منظوم کلام

ندائے احمدیت

(منظوم کلام حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ)

دَرکار ہیں کچھ ایسے جوانمرد، کہ جن کی
فِطرت میں وَدِیعت ہو مَحبت کا شرارا

سامان کے محتاج، نہ آفات سے خائِف
گر زاد نہ ہو۔ کر سکیں پتّوں پہ گزارا

بے عشق نہیں حسن کے بازار میں رونق
وہ اس کا طلبگار۔ تو یہ اُس کا سہارا

برپا ہو قیامت جو وہ تبلیغ کو نکلیں
عِفَّت ہو جو بے داغ تو اَخلاق دِل آرا

آئیں وہ اِدھر، رکھ کہ ہتھیلی پہ سر اپنا
’’لبیک!‘‘ کہ دِلبرنے ہے عاشِق کو پکارا

اموال کمائیں، تو کریں نَذرِ اِشاعت‘
اَملاک بنائیں تو کریں وَقف خدارا

ہر ایک میں ہو عزم وہ ثابِت قَدَمی کا
جِھجکا نہ ہو خطر ے سے، نہ ہِمّت کبھی ہارا

بس ایک ہی دُھن ہو کہ کریں خود کو تَصَدُّق
راضی ہو کسی طرح سے محبوب ہمارا

پروا نہ ہو ذرّہ بھی محبت کے نَشے میں
شمشیر ہو گردن پر کہ ہو فَرق پہ آرا

وہ دِین جو مُحتاج ہے خِدمت کا ہماری
ہو جائے اگر ہو سکے۔ اس کا کوئی چارہ

اِک آگ ہو سینے میں نِہاں، کام کی خاطِر
ہر رنگ نیا، بات کا ہر ڈھنگ نِیارا

قُربان ہو ہر چیز اسی بات کی خاطِر
اِسلام کا اُونچا ہو زمانہ میں منارا

فرہادؔ کے اور قیسؔ کے قِصّوں کو بُھلا دیں
دِکھلا کے جُنوں اور مَحبت کا نظارا

اب عشقِ مَجازی کی نُمائِش کو مِٹا کر
ہم عشقِ حقیقی کا دکھائیں گے نظارا

بے زَرہوں، پہ ہو جائیں وہ امریکہ روانہ
بے پرہوں توپیدل ہی پہنچ جائیں بُخارا

عمر یست کہ آوازۂ منصور کہن شد
مَن از سرِ نَو جلوہ و ہم صدق و وفا را

(الفضل ۱۰؍جنوری ۱۹۲۵ء۔ بخار دل صفحہ۷۲)

مزید پڑھیں: ’’ہو گیا آخر نمایاں فرق نورو نار کا‘‘

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button