قرآن میں مذکور پرندے
شام کا وقت ہے۔ صحن میں ہلکی ہلکی ہوا چل رہی ہے۔ احمدپودوں کو پانی دے رہا ہے، محمود صحن میں سائیکل چلا رہا ہے اور گڑیا کروشیے سے بیل بنانا سیکھ رہی ہے۔
گڑیا: بھائی! گرمیوں کی چھٹیاں کتنے مزے کی ہوتی ہیں۔ نہ اسکول جانےکی جلدی، نہ ہوم ورک کی فکرہے۔
احمد: ہاں، لیکن دادی جان نے کہا ہے کہ چھٹیوں میں صرف کھیلنا ہی نہیں، کچھ نیا بھی سیکھنا چاہیے۔
گڑیا: دیکھو میں تو سیکھ رہی ہوں کروشیا۔
محمود: اور ہم بھی تو روز کچھ دیر قرآن کریم پڑھتے ہیں، کھیلتے بھی ہیں، کتابیں بھی پڑھتے ہیں اور روزانہ دادی جان سے نئی نئی کہانیاں بھی سنتے ہیں۔
اتنے میں دادی جان مسکراتے ہوئے صحن میں آتی ہیں۔
دادی جان: ماشاء اللہ! میرے بچے تو اپنی چھٹیاں بہت اچھے طریقے سے گزار رہے ہیں۔
تینوں بچے: السلام علیکم دادی جان!
دادی جان: وعلیکم السلام، کیسے ہو میرے بچو؟
احمد: دادی جان! کل تو آپ نے ہمیں قرآن میں مذکور جانوروں کے بارے میں بتایا تھا، آج کی کہانی میں کیا ہوگا ؟
دادی جان (مسکراتے ہوئے): آج ہم قرآن کریم میں مذکور پرندوں کے بارے میں جانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بعض پرندوں کا ذکر کسی خاص حکمت، سبق یا معجزے کی وجہ سے فرمایا ہے۔
گڑیا: واہ! کون کون سے پرندے ہیں؟
دادی جان: سب سے پہلے ہُدہُد۔
محمود: یہی وہ پرندہ ہے جس کی چونچ لمبی ہوتی ہے؟
دادی جان: جی ہاں۔ حضرت سلیمانؑ کے لشکر میں ہُدہُد بھی شامل تھا۔ تفسیر کبیر کے مطابق قرآن میں مذکور پرندے ہُدہُد سے مراد لازماً پرندہ نہیں، بلکہ غالب امکان یہ ہے کہ وہ کسی قبیلے کا ایک سردار یا فوجی افسر تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ کے مطابق ’’ہُدہُد‘‘ ایک شخص یا قبیلے کے رئیس کا نام یا لقب تھا۔
حضرت سلیمانؑ نے جب اسے اپنی مجلس میں موجود نہ پایا تو انہیں شبہ ہوا کہ شاید وہ کسی دشمن کے علاقے میں چلا گیا ہے، اس لیے آپ ناراض ہوئے۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا اور اس نے سبا کی سلطنت کی مصدقہ خبر دی کہ وہاں ایک عورت حکومت کرتی ہے، جسے بہت سی نعمتیں اور عظیم تخت حاصل ہے، مگر وہ اور اس کی قوم اللہ کی بجائے سورج کی عبادت کرتے ہیں۔
تفسیر کبیر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بائبل میں حضرت اسماعیلؑ کے ایک بیٹے کا نام بھی ہدہد ملتا ہے اور تاریخی شواہد کے مطابق حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں فلسطین سے یمن تک عرب قبائل آباد تھے، اس لیے ’’ہُدہُد‘‘ کو ایک قبائلی سردار قرار دینا قرینِ قیاس سمجھا گیا ہے۔
گڑیا: اور کون سا پرندہ؟
دادی جان: دوسرا پرندہ ابابیل ہے۔
محمود: کیا یہی وہ پرندے ہیں جنہوں نے ہاتھی والوں پر کنکریاں برسائی تھیں؟
دادی جان: بالکل درست۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود ؓ نے اس کی بھی منفرد تفسیر بیان فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں ’’ابابیل‘‘ سے ضروری نہیں کہ ایک خاص قسم کے پرندے مراد ہوں، بلکہ اس لفظ کا مطلب ‘‘گروہ در گروہ‘‘ یا’’جماعت در جماعت‘‘ بھی ہوتا ہے۔ یہ لفظ انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور حیوانوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہےاور پرندوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ جب ابرہہ کی فوج اللہ کے عذاب سے ہلاک ہوگئی تو ان کی لاشوں پر بڑی تعداد میں چیلیں، گدھ، کوّے اور دوسرے مردار کھانے والے پرندے جمع ہوگئے۔ یہ پرندے لاشوں سے گوشت نوچتے، اسے پتھروں پر مار کر کھاتے تھے۔ قرآن نے اس منظر کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ جو لوگ اپنی طاقت اور غرور پر ناز کرتے تھے، انجامِ کار ان کی لاشیں مردار خور پرندوں کی خوراک بن گئیں۔
گڑیا: اور کون سا پرند ہ ہے ؟
دادی جان: قرآن میں کوّے کابھی ذکر آیا ہے۔
محمود: کوّے کا ذکر کیوں ہے ؟
دادی جان: جب حضرت آدمؑ کے دو بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو محض حسد کے ہاتھوں مغلوب ہوکر قتل کردیا اوربعد میں نادم ہونے پر اسے فکر دامنگیر ہوئی کہ وہ اپنے مقتول بھائی کی نعش کا کیا کرے؟ اس پر اسے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ ایک کوّے نے دوسرے کوّے کی نعش کو زمین میں گڑھا کھود کر دفن کیا ہے۔ اس پر اسے بھی یہ ترکیب سوجھی اور اس نے اپنے بھائی کی نعش کو زمین میں دفن کردیا۔ اس سے انسان نے میت کو دفنانے کا طریقہ سیکھا۔ یہ عمل عاجزی، احترامِ انسانیت اور مردوں کی عزت کے ساتھ تدفین کا سبق دیتا ہے۔
محمود: دادی جان! اور بھی کوئی پرندہ ہے؟
دادی جان: جی ہاں، سلویٰ ( بٹیر)۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمت کے طور پر سلویٰ (بٹیر) نازل فرمایا تاکہ انہیں پاکیزہ رزق ملے۔
محمود: سلویٰ کیا ہوتا ہے؟
دادی جان: یہ ایک پرندے کا نام ہے جو بٹیر کے مشابہ ہوتا ہے اور شہد کو بھی سلویٰ کہتے ہیں۔
گڑیا: کیا بس یہی پرندے ہیں؟
دادی جان: قرآن میں عموعی طور پر پرندوں کا کئی جگہ ذکر آیا ہے کہ وہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کے حکم سے اڑتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے انسان کے فائدے کے لیے ہیں اور بہت سے پرندے اللہ تعالیٰ نے صرف خوبصورتی کے لیے پیدا فرمائے ہیں۔
محمود: جیسے طوطا،ہے ناں دادی جان ؟
دادی جان (شفقت سے): بالکل میرے بچو! قرآن کریم کی ہر بات ہمارے لیے ہدایت ہے۔ اور انہی باتوں کو ہم تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ ؑکے بعد خلافت کا بابرکت نظام جاری فرمایا۔ تاکہ ہم خلافت کی راہنمائی میں قرآن کریم کی تعلیمات پر غور کریں اور اس سے اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں۔
تینوں بچے یک زبان ہوکر: جزاک اللہ ! دادی جان آپ نے ہمیں بہت ہی عمدہ معلومات دی ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم پر غور کرنے اور اس کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
دادی جان: آمین۔ چلیں اب نماز کی تیاری کرلیں۔ اس کے بعد سب اندر چلے گئے۔
(درثمین احمد۔ جرمنی)
٭…٭…٭
