الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
ایمان میں تازگی
محترم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کے بزرگ حنفی المذہب تھے۔ مگر آپ چونکہ ہر وقت سچائی کی جستجو میں لگے رہتے تھے اس لیے جلد ہی آپ اہلحدیث گروہ میںشامل ہوگئے۔ اُس وقت آپ سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ میںپڑھتے تھے جہاں ایک پادری سے بحث مباحثہ رہتا تھا۔ مگر حیاتِ مسیحؑ کے عقیدہ کی وجہ سے سخت زک اٹھانا پڑتی تھی۔ اس وجہ سے دین پر شبہات بھی پیدا ہوگئے۔ بعض مرتبہ یہ بھی خیال آتا تھا کہ کیوں نہ آریہ بن جائیں۔ آپ کے قبول احمدیت کا ایمان افروز واقعہ ’’تاریخ احمدیت لاہور‘‘ کی زینت ہے جو روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۸؍دسمبر۲۰۱۴ء میں منقول ہے۔
طبیعت کی اس بےچینی کے زمانہ میںآپ کے دادا نے حضر ت اقدس مسیح موعودؑ کی کتاب ’’فتح اسلام‘‘ آپ کو دیتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو چودھویں صدی کا کرشمہ۔ ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ کتاب اس نے شائع کی ہے۔ آپ نے جو اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو خوشی سے سرشار ہوگئے اور جب تک ختم نہ ہوئی اسے ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ کچھ روز بعد حضرت مسیح موعودؑ سیالکوٹ تشریف لے گئے اور حضرت حکیم حسام الدین صاحبؓ کے مکان پر قیام فرمایا تو آپ بھی حاضر ہوئے اور حضرت اقدسؑ کو دیکھتے ہی دل اس یقین سے بھر گیا کہ یہ منہ جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔ حضورؑ کی اقتداء میں عصر کی نماز پڑھی اور مختلف مسائل دینیہ پر گفتگو بھی سنی۔ مگر حضورؑ کے تشریف لے جانے کے بعد سیالکوٹ کی ایک جامع مسجد میں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کی ایسی تقریر سنی کہ آپ کا روحانی سکون ایک بار پھر برباد ہو گیا۔ ان ایام میں چشتیہ صابریہ خاندان کے ایک صوفی منش بزرگ سے آپ نے بہت سے اوراد و وظائف سیکھے مگر طبیعت کو سکون پھر بھی نصیب نہ ہوا۔ پھر ایک احمدی فوجی حضرت مولوی جلال الدین صاحبؓ سے ’’براہین احمدیہ‘‘ مل گئی تو اسے پڑھ کر ایمان میں تازگی پیدا ہوئی اور یقین ہوگیا کہ حضرت مرزا صاحبؑ کا دعویٰ سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کی صداقت کے دلائل صرف آپؑ ہی بیان کر سکتے ہیں۔ پھر لاہور میں ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ والا مضمون سن کر اس خیال کو اَور بھی تقویت ملی۔ اس کے بعد آپ کچھ عرصے کے لیے بسلسلہ ملازمت افریقہ چلے گئے۔ وہاں بعض احمدیوں سے ملاقات رہی۔ پھر واپس آکر پہلے ضلع سیالکوٹ میںاور پھر شکر گڑھ ضلع گورداسپور میں پلیگ ڈیوٹی پر متعین ہوئے۔ آپ کے اہل وعیال اُن دنوں امرتسر میں مقیم تھے۔ ایک روز اطلاع ملی کہ آپ کا دو سالہ بیٹا بعارضہ ٹائیفائیڈ بیمار ہے۔ آپ گھبرا گئے اور ایک ہفتہ کی رخصت لے کر گھر پہنچے۔ رخصت ختم ہوگئی مگر بچے کے بخار میںکمی نہ آئی۔ بیگم صاحبہ نے کہا کہ گورداسپورتو جانا ہی ہے، قادیان میں جاکر حضرت مرزا صاحب سے دعا ہی کروالو، کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ فضل کردے۔ اس پر آپ نےقادیان کی راہ لی اور دو بجے رات قادیان پہنچے۔ دیکھا کہ مسجد مبارک تہجدگزاروں سے بھری ہوئی ہے اور حضرت اقدسؑ اندر تہجد پڑھ رہے ہیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر بےحد متأثر ہوئے۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کے ساتھ پرانی دوستی تھی۔ انہوں نے آپ کو حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش کیا تو دیکھتے ہی سارے شکوک و شبہات کافور ہوگئے۔ پھر علیحدگی میں ملاقات کرکے کوئی وظیفہ پوچھا تو حضورؑ نے فرمایا: ’’یہی کہ نمازیں سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھا کرو۔‘‘ حضورؑ کی یہ تلقین سن کر دل پر خاص اثر ہوا۔ بچے کی صحت کے لیے دعا کی درخواست کی تو حضورؑ نے اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کردی۔ پھر بیعت کرکے شکر گڑھ پہنچے تو تیسرے روز خط ملا جس میں لکھا تھا کہ لڑکابالکل اچھا ہے ہرگز کوئی فکر نہ کریں۔ جب رخصت لے کر گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ جس روز صبح حضرت اقدسؑ سے دعا کروائی تھی اس روز حالت بہت خراب تھی مگر پچھلی رات اچانک بخار اتر گیا۔معالج ڈاکٹر کو جب اطلاع ہوئی تو وہ مانتا ہی نہ تھا مگر جب اس نے خود آ کر ٹمپریچر لیا اور نبض دیکھی تو حیران رہ گیااور کہنے لگا کہ یہ تو کوئی اعجاز مسیحائی ہے کہ مُردہ زندہ ہو گیا ہے۔
………٭………٭………٭………
محترم صوفی منظور احمد صاحب
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۲؍دسمبر۲۰۱۴ء میں مکرمہ ن۔ حفیظ صاحبہ نے اپنے والد محترم صوفی منظور احمد صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے نانا اور دادا ابو تین بھائی تھے جو چونڈہ ضلع سیالکوٹ کے قریبی گاؤں لبّے کے رہنے والے تھے۔ نانا ابو سب سے بڑے تھے۔ جب ان کی عمر قریباً اٹھارہ انیس برس تھی تو انہوں نے حضرت صوفی علی محمد صاحبؓ کی دعوت الیٰ اللہ کے نتیجے میں حضرت مصلح موعودؓ کی بیعت کرلی۔ چھوٹے دونوں بھائی بھی ان کے ساتھ ہی احمدی ہوئے مگر والدہ صاحبہ نے احمدیت قبول نہ کی۔ نانا ابّو کا نکاح اپنی ماموں زاد سے ہو چکا تھا۔جب آپ احمدی ہو گئے تو آپ کے ماموں نے رخصتی کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن نانا ابو نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔ چھ ماہ کی خاموشی کے بعد انہوں نے خود ہی رخصتی کا پیغام بھجوا دیااور رخصتی کردی۔ اس کے بعد دادا ابو کی شادی بھی ان کی چھوٹی بیٹی سے ہو گئی مگر خود انہوں نے احمدیت قبول نہ کی جبکہ میری نانی امّاں اور دادی امّاں دونوں نے بیعت کرلی اور آخری دم تک وفا کے ساتھ اسے نبھایا۔ دونوں خدا کے فضل سے موصیہ تھیں۔
دادا ابو کی سب سے بڑی اولاد میرے والد محترم صوفی منظور احمد صاحب تھے جو ۱۲؍مئی ۱۹۴۲ء کو پیدا ہوئے اور ان کے بعد چار بہنیں ہوئیں۔ ہماری چھوٹی پھوپھو جس دن پیدا ہوئیں اسی رات دادا ابّو بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ ابا جان اس وقت نویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ گھر میں کمانے والا کوئی نہیں تھا۔ مجبوراً انہیں تعلیم چھوڑ کر دیگر ذمہ داریوں کو نبھانا پڑا جو انہوں نے انتہائی محنت اور اخلاص سے نبھائیں۔ بہت صابر و شاکر اور انتہائی محنتی انسان تھے۔ ایک باپ کی طرح اپنی بہنوں کو پالا، ان کی تربیت کی اور پھر شادیاں کیں۔ ہمیں کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم دونوں بہنیںہی ان کی بیٹیاں ہیں بلکہ ہمیشہ ایسے ہی محسوس ہوتا کہ ابو جان کی پانچ بیٹیاں ہیں۔ ہماری ایک بہن چھوٹی عمر میں فوت ہو گئی تھی ۔
اللہ تعالیٰ نے ابو کی محنت کو نیک پھل عطا کیے اور دولت، شہرت اور عزت سب کچھ عطا کیا۔ آپ ایک انتہائی فرمانبردار بیٹے تھے جنہوں نے اپنی ماں کے سامنے کبھی اُف تک نہ کی۔ ہمیں صرف نماز میں سستی پر ڈانٹتے اور مثالوں سے سمجھاتے کہ ہماری پیدائش کا مقصد کیاہے۔ کئی دفعہ میرا چھوٹا بھائی ابو کی غیرموجودگی میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتا۔ ابو آتے تو دادی اماں انہیں ڈانٹتیں کہ تم اولاد کی تربیت نہیں کرتے۔ آپ خاموشی سے سنتے رہتے اور پھر بھائی سے صرف یہ کہتے یار تم کو شرم نہیں آتی بوڑھے باپ کو ڈانٹ پڑواتے ہو۔یہ جملہ آج بھی جب یاد آتا ہے تو آنکھیں بےاختیار برستی ہیں اور دعا کرتی ہوں کہ خدا ہر کسی کو ایسا ہی شفیق باپ عطا فرمائے۔
آپ جماعتی غیرت بہت رکھتے تھے۔ آپ کا اصول تھا کہ کوئی ایسا کام نہ کرو کہ احمدیت پر حرف آئے۔ کبھی کسی کو بُرا نہ کہو کہ بدلے میں وہ جماعت کو برا بھلا کہے اور حضرت مسیح موعودؑ کو گالیاں دے۔ دیگر احمدیوں کو بھی سمجھاتے کہ اگر جماعت پر حرف آتا ہو تو وہاں اپنا حق بھی چھوڑ دو اور حضرت مسیح موعودؑ کے فرمان کے مطابق سچے ہو کرجھوٹے کی طرح تذلّل اختیار کرو، اس کا بدلہ خداتعالیٰ خود دے گا۔ یہی وجہ تھی کہ غیر از جماعت بھی آپ کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے فیصلوں میں آپ کو شریک کرتے، اپنی امانتیں اُن کے پاس رکھواتے حتیٰ کہ اپنی زمین کی رجسٹریاں تک آپ کے نام کروا دیتے۔ چنانچہ اپنے ہمسائے کی ایک رجسٹری اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے ان کے نام یہ کہہ کر کروائی کہ یار زندگی کا کیا بھروسہ ہے تم اپنی امانت کے بوجھ سے مجھے آزاد کردو۔
آپ اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے ۔امیرو غریب اور ہر کس و ناکس کی مہمان نوازی کرنے کے لیے ہر دم تیار رہتے۔ دن ہو یا رات مہمان آجاتے تو وہ تب تک سکون سے نہ بیٹھتے جب تک مہمان کے کھانے پینے،چائے اور بستر کا انتظام نہ ہوجاتا۔ احمدی یا غیر ازجماعت ہر قسم کے مہمان، مرکزی نمائندے سب ہمارے گھر میں ٹھہرتے۔ ایک دفعہ ایک مربی صاحب آئے ہوئے تھے وہ صبح ناشتہ کے بعد جماعتی دورہ کے لیے کسی دوسری مجلس میں چلے گئے اور رات کو واپس آئے۔ ابو جان نے کھانے کا پوچھا تو بولے کہ کھانا تو میں کھاکر آیا ہوں البتہ چائے ضرور پیئوں گا۔ ابو جان نے گھر آکر چائے بنانے کے لیے کہا تو امی نے بتایا کہ دودھ نہیں ہے۔ مگرابو کو کہاں گوارا تھا کہ وہ مہمان سے کہیں کہ دودھ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو چائے نہیں مل سکتی۔ آپ نے برتن بڑے بھائی کو پکڑایا اور بولے جاؤ اللہ کا نام لے کر دودھ دوھ لاؤ۔ حالانکہ اس سے پہلے آپ دودھ دوھ چکے تھے۔ کہنے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ جانور مہمان کی چائے کے لیے دودھ دیدے اور یہی ہوا بھائی کلو کے قریب دودھ دوھ لائے اور یوں چائے بنا کر مہمان کو پیش کردی گئی۔ خدا تعالیٰ نے ابو جان کے بھروسے کو ٹوٹنے نہ دیا اور آپ کا توکّل کام آگیا۔
ایک دفعہ کسی غیر از جماعت جاننے والوں نے اپنے مزدوروں کو بھجوایا اور انہوں نے آکر کہا کہ حاجی صاحب کہتے تھے ان کے پاس چلے جانا، وہ کھانے اور بستر کا انتظا م کردیں گے ر ات کے نو دس بجے کا وقت اور چھ سات مہما ن۔ ابوجان گھر کے اندر آئے اور بتایا کہ مہمان کھانا کھائیں گے۔ مجھے یاد ہے ہم میں سے ایک نے سالن بنایا اور دوسری نے آٹا گوندھ کر روٹی بنائی۔ اتنی دیر میں ابو جان نے اُن کے بستر لگوا دیے اور یوں ان کے کھانے، چائے اور باقی انتظام کے بعد پُرسکون ہوئے۔ ایسے کئی واقعات ہیں کہ وہ کسی کو بھجواتے کہ اتنے آدمیوں کا کھانا بھجوا دیں ۔گھر آتے ہی تصدیق کرتے کہ کھانا چلا گیا ہے کہ نہیں۔ جب تک تسلی نہ کرلیتے کہ مہمانوں نے کھانا کھا لیا ہے تب تک خود کھانا نہ کھاتے۔
آپ کی زندگی بےحد مصروف تھی اپنے ذاتی اور جماعتی کاموں کے لیے کبھی چونڈہ اور کبھی سیالکوٹ اور کبھی دیگر شہروں میں جانا پڑتا لیکن کبھی یہ کہہ کر جماعتی کام یا میٹنگز نہیں چھوڑتے تھے کہ میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔ ہمارے گھر میں تمام جماعتی رسالے تشحیذ، مصباح، انصاراللہ، خالد اور روزنامہ الفضل آتے تھے اور اتنی مصروفیت میں بھی آپ ان سب کا مطالعہ کرتے ۔ رات سونے سے پہلے اور اگر کبھی دوپہر کو لیٹتے تو بھی جماعتی کتب کا مطالعہ کررہے ہوتے۔
روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور تفسیر صغیر سے ترجمہ پڑھنا آپ کے معمول میں شامل تھا۔ نماز حتّی الوسع باجماعت ادا کرتے اور روزہ کبھی نہ چھوڑتے۔ ایک بار میرے ساتھ اسلام آباد میں واقع بیلجیم کے سفارت خانے میں جانا پڑا تو اس دن روزہ چھوڑنا پڑا اور پھر نامعلوم کتنی بار مجھے یاد دلاتے رہے کہ تم نے آج میرا روزہ چھڑوا دیا ہے۔
آپ کے والدین نے تو آپ کا نام منظور احمد رکھا تھا لیکن جماعت میں آپ کو صوفی صاحب کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ چنانچہ آپ صوفی منظور احمد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ جب آپ کی وصیت منظور ہو گئی تو کہنے لگے کہ میں تھوڑے دنوں میں وصیت کا حصہ ادا کردوں گا۔ مَیں نے کہا کہ اتنی جلدی کیوں، ضرورت پڑی تو آپ کے دونوں بیٹے ادا کردیں گے۔ بولے نہیں، اپنے کام خود کرتے ہیں کسی پر نہیں چھوڑتے۔ چنانچہ آپ نے اپنا حصہ جلد ہی ادا کردیا۔
۸؍جون ۲۰۰۹ء کی صبح کسی کام کے لیے جب آپ موٹرسائیکل پر پسرور جا رہے تھے تو چونڈہ کے قریب ایک ویگن کے ساتھ حادثے میں شدید زخمی ہوگئے اور موقع پر ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بوجہ موصی ہونے کے جنازہ ربوہ لے جایا گیا جہاں بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔
………٭………٭………٭………



