تیاری جلسہ سالانہ مسجد فضل اور خلیفۂ وقت سے ملاقات کےایمان افروز واقعات (رپورٹ: مستورات)
مسجدِفضل ابتداء تھی، اس کا رتبہ ہے جلی

سب سے پہلے شہر لندن میں یہی مسجد بنی
اکتوبر ۱۹۲۴ء کی ٹھٹھرتی سہ پہر کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک ہاتھوں سے مسجد فضل کا رکھا جانے والا سنگ بنیاد، آج پوری دنیا میں کاروانِ احمدیت کے ایک عظیم الشان سنگ میل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تقریباً ایک صدی قبل لجنہ اماءاللہ قادیان کی مخلص قربانیوں کی جمع پونجی سے تعمیر شدہ یہ مسجد، امسال ایک باقاعدہ نظامت کی شکل میں جلسہ سالانہ یوکے پر آنے والے مہمانوں کی میزبانی کے لیے مرکزِ استقبال ہے۔


مہمانوں کو ان کی سہولت اور ضرورت کے مطابق کمرے مہیا کیے گئے ہیں۔ کچن میں ناشتے کا تمام ضروری سامان میسر کیا گیا ہے۔ کھا نے کا انتظام ڈائننگ ہال میں ہے۔ ایک دوسرے سے رابطہ میں رہنے کے لیے وائی فائی کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ مہمان عمومی طور پر نمازیں مسجد فضل میں ادا کرتے ہیں مگر حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے لیے اسلام آباد پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا خاص انتظام بھی موجود ہے۔
خلیفۂ وقت سے ملاقات کےقیمتی واقعات: حضور انور ایَّدہ اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ کے موقع پر آنے والے نمائندگان کو ملاقات کا شرف بخشتے ہیں۔ ایسے خوش قسمت خواتین و حضرات ان انمول لمحوں کی مہک کو اپنے دل میں سمیٹے یوں لوٹتے ہیں کہ برسوں ان کا ذکر کرتے اور اس کا حظ بار بارمحسوس کرتے ہیں۔
ایک نمائندہ مہمان اپنے فرزند کے ساتھ جلسہ میں شمولیت کے لیے حاضرہوئی ہیں، انہیں حضور انور سے ذاتی ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ بیان کرتی ہیں کہ ملاقا ت کے لمحات تو خدا تعالیٰ کےخاص فضلوں سے بھر پور تھے۔اپنے پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے روبرو دیکھنا، یوں لگتا تھا جیسے پورا کمرہ نور سے بھرا ہوا ہے۔ پیارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بہت شفقت کا اظہار فرمایا اوراپنی گوں نا گوں مصروفیات میں سے وقت عطا فرمایا۔
اسی طرح ایک اور نمائندہ مہمان اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ملاقات کے انتظار میں بیٹھے ہوئے یہ سوچ کر ہی ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے جاتےتھے کہ سالوں کے انتظار کی گھڑیاں اب ختم ہونے کو ہیں اور اپنے پیارے خلیفہ کا دیدار ہونے کو ہے۔کہتی ہیں کہ پھروہ خوش قسمت گھڑی بھی آن پہنچی جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کمرہ میں داخل ہوئیں۔ کمرہ میں ایسا ماحول تھا کہ گویا ہر طرف نور ہی نورتھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایم ٹی اے پر توحضور کو دیکھتے ہی ہیں لیکن بنفس نفیس حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بہت قد آور لگ رہے تھے، اور احترام سے نظریں جھک رہی تھیں۔ پیارے آقا نے ہی از راہ شفقت باتیں شروع کیں۔ یہ جان کر خوب حیرت ہوئی کہ پیارے حضور کو ان کا نام معلوم تھا اور یہ بھی کہ کہاں سے آئی ہیں۔ پھران کی صحت کے بارہ میں بھی دریافت فرمایا۔ نہایت تسلی سے پیارے آقا نے باتیں کیں۔ کہتی ہیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے پاس بس صرف ہمارے لیے ہی وقت ہے۔ مکمل توجہ سے وقت دیا اور تبرک بھی عطا فرمایا۔
ملاقات کے بعد باہر ایم ٹی اے ٹیم کی ممبرات بھی تاثرات پوچھ رہی تھیں۔ ان کو بھی انہوں نےیہی کہا کہ یہ ناقابل بیان جذبات ہیں۔ الفاظ احاطہ ہی نہیں کر سکتے۔ پھر آپاجان سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بھی بہت پیار اور شفقت سے ملاقات کی۔
(رپورٹ: شعبہ رپورٹنگ مستورات جلسہ گاہ)
