اڑتالیسویں نیشنل مجلس شوریٰ جماعت احمدیہ بنگلہ دیش
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کی ۴۸ویں نیشنل مجلس شوریٰ مورخہ ۱۲ و ۱۳؍جون ۲۰۲۶ء کو جماعت کے ہیڈ کوارٹر دارالتبلیغ بخشی بازار، ڈھاکہ میں منعقد ہوئی۔
مجلس شوریٰ کی کارروائی ۱۲؍جون بروز جمعۃ المبارک سہ پہر چار بجے زیر صدارت محترم عبد الاول خان چودھری صاحب نیشنل امیر و مبلغ انچارج بنگلہ دیش شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں شوریٰ کی اہمیت اور تقدس کے حوالہ سے ممبران مجلس شوریٰ کو نصائح کیں اور دعا کروائی۔ پھر ۴۷ویں مجلس شوریٰ کی دو تجاویز پر عمل درآمد کی رپورٹس مکرم فضل الرحمٰن جہانگیر صاحب نیشنل سیکرٹری تربیت اور مکرم فیروز احمد صاحب سیکرٹری مال نے پیش کیں۔
بعدازاں مکرم محبوب الرحمٰن صاحب سیکرٹری مجلس شوریٰ نے ۴۸ویں مجلس شوریٰ کے ایجنڈے میں شامل نہ کی جانے والی تجاویز پڑھ کر سنائیں۔ نیز آپ نے امسال شوریٰ کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی طرف سے منظور شدہ تجاویز پڑھ کے سنائیں۔ بعد ازاں درج ذیل تین سب کمیٹیاں بنائی گئیں: جنرل سب کمیٹی و رشتہ ناطہ، تبلیغی و تربیتی سب کمیٹی اورمال کی سب کمیٹی۔ اس طرح شام چھ بجے مجلس شوریٰ کا پہلا اجلاس مکمل ہوا۔
شام چھ بجے ممبران مجلس شوریٰ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ براہ راست دیکھا اور سنا۔ شام ۸ بجے سے سب کمیٹیوں کی میٹنگز مقررہ جگہوں پر منعقد ہوئیں۔
دوسرا دن: ۱۳؍جون کو صبح نو بجے مجلس شوریٰ کا دوسرا اجلاس تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوا۔ پھر پہلی دو سب کمیٹیوں نے اپنی اپنی رپورٹس پیش کیں اور اراکین مجلس شوریٰ نے ان پر اپنی آراء دیں۔ دوپہر ایک بجے یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
مجلس شوریٰ کا تیسرا و آخری اجلاس دوپہر ۳ بجے شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعدمال کی سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی جس پر اراکین مجلس شوریٰ نے اپنی آراء دیں۔ آخر پر امیر صاحب کی اختتامی تقریر اور دعا سے مجلس شوریٰ اپنے اختتام کو پہنچی۔
امسال مجلس شوریٰ میں ۱۲۳ میں سے ۱۰۵؍جماعتوں کی نمائندگی رہی۔ کل حاضری ۲۹۷؍رہی۔ الحمد للہ
(رپورٹ: نوید الرحمٰن۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭




