حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ہمیں بھی جو کچھ ملنا ہے قرآن کریم کی برکت سے ہی ملنا ہے

قرآن کی عزت یہ نہیں ہے کہ جس طرح بعض لوگ شیلفوں میں اپنے گھروں میں خوبصورت کپڑوں میں لپیٹ کر قرآن کریم رکھ لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر ماتھے سے لگا کر پیار کر لیا اور کافی ہو گیا اور جو برکتیں حاصل ہونی تھیں ہو گئیں۔ یہ تو خدا کی کتاب سے مذاق کرنے والی بات ہے۔ دنیا کے کاموں کے لئے تو وقت ہوتا ہے لیکن سمجھنا تو ایک طرف رہا، اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ ایک دو رکوع تلاوت ہی کر سکیں۔

پس ہر احمدی کو اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ خود بھی اور اس کے بیوی بچے بھی قرآن کریم پڑھنے اور اس کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دیں۔ پھر ترجمہ پڑھیں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تفسیر پڑھیں۔ یہ تفسیر بھی تفسیر کی صورت میں تو نہیں لیکن بہرحال ایک کام ہوا ہوا ہے کہ مختلف کتب اور خطابات سے، ملفوظات سے حوالے اکٹھے کرکے ایک جگہ کر دئیے گئے ہیں اور یہ بہت بڑا علم کا خزانہ ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کو اس طرح نہیں پڑھتے تو فکرکرنی چاہئے اور ہر ایک کو اپنے بارے میں سوچنا چاہئے کہ کیا وہ احمدی کہلانے کے بعد ان باتوں پر عمل نہ کرکے احمدیت سے دور تو نہیں جا رہا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :’’ یہ سچ ہے کہ اکثر مسلمانوں نے قرآن شریف کو چھوڑ دیا ہے۔ لیکن پھر بھی قرآن شریف کے انوار و برکات اور اس کی تاثیرات ہمیشہ زندہ اور تازہ بتازہ ہیں چنانچہ میں اس وقت اس ثبوت کے لئے بھیجا گیا ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے اپنے وقت پر اپنے بندوں کو اپنی حمایت اور تائید کے لئے بھیجتا رہا ہے۔ کیونکہ اس نے وعدہ فرمایا تھا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحَافِظُوْنَ یعنی بے شک ہم نے اس ذکر(یعنی قرآن شریف) کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ‘‘۔ (الحکم 17؍نومبر 1905ء)

پس ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بھی جو کچھ ملنا ہے قرآن کریم کی برکت سے ہی ملنا ہے اور برکت اس کے احکام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔

(خطبہ جمعہ ۲۴؍ستمبر ۲۰۰۴ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۸؍اکتوبر ۲۰۰۴ء)

مزید پڑھیں: رشتہ ناطہ سے متعلق نصائح

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button