خاندانِ شہید مرحوم کے پُردرد حالات
سو سال قبل۔ حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہیدؓ کے صاحبزادگان قادیان میں
یہ ہماری انتہائی خوش قسمتی اور نیک بختی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس ارض مقدس کی زیارت کا شرف بخشا جہاں سے ہمارے والد محترم نے نور حاصل کیا تھا اور جہاں پہنچ کر ہم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے
(حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید رضی اللہ عنہ کو جہاں مسیح محمدی کی خاطر۱۹۰۳ء میں کابل افغانستان میں جان کا نذرانہ پیش کرنے کی توفیق ملی وہاں آپ کے خاندان کو بھی ایک عرصہ تک بہت سے ابتلاؤں سے گزرنا پڑا لیکن وہ بھی بفضلہ تعالیٰ حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کی طرح ثابت قدم رہے اور احمدیت کی خاطر ہر قسم کی قربانی دی۔ حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کی شہادت کے بعد آپؓ کے دو فرزندگان محترم سید ابوالحسن قدسی صاحب اور محترم سید محمد طیب صاحب پہلی مرتبہ مارچ ۱۹۲۶ء میں قادیان دارالامان وارد ہوئے۔ اس موقع پر اخبار الفضل قادیان نے ان کے بیان کردہ حالات شائع کیے جو ذیل میں دیے جارہے ہیں۔)
جیسا کہ احباب کرام کو اطلاع دی جاچکی ہے۔ احمدیت پر قربان ہونے والے شہید صادق حضرت صاحبزادہ سیّدعبداللطیف صاحب مرحوم کے دو صاحبزادے جن کے نام سید ابو الحسن صاحب و سید محمد طیب صاحب ہیں، چند دن سے قادیان تشریف لائے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر خوشی اور مسرّت کے جذبات کے ساتھ ہی ان کے والد بزرگ کی شہادت کا واقعہ بھی تازہ ہوجاتا ہےاور اس سے خاص جوش پیدا ہوتا ہے۔ صاحبزادگان موصوف کے چہروں پر نجابت اور شرافت کے آثار نمایاں ہیں اور سلسلہ احمدیہ سے اخلاص اور محبت واضح طور پر مشاہدہ کی جاسکتی ہے۔ چونکہ ان کے والد بزرگ کی احمدیت کے لیے قربانی اور جاں نثاری کے واقعہ کے ساتھ جماعت احمدیہ کے پاک جذبات وابستہ ہیں۔ نیز ان کے اِس وقت تک کے اپنے حالات زندگی بھی احمدیت کی خاطر ایثار اور قربانی کے بے نظیر واقعات سے مملو ہیں اس لیے ایڈیٹر الفضل نے ان کی خدمت میں حاضر ہوکر خواہش کی کہ وہ اپنے حالات مختصر طور پر بیان فرمائیں تا جماعت احمدیہ ان سے آگاہ ہوکر ایمانی لذّت اور سرور حاصل کرسکے اور اس مقدس خاندان کی قربانیوں سے اس کے اندر جوش اور ولولہ پیدا ہو۔

ایک مختصر سی ملاقات میں بوساطت برادرم نیک محمد خان صاحب صاحبزادگان موصوف نے اپنے جو حالات بیان کیے وہ احباب کرام کے ازدیادِ ایمان کے لیے درج ذیل کیے جاتے ہیں۔
حضرت شہید مرحوم نے خدا تعالیٰ کی راہ میں نہایت مردانہ وار نعمت شہادت حاصل کرنے کے وقت اپنی یادگار میں پانچ فرزند ارجمند چھوڑے تھے جن کے نام یہ ہیں:(۱)سید محمد سعید صاحب (۲) سید عبدالسلام صاحب (۳) سید ابوالحسن صاحب (۴) سید محمد عمر صاحب (۵) سید محمد طیب صاحب۔ ان میں سے سب سے بڑے سید محمد سعید صاحب اور سید محمد عمر صاحب فوت ہوچکے ہیں۔ باقی تین بھائی خدا کے فضل و کرم سے زندہ ہیں جن میں سے دو صاحبزادگان قادیان تشریف لائے ہیں اور تیسرے سید عبدالسلام صاحب اپنے خاندان کے ساتھ علاقہ انگریزی میں موجود ہیں۔
جس وقت حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب ؓکی شہادت کا جانکاہ واقعہ کابل کی خونریز اور سفّاک سر زمین میں رُونما ہوا اس وقت صاحبزادہ سید ابو الحسن صاحب کی عمر تین سال کے قریب اور صاحبزادہ سید محمد طیب صاحب کی عمر ڈیڑھ سال کے قریب تھی۔ اس وجہ سے وہ واقعہ شہادت کے متعلق چشم دید حالات بیان نہیں کرسکتے۔ اسی لیے اس واقعہ کے بعد کے حالات دریافت کیے گئے۔
صاحبزادہ سید ابو الحسن صاحب نے بتایا واقعہ شہادت کے بعد حضرت شہید مرحوم کے تمام بال بچوں اور سارے خاندان کو جس کے افراد کی تعداد معہ خدام ایک سو کے قریب تھی فوج اور رسالہ کی حراست میں کابل لے جایا گیا جہاں ان سب کو توچی باغ میں نظر بند کر دیا گیا۔ یہ شروع سردی کا موسم تھا۔ وہاں مہینہ ڈیڑھ مہینہ نظر بند رکھنے کے بعد سب کو ترکستان کے علاقہ میں جلا وطن کر دیا گیا۔ اس وقت سخت سردی پڑرہی تھی اور سامان کی کمی کی وجہ سے اس قافلہ کو سخت تکالیف اور مصائب برداشت کرنا پڑے۔ ترکستان میں حکومت کی طرف سے کچھ زمین دی گئی مگر اس کی آمدنی سارے خاندان کے لیے کافی نہ ہوتی اور اس خاندان کے ایک فرد جو گرفتاری کے وقت علاقہ انگریزی میں تھے اور بنوں کے ضلع میں اس خاندان کی جو جائیداد ہے اس کا انتظام کرتے تھے۔ وہ اس جائیداد کی آمدنی وہاں پہنچاتے رہےجس سے گزارہ ہوتا رہتا۔اس حالت میں سات سال کے قریب یہ خاندان ترکستان میں رہا۔ اس کے بعد علاقہ خوست کے سرکردہ لوگوں اور نمبرداروں نے حکومت میں ایک درخواست دی جس میں لکھا کہ چونکہ یہ خاندان ہمارے لیے بہت ہی واجب الاحترام ہے اورسید ہونے کی وجہ سے نہایت قابل عزت و تعظیم اور یہ بچے واقعہ شہادت کے وقت بہت چھوٹے چھوٹے تھے، انہیں احمدیت کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ اس لیے ان کو رہا کردیا جائے۔
امیر حبیب اللہ خان نے جو اس وقت حکمران تھے یہ درخواست منظور کرلی اور شہید مرحوم کے خاندان کو ترکستان سے واپس بُلا کر اپنے اصلی وطن خوست میں رہنے کی اجازت دے دی۔ مگر جائیداد اور جاگیر جو حکومت نے ضبط کر لی تھی واپس نہ دی۔
یہ عجیب اتفاق ہواکہ جس موسم میں یہ مقدس خاندان اپنے وطن سے نکالا گیا تھا اسی میں واپس آیایعنی سردی کے شروع ایام تھے۔ قریباً چھ ماہ کے بعد اس خاندان کے ان افراد کو جو احمدی نہ تھے ان کی جائیداد دے دی گئی۔ مگر حضرت شہید مرحوم کے صاحبزادگان کو ان کی جائیداد نہ دی اور امیر کے بھائی نصراللہ خان نے نہ دینے کی وجہ یہ بتائی کہ ان کی بہت بڑی جائیدادہے اس لیے نہیں دی جاسکتی۔ اس پر جب ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے ان سے کہا کہ پھر یہ لوگ گزارہ کیونکر کرینگے؟ تو سردار نصراللہ خان نے یہ جواب دیا کہ جس طرح ان کی مرضی ہوکریں ہم کچھ نہیں دینگے۔ چونکہ اس خاندان سے عقیدت رکھنے والے اس علاقہ میں بکثرت لوگ تھے اور وہ اس حال میں ان کو نہ دیکھ سکتے تھے اس لیے حکومت نے یہ خیال کر کے کہ وہ لوگ اس ظلم کے باعث جو شہید مرحوم کے بال بچوں پر روا رکھا جارہا تھا کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں، اس خاندان کو زیرِحراست کابل بلالیا۔ اس وقت اس قافلہ کی تعداد معہ خدام ۱۴؍رہ گئی جنہیں کابل میں دو بہت ہی تنگ کوٹھڑیاں رہنے کے لیے دی گئیں۔ اس کے متعلق درخواست دی گئی کہ اتنی تنگ جگہ میں گذارہ مشکل ہے اور خدام کے لیے علیحدہ رہنے کی جگہ کا ہونا ضروری ہے لیکن اس کے جواب میں کہا گیا ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ آخر ایک مکان اپنے کرایہ پر لیا گیا تب جاکر گذارہ ہونے لگا۔ان ایام میں ہفتہ میں دوبار کوتوالی جاکر اطلاع دینی پڑتی تھی کہ ہم لوگ اسی جگہ ہیں اور گھر پر محلہ کا نمبردار دن رات نگرانی کرتا تھا۔ اس حالت میں سارا خاندان پانچ سال تک رہا کہ ایک پنجابی جن کا نام فضل کریم (گوجراتی) تھا، کابل گئے اور احمدی ہونے کی وجہ سے پکڑے گئے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ یہاں کوئی اَور بھی احمدی ہے تو انہوں نے ہمارا نام لیا۔ اس پر ہم پانچوں بھائی معہ ایک اَور رشتہ دار کے جو بطور مہمان ہمارے پاس آئے ہوئے تھے، گرفتار کر لیے گئے۔ ہمارے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر ہمیں جیل خانہ میں ڈال دیا گیا اور یہاں تک ہم پر تشدد اور سختی کی گئی کہ ان ہی ایام میں جب ہماری والدہ صاحبہ فوت ہوئیں تو ہمیں ان کا آخری دفعہ چہرہ دیکھنے تک کی اجازت نہ دی گئی۔ آخر ہمارے یہ کہنے پر کہ ان کی تجہیز و تکفین کرنے والا سوائے ہمارے کوئی نہیں، صرف ہمارے بڑے بھائی کو اجازت دی گئی کہ وہ جاکر دفن کر آئیں۔ باقی کسی کو چہرہ دیکھنے کی بھی اجازت نہ ملی۔ اس قید میں ہم لوگ آٹھ ماہ کے قریب رہے جہاں ہم سب خرچ اپنا کرتے تھے کیونکہ حکومت ہمیں قید میں ڈال کر اور بیڑیاں پہنا کر کھانے پینے کے لیے کچھ دینے پر تیار نہ تھی۔آخر سردار امان اللہ خاں صاحب کے ایک سیکرٹری کو ہم نے تین سو روپیہ دیا اور اس نے امان اللہ خاں صاحب سے سفارش کرا کر ہمیں رہا کرادیا۔
اس آٹھ ماہ کے عرصہ میں اس قدر تکلیف دی گئی اور ہم پر اتنا تشدد کیا گیا کہ جیل خانہ کی تکالیف کی وجہ سے ہمارے ایک بھائی سید محمد عمر صاحب بیمار ہوگئے اور آخراسی بیماری سے فوت ہوگئے۔ مَیں (ابوالحسن صاحب) بھی بیمار ہوگیا۔ گو میں رہائی کے ایک ماہ بعد اچھا ہوگیا لیکن ان تکالیف کے اثرات تاحال میرے جسم میں موجود ہیں۔ قید خانہ سے نکلنے کے ایک سال بعد ہمارے سب سے بڑے بھائی سید محمد سعید صاحب فوت ہوگئے۔ ان کے فوت ہونے کے بعد -۱۵ ۱۶ دن کے اندر امیر حبیب اللہ خان صاحب قتل ہوگئے۔ اس کے بعد جب امیر امان اللہ خاں صاحب حکمران ہوئےتو ان کی حکومت کے ابتدائی ایام میں پھر علاقہ خوست کے سرکردہ لوگوں نے جن کا ہیڈ ایک مشہور و معروف شخص بابرک خاں تھا اسی قسم کی درخواست دی جس قسم کی ترکستان میں جلا وطنی کے ایام میں انہوں نے دی تھی۔ اس پر امیر امان اللہ خاں صاحب نے ہم لوگوں کو رہا کر دیا اور ساتھ ہی یہ حکم دے دیا کہ ان کو ان کی جائیداد مل جائے۔ اس امر کے متعلق ہمیں امیر امان اللہ خان صاحب کی طرف سے ایک فرمان بھی ملا جو ہم نے علاقہ خوست کے گورنر کو لا کردیا اور اس نے حکم جاری کر دیا کہ جہاں جہاں ان کی زمین ہے وہ ان کو دے دی جائے۔
اس طرح ایک دفعہ پھر ہمارا خاندان اپنے وطن میں آگیااور زندگی بسر کرنے لگا۔ اس حالت پر چار سال کے قریب عرصہ گذرا ہوگا کہ امیر امان اللہ خان صاحب کے خلاف علاقہ خوست میں بغاوت پھوٹ پڑی ۔ ہم چونکہ حکومت کے خیرخواہ تھے اور سرکاری آدمیوں کےساتھ مل کر بغاوت فروکرنے کے لیے علاقہ میں پھر رہے تھے اس لیے باغیوں نے ہماری عدم موجودگی میں ہمارے مکانات جلادئیےاور باغات کاٹ ڈالے۔ لیکن چونکہ بغاوت احمدیت کے بہانے سے کی گئی اور ہم احمدی مشہور تھے اس لیے حکومت نے سید میراکبر صاحب، سید ابوالحسن صاحب، شیخ عبدالصمد صاحب اور امین گل صاحب کو پکڑ کر قید کر دیا۔ سات دن کے بعد مؤخرالذکر دو شخصوں کو تو رہا کر دیا گیا اور باقی کو قید رکھا گیا جو ۱۹ ماہ تک قید میں رہے۔ اس اثنا٫ میں چونکہ درگئی کے علاقے میں امن تھاکیونکہ اس علاقہ کے لوگ امیر کے حامی تھے اس لیے باقی ماندہ خاندان کو اس علاقہ میں پہنچا دیا گیا۔ چونکہ ان دنوں سید محمدطیب صاحب رہا تھے اس لیے ان کی کوشش اورسعی سے خوست کے سربرآوردہ لوگوں نے پھر حکومت میں اس قسم کی درخواست دی جس قسم کی وہ دو دفعہ پہلے دے چکے تھے۔ اس پر وزیر حربیہ نے ایک طرف تو یہ حکم لکھ دیا کہ ان کو رہا کر دو۔ مگر دوسری طرف اس حاکم کو جس کی نگرانی میں تھے یہ لکھا کہ رہا نہ کرو بلکہ میرے پاس بھیج دو، میں ان کو کابل لے جاؤں گا اور محمدطیب اور عبدالسلام کو بھی گرفتار کر لو معہ ان کے تمام خاندان کے۔ اس حاکم کا نام محمد گل تھا۔ انہوں نے سید محمد طیب صاحب سے کہا کہ میں وزیر حربیہ سے دریافت کرتا ہوں کہ ان دو مختلف باتوں کا کیا مطلب ہے اور پھر جواب دوں گا۔ یہ حالت دیکھ کرسیدمحمدطیب صاحب راتوں رات وہاں سے بھاگے اور اپنے لواحقین کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں آکر انہوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی سید عبدالسلام کی گرفتاری کے لیے تین سوار آئے ہوئے ہیں۔ اس پر انہوں نے معہ خاندان وہاں سے نکل کر کہیں اور چلے جانے کی تیاری شروع کردی۔ کیونکہ جو بھائی قید میں تھے، انہوں نے بھی کہہ دیا تھا کہ ہمیں حوالہ بخدا کرکے کہیں دور چلے جاؤ۔ اس تجویز کے ماتحت جبکہ سوار مکان کے ایک طرف تھے، دوسری طرف سے ۱۲ بجے رات کے تمام خاندان کو لے کر سید عبدالسلام صاحب نکل کھڑے ہوئے اور سید محمدطیب صاحب گھر کے بقیہ سامان اور اسباب کو سنبھالنے کے لیے پیچھے رہ گئے جو صبح کو ایک اور راستہ سے ادھر کو ہی چلے۔ جب سواروں کو اس خاندان کے چلے جانے کا علم ہوا تو وہ گاؤں کے نمبرداروں اور دوسرے لوگوں کو لے کر پیچھے بھاگےاور ایک مقام پر جس کا نام گربز ہے، صبح کے وقت سب کو گرفتار کرلیا اور واپس گاؤں میں لےآئے۔ وہاں لاکر عورتوں اور بچوں کو ایک شریف انسان جن کا نام بہرام ہے، کی ضمانت پر رہا کر دیا اور سب مردوں کو گرفتار کر کے خوست کی چھاؤنی میں لے گئے۔ وہاں سید عبدالسلام صاحب کو قید کر دیا گیا اور باقیوں کو چھوڑدیا۔ کچھ دنوں کے بعد جب پہلا حاکم خوست بدل گیا اور اس کی جگہ دوسرا آیا تو ہم نے درخواست دی کہ ہم بے گناہ ہیں، ہمیں رہا کر دیا جائے۔ اس پر اس نے ہماری مثل منگائی جسے پڑھ کر اس نے کہا سید عبدالسلام کو تو میں خود رہا کرتا ہوں اور باقی دو کی رہائی کے لیے حاکم اعلیٰ کو لکھ کر مثل اس کے پاس بھیج دی۔ اس نے کہا کہ خوست کے علاقہ کے لوگوں نے چونکہ احمدیت کی وجہ قرار دیکر بغاوت کی تھی اور احمدیت کے باعث ان کو گرفتار کیا گیا تھا اس لیے ان کے متعلق خوست کے سرداروں سے پوچھا جائے کہ ان کو چھوڑا جائے یا نہ۔ خوست کے سرکردہ لوگوں نے کہا ہم ان کا کوئی قصور نہیں سمجھتے، یہ بے گناہ ہیں یہ خود شریف اور شریف زادے ہیں۔ انہوں نے کبھی حکومت کے خلاف کسی فساد میں حصہ نہیں لیا۔ یہ اپنے باپ کے وقت سے حکومت کے خیر خواہ اور مددگار چلے آئے ہیں۔ اس پر رہا کردیا گیا۔ لیکن ایک مہینہ سے کچھ ہی زیادہ عرصہ گذرا تھاکہ خوست کے گورنر نے حکم بھیج دیا ان کو گرفتار کر کے کابل بھیج دیا جائے۔ اس پر سید ابو الحسن صاحب کو گرفتار کر کے چھاؤنی خوست میں لے گئے۔ وہاں حاکم ضلع نے حاضری کی ضمانت لےکر اس لیے رہا کردیاکہ اپنے باقی دو بھائیوں کو بھی جاکر لے آؤ۔ سید ابوالحسن صاحب کے واپس آنے پر سارے خاندان نے مشورہ کیاکہ اب کیا کرنا چاہیے۔ آخر یہ تجویز ہوئی کہ چونکہ ابھی تک ہمارے متعلق حکومت کی نیت بخیر نہیں ہے اس لیے ہمیں یہ ملک ہی چھوڑ کر نکل جانا چاہیئے۔ اس پر ۲؍فروری ۱۹۲۶ءکو وہاں سے نکل کر علاقہ بنوں میں جہاں اس خاندان کی اپنی جاگیر ہے پہنچ گئے۔
آخری دفعہ جب صاحبزادگان کو خوست میں قید کیا گیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ نے برادر نیک محمد خاں صاحب کو ان کے حالات دریافت کرنے کے لیے وہاں بھیجا تھا اور پھر جب سارا خاندان بنوں کے علاقہ میں آگیا تو پھر حضور نے انہی کو خوش آمدید کہنے کے لیے ان کے پاس بھیجا اور دو صاحبزادگان قادیان میں ان کے ہمراہ تشریف لائے۔اس وقت اس خاندان کے وہ افراد جو حکومت کابل سے نکل کر انگریزی علاقہ میں آگئے ہیں یہ ہیں حضرت شہید مرحوم کے تین صاحبزادگان۔ ایک ان کی اہلیہ محترمہ جو سید محمد طیّب صاحب کی والدہ ماجدہ ہیں۔ (حضرت شہید مرحوم کی چار بیویاں تھیں جن میں سے تین فوت ہوچکی ہیں) صاحبزادہ محمد سعید صاحب مرحوم کا بیٹا سید محمد ہاشم۔ دو لڑکیاں اور ایک بیوی۔ سید عبدالسلام صاحب کے دو لڑکے۔حضرت شہید مرحوم کی ہمشیرہ صاحبہ اور ان کے دو صاحبزادے جن کے نام عبدالقدوس اور عبدالربّ ہیں۔
اپنی یہ مختصر سی مگر نہایت درد ناک سرگذشت بیان کرنے کے بعد صاحبزادگان نے نہایت اخلاص اور رقت کے ساتھ بیان کیا کہ دارالامان میں پہنچ کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پہلی ہی ملاقات کرنے پر حضور نے ہم پر اس قدر شفقت اور نوازش فرمائی ہے کہ ہمیں اپنی تمام تکالیف اور مصائب بھول گئے ہیں اور ہم حضور کے لطف و کرم کا شکریہ ادا کرنے سے اپنے آپ کو قطعاً قاصر پاتے ہیں۔ یہ ہماری انتہائی خوش قسمتی اور نیک بختی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس ارض مقدس کی زیارت کا شرف بخشا جہاں سے ہمارے والد محترم نے نور حاصل کیا تھا اور جہاں پہنچ کر ہم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ کی قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔
احباب کرام نے اس سر گذشت کو پڑھ کر اندازہ لگایا ہوگا کہ صاحبزادگان موصوف نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئےاپنی ذاتی تکالیف کا بہت کم ذکر کیا ہے۔ حالانکہ ان سے عرض کردیاگیا تھا کہ چونکہ ان کے مصائب اور مشکلات جماعت کے لیے ازدیاد ایمان کا موجب ہوں گے اس لیے وہ افغانی حجاب کو قطع کرتے ہوئے وضاحت سے ان کا ذکر کریں۔ بہرحال جس قدر حالات انہوں نے بیان کئے ہیں وہ بھی کوئی کم مؤثر نہیں ہیں … خدا تعالیٰ شہید مرحوم کے ان نونہالوں کو اپنے والد محترم کی شاندار یادگار بنائے اور ان برکات و فیوض سے بہرہ وافر بخشے جن کی خاطر انہوں نے اس قدر مشکلات اور تکالیف کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔
(الفضل ۲۶؍مارچ ۱۹۲۶ء صفحہ ۳،۴)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: قیامِ توحید کے لیےرسول کریم ﷺکی عظیم الشان جدوجہد




