احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
’’…اور اس عرصہ میں یہ عاجز فارغ بھی نہیں بیٹھا رہا۔ بلکہ تیس ہزار کے قریب اشتہار شائع کیا اور بارہ ہزار کے قریب مخالفین اسلام کو اتمام حجت کے لیے رجسٹری کرا کر خط بھیجے اور بعض کتابیں جو براہین احمدیہ کے لیے بطور ارہاص کے تھیں- تالیف کیں۔ جیسا کہ سُرمہ چشم آریہ، شحنہ حق، فتح اسلام، توضیح مرام، ازالہ اوہام ، آئینہ کمالات اسلام، اور اس شغل میں صدہا حقایق معارف براہین کے لیے جمع ہو گئے۔ اور انہیں حقایق معارف نے اب مجھے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ براہین کے پنجم حصہ کو جو اب انشاء الله تعالیٰ آخری حصہ کی طرح اس کو نکالوں گا۔ ایک مستقل کتاب کے طور پر نکالا جائے۔‘‘ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)
براہین احمدیہ کی پانچ اور پچاس جلدیں
ایک اعتراض یہ بھی کیاجاتاہے کہ حضرت مرزاصاحب نے پچاس جلدیں شائع کرنے کاوعدہ کیا لیکن پورا نہ کیا۔ مخالف اورحاسد مولویوں کی کتابوں میں یہ اعتراض اب تک موجودہے اورچونکہ اب انٹرنیٹ کے باعث اس میں وسعت ہورہی ہے ایک ویب سائٹ ہے Answering Islam اس پر ایک مضمون A study of Ahmadiyya Movement شامل کیاگیاہے۔اس مضمون کے لکھنے والے Mr.Gilchrist ہیں۔ انہوں نے تو یہ بھی لکھ دیا کہ مرزاصاحب نے پیشگوئی کی تھی کہ پچاس جلدیں لکھوں گااورپھر نہیں لکھیں۔ گلکرسٹ صاحب لکھتے ہیں:-
’’آپ نے براہین احمدیہ کی پچاس(Volume) جلدیں شائع کرنے کی پیش گوئی کی تھی جبکہ صرف پانچ جلدیں شائع کیں۔‘‘
جیساکہ بتایاگیا ہے کہ یہ کوئی نیااعتراض نہیں ہے ہرنیاآنے والامخالف بس اسی قے کو چاٹتاچلاآرہاہے۔
۱۔گلکرسٹ صاحب کو تو ذہن میں رکھناچاہیے کہ کوئی پیشگوئی نہیں کی گئی۔ شاید ان کے دل میں بائبل کا عہدنامہ قدیم اورانجیل کا مطالعہ کرکے قول اورپیشگوئی میں کوئی تمیزنہیں رہی اوروہ ہربات کو پیشگوئی اورہرپیشگوئی کو بات سمجھ بیٹھتے ہیں۔ چونکہ سلسلہ احمدیہ کے مخالفین کی بدنصیبی یہ بھی ہے کہ وہ ان کتب کابراہِ راست مطالعہ نہیں کرتے اس لیے وہ اپنی تحقیق کی عمارت ہی ایسی بنیاد پر کھڑی کرتے ہیں جس کی بنیادہی ٹیڑھی میڑھی اینٹوں پر رکھی گئی ہو۔اس لیے جو تو اس کو پیشگوئی سمجھ رہے ہیں وہ دوبارہ غور کریں اوراس سارے حصہ کو خود پڑھیں۔ حضرت اقدسؑ نے کہیں بھی کوئی پیشگوئی نہیں فرمائی۔ اورجہاں تک پچاس کتابیں یا جلدیں شائع کرنے کے وعدہ کا ذکر ہے وہ بھی درست نہ ہے۔ آپؑ نے کہیں کوئی ایسا وعدہ بھی نہیں فرمایا۔ہاں صرف ایک ارادہ اورعزم تھا جس کااظہاریا اشتہار حضورؑ نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں دیاتھا۔بلکہ جس کتاب یعنی براہین احمدیہ حصہ پنجم میں اپنے اس ارادے کااظہارفرمایاوہ کتاب آپؑ کی زندگی میں شائع نہیں ہوسکی۔ تواول تو ایسے ارادے پرملزم کرنا کوئی انصاف نہیں ہے اورپھرارادے اوروعدے میں کتنا اہم فرق ہے یہ توایک بچہ کیا ایک اَن پڑھ بھی جانتاہوگا۔ہاں تعصب اوربغض جس دل میں ہوتواس کوکیاکہاجائے۔
اس اعتراض کے متعلق سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف سے براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں شائع کرنے کی کسی قسم کی کوئی پیشگوئی نہ تھی بلکہ آپؑ کا پچاس جلدوں کا ارادہ تھا نہ کہ وعدہ۔اورجب براہین احمدیہ لکھنے اورطبع کرنے کا کام شروع ہواتب بھی کوئی ایسی بات نہ تھی۔ ہاں تین سودلائل اسلام کی صداقت بیان کرنے کے لیے یہ کتاب تصنیف کی گئی اوریہی اس کتاب کا مقصد تھا۔ وہ کتنی جلدوں میں ہوگا کتنے صفحات پر مشتمل ہوگا، یہ ایک اندازہ اورعزم تھا۔ وہ اندازہ آغاز میں پندرہ جز کا ہواپھر ڈیڑھ سو جزء اورپھر تین سوجزء تک وہ بڑھ گیا اورمسودہ بھی اس کا تیارہوگیا۔
۲۔ جہاں تک پچاس حصہ لکھنے کا ارادہ تھا وہ جیساکہ عرض کیاگیا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے جب براہین احمدیہ کا مسودہ لکھایا لکھناشروع کیا اوراشتہارات دینے شروع کیے تو کہیں بھی نہیں فرمایاکہ میں پچاس حصے لکھوں گا۔ ہاں براہین احمدیہ حصہ پنجم میں اپنے دل کی اس خواہش کا اظہار فرمایا ہے کہ میراارادہ یہ تھا۔آپؑ فرماتے ہیں : ’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا گیااورچونکہ پچاس اورپانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لیے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔‘‘ (دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ۹)
حضرت اقدس علیہ السلام نے جو پچاس حصے لکھنے کے ارادہ کا ذکر فرمایا ہے تو اس کوکئی پہلوسے دیکھا اورسمجھاجاسکتاہے۔
۳۔ پچاس حصے لکھنے کا اظہار فرمایا ہے اوربراہین احمدیہ کے پہلے چار حصوں سمیت یہ بات ہورہی ہے۔ پہلے چار حصے کل ۵۹۲ صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان کی اوسط تعداد صفحات نکالی جائے تو ۱۵۰صفحات فی حصہ تقریباً بنتے ہیں اوراس کے برابر ۵۰حصے ہوں تو ۷۵۰۰صفحات بنتے ہیں۔ پانچواں حصہ شائع ہوا تو وہ ۴۲۸صفحات کا ہے۔ اب ۵۹۲ + ۴۲۸ = ۱۰۲۰ صفحات بنتے ہیں۔اور باقی ۶۴۸۰صفحات رہ جاتے ہیں۔ ہم یہ ثابت کرآئے ہیں کہ ابتداء میں ۴۸۰۰صفحات کا مسودہ تو تیار ہی تھااوریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ براہین احمدیہ پہلے چارحصوں میں ابھی اصل مسودہ کے کچھ ہی صفحات آسکے ہیں۔ کیونکہ براہین احمدیہ حصہ اوّل کے دیباچہ میں آپؑ لکھتے ہیں: ’’اوریہ کتاب مرتب ہے ایک اشتہاراورایک مقدمہ اورچارفصل اورایک خاتمہ پر…‘‘ (براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلداول صفحہ۲۴)
اور یہ واضح ہے کہ براہین احمدیہ کا چوتھا حصہ ابھی پہلی فصل کو ہی بیان کررہاہےاوراگراسی تسلسل اوراندازپر یہ کتاب مرتب ہوتی تو اس کی تعداد ۷۵۰۰ سے کہیں زیادہ ہوجاتی۔ کیونکہ کسی حکمت اورمصلحت کے تحت مزید طباعت رک گئی یا مصلحت ِ الٰہی سے روک دی گئی۔ لیکن جو اصل اوربنیادی مقصد اس کتاب کی تصنیف سے تھا وہ کسی اور رنگ میں جاری رہا۔جیساکہ حضرت اقدس علیہ السلام اس اشتہار میں فرماتے ہیں جو کہ اوپر درج کیاگیاہے کہ ’’…اور اس عرصہ میں یہ عاجز فارغ بھی نہیں بیٹھا رہا۔ بلکہ تیس ہزار کے قریب اشتہار شائع کیا اور بارہ ہزار کے قریب مخالفین اسلام کو اتمام حجت کے لیے رجسٹری کرا کر خط بھیجے اور بعض کتابیں جو براہین احمدیہ کے لیے بطور ارہاص کے تھیں- تالیف کیں۔ جیسا کہ سُرمہ چشم آریہ، شحنہ حق، فتح اسلام، توضیح مرام، ازالہ اوہام ، آئینہ کمالات اسلام، اور اس شغل میں صدہا حقایق معارف براہین کے لیے جمع ہو گئے۔ اور انہیں حقایق معارف نے اب مجھے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ براہین کے پنجم حصہ کو جو اب انشاء الله تعالیٰ آخری حصہ کی طرح اس کو نکالوں گا۔ ایک مستقل کتاب کے طور پر نکالا جائے۔‘‘
اب دیکھا جائے تو کتنے صفحات بن جاتے ہیں۔ کیاابھی بھی ان پچاس جلدوں کی کمی رہ جاتی ہے۔ ؟
۴۔ پھر ایک پہلویہ ہے کہ حضرت اقدسؑ براہین احمدیہ جلد پنجم کو براہین احمدیہ کے تسلسل کا ’’آخری حصہ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ گویا براہین احمدیہ کی اشاعت کا جومنصوبہ تھا وہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔
۵۔ اورپھر یہ کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے جو بھی لکھا اورشائع کیا جوہزاروں صفحات بن جاتے ہیں۔ ۸۰ سے زائد کتب ہیں وہ سب اسی براہین احمدیہ ہی کا تو حصہ یا ارہاص تھیں۔توکمی توکوئی نہ ہوئی۔ ان کتب کے صفحات تو کئی ہزاربنتےہیں۔
پچاس سے زائد حصے شائع فرمادئے
۶۔ ایک بات اور غور طلب ہے کہ ’’حصے‘‘ کا انگریزی ترجمہ volumeتو نہیں ہوتا پھر ایسا کیوں لکھا گیا۔ حضور علیہ السلام جو کہ کتاب کے مصنف ہیں وہ اس کتاب میں لفظ ’’حصے‘‘ کے لیے جزو کا لفظ استعمال فرما رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کتاب کے ۳۷جزو چھپ چکے ہیں جو کہ ۵۹۲ صفحات ہیں۔ اس کے بعد اس کتاب کا پانچواں حصہ لکھتے ہیں جس کے ۴۲۸ صفحات ہیں تو معلوم ہوا کہ۳۷ جزو لکھنے کے بعد ۴۲۸ صفحات مزید لکھ کر حضور علیہ السلام نے ۲۶ جزو اور شائع فرمادیے۔ جو کہ کل ۶۳ جزو ہوئے۔ گویا کہ آپ نے براہین احمدیہ جس کے۵۰حصے لکھنے کا عزم فرمایا تھا اس کے ۶۳ حصے ؍ جزو لکھ کر شائع فرما دیے۔
۷۔ ایک اوربہت ہی لطیف نکتہ تھا جو حضرت اقدسؑ نے بیان فرمایا جو پانچ اورپچاس کے ساتھ آپؑ نے بیان فرمایا لیکن اس نفیس اورلطیف نکتے کو کوڑھ مغزی اورکینہ توزی نے سمجھنے سے قاصر رکھااور تمسخر اور ھُزُوًا کی جگہ بنا دیا۔مراداس سے یہ نہ تھی کہ پانچ اورپچاس برابر ہوتے ہیں۔ بلکہ صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب ذکرادریس ؑ (حدیث نمبر۳۳۴۲) کی اس لطیف حدیث کی طرف اشارہ تھا جس میں خدائے علیم وحکیم نے جب پہلے پچاس نمازوں کا حکم دے کران کی جگہ پانچ نمازیں ہی رہنے دیں تو فرمایا ھِیَ خَمْسٌ وھِیَ خَمْسُوْنَ یعنی اب پانچ نمازیں ہی اجروثواب اوراہمیت وافادیت کے اعتبار سے پچاس کے برابر ہوں گی۔ بس اتنی سی بات تھی کہ یہ پانچ حصے بھی براہین احمدیہ کے ان پچاس حصوں جیسی افادیت رکھتے ہیں جو شروع میں ارادہ تھا۔
قصہ مختصر یہ کہ جو خریدار تھے ان کوکتاب مہیاکی گئی۔ جولوگ مزید انتظار نہ کرسکتے تھے اورکتاب واپس کرناچاہتے تھے انہیں یہ پیشکش باربار کی گئی کہ وہ کتاب واپس کرکے قیمت واپس لے لیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی خریدار فوت بھی ہوچکاہے تو اس کے وارثوں کو یہ حق دیا گیا کہ کتاب واپس کردیں اورقیمت واپس لے لیں۔جہاں تک کتاب پوری شائع نہ کرنے کی بات ہے تو اول تو جب خریدارکا استحقاق ختم ہوگیا۔جب خریدارکو اس کی قیمت واپس دے دی گئی تو کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ سوال کرے کہ کتاب کیوں شائع نہیں کی جارہی۔ کسی کا کوئی حق نہیں۔ اعتراض تو بعد کی بات ہے۔ بلکہ اعتراض تو کوئی ہے ہی نہیں اس کاکوئی جواز ہی نہیں۔ کسی کو یہ حق بھی نہیں کہ پوچھے کہ کتاب کیوں شائع نہیں ہوئی۔کتاب پچاس جلدوں میں شائع کرنے کی نہ کوئی پیشگوئی تھی اورنہ ہی کوئی وعدہ۔جیسا کہ بیان ہواہے کہ اسلام اورقرآن اورحضرت محمدﷺ کی صداقت پر تین سودلائل پر مشتمل ایک کتاب لکھنے کا عزم اور منصوبہ تھا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے



