ایشیا (رپورٹس)

جماعت احمدیہ بنگلہ دیش سالانہ امن کانفرنس ۲۰۲۶ء

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مورخہ ۱۶؍مئی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کی سالانہ امن کانفرنس جماعت کے ہیڈکوارٹر دار التبلیغ بخشی بازار ڈھاکہ میں منعقد ہوئی۔ الحمد للہ۔ اس کانفرنس میں اسلام، ہندومت، بدھ مت، عیسائیت، سکھ مت وغیرہ مذاہب کے نمائندگان نے شرکت کی اور اپنی اپنی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں گفتگو کی۔

اس کانفرنس کی صدارت محترم عبدالاول خان چودھری صاحب نیشنل امیر و مبلغ انچارج بنگلہ دیش نے کی۔ مکرم شاہ محمد نور الامین صاحب مربی سلسلہ و نیشنل سیکرٹری تربیت نومبائعین نے کانفرنس کے ماڈریٹر کا فریضہ سرانجام دیا۔ تلاوت قرآن کریم سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پھر مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔

بعد ازاں مکرم میر محبوب مصطفیٰ صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجہ نے امن کانفرنس کا پس منظر اور اس کا مقصد بیان کیا۔ آپ نے شامل ہونے والے معززین کو خوش آمدید کہا اور جماعت احمدیہ کا تعارف بھی پیش کیا۔

پھر حاضرین کو دنیا میں اَمن کے قیام کے حوالہ سے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے ایک خطاب کا ویڈیو کلپ دکھایا گیا۔

بعد ازاں مختلف مذاہب کے نمائندگان نے اپنی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں ’موجودہ عالمی بحران اور امن کا راستہ‘ کے بارے میں تقریر کی۔

پہلی تقریر بدھ مت کی طرف سے سُنند پریو بھکّو، جنرل سیکرٹری بنگلہ دیش بدھسٹ فیڈریشن نے کی۔

پھر سوامی دیوا دیانند (Sami Deba Dianand)، نمائندہ رام کرشن مشن ڈھاکہ نے ہندو مت کے حوالہ سے تقریر کی۔

بعد ازاں ڈاکٹر فادر تپن کیمیلاس ڈی روزاریو(Dr. Father Tapan Di Rozario)، کاکرائیل ڈھاکہ کے کیتھولک چرچ کے پادری نے عیسائی مذہب کے حوالے سے تقریر کی۔

اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ شمس بن طارق صاحب، پروفیسر آف Physics راج شاہی یونیورسٹی بنگلہ دیش و نائب نیشنل امیر جماعت احمدیہ بنگلہ دیش نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تقریر کی۔

اس کے بعد سکھ مت کی طرف سے ڈاکٹرنتنجن کمار رائے (Dr. Nittunjon Kumar Roy)، اگزیکٹیو ممبر گورودوارہ مینیجنگ کمیٹی ڈھاکہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

بعد ازاں حضور انور کے ایک اَور خطاب کی جھلکی دکھائی گئی۔

اس کے بعد قاضی ڈاکٹر نور الاسلام خان، چیئرمین سینٹر فار ریلیجئس اینڈ انٹرکلچرل ڈائیلاگ اور مذاہب عالَم اور سنسکرت ڈپارٹمنٹ، ڈھاکہ یونیورسٹی نے اظہار خیال کیا۔

پھر باسودیب دھر (Basudeb Dhar)، سینئر جرنلسٹ نے اظہار خیال کیا۔

بعد ازاں روحین حسین پرنس، جنرل سیکریٹری بنگلہ دیش کمیونسٹ پارٹی نے اظہار خیال کیا۔

اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر اَرکے شاہ، حسین شہید سہرہ وردی میڈیکل کالج کے سرجری ڈپارٹمنٹ کے سابق ہیڈ نے تقریر کی۔

پھر ڈاکٹر نیڑو بڑوا سابق چیئرمین بدھسٹ ڈیپارٹمنٹ، ڈھاکہ یونیورسٹی نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔

اس کے بعد منندر کمار ناتھ جو بنگلہ دیش میں ہندو، بدھ اور عیسائی مذاہب کے ما بین اتحاد قائم کرنے والی ایک تنظیم کے جنرل سیکرٹری ہیں، نے اظہار خیال کیا۔

پھر محمود احمد چودھری صاحب، سابق ایڈیشنل سیکرٹری، حکومت بنگلہ دیش نے اظہار خیال کیا۔

آخر پر مکرم امیر صاحب نے اختتامی تقریر میں امن عالَم کے قیام میں اسلامی تعلیمات نیز اس بارے میں جماعت احمدیہ کی کاوشوں کے متعلق سیر حاصل گفتگو کی۔

اَمن کانفرنس پر جماعت احمدیہ کی طرف سےشائع شدہ ۷۶ زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کے حوالے سے ایک نمائش کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

اس کانفرنس میں کل ۲۰۶ مہمان شامل ہوئے۔ ۲۰ سے زائد اخبارات، رسائل، ٹی وی چینلز اور الیکٹرانک میڈیا میں اس اَمن کانفرنس کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ الحمدللہ

اللہ تعالیٰ اس اَمن کانفرنس کے بہترین نتائج پیدا فرمائے اور دنیا کو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرنے کی توفیق دے۔ آمین

(رپورٹ: نوید الرحمٰن۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ بیلجیم کے بتیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا بابرکت انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button