کھیل کی دنیا

سرگودھا سے گلاسگو تک: فاطمہ زہرا کا دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کے لیے پہلا تمغہ (قسط دوم)

)تحریر: ارشد محمود خاں۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل سکاٹ لینڈ)

سکاٹ لینڈ کے زندہ دل شہر گلاسگو میں 2026ء کے دولتِ مشترکہ کھیل اپنے پورے جوش و خروش، رنگینیوں اور شاندار مقابلے بازی کے ساتھ جاری ہیں۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں کھلاڑی اپنے اپنے ملکوں کا پرچم بلند کرنے کے لیے میدانِ عمل میں ہیں، لیکن اس بار ان کھیلوں کا ایک خاص اور تاریخی پہلو ایک مسلم خاتون کھلاڑی کی غیر معمولی کامیابی بنا ہے۔

سرگودھا سے گلاسگو تک: ایک تاریخی کامیابی

پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی پاکستانی ویمنز باکسنگ ٹیم کی کپتان فاطمہ زہرا نے گلاسگو دولتِ مشترکہ کھیلوں میں تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے شاندار حکمتِ عمل، تیز رفتاری اور بہترین تکنیک کا مظاہرہ کرتے ہوئے باکسنگ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے، جس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے لیے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں خواتین کا پہلا تاریخی تمغہ یقینی بنا لیا ہے۔

فاطمہ زہرا جب گلاسگو کے لیے روانہ ہوئی تھیں تو ان کے دل و دماغ میں چھ مرتبہ کی عالمی چیمپئن اور اولمپک میڈلسٹ باکسر میری کوم کا نام تھا، اور ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے ملک کے لیے کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دیں جو تاریخ میں یاد رکھا جائے۔

دیگر مقابلوں کا مختصر جائزہ

گلاسگو کے میدانوں میں ریکارڈ توڑ کارکردگی اور اعداد و شمار کی برسات جاری ہے:

  •  کھیلوں کے نئے ریکارڈز: سوئمنگ پول اور سائیکلنگ ویلوڈروم میں 4 نئے گیمز ریکارڈز جبکہ 1 نیا عالمی ریکارڈ قائم ہو چکا ہے۔ خاص طور پر بحرِ الکاہل کے ایک چھوٹے اور غریب جزیرے ‘وانواتو’ (Vanuatu) سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام ایتھلیٹ نے ویٹ لفٹنگ میں نیا گیمز ریکارڈ قائم کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
  • تماشائیوں کی آمد اور عالمی ناظرین: گلاسگو کے مختلف اسپورٹس وینیوز میں مقابلوں کو براہِ راست دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے 500,000 (پانچ لاکھ) سے زائد شائقین سکاٹ لینڈ پہنچ چکے ہیں، جبکہ ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں 1.2 ارب (1.2 Billion) سے زائد افراد ان کھیلوں کو دیکھ رہے ہیں۔
  • ایتھلیٹکس اور سائیکلنگ: ایمریٹس ایریرا اور سر کرس ہوئے ویلوڈروم میں تیز رفتار مقابلوں نے شائقین کے دل جیت لیے ہیں۔
  • تیراکی (Swimming): ٹال کراس انٹرنیشنل سوئمنگ سینٹر میں متعدد نئے ریکارڈز قائم ہوئے ہیں۔
  • جڈو اور جمناسٹکس: مختلف براعظموں سے آئے باہمت کھلاڑی اپنے توازن اور طاقت کا لوہا منوا رہے ہیں۔

میڈل ٹیبل کی تازہ ترین صورتِ حال

تمغوں کی دوڑ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان روایتی رقابت جاری ہے، جبکہ میزبان ملک سکاٹ لینڈ نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی ہے:

درجہ (Rank)ملک (Country)سونے کے تمغے (Gold)چاندی کے تمغے (Silver)کانسی کے تمغے (Bronze)کل تمغے (Total)
1آسٹریلیا (Australia)18121040
2انگلینڈ (England)12141137
3سکاٹ لینڈ (Scotland – میزبان)75820
4کینیڈا (Canada)68721
5نیوزی لینڈ (New Zealand)54413

اسلامی اخلاق اور کھیلوں کے ذریعے یکجہتی

موجودہ دور کی شدید عالمی کشیدگی، جنگوں اور تقسیم کے ماحول میں کھیلوں کا یہ میلہ اقوامِ عالم کو قریب لانے اور باہمی تنازعات کو بھلا کر احترامِ انسانیت قائم کرنے کا ایک عظیم الشان ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ فاطمہ زہرا جیسے نوجوانوں کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان جب محنت، ڈسپلن اور اعلیٰ اخلاق کو اپنا شعار بناتا ہے تو کامیابی اس کے قدم چوستی ہے۔

سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس (ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز) نے ہمیشہ اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ کھیل انسان کے اخلاق کی اصلاح، سلامت طبع اور اقوام کے درمیان باہمی تعارف اور محبت کا ذریعہ بننے چاہئیں۔ احمدیہ مسلم جماعت کا منشور "محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں” کھیلوں کے ایسے تمام بین الاقوامی میدانوں میں عملی طور پر جلوہ گر ہوتا ہے، جہاں دنیا کے ہر خطے، نسل اور مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان باہمی احترام کے ساتھ ایک ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button