہوتی بلکہ آپ اس رنگ میں تدریس کراتے کہ طلبہ کے دماغوں میں وہ بات ذہن نشین ہوجاتی تھی۔ آپ تفسیر پڑھائیں یا منطق ، مسکراتے جاتے اور پڑھاتے جاتے، طلبہ لاکھ باتوں میں آپ کو الجھا کر اِدھر اُدھر لانے کی کوشش کرتے مگر مجال ہے کہ آپ اپنے راستہ سے ہٹ جائیں۔ طلبہ آپ کے پیریڈ میں خوشی محسوس کرتے بلکہ ہم تو اس کے منتظر رہتے تھے کہ کب آپ کا پیریڈ شروع ہو۔ آپ ہمیشہ سب طلبہ کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آکر اُن کی تعلیم و تربیت کا بھی خیال رکھتے تھے۔

جیسا کہ پہلے لکھا ہے کہ جامعہ کی چند اَور بزرگ ہستیاں جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی تھیں وہ یہ ہیں: مکرم ملک سیف الرحمان صاحب، مولانا محمد احمد صاحب جلیل ، مکرم قریشی نور الحق تنویر صاحب، مولانا غلام باری سیف صاحب، مکرم ملک مبارک احمد صاحب، مکرم محمد احمد ثاقب صاحب۔

یہ سب اساتذہ آپس میں شیر و شکر بھی تھے۔ اور بہت نرم مزاج اور طلبہ کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک کرنے والے تھے اور سب کے سب محسن اور سب کا خیال رکھنے والے تھے۔

ان میں سے ہر ایک اسی فکر اور کوشش میں رہتا تھا کہ یہ نوجوان بچے جو وقف کر کے جامعہ میں داخل ہوئے ہیں کسی طرح جماعت کے لیے مفید وجود بن سکیں اور جماعت کی خدمت کما حقہٗ کر سکیں۔ اور اس کے لیے وہ پھر ہر ممکن کوشش بھی کرتے تھے۔

اوّل طریق ان بزرگوں کا یہی تھا کہ ہر بچے کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کریں۔ اس کی ضروریات اور اس کی نفسیات کو سمجھنا اور اسی کے مطابق اس کے ساتھ ڈیل کرنا ہوتا تھا۔ سب اساتذہ اسی کام میں مصروف رہتے تھے اور مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر کو بھی یہی فکر رہتی تھی۔ آپ بھی ہر ایک کے ساتھ ذاتی تعلق رکھتے اور بلاتکلف اس سے بات کرتے اور ضروریات کو سمجھتے تھے۔

ہم طلبہ بعض اوقات اسی بے تکلفی میں کچھ آگے بھی بڑھ جاتے مگر آپ کی شفقت ایسی تھی کہ اس پر مسکرا کر گزر جاتے۔ میں آپ کے ساتھ بے تکلفی کی ایک دو مثالیں بھی دے دیتا ہوں۔

ایک دفعہ خاکسار اور مکرم حامد کریم صاحب مربی سلسلہ ہالینڈ چھٹی پر پاکستان آئے۔ ہم نے مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر کو جامعہ احمدیہ جاکر ملنے کا پروگرام بنایا۔ ہم جامعہ گئے۔ سردیوں کے دن تھے۔ محترم میر صاحب حسب سابق باہر میز اور کرسی لگائے مصروفِ مطالعہ تھے۔ ہم نے جا کر سلام کیا۔ آپ نے بس ایک نظر یوں ہی ڈالی اور فرمایا بیٹھ جائیں۔ سامنے دو کرسیاں تھیں ہم بیٹھ گئے۔ ایک منٹ گزرا ، دو منٹ گزرے، تین منٹ گزرے۔ جب وقت مزید گزرنے لگا اور محترم میر محمود احمد صاحب ناصر مصروفِ مطالعہ ہی رہے ( میر صاحب جب مصروف مطالعہ ہوتے تھے تب آپ کو دنیا و مافیہا کی بالکل خبر نہیں رہتی تھی )تو میں نے بلاتکلف کہہ دیا کہ میر صاحب آپ کو معلوم ہے کہ محمود احمد بنگالی صاحب کے گھٹنوں میں پانی پڑ گیا ہے۔ (یعنی وہ گھٹنوں کی بیماری کی وجہ سے بیمار ہیں۔) میر صاحب فرمانے لگے کیا مطلب؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت میر داؤد احمد صاحب کی وفات کے بعد انہوں نے سیرت داؤد لکھ دی ہے۔ اب ان سے مزید کسی اَور کی سیرت نہیں لکھی جائے گی۔ آپ جیسے بزرگوں کی سیرت ہم نے لکھنی ہے۔کیا یہ واقعہ لکھیں گے کہ ہم اتنی دیر سے آکر بیٹھے ہیں اور آپ اپنے شاگردوں کو پوچھتے بھی نہیں ہیں اور بس مطالعہ ہی میں مصروف ہیں۔ آپ مسکرائے اور پھر آپ نے فوراً میجر نذیر صاحب کو آواز دی (یہ جامعہ کے مددگار کارکن تھے)کہ جلدی آؤ اور شمشاد صاحب کے لیے چائے لے کر آؤ۔ میں نے عرض کی کہ میر صاحب آپ کو معلوم ہے کہ خاکسار چائے نہیں پیتا۔ آپ نے فوراً میجر نذیر صاحب سے کہا کہ چلو ان کے لیے شیزان لے آؤ۔ بس پھر کیا تھا ۔ یہ ساری باتیں مسکراہٹوں میں ہوئیں۔ اور اس طرح میر صاحب کے ساتھ پھر پندرہ سے بیس منٹ جامعہ سے متعلق باتیں کرتے گزرے۔ ہم نے محترم میر صاحب کی صحبت کو خوب انجوائے کیا اور محترم میر صاحب بھی ہم سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ الحمد للہ

اسی طرح جامعہ میں تعلیم کے دوران ایک اَور بے تکلفی کا واقعہ یوں پیش آیا کہ آپ کے ایک صاحبزادے کے بال کچھ ضرورت سے زیادہ ہی بڑھ گئے تھے۔ یعنی واقعۃً سر کے بال بہت بڑے ہوگئے تھے جو کہ دیکھنے والوں کو محسوس ہوتے تھے۔ ہمیں ایک ترکیب سوجھی۔ ہم چند طلبہ نے مل کر شیشے کا ایک بڑا جار لیا۔ اور اسے ایک ایک ٹیڈی پیسوں سے بھرا۔ اور ایک دن نماز عصر کے بعد محترم میر صاحب کو دیا کہ آپ اپنے بیٹے کے سر کے بال کٹوا لیں۔ بس پھر تو مسکراہٹیں ہوئیں اور سب کو بہت مزہ آیا۔ محترم میر صاحب نے بھی بُرا نہیں منایا بلکہ بہت محظوظ ہوئے۔

قرآن کریم سے محبت: آپ عالمِ دین تھے۔ موازنہ مذاہب میں آپ کمال درجہ کی مہارت رکھتے تھے۔ پھر منطق اور تفسیر کا مضمون بھی اس طرح پڑھاتے کہ اس میں دلچسپی پیدا کر دیتے تھے۔ احادیث سے بھی بہت شغف تھا۔ آپ نے کتاب ’’کَانَ خُلُقُہٗ الْقَرْآنَ‘‘ مرتب کی۔ اور میرے جیسے نالائق شاگرد ان کتب سے رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ درسوں میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔

آپ نے ایک کتاب تو مجھے خود تحفہ دی۔ ایک جلد کے بارے میں فرمایا کہ میری طرف سے فلاں سے لے لو۔ جب تیسری جلد شائع ہوئی تو وہ مجھے نہ ملی۔ خاکسار ربوہ میں گیا ہوا تھا۔ مکرم غلام احمد فرخ صاحب کے گھر مع اپنی اہلیہ اُنہیں ملنے گیا تو ان کی بیگم صاحبہ نے ہمیں اندر بٹھایا اور تواضع کی۔ فرخ صاحب اس وقت بیرون ربوہ تھے۔ میں نے فرخ صاحب کی لائبریری دیکھی تو مجھے وہ تیسری جلد نظر آگئی۔ میں نے فرخ صاحب کی بیگم صاحبہ سے کہا کہ جب فرخ صاحب آویں تو ان کو بتا دیں کہ میرے پاس ’’ کَانَ خُلُقُہٗ الْقَرْآن‘‘ کی دو جلدیں تو پہلے ہی سے ہیں یہ تیسری نہ تھی۔ یہ میں لے جارہا ہوں۔ وہ اپنے ابا جان سے اپنے لیے اور لے لیں۔ اللہ تعالیٰ جزا دے۔ اس طرح میں نے تیسری جلد حاصل کر لی۔

اس کتاب میں محترم میر محمود احمد صاحب ناصر نے قرآنی آیات سے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ثابت کیا ہے کہ جب قرآن کریم یہ حکم دیتا ہے یا یہ ارشاد فرماتا ہے تو اس بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا اسوہ کیا تھا اور آپ کی تعلیم اس بارے میں کیا تھی۔ یا صحابہ ؓکو آپؐ نے اس بارے کیا ارشاد فرمایا۔یہ بھی آپ کا قرآن کریم سے محبت کا ایک ثبوت ہے۔ اور لا ریب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا بھی ایک زندہ ثبوت اور آپؐ کی سیرت کا گہرا مطالعہ بھی اس سے پتا لگتا ہے ۔

قرآن کریم سے محبت کا ایک اَور ثبوت دیتا ہوں، جس کا میں خود چشم دید گواہ ہوں۔ ایک دفعہ امریکہ سے خاکسار چھٹی پر گیا تو محترم غلام احمد فرخ صاحب سے درخواست کی کہ میں محترم میر صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ آپ کی طبیعت اُن دنوں کچھ خراب تھی اور زیادہ ملاقات نہیں کرتے تھے۔ ایک دو دفعہ ایسا ہی ہوا کہ ملاقات طے بھی ہو گئی مگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ملاقات کینسل ہو گئی۔ اس طرح خاکسار کی واپسی کا وقت بھی قریب آگیا تو میں نے فرخ صاحب سے درخواست کی کہ بس میں میر صاحب کو دیکھ لوں۔ میرے لیے یہی کافی ہے بے شک سلام دعا نہ بھی ہو۔ میں آپ کے کمرہ میں جاکر آپ کو دیکھ لوں گا۔

چنانچہ وقت طے ہوگیا جب اس طے شدہ وقت کے مطابق خاکسار ان کے کمرہ میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپ نے آئی پیڈ ( IPAD) اپنے سینہ پر رکھا ہوا ہے۔ اور تلاوت قرآن کریم سن رہے ہیں۔ آنکھیں بند ہیں۔ خاکسار چند منٹ وہاں کھڑا رہا۔ آپ تلاوت ہی سننے میں منہمک رہے اور انہیں کچھ پتہ نہ چلا کہ کون آیا ہے۔

خاکسار نے تو آ پ کی زیارت ہی کرنی تھی سو الحمدللہ وہ ہوگئی۔ لیکن اس واقعے کا خاکسار کے دل پر گہرا اثر ہے کہ بیماری میں بھی آپ کس طرح مطالعہ اور قرآن کریم سننے میں شغف اور انہماک رکھتے تھے۔

خاکسار کو متعدد مرتبہ چھٹی پر پاکستان جانا ہوا۔ خاکسار کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جب بھی ربوہ جاؤںتو جامعہ احمدیہ کا وزٹ کروں۔ جامعہ کے درودیوار دیکھ کر دل میں ٹھنڈک محسوس کرتا ہوں کہ یہاں سے ہم نے تعلیم پائی ہے۔ جامعہ کے درودیوار سے کچھ ایسی محبت ہے کہ وہاں جاتے ہی دل بے قابو ہوجاتا ہے۔ اور ان بزرگوں کی یاد تڑپاتی ہے۔ اور ہر ایک بزرگ استاد کی باتیں یاد آتی ہیں۔ ہمارے جو بزرگ فوت ہوگئے ہیں خاکسار باقاعدگی سے ہر روز نہیں تو ہر دوسرے روز ضرور اُن کے مزاروں پر (بہشتی مقبرہ) میں جاکر دعا کرتا ہے۔ اور اگر ان بزرگوں کی بیگمات میں سے کوئی زندہ ہو تو اُن سے بھی ملتا ہوں۔

میں جب بھی مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر کو ملتاتو ہر دفعہ یہ سننا نصیب ہوا کہ حضور کی طرف سے یہ حکم آیا ہے۔ اب حضور کی طرف سے یہ ارشاد موصول ہوا۔ بس اس پر کام کر رہا ہوں۔ خلافت کے ہر حکم پر دل و جان سے عمل پیرا رہتے تھے۔

آپ کسی سے ہاتھ نہ ملاتے تھے: محترم میر صاحب سلام کرنے میں پہل بھی کرتے، سلام کا جواب بھی دیتے مگر آپ کو ہاتھ ملانے، یا معانقہ کرنے میں ہمیشہ تامّل رہا۔ فرمایا کرتے تھے کہ اس طرح انسان بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔ خاص طور پر نزلہ ، زکام، کھانسی وغیرہ سے کیونکہ ہاتھ ملانے سے ان بیماریوں کے جراثیم ایک دوسرے سے منتقل ہوجاتے ہیں۔ ہم تو کبھی کبھار زبردستی کر لیتے تھے یعنی ہاتھ بھی ملا لیتے اور معانقہ بھی۔ آپ ہنستے بھی جاتے اور ہماری زبردستی کو نظرانداز بھی فرماتے۔

نومبر اور دسمبر ۲۰۲۴ء میں جب گیا تو دو انگلیوں سے تھوڑا سا ہاتھ ملایا ۔ کہنے لگے :ہاتھ نہیں ملانا۔ حضور نے منع کیا ہوا ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ کووڈ ۱۹ کے دنوں میں کیا ہوا ہے۔ میں اسی لیے ہاتھ نہیں ملاتا۔ بس یہ دلائل دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔

خاص ڈیوٹی: جامعہ کے دوران اور بعد میں بھی جب تک خاکسار ربوہ میں رہا۔ جہاں بھی کوئی ایسی ڈیوٹیاں ہوتی تھیں جہاں آپ اس کے نگران ہوتے تو بالعموم خاکسار کو بھی ضرور شامل کر لیتے۔

ایک دفعہ مجلس مشاورت کےموقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒکی نمائندگان شوریٰ کے ساتھ دعوت میں آپ کی ڈیوٹی حضورؒ کو کھانا پیش کرنے کی تھی۔ ازراہِ شفقت آپ نے خاکسار کی ڈیوٹی بھی اپنے ساتھ ہی لگا لی۔ یہ دعوت ایوان محمود میں تھی۔ سٹیج پر کھانے کا انتظام تھا۔ خاکسار کی ڈیوٹی کھانے سے فراغت کے بعد حضورؒ کے ہاتھ دھلانے کا انتظام ، صابن ، تولیہ اور پانی کا انتظام کرنے پر تھی۔ اس وقت تک وہاں اٹیچ باتھ روم وغیرہ کا انتظام نہ ہوا تھا۔ چنانچہ دعوت کے اختتام پر خاکسار کو یہ سعادت ملی۔ اور حضورؒ کے ہاتھ دھلانے کے لیے صابن، پانی اور پھر تولیہ مہیا کیا۔ حضورؒ نے اس وقت خاکسار سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ خاکسار نے جواب دیا گھانا جانے کی تیاری کر رہا ہوں۔ آپ نے کمال شفقت فرماتے ہوئے خاکسار سے دل لگی فرمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ اس سعادت کی توفیق مکرم استاذی المحترم جناب سید میر محمود احمد صاحب ناصر نے دلائی۔ فجزاہ اللہ احسن الجزاء

آپ کی مصحبت میں ایک سفر: ۱۹۷۳ء میں جب ہماری جامعہ کی کھیلیں ہو رہی تھیں خاکسار PILLOW FIGHTING(تکیہ جنگ) میں گر گیا تھا۔ (اس کا ذکر خاکسار تفصیل سے سیرت داؤد میں لکھ چکا ہے) خاکسار کو چوٹ لگی اور ہسپتال داخل ہوگیا۔ اس عرصے میں مکرم میر داؤد صاحب بھی شدید بیمار ہو کر راولپنڈی ہسپتال میں داخل ہوگئے۔ خاکسار کو ذرا افاقہ ہوا تو خاکسار نے سوچا کہ مکرم میر داؤد احمد صاحب کی عیادت کے لیے راولپنڈی جاؤں۔ اُن دنوں مکرم سید میر محمود احمد صاحب ناصر راولپنڈی آپ کا پتا کرنے جارہے تھے۔ خاکسار نے آپ سے عرض کی کہ کیا میں آپ کے ساتھ چلوں؟ آپ نے حامی بھر لی۔ چنانچہ خاکسار آپ ہی کے ساتھ راولپنڈی میر داؤد احمد صاحب کی عیادت کے لیے گیا اور اگلے دن واپس بھی آپ ہی کے ساتھ آیا۔

آپ سفر کے بہترین ساتھی ثابت ہوئے۔ آپ نے خاکسار کے ہر قسم کے آرام کا خیال رکھا حالانکہ میں شاگرد تھا اور آپ استاد۔ پھر میں نے چاہا کہ آپ کے پاس جو مختصر سا سفر کا سامان ہے اسے اٹھا لوں۔ بہت منت سماجت کی۔ بہت زور لگایا کہ مجھے یہ سامان دے دیں ، مجھے خدمت کا موقع دیں۔ میں آپ کا شاگرد ہوں مگر مجال ہے کہ آپ مانے ہوں۔ فرمانے لگے اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا چاہیے۔ دوسرے معنوں میں مجھے یہ کہا تھا کہ اپنی صلیب خود اٹھانی چاہیے۔

سید الاستغفار کثرت سے پڑھا کریں: ہم ۱۹۷۳ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے تھے۔ مکرم میر داؤد احمد صاحب کی وفات ہوئی تھی۔ سبھی اسی غم سے نڈھال تھے۔ مکرم ملک سیف الرحمان صاحب نے ہماری کلاس کو اپنے دفتر میں الوداعیہ دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر نے ہمیں کچھ ہدایات لکھ کر دیں۔

مجھے یاد ہیں کہ منجملہ ہدایات کے ایک اہم ہدایت یہ بھی اس میں آپ کی طرف سے درج تھی کہ استغفار ، توبہ، درود شریف اور دیگر دعاؤں کے علاوہ سید الاستغفار بھی کثرت سے ایک مربی کو پڑھنا چاہیے۔ اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سید الاستغفار کی اہمیت بھی اپنے قلم سے لکھی ہوئی تھی۔ خاکسار خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت سے اس پر مداومت اختیار کیے ہوئے ہے۔ الحمدللہ۔

آپ سے امریکہ میں ملاقاتیں: امریکہ میں آپ میری لینڈ ہی زیادہ تشریف لاتے تھے۔ اس وقت یہاں آپ کے ایک صاحبزادے مکرم سید محمد احمد صاحب ناصر مسجد بیت الرحمان کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ چنانچہ جب بھی آپ آئےتو مسجد بیت الرحمان میری لینڈ میں ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دفعہ آپ نے ہفتہ عشرہ کے لیے خاکسار کے گھر مسجد بیت الرحمان میں بھی قیام کیا۔ یہ رمضان المبارک کے بابرکت ایام تھے۔ اس دوران خاکسار نے دیکھا کہ آپ قرآن کریم ، احادیث اور کتب حضرت مسیح موعودؑ کے مطالعہ میں مصروف رہتے اور ساتھ ساتھ نوٹس بھی لکھتے جاتے تھے۔

خاکسار نے متعدد مرتبہ آپ سے نماز پڑھانے کی درخواست کی مگر آپ نے نماز نہیں پڑھائی۔ ایک دفعہ خاکسار رمضان کے دنوں ہی میں بیمار ہوگیا۔ گلے کی خرابی تھی۔ خاکسار نے عرض کی جمعہ پڑھا دیں۔فرمانے لگےکسی اور کو کہہ دیں۔ خاکسار نے دوبارہ اس بارے میں عرض کی مگر نہ مانے خاکسار نے پھر مکرم مرزا مظفر احمد صاحب امیر جماعت امریکہ سے درخواست کی کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ جمعہ پڑھائیں مگر مان نہیں رہے۔ میاں صاحب نے فرمایا کہ میری طرف سے کہہ دیں کہ جمعہ پڑھائیں۔ بس پھر کیا تھا آپ نے مختصر خطبہ جمعہ پڑھایا۔

ایک دفعہ امریکہ تشریف لائے تو خاکسار مسجد بیت الرحمان میں متعین تھا۔ مکرم چودھری منیر احمد صاحب نے پروگرام بنایا کہ میر صاحب کو باہر کھانے پر لے چلتے ہیں۔ چنانچہ ہم ایک اٹالین ریسٹورنٹ پر گئے۔ وہاں بھی بےتکلف ماحول میں محترم میر صاحب نے نصائح بھی کیں اور جامعہ کے ماحول ، جامعہ کے اساتذہ اور اس وقت جو حالات ہوتے تھے کے بارے میں بڑے تفصیل کے ساتھ گزرے ہوئے دنوں کی یادوں کو تازہ کیا۔ اور ہم دونوں کے ساتھ آپ نے وقت گزارا اور بہت خوش ہوئے۔

امریکہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی آمد: خاکسار سیرالیون میں خدمات بجا لارہا تھا کہ پتا چلا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒنے امریکہ کا دورہ فرمانا ہے۔ مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر بھی ان دنوں امریکہ ہی میں خدمات بجا لارہے تھے۔ خاکسار نے محترم میر صاحب کی خدمت میں دعا اور مبارکباد کا خط لکھا کہ سنا ہے حضورؒ وہاں تشریف لا رہے ہیں بہت بہت مبارک ہو۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے خط کا جواب دیا کہ ’’ الحمدللہ خلیفۂ وقت کا آنا بہت بابرکت ہے۔ جہاں برکتیں ہوتی ہیں وہاں ذمہ داریاں بھی بہت ہوتی ہیں۔ اس لیے میرے لیے دعا کریں کہ اُن ذمہ داریوں کو احسن رنگ میں ادا کر سکوں۔‘‘

خیرکم خیرکم لاہلہٖ : ہمارے دوست اور کلاس فیلومکرم حامد کریم صاحب مربی سلسلہ ہالینڈ نے بتایا کہ میر صاحب مرحوم کی بیٹی یہاں ہوتی ہیں۔ آپ ان سے ہر روز وقت مقررہ پر فون پر بات کرتے ہیں اور خیریت اور سب کا حال احوال دریافت کرتے ہیں۔ مکرم حامد کریم صاحب نے مزید بتایا کہ ایک دفعہ محترم میر صاحب ہالینڈ تشریف لائے اور کسی دوست نے ان کی دعوت کی۔ صاحبزادی بی بی امۃ المتین صاحبہ (اہلیہ محترم میر محمود ناصر صاحب) بھی ہالینڈ ساتھ آئی ہوئی تھیں۔ مگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میزبان کے گھر نہ جاسکیں۔ مکرم حامد کریم صاحب محترم میر صاحب کو گاڑی پر لے کر جارہے تھے۔ جاتے ہوئے راستہ میں دو یا تین مرتبہ میر صاحب نے بی بی کو فون کر کے اُن کی طبیعت کا حال پوچھا اور پھر میزبان سے جلدی رخصت لے کر گھر واپس آگئے۔ اسی طرح ایک دفعہ کسی اَور جگہ جانا تھا وہ گھر ذرا اونچائی پہ تھا اور بی بی وہیل چیئر پر تھیں۔ محترم میر صاحب خود وہیل چیئر لے کر جن کے گھر جانا تھا بی بی کو اوپر تک لے کر گئے۔

اپنے عمل سے جامعہ کے طلبہ اور واقفین کو پیغام: میں اس بات کے لکھنے میں بالکل حق بجانب ہوں کہ محترم میر صاحب نے اپنی ساری زندگی خدمت دین میں گزاری اور جامعہ کے طلبہ اور واقفین میں بھی یہی بات پیدا کرنے کی ساری عمر کوشش کرتے رہے۔

تعلق باللہ بڑھانے، رسول اللہ ﷺ کی محبت دل میں اجاگر کرنے، جماعت احمدیہ کے ساتھ وفاداری، جس میں نظام خلافت کو سب سے اوّل اہمیت ہے ، آپ نے یہ سبق عملاً سب کو سکھایا۔ تعلق باللہ کے ضمن میں مجھے ایک واقعہ یاد آیا کہ خاکسار جامعہ میں تھا اور آپ شاید ایک دو دن کے لیے قائمقام پرنسپل تھے۔ خاکسار بیمار ہو گیا اور چھٹی کی درخواست آپ کے نام پرنسپل کے طور پر لکھی اور اس میں لکھا کہ بیماری کی وجہ سے دو دن کی چھٹی چاہیے۔آپ نے درخواست پر لکھا: ایک دن کی یعنی آج کی چھٹی منظور ہے۔ کل کی نہیں۔ مشرک نہیں بننا چاہیے۔ خداتعالیٰ پر بھروسا رکھو۔ آج ہی آپ کو شفا ہو جائے گی۔ کل کی کیوں چھٹی لیتے ہو۔ کل آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ صرف آج کی چھٹی منظور ہے۔

آپ دوسرے کا دل موہ لیتے تھے: میں جامعہ میں زیرتعلیم تھا۔ غالباً دوسرے تیسرے سال کی بات ہو گی، دسمبر میں جلسہ کے بعد ۳۰؍دسمبر کو میرے والد صاحب نے مجھے کہا کہ تمہاری بڑی ہمشیرہ کی شادی ہے اس لیے تم ہمارے ساتھ ہی چنی گوٹھ چلو اور شادی میں شرکت کرو۔

خاکسار کی ڈیوٹی لنگرخانہ نمبرایک میں تھی۔ جو ۳۱؍دسمبر تک چلتا تھا۔ خاکسار نے اباجان سے کہا کہ وہ خود پرنسپل صاحب سے چھٹی لیں گے۔ چنانچہ ہم دونوں (اباجان اور خاکسار) جلسہ سالانہ کے دفتر آگئے۔ مکرم میر داؤد احمد صاحب کے ساتھ مکرم میر محمود احمد ناصر صاحب بھی کھڑے تھے۔ میرے اباجان نے پرنسپل صاحب سے کہا کہ میری بیٹی کی شادی ہے اور شمشاد کو ہم ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ میر محمود احمد صاحب نے اباجان سے پوچھا کہ آپ ان کے کیا لگتے ہیں۔ اباجان نے کہا میں شمشاد کا والد ہوں۔ میر محمود صاحب نے فرمایا ’’جوان بیٹے کے جوان باپ۔‘‘ یہ فقرہ میرے اباجان کو آج تک یاد ہے اور یہ فقرہ سن کر آپ بہت محظوظ ہوتے ہیں۔

آپ کی کچھ عنایات: ایک دفعہ خاکسار آپ کو گھر ملنے گیا تو واپسی پر بی بی امۃ المتین بیگم صاحب نے خاکسار کو میر صاحب کا ایک اونی گرم چوغہ جو قادیان سے لیا تھا بطور تحفہ عنایت فرمایا۔ میں نے بی بی کا بہت شکریہ ادا کیا۔ اس دفعہ جب میں میر صاحب سے ملنے گیا تو مجھے پوچھنے لگے کہ وہ چوغہ تو تم نے اب تک کہیں گم کردیا ہو گا۔ میں نے کہا کون سا چوغہ۔ کہنے لگے جو میں نے دیا تھا۔ میں نےکہا میر صاحب آپ نے تو نہیں البتہ بی بی نے دیا تھا۔ وہ میں نے اب تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ رمضان میں خاص طور پر اسے پہنتا ہوں اور بعض اوقات درس دینے کے وقت بھی۔ فرمانے لگے، دیا تو بی بی نے ہی تھا لیکن میں نے بی بی سے کہا تھا کہ شمشاد کو یہ قادیان والا چوغہ دیں۔ میں نے پھر شکریہ بھی ادا کیا اور بتایا کہ وہ میرے پاس محفوظ ہے۔

آپ کی ایک اور خاص نوازش کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ خاکسار افریقہ سے ابھی واپس ہی آیا تھا کہ مجلس خدم الاحمدیہ کے تحت ایوان محمود میں ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام‘‘ پر ایک سیمینار منعقد ہوا۔اس سیمینار میں ایک تقریر مولانا محمد الدین ناز صاحب نے کرنی تھی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا:’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا روحانی انقلاب‘‘۔ سیمینار میں دو دن باقی تھے کہ ناز صاحب مرحوم کے کسی عزیز کی وفات ہو گئی اور وہ ایمرجنسی میں ربوہ سے باہر اپنے شہر چلے گئے۔ چنانچہمجلس خدام الاحمدیہ نے خاکسار کو اس کام کے لیے منتخب کیا اور ساتھ ہی مجھے کہا کہ میں ناز صاحب سے رابطہ کر لوں اور انہوں نے جو تقریر تیار کی ہے، مجھے عنایت فرمائیں تو مَیں وہی پڑھ دوں گا۔خاکسار نے جب مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب سے رابطہ کیا تو وہ فرمانے لگے کہ میں تو تقریر کی بالکل تیاری نہیں کر سکا اور میرے پاس تو نوٹس نہیں ہیں۔

خاکسار نے دعا کی اور پھر خاکسار مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر کی رہائش گاہ پر چلا گیا اور اُن سے مدد کا طلبگار ہوا۔ آپ نے فوراً اندر بلایا اور چند واقعات بتائے اور کہا کہ خلافت لائبریری جا کر انہیں تلاش کر کے مضمون بنالیں۔ خاکسار اُسی وقت خلافت لائبریری گیا اور واقعات اصل کتب سے نکالے اور تقریر تیار کر کے پھر آپ کو دکھائی۔ جس پر محترم میر محمود احمد صاحب نے اطمینان کا اظہار کیا اور یوں خاکسار کی آپ نے اس مشکل گھڑی میں علمی مدد فرمائی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاکسار کو اس سیمینار میں تقریر کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ اس سیمینار کی صدارت مکرم مولانا نسیم سیفی صاحب مرحوم نے کی تھی۔

آپ سے آخری ملاقاتیں: خاکسار چھٹی پر نومبر، دسمبر ۲۰۲۴ء میں ربوہ گیا۔ آپ کے بیٹے سے درخواست کی کہ آپ سے ملنا ہے۔ انہوں نے وقت لے دیا کہ فلاں دن شام چھ بجے آجائیں۔ عام طور پر اسی وقت آپ ملتے تھے اور زیادہ سے زیادہ دس بارہ منٹ تک ملتے۔ خاکسار کو دوران ملاقات احساس ہوا کہ دس بارہ منٹ بیت گئے ہیں تو خود اجازت لینے لگا تو فرمانے لگے کیا ہوا؟ کس بات کی جلدی ہے؟ میں نے عرض کی کہ آپ کا وقت۔ فرمانے لگے نہیں بیٹھ جاؤ۔ نصف گھنٹہ کے بعد پھر اجازت لینے کے لیے کھڑا ہوا تو فرمانے لگےکیا ہوگیا ہے تم بیٹھے رہو۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک گھنٹہ جامعہ کی باتیں کرتے رہے۔ اپنے پڑھانے کے عرصہ کی باتیں سناتے رہے۔ اور اس طرح جامعہ کے طلبہ، جامعہ کے اساتذہ کے بارے میں پرانی یادیں تازہ کرتے رہے۔ اس دوران جو ہمارے ساتھ بے تکلف واقعات ہوتے تھے۔ انہیں بھی دہرا کر خوش ہوتے رہے۔ دیگر بزرگ مرحوم اساتذہ کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔ جب نماز عشاء کا وقت قریب ہوا تو فرمانے لگے کہ اب نماز کا وقت ہے۔ مگر ساتھ ہی جو خدمت گار تھے انہیں فرمانے لگے کہ امریکہ سے شمشاد صاحب آئے ہیں ان کی دعوت کرنی ہے۔ میں نے عرض کی کہ حامد کریم صاحب بھی ہالینڈ سے آئے ہوئے ہیں ہم دونوں آئیں گے۔

چنانچہ دو چار دن بعد ہی مکرم غلام احمد فرخ صاحب نے کہا کہ ابا نے کہا آپ دونوں (خاکسار اور حامد کریم صاحب) فلاں دن شام کو چھ بجے آجائیں ۔چنانچہ ہم دونوں چلے گئے۔ اور ہمارے لیے خاص طور پر آپ نے پیزا اور فیصل آباد سے کیک منگوایا تھا۔ اس دن بھی جامعہ کے حضرت صاحب اور جامعہ کے دور کی دیگر باتیں ہوتی رہیں۔ پرانی یادوں سے ہم سب محظوظ ہوتے رہے اور پھر دعا کے ساتھ ہم دونوں آپ کو خدا حافظ کر کے رخصت ہوئے۔اس کے بعد ہم نے آپ کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کی درخواست کی جسے آپ نے قبول فرمایا۔

یہ ہمارے بزرگ اساتذہ تھے۔ ہم نے ان سے وقف نبھانے کے اصول سیکھے، خلافت کی اہمیت و برکات سیکھیں، میدان عمل میں کام کرنے کے طریق سیکھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک واقفِ زندگی کا کیسا معیار ہونا چاہیے اور اس کا زندہ خدا سے زندہ تعلق کیسا ہونا چاہیے۔ ان اساتذہ نے ہمیں یہ سب کچھ سکھایا صرف تعلیم کے ذریعہ ہی نہیں بلکہ اپنے عملی نمونہ سے!

خدا ان سب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ دے اور ان کے بہت سارے قائمقام بنائے اور یہ واقفین کا کارواں اسی طرح احمدیت کی شاہرہ پر کامیابی و کامرانی کے ساتھ چلتا جائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: رسول اللہ ﷺ کے جانشین ۔قرآن کی پیشگوئیاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button