کلامِ امام علیہ الصلوٰۃ والسلام

کھانے میں سادگی

حضرت مسیح موعودؑ کی سادگی اور بے تکلفی کے متعلق مکرم بھائی شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند پریس … ’’کہتے ہیں کہ جنگ مقدس کی تقریب پر بہت سے مہمان جمع ہو گئے تھے۔ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کھانا رکھنا یا پیش کرنا گھر میں بھول گیا۔میں نے اپنی اہلیہ کو تاکید کی ہوئی تھی مگر وہ بھی کثرت کا روبار اور مشغولیت کی وجہ سے بھول گئی۔یہاں تک کہ رات کا بہت بڑا حصہ گزر گیا۔اور حضرت نے بڑے انتظار کے بعد استفسار فرمایا۔تو سب کو فکر ہوئی۔بازار بھی بند ہو چکا تھا اور کھانا نہ مل سکا۔حضرت کے حضور صورت حال کا اظہار کیا گیا۔آپ نے فرمایا۔اس قدر گھبراہٹ اور تکلف کی کیا ضرورت ہے دستر خوان میں دیکھ لو کچھ بچا ہوا ہوگا۔وہی کافی ہے۔دستر خوان کو دیکھا تو اس میں روٹیوں کے چند ٹکڑے تھے۔آپؑ نے فرمایا:

’’ یہی کافی ہیں‘‘۔اور اُن میں سے ایک دوٹکڑے لے کر کھالئے اور بس۔

بظاہر یہ واقعہ نہایت معمولی معلوم ہوگا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی اور بے تکلفی کا ایک حیرت انگیز اخلاقی معجزہ نمایاں ہے۔کھانے کے لئے اِس وقت نئے سرے سے انتظام ہوسکتا تھا اور اس میں سب کو خوشی ہوتی مگر آپؑ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ بے وقت تکلیف دی جاوے اور نہ اِس بات کی پرواہ کی ۔کہ پُر تکلف کھانا آپ کے لئے نہیں آیا اور نہ اس غفلت اور بے پروائی پر کسی سے جواب طلب کیا اور نہ جنگی کا اظہار۔بلکہ نہایت خوشی اور کشادہ پیشانی سے دوسروں کی گھبراہٹ کو دور کر دیا۔آپ جانتے تھے کہ مہمانوں کی کثرت میں ایسی باتیں ہو ہی جایا کرتی ہیں‘‘۔

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ مصنفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ حصہ سوم صفحہ 322-323)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button