نظم
الْقَصِيْدَةُ الْمُبْتَكِرَةُ الْمُحَبَّرَةُ
لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكْلِى وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاَهَالِيْ
دستر خوانوں کا پس خوردہ میری خوارک تھا اور آج میں کئی گھرانوں کو کِھلانے والا بن گیا ہوں۔
أَزِيْدُ بِفَضْلِهٖ يَوْمًا فَيَوْمًا وَ أُصْلِيْ قَلْبَ مُنْتَظِرِ الْوَبَالِ
میں اُس کے فضل سے دن بدن ترقی کر رہا ہوں۔ اور ہلاکت کے منتظر کے دل کو جلا رہا ہوں۔
اَلَا يَا حَاسِدِىْ خَفْ قَهْرَ رَبِّيْ وَمَا آلُوكَ نُصْحًا فِي الْمَقَالِ
اے میرے حاسد ! میرے رب کے قہر سے ڈر اور میں تیری خیر خواہی کی بات کہنے میں کوتاہی نہیں کرتا۔
فَلَا تَسْتَكْبِرَنَّ بِفَوْرِ عُجْبٍ وَكَمْ مِنْ مُّزْدَهٍي صَيْدُ النَّكَالِ
پس تو خود پسندی کے جوش میں ہرگز تکبر نہ کر۔ اور بہت سے مغرور عبرت ناک عذاب کا شکار بن چکے ہیں۔
(القصائد الاحمدیہ صفحہ 12)
