مکتوب

مکتوب افریقہ (جولائی ۲۰۲۶ء)

(شہود آصف۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

براعظم افریقہ کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

افریقہ میں جنگلی جانوروں کا استحصال،

کھانے کے لیےبے دریغ شکار

افریقہ کے متعدد ممالک، خصوصاً وسطی اور مغربی افریقہ میں، جنگلی جانوروں کے گوشت (Bushmeat) کا استعمال صدیوں سے خوراک کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، تاہم آبادی میں اضافے، غربت، خوراک کی کمی اور تجارتی طلب نے اسے جنگلی حیات کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا دیا ہے۔ بش میٹ میں ہرن، جنگلی سور، بندر، چمپینزی، گوریلا، چمگادڑ، سانپ، مگرمچھ اور دیگر جنگلی جانور شامل ہوتے ہیں، جن کا شکار خوراک اور تجارت دونوں مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق وسطی افریقہ میں بش میٹ دیہی آبادی کی روزانہ پروٹین کی ضروریات کا تقریباً ۲۰؍فیصد پورا کرتا ہے، جبکہ قصبوں میں یہ شرح ۱۳؍فیصد اور بڑے شہروں میں ۶؍ فیصد ہے۔ اسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وسطی افریقہ میں بش میٹ کی سالانہ کھپت سنہ ۲۰۰۰ء میں تقریباً ۷؍لاکھ ۳۰؍ہزار ٹن سے بڑھ کر ۲۰۲۲ء میں تقریباً ۱۱؍لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

اگرچہ بش میٹ لاکھوں افراد کے لیے خوراک اور آمدنی کا ذریعہ ہے، لیکن اس کے بے تحاشا اور غیر قانونی شکار نے حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی نایاب جانوروں کی بقا خطرے میں ڈال دی ہے۔ صرف کانگو بیسن میں ہر سال دس لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ جنگلی جانوروں کا گوشت استعمال ہونے کا اندازہ ہے، جو تقریباً چالیس لاکھ مویشیوں کے گوشت کے برابر ہے۔ عالمی سطح پر اندازہ ہے کہ بارانی جنگلات سے ہر سال تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ٹن جنگلی گوشت حاصل کیا جاتا ہے، جس میں افریقہ کا بڑا حصہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی جانوروں کے شکار اور ان کے گوشت کی تجارت سے ایبولا، منکی پاکس اور دیگر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں (Zoonotic Diseases) کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

تجارتی پیمانے پر شکار کے باعث کئی علاقوں میں جنگلی جانوروں کی تعداد میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ بڑی جسامت والے جانور، جو آہستہ افزائش نسل کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو نقصان پہنچ رہا ہے، غذائی سلسلہ(Food Chain) متاثر ہو رہا ہے اور بعض مقامی انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

الجزائر اور مالی میں سفارتی تعلقات بحال

الجزائر اور مالی کے مابین پندرہ ماہ پر محیط شدید کشیدگی کا جولائی ۲۰۲۶ء میں باقاعدہ خاتمہ ہو گیا ہے، جس کا آغاز مارچ ۲۰۲۵ء میں مالی کے ایک ترکی ساختہ ڈرون کو الجزائر کی جانب سے مار گرائے جانے کے بعد سفیروں کی واپسی اور فضائی حدود کی بندش سے ہوا تھا۔ روس کی خفیہ سفارت کاری اور ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک نے ۱۰ اور ۱۱؍جولائی کو سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، ایک دوسرے کے لیے بند فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے اور سفیروں کی واپسی کا متفقہ اعلان کیا ہے۔ اس صلح کے تحت الجزائر نے Kamel Retieb کو دوبارہ باماکو میں اپنا سفیر مقرر کیا ہے، تاکہ دونوں پڑوسی ممالک خطے میں سیکیورٹی کے مشترکہ چیلنجز اور جہادی گروپوں کے خلاف باہمی تعاون کو دوبارہ فعال کر سکیں۔

کینیا کے ایتھلیٹ نے ایک ہزار میٹر دوڑ کا ۲۷؍سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

کینیا کے ۲۱؍سالہ مایہ ناز ایتھلیٹ Emmanuel Wanyonyi نے ۱۰؍جولائی کو ہونے والی موناکو ڈائمنڈ لیگ میں تاریخ رقم کرتے ہوئے مردوں کی ایک ہزار میٹر دوڑ کا ۲۷؍سالہ پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔وانیونی نے اپنے کیریئر کے اس پہلے ہی باقاعدہ مقابلے میں محض ۲؍منٹ ۱۱.۸۳؍سیکنڈ میں ریس مکمل کر کے یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ اس شاندار کارکردگی کے ذریعے انہوں نے اپنے ہی ہم وطن Noah Ngeny کا ۱۹۹۹ء سے قائم ۲؍منٹ ۱۱.۹۶؍سیکنڈ کا ورلڈ ریکارڈ۰.۱۳ سیکنڈ کے فرق سے ختم کر دیا۔

ڈی آر کانگو میں ابیولاوائرس کا بڑھتا ہوا حملہ

کانگو میں ڈبلیو ایچ او کے شعبہ ہنگامی طبی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ جولائی کے آخر تک پانچ صوبوں میں ۳۳۶۰؍مریضوں اور ۱۴۸۷؍سے زیادہ اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔وبا شروع ہونے کے بعد ایک ماہ کے دوران مریضوں کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ یہ ماضی میں پھیلنے والی ایبولا کی وباؤں میں سب سے تیز رفتار ہے۔موجودہ پھیلاؤ ایبولا کا تیسرا دور ہے۔زیادہ تر نئے مریض نامعلوم ذرائع سے وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔وائرس ابتدائی متاثرہ علاقے سے نکل کر دیگر صوبوں تک پھیل چکا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق، سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ حالیہ ایام میں رپورٹ ہونے والی بہت سی اموات ایسے افراد کی ہیں جو علاج کے لیے کسی طبی مرکز تک پہنچ ہی نہ سکے اور اپنے گھروں میں ہی انتقال کر گئے۔ اگرچہ تشخیص کے نظام میں بہتری آئی ہے اور مریضوں کے رابطوں کی نگرانی موثر انداز میں کی جا رہی ہے، لیکن نئے مریضوں میں سے ۸۰؍ فیصد ایسے ہیں جن کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون سے لوگوں کے ساتھ رابطوں کے نتیجے میں ایبولا کا شکار بنے۔

ایبولا کی یہ وبا بنڈی بگیو قسم کے وائرس سے پھیلی ہے جس کے خلاف کئی ادویات کی تجرباتی آزمائشیں جاری ہیں لیکن تاحال اس مرض کا کوئی باقاعدہ منظور شدہ علاج دستیاب نہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریض کو بروقت طبی نگہداشت اور معاون علاج فراہم کیا جائے تو اس کے زندہ بچنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔

شمال مغربی نائیجیریا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال

جولائی کے اوائل میں شمال مغربی نائیجیریا کیKebbi ریاست میں ایک حملے میں کم از کم ۲۰؍افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق مسلح افراد نے ایک گاؤں پر حملہ کیا، گھروں کو نذرِ آتش کیا اور متعدد شہریوں کو قتل کر دیا۔حملہ آوروں کا تعلق لاکوراوا نامی شدت پسند گروہ سے بتایا جا رہا ہے۔ یہ گروہ بنیادی طور پر نائیجیریا، نائیجر اور مالی کی سرحدی پٹی میں سرگرم ہے اور اس پر دیہات پر حملوں، اغوا برائے تاوان، مویشی چوری اور مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنے کا الزام ہے۔ گذشتہ سال امریکی فضائی حملوں میں بھی اس گروہ کو ٹارگٹ کیا گیا تھا۔ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب علاقے میں شدت پسند گروہوں کے خلاف سیکیورٹی آپریشن جاری ہیں۔

الجزائر میں بس حادثہ

۳۱؍جولائی کو الجزائر کے شمالی صوبے بومرداس میں ایک مسافر بس سڑک سے بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم ۲۵؍افراد جاں بحق اور ۴۴؍دیگر زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق بس مشرقی صوبے سطیف سے سفر کر رہی تھی کہ بومرداس کے علاقے میں سڑک سے ہٹ کر ایک گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے بعد سول پروٹیکشن اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ یہ واقعہ الجزائر کے حالیہ برسوں کے سنگین ٹریفک حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

برکینا فاسو حکومت کا عرب ممالک میں پڑھنے والے طلبہ پر پابندی لگانے پر غور

برکینا فاسو کے فوجی سربراہ Ibrahim Traoré نے بعض عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب میں زیرِ تعلیم برکینابی طلبہ کی مذہبی تعلیم پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ہزار طلبہ شریعت اور اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ملک کو اس وقت انجینئرنگ، زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور دیگر فنی شعبوں میں ماہر افرادی قوت کی زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت ایسے طلبہ کو واپس وطن لانے کا ارادہ رکھتی ہے اور مبینہ طور پر خبردار کیا کہ واپسی سے انکار کرنے والوں کی شہریت ختم کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت مذہبی آزادی کو برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی مذہبی سرگرمیوں اور بیرونی مذہبی اثرات پر زیادہ نگرانی اور ریاستی کنٹرول چاہتی ہے۔تاہم ابھی تک حکومت کی طرف سے عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

Nigeria-Morocco Atlantic gas pipeline کی تعمیر کا معاہدہ

مغربی افریقی ممالک کی تنظیم ECOWAS کے رکن ممالک نے ۱۹؍جولائی کو سیرالیون کے دارالحکومت فری ٹاؤن میں نائیجیریا–مراکش اٹلانٹک گیس پائپ لائن کے لیے بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریباً ۲۵؍ارب ڈالر لاگت کے اس منصوبے کی لمبائی مختلف سرکاری اور میڈیا رپورٹس میں تقریباً ۶۸۰۰ سے ۶۹۰۰؍کلومیٹر بتائی گئی ہے، اور یہ نائیجیریا سے شروع ہو کر مغربی افریقہ کے ساحلی راستے سے گزرتی ہوئی مراکش تک پہنچے گی۔ منصوبے کے تحت سالانہ ۳۰؍ارب مکعب میٹر تک قدرتی گیس منتقل کرنے کی گنجائش ہوگی، جس میں سے تقریباً ۱۵؍ارب مکعب میٹر گیس مراکش اور یورپی منڈیوں کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔منصوبے کی فزیبلٹی اور ابتدائی انجینئرنگ مطالعات مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ اب مالی وسائل، سرمایہ کاری، انتظامی ڈھانچے اور تعمیر کے اگلے مراحل پر کام ہونا ہے۔ مراکش اور موریطانیہ کے درمیان ایک الگ معاہدے پر بعد میں دستخط متوقع ہیں۔اس منصوبے کا مقصد صرف یورپ کو گیس فراہم کرنا نہیں بلکہ مغربی افریقی ممالک میں توانائی کی رسائی، بجلی کی پیداوار، صنعتی ترقی اور علاقائی تجارت کو بھی مضبوط بنانا ہے۔ تاہم اس بڑے منصوبے کی تکمیل کا انحصار بھاری سرمایہ کاری، مختلف ممالک کے باہمی تعاون اور طویل المدتی مالی انتظامات پر ہوگا۔

کبھی سمندر تک نہ پہنچنے والا دریا

دریائے اوکاوانگو (Okavango River) دنیا کے منفرد دریاؤں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ سمندر تک پہنچنے کے بجائے صحرا میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ دریا تقریباً ۱۶۰۰؍کلومیٹر (ایک ہزار میل) طویل ہے اور اس کا آغاز انگولا کے وسطی پہاڑی علاقوں سے ہوتا ہے۔ وہاں سے یہ نمیبیا اور پھر بوٹسوانا میں داخل ہوتا ہے۔

بوٹسوانا پہنچ کر یہ دریا دنیا کے سب سے بڑے اندرونی ڈیلٹاؤں میں سے ایک، اوکاوانگو ڈیلٹا تشکیل دیتا ہے۔ یہ ڈیلٹا تقریباً ۱۵ سے ۲۲؍ہزار مربع کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے، جس کا رقبہ بارش اور پانی کی مقدار کے مطابق کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دریا کا پانی کسی سمندر یا جھیل میں نہیں گرتا بلکہ صحرا کی ریت میں جذب ہو جاتا ہے یا شدید گرمی کی وجہ سے بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔اوکاوانگو ڈیلٹا کو افریقہ کی جنگلی حیات کے لیے ایک جنت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ہاتھی، شیر، چیتے، دریائی گھوڑے، مگرمچھ، بھینسے، ہرنوں کی مختلف اقسام اور ۴۰۰؍سے زائد اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا کے اہم ترین قدرتی ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔اوکاوانگو ڈیلٹا کو ۲۰۱۴ء میں یونیسکو (UNESCO) نے عالمی ثقافتی ورثے (World Heritage Site) میں شامل کیا تھا کیونکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا اندرونی ڈیلٹا ہے اور اس کی حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ گیمبیا کے ایک وفد کی گیمبیا میں جرمنی کے سفیر سے ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button