یورپ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ بیلجیم کے بتیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا بابرکت انعقاد

٭… ’’ہمارا خدا‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں نماز تہجد، پنجوقتہ نمازوں، دروس نیز روحانی و علمی موضوعات پر علمائے سلسلہ کی تقاریر کا اہتمام

٭…تبلیغی میٹنگ میں ۱۱۰؍ جبکہ بنگلہ تبلیغی سیمینار میں ۵۰؍غیر احمدی مہمان شریک ہوئے ٭… ۱۸۶۱؍احباب کی شمولیت

محض خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے جماعت احمدیہ بیلجیم کو اپنا ۳۲واں جلسہ سالانہ مورخہ ۳ تا ۵؍جولائی ۲۰۲۶ء کو لیون شہر میں ’’ہمارا خدا‘‘ کے مرکزی عنوان پر منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ علیٰ ذلک۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے امسال مولانا فیروز عالم صاحب مربی سلسلہ و انچارج مرکزی بنگلہ ڈیسک کو مرکزی نمائندہ مقرر فرمایا۔

امسال مکرم راجہ عبداللطیف صاحب (افسر جلسہ سالانہ)، مکرم ظفراللہ سلام صاحب مبلغ انچارج بیلجیم (افسر جلسہ گاہ) اور مکرم آصف بن اویس صاحب مربی سلسلہ و صدرمجلس خدام الاحمدیہ (افسر خدمتِ خلق) مقرر ہوئے۔

وقارعمل: جلسہ سالانہ کی کمیٹی نے اپنے ذیلی ناظمین اور کارکنان کے ساتھ مل کر جلسہ سالانہ کے انتظامات مکمل کیے۔ جلسہ سے ایک روز قبل ۲؍جولائی بروز جمعرات جلسہ سالانہ کی تیاری کے سلسلہ میں وقارعمل کیا گیا۔ جس کے تحت مارکیز اور خیمہ جات کی تنصیب، ہال کی سجاوٹ وآرائش، سیکیورٹی، لنگرخانہ و دیگر اہم انتظامات کیے گئے۔

اس وقارِ عمل میں جلسہ کی روحانی برکات و فضائل کے حصول کے لیے اور وقت کی قربانی کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیموں کے اراکین وقارِ عمل میں شامل ہوئے۔ ناظم صاحب تیاری جلسہ سالانہ نے بعض ٹیکنیکل امور کے متعلق ہدایات دیں اور کارکنان میں کام تقسیم کیا۔

جائزہ انتظامات جلسہ سالانہ: مرکزی نمائندہ اور مکرم ڈاکٹر ادریس احمد صاحب امیر جماعت بیلجیم نے افسر صاحب جلسہ سالانہ، افسر صاحب جلسہ گاہ ، افسر صاحب خدمت خلق اور دیگر عہدیداران کی معیت میں جلسہ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

جلسہ سالانہ کا پہلا دن

جماعت احمدیہ بیلجیم کے ۳۲ویں جلسہ سالانہ کے پہلے روز صبح سے ہی روایتی دینی جوش و جذبے کے ساتھ معزز مہمانان کرام کی آمد کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ شعبہ استقبال کے کارکنان نے جلسے پر آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ جلسہ سالانہ کی افتتاحی تقریب سے قبل مہمانوں نےدوپہر کا کھانا تناول کرنے کے بعد نماز جمعہ میں شرکت کی۔

نماز جمعہ مکرم مبلغ انچارج صاحب بیلجیم نے پڑھائی۔ بعد ازاں جماعتی روایات کے مطابق پرچم کشائی کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ مرکزی نمائندہ اور مکرم امیر صاحب بیلجیم نے بالترتیب لوائے احمدیت اور بیلجیم کا قومی پرچم لہرایا اور پھر مرکزی نمائندہ نے دعا کروائی۔ بعدازاں مستعد خدام نے پرچم کی حفاظت کےلیے اپنی ڈیوٹی سنبھال لی۔

تقریب پرچم کشائی کے بعد ساڑھے چار بجے جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہواجس کی صدارت مکرم مرکزی نمائندہ نے کی۔تلاوتِ قرآن کریم کی سعادت حافظ جہانزیب احمد قریشی صاحب نے حاصل کی جبکہ مکرم عبدالباسط بھٹی صاحب نے نظم پڑھی۔اس کے بعد سیکرٹری امورِ خارجہ بیلجیم مکرم شریف احمد صاحب نے جلسہ میں شریک دو معزز مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ معزز مہمانوں نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت کی انسانیت کی خدمات اور جلسہ سالانہ کے پیار و محبت کے ماحول کی تعریف کرتے ہوئے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ بعدازاں مرکزی نمائندہ نے جلسے کی افتتاحی تقریر میں جلسہ سالانہ کے مقاصد، برکات اور فضیلت بیان کیے۔ پھرمکرم امیرصاحب نے قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی کے موضوع پر تقریر کی جس میں انہوں نے خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اجلاس کی دوسری تقریر فرنچ زبان میں مکرم توفیق جمعاوی صاحب نے ’’حضرت محمدﷺ تمام برکات کا سرچشمہ‘‘ پر کی۔ اس کے بعد مکرم فرحان نوید صاحب نے نظم پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ جلسہ سالانہ کے پہلے روز کی تیسری تقریر مکرم حسیب احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’’خلافت۔ شرک کے خلاف ڈھال‘‘ کے موضوع پر کی۔

جلسہ سالانہ کا دوسرا دن

جلسہ سالانہ بیلجیم کے دوسرے روز کا آغاز ۳ بج کر ۴۵ منٹ پر نماز تہجد سے ہوا جو کہ مکرم حافظ جہانزیب احمد صاحب قریشی نے پڑھائی۔ بعد ازاں مکرم وقاص مبشر احسان صاحب مربی سلسلہ نے نماز فجر پڑھائی اور درس قرآن دیا۔

دوسرا اجلاس: دوسرے اجلاس کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے زیر صدارت مکرم مبلغ انچارج صاحب بیلجیم ہوا۔ مکرم محمد اعظم بھاگٹ صاحب نے تلاوت قرآن کریم مع اردو ترجمہ کی سعادت حاصل کی۔ جبکہ مکرم طارق حسین صاحب نے نظم پیش کی۔ اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم انورالعمری صاحب نے ڈچ زبان میں ’’اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ‘‘کے موضوع پر کی۔ دوسری تقریر ڈاکٹر نعمان احمد صاحب نے ’’ہستی باری تعالیٰ۔ سائنس کا نقطہ نگاہ‘‘ کے موضوع پر کی۔ اس کے بعد نظم مکرم منیب احمد باجوہ صاحب نے پیش کی۔ اس اجلاس کی تیسری تقریر حافظ برہان محمد خان صاحب نے ’’تعلیم القرآن کی اہمیت اور متمتع ہونے کے ڈھنگ‘‘ کے موضوع پر کی۔ اس طرح دوسرے دن کا پہلا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحمدللہ

تیسرا اجلاس: طعام و نماز ظہر و عصر کے بعد دوپہر اڑھائی بجے تیسرا اجلاس مکرم شیخ وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ بیلجیم کی زیر صدارت شروع ہوا۔ مکرم محمد الغزاوی صاحب کو تلاوت کریم کرنے کی سعادت ملی۔ خاکسار کو اردو ترجمہ پیش کرنے کی توفیق ملی۔ مکرم احتشام احمد ہاشمی صاحب نے نظم پیش کی۔ اس اجلاس کی پہلی تقریر بعنوان ’’بدظنی کا معاشرہ کی بدامنی میں کردار ‘‘مکرم شہریار اکبر صاحب مربی سلسلہ نے پیش کی۔ اس کے بعد اجلاس کی دوسری تقریر مکرم انور حسین صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ بیلجیم نے بعنوان ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشق الٰہی‘‘ کی۔ اس اجلاس کی تیسری تقریر ڈچ زبان میں ’’حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام بطور مسیح موعود ومہدی‘‘ کے موضوع پر مکرم نظیم واندن بروک صاحب کی تھی۔

اس کے بعد سیکرٹری صاحب امورِ خارجہ بیلجیم نے جلسہ میں شریک دیگر معزز مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ اس اجلاس میں بیلجیم کے مختلف شہروں سے متعدد سیاسی نمائندگان، ممبر آف پارلیمنٹ، کونسلرز بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں کہا کہ بڑے پیارے اور احسن طریق سے ان کو اس پروگرام میں خوش آمدید کہا گیا، جس کی وجہ سے لگا کہ وہ اپنے ہی لوگوں میں آئے ہیں۔ ہمیں اس جلسہ میں شامل ہوکر بہت خوشی ہوئی ہے۔احمدیہ کمیونٹی کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ احمدیہ کمیونٹی اسی طرح انسانیت کی بھلائی وبہبود کے لیے کام کرتی چلی جائے۔

تبلیغی میٹنگ: بعد ازاں شام پانچ بجے ایک تبلیغی میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت مرکزی نمائندہ نے کی۔ تلاوت قرآن کریم مکرم عطاالمصور صاحب نے پیش کی جس کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنے استقبالیہ خطاب میں مہمانان کو خوش آمدید کہتے ہوئے غیر از جماعت احباب کے سامنے بڑے احسن رنگ سے جماعت کا تعارف کروایا۔ اس کے بعد مکرم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم نے اپنی تقریر میں ’’ایک خدا پر ایمان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی حقیقت‘‘ پر روشنی ڈالی۔ آخر پر مکرم Dirk Godecharle صاحب، جو ٹرن ہاؤٹ شہر کے پادری ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے احمدیہ جماعت سے خوبصورت کوئی جماعت نہیں دیکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پچھلے کئی سالوں سے جماعت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں اور جو جماعت احمدیہ کے لوگ دعویٰ کرتے ہیں ویسے ہی ان کے عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے بہت سی خوبصورت باتیں سیکھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی جماعت احمدیہ کسی پروگرام کا آغاز کرتی ہے تو خدا کے نام سے شروع کرتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر میں نے بھی یہ شروع کیا کہ جب بھی میں چرچ میں عبادت شروع کرتا ہوں تو میں بسم اللہ کا ترجمہ پڑھ کر شروع کرتا ہوں جو مجھے بہت تسلی اور سکون دیتا ہے۔ اس تبلیغی میٹنگ میں ۱۱۰؍افرادنے شرکت کی۔ الحمدللہ۔

بنگلہ تبلیغی سیمینار: اسی طرح جلسہ کے دوسرے روز دوپہر ساڑھے تین بجے بنگلہ احباب کے لیے ایک تبلیغی سیمینار زیر صدارت مرکزی نمائندہ منعقد ہوا۔ پروگرام کے آغاز میں مکرم وثیق الرحمٰن صاحب نے تلاوت قرآن کریم کرنے کی سعادت حاصل کی۔ پھر مکرم امیر صاحب نے افتتاحی تقریر جس کا بنگالی ترجمہ مکرم این اے شمیم صاحب نے کیا۔ اس کے بعد مکرم سلطان احمد صاحب نے جماعت کا تعارف پیش کیا۔ بعد ازاں صدر مجلس نے اپنی تقریر میں جماعت کے بنیادی عقائد اور اختلافی مسائل پر روشنی ڈالی۔ پھر سوال و جواب کے سیشن کے دوران انہوں نے غیر احمدی مہمانوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے جواب فراہم کیے۔ اس پروگرام میں بیلجیم کے مختلف حصوں سے ۵۰ بنگالی بولنے والے غیراحمدی مہمان شامل ہوئے۔

جلسہ سالانہ کا تیسرا دن

جلسہ سالانہ کے تیسرے روز کا آغاز صبح پونے چار بجے نماز تہجد سے ہوا جو کہ مکرم حافظ جہانزیب احمد قریشی صاحب نے پڑھائی بعد ازاں مکرم محمد ارسلان صاحب مربی سلسلہ نے نماز فجرپڑھائی اور درس قرآن دیا۔

چوتھا اجلاس: چوتھے اجلاس کا آغاز، زیر صدارت مکرم امیر صاحب بیلجیم، صبح ساڑھے دس بجے ہوا۔ مکرم عطاءالمصور صاحب نے تلاوت قرآن کریم مع اردو ترجمہ کی سعادت حاصل کی جبکہ مکرم عطاءالرزاق صاحب نے نظم پیش کی۔ اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم این اے شمیم صاحب نے ’’خوشحال عائلی زندگی‘‘ پر اردو زبان میں کی اور بنگلہ زبان میں اس کا خلاصہ پیش کیا۔ اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ نے ’’جماعت احمدیہ کامالی نظام‘‘ اور اس کی برکات کے موضوع پر کی۔ تیسری تقریر مکرم اویس بن سعد صاحب نے ’’تربیت اولاد اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر کی۔

اختتامی اجلاس: طعام و نماز ظہر و عصر کے بعد دوپہر اڑھائی بجے جلسہ کا پانچواں و اختتامی اجلاس مرکزی نمائندہ کی زیرصدارت شروع ہوا۔ مکرم حافظ عطاءاللہ صاحب نے تلاوت و اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت ملی۔ پھر مکرم سلطان احمد صاحب نے نظم پیش کی۔ اس کے بعد تعلیمی اعزازات کی تقسیم کی تقریب ہوئی۔ اس اجلاس کی پہلی تقریر بعنوان ’’یورپ میں تبلیغ کی اہمیت اور ذرائع‘‘ مکرم مبلغ انچارج صاحب نے کی۔ بعد ازاں مرکزی نمائندہ نے جلسہ کی اختتامی تقریر کی جس میں آپ نے دور خلافتِ خامسہ میں جماعت احمدیہ کی عالمگیر ترقیات کے موضوع پر روشنی ڈالی اور مختلف پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ خلافت کے پیچھے ایک عالم الغیب ہستی ہے جو اپنے فضلوں سے نوازتی ہے۔ آپ نے جماعتی ترقیات کے مختلف ایمان افروز واقعات بیان کیے۔ اس کے بعد عرب احمدی احباب کےگروپ نےقصیدہ پیش کرنے کی توفیق پائی۔اس کے بعد سیکرٹری امورِ خارجہ بیلجیم نے جلسہ میں شریک دیگر معزز مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور ان کے پیغامات پڑھ کر سنائے جس میں چار فیڈرل منسٹرز، مختلف شہروں کے کونسلرز، سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ دو ممالک کے ایمبیسیڈرز نے بھی شرکت کی۔ درج ذیل افراد نے حاضرین جلسہ سے خطاب کیا۔

Mr. Benjamin Arien, Mr. Andre Gantman, Mr Marcos Jose, Ms Hiba Faraji, Mr Lieve Truyman, Mr yassin Louarroudi, Mrs Sofia Bennani, Julien Milquet , Castaneda Lacayo اور Tony Friso۔

بعد ازاں مکرم رانا عمران صاحب نے بیلجیم کے بادشاہ کا تحریری پیغام سنایا جس میں آپ نے جلسہ کے حاضرین کو نیک خواہشات کے ساتھ جماعت کی انسانیت کی خدمت کے کاموں کی تعریف کی۔ آخر پر امیر صاحب نے اختتامی کلمات کہے اور تمام حاضرین اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا اور دعا کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔ امسال جلسہ پر کُل حاضری ۱۸۶۱ تھی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس جلسے کی برکات وفضائل سے نوازے۔ آمین ثم آمین۔

(رپورٹ: چودھری طاہر احمد گِل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ سوئٹزرلینڈ کا ۴۴واں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button