ربوہ کا موسم(۷تا۱۳؍اگست ۲۰۲۶ء)
۷؍ اگست جمعۃ المبارک کے دن کا آغاز تیز بارش سے ہوا ،جب لوگ علی الصبح نیند سے بیدار ہوئے تو موسلا دھار بارش کو برستے ہوئے پایا۔ اُس وقت ہوا بند تھی اور بارش خاموشی سے برس رہی تھی ، صر ف اس کے برسنے کی آواز ہی سنائی دے رہی تھی ۔ یہ بارش تین گھنٹے تک برستی رہی اور اپنے پیچھے ہر طرف پانی ہی پانی چھوڑ گئی ، دوپہر کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ چمک رہی تھی ، بہت ہلکی ہوا چل رہی تھی ، جب وہ بند ہوتی تو حبس ہو جاتا۔ ہفتہ کو بادل کہیں کہیں نظر آرہے تھے اور درمیانی رفتار سے ہوا چل رہی تھی ۔ سورج جب بادلوں کی اوٹ میں ہوتا تو قدرے سکون ملتا ۔اتوار کو صبح کے وقت ہلکی ہوا جاری تھی ، مطلع جزوی طور پر ابر آلود تھا ، دن بھر کبھی دھوپ نکلتی اور کبھی سورج بادلوں کے پیچھے چھُپ جاتا۔ اسی آنکھ مچولی میں دن بیت گیا۔ سوموار کو نمازفجر کے وقت آسمان پر بالکل بھی بادل نظر نہیں آرہے تھے۔ ہوا بھی مکمل بند تھی ۔ صبح دس بجے سے دوپہر تک آسمان پر بادلوں کی ہلکی تہ چھا ئی رہی جس نے دھوپ کو پوری طرح زمین پر نہ آنے دیا، درمیانی رفتار سے چلنے والی ہوا کی وجہ سے دن کےپہلے حصہ میں حبس پاس نہیں پھٹکا۔ پھر شام اور رات کے وقت ہوا بند ہونے سے حبس کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
منگل کو صبح ہی سے حبس بنا ہوا تھا یعنی ہوا بالکل باند تھی۔ دوپہر کے وقت ہو ا چلنے سے موسم میں بہتری آگئی، تا ہم رات کے وقت وہ ہوا بھی بند ہوگئی۔ بدھ کو فجر کے وقت ہو ا بندہونے کی وجہ سے حبس کی کیفیت تھی لیکن خنکی موجود تھی ۔ دن بھر درمیانی رفتار سے ہوا جاری رہی ۔ جب یہ ہوا بند ہوئی تو اس کی جگہ پھرحبس نے لے لی ۔ شام تک موسم کی یہی کیفیت رہی ۔ جمعرات کو صبح سے ہوا بند ہونے کی وجہ سے حبس بنا ہو ا تھا۔ دوپہر کو کہیں جاکر ہوا خراماں خراماں چلنا شروع ہوئی تو حبس چھٹ گیا۔ اور لوگوں کی جان میں جان آئی۔ اس ہفتے کا اوسط ٹمپریچر زیادہ سےزیادہ ۳۸؍اور کم سے کم ۲۸؍درجہ سینٹی گریڈ رہا۔
(ابو سدید)




