اے چھاؤں چھاؤں شخص! تری عمر ہو دراز(خلافت کے زیرِ سایہ ۔برکات و راہنمائی کے لمحات ۲۰۲۴ءتا۲۰۲۵ء۔ قسط پنجم)
ڈائری مکرم عابد خان صاحب سے ایک انتخاب
براڈکاسٹ میں برکتیں حضورِ انور کی مسلسل راہنمائی
الحمد للہ! ایم ٹی اےکے نیوز ڈیپارٹمنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پروگرام ’This Week with Huzoor‘ تیار کرے۔ طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ ایم ٹی اے کے پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ کی مدد سے ہم پروگرام کا ایک مسوّدہ تیار کرتے ہیں اور اسے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں حتمی منظوری کے لیے پیش کرتے ہیں۔
بعض اوقات توحضورِ انور ازراہِ شفقت اسے ویسا ہی منظور فرما دیتے ہیں جیسا کہ پیش کیا گیا ہو، جبکہ بعض اوقات آپ ہمیں کچھ ترامیم کرنے کی ہدایت فرماتے ہیں۔
جہاں تو کبھی کبھار حضورِ انور ہدایت فرماتے ہیں کہ کوئی تبدیلی کی جائے، وہیں بعض اوقات آپ خود بھی کچھ تجویز فرما دیتے ہیں یا کسی خاص سوال یا ملاقات کے کسی حصّے کے شامل کرنے کا ارشادبھی فرماتے ہیں۔اس کے بعد حضورِ انور اکثر نہایت شفقت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ باقی تمہاری مرضی ہے۔
انتظامی امور کے سلسلے میں حضورِ انور کی راہنمائی میں بصیرت اور متوازن رویّہ دیکھنا نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ جہاں بعض معاملات میں آپ براہِ راست اور واضح ہدایات عطا فرماتے ہیں، وہیں بعض اوقات آپ محض ایک تجویز یا خیال پیش فرماتے ہیں اور کسی خاص ذمہ داری یا منصوبے کے لیے معیّن شخص یا افراد کو کچھ حدّ تک صوابدیدی اختیار بھی عطا فرمادیتے ہیں۔
تاہم جہاں بھی حضورِ انورکوئی مشورہ عطا فرمائیں یا محض کوئی اشارہ بھی دیں، تو ہم اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں کہ ہمیں راہنمائی حاصل ہوئی اور اس پر عمل کرنا ہم اپنا فرض اور اعزاز سمجھتے ہیں۔
ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جو کچھ بھی حضورِ انور تجویز فرماتے ہیں اس پر عمل کرنے میں صرف برکتیں ہی برکتیں ہوتی ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۵ء کے بعد مسلسل اقساط میں ہم نے دورانِ جلسہ اور بعدازاں حضورِ انور سے ملاقات کرنے والےکچھ وفود کی جھلکیاں نشر کیں۔
جیسے ہی ہم دوسری قسط کو حتمی شکل دینے والے تھے تو حضورِ انور نے فرمایا کہ اگرچہ آپ نے ہر ایک ملاقات نہیں دکھائی، لیکن آپ قسط کے آخر میں ان تمام ممالک کے نام دکھا سکتے ہیں کہ جن کے وفود نے مجھ سے ملاقات کی۔
اس راہنمائی کی بنیاد پر ہم نے پروگرام کے اختتام پر voiceover کو re-script کیا تاکہ حضورِ انور کی ہدایت کے مطابق تمام ممالک کے نام شامل کیے جا سکیں۔
بعد ازاں ہمیں احمدیوں کی جانب سے تأثرات اور تبصرے موصول ہوئے جن میں انہوں نے ممالک کی کثرت پر تبصرہ کیا اور یہ حیرت ظاہر کی کہ حضورِ انور نے کس طرح اتنے مختصر وقت میں اتنے سارے وفود سے ملاقات کو ممکن بنایا۔
بامقصد بحث، اَنا کے لیے نہیں
انتظامی اُمور کے سلسلے میں بھی حضورِ انور ہمیں پُر شفقت راہنمائی عطا فرماتے ہیں خاص طور پر جب کہ مختلف شعبہ جات یا افراد کے درمیان اختلافِ رائے پیدا ہو۔
۲۰۲۵ءکے آغاز میں مجھےایم ٹی اے انٹرنیشنل مینجمنٹ کے ایک سینئر رکن کی جانب سے ’This Week with Huzoor‘ کی شیڈیولنگ کے بارے میں ایک خط موصول ہوا۔ خط میں ذکر تھا کہ اس کی شیڈیولنگ کے حوالے سے ایک معاملہ حضورِ انور کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور حضورِ انور نے اس کے لیے ایک ہدایت عطا فرمائی تھی جو مجھے عملدرآمد کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔
جب مَیں نے خط پڑھا، تو مجھے لگا کہ ایک معاملے کو غلط سمجھا گیا ہے اور اسے غیر ارادی طور پر حضورِ انور کی خدمت میں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ مَیں نے اس خط کا جواب تحریر کرنے کا ارادہ کیا۔
اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں کوئی اور ہی زندگی جی رہا ہوں۔مَیں کسی زمانے میں وکیل تھا اور قانونی سقم یا غلطیوں کو تلاش کرنے کی تربیت حاصل کی تھی۔ مزید برآں ہمیں قانونی انداز میں دلائل تیار کرنا سکھایا گیا تھا۔کبھی کبھارجماعتی کاموں میں مجھے موقع ملتا ہے کہ مَیں یونیورسٹی میں سیکھی گئی کچھ پوشیدہ قانونی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکوں۔یہ بھی ایک ایسا ہی موقع تھا!
نتیجۃً مَیں نے اس خط کا تفصیلی جواب لکھا، جس میں مَیں نے اُن نکات کو اُجاگر کیا جو مجھے محسوس ہوئے کہ غلط انداز میں پیش کیے گئے تھے۔مَیں نے جوابی مسوّدہ کم از کم تین بار تیار کیا۔
پہلا مسوّدہ سخت اور جذباتی انداز میں تھا، دوسرا کم جذباتی تھا، اور حتمی مسوّدہ میں اُمید تھی کہ مناسب احترام اور شائستگی کے ساتھ لکھا گیا ہے۔
تاہم بعد میں مجھےایم ٹی اےکے ایک اَور ڈائریکٹر کی کال موصول ہوئی جنہوں نے کہا کہ وہ محض خط پڑھ کر ہی میرا اِضطراب اور جذبات محسوس کر سکتے تھے۔
یہ سُن کر کہ میرے بظاہرغیر جانبدارحتمی مسوّدے سےیہ تأثر پیدا ہوا ہے، مجھے خوشی ہوئی کہ مَیں نے ابتدائی مسوّدہ نہیں بھیجا۔
چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی حضورِ انور کے سامنے پیش کیا جا چکا تھا، اس لیے مَیں نے اپنا جواب بھی حضورِ انور کو ارسال کر دیا۔
اگلے روز جب مَیں ملاقات کے بعد حضورِ انور کے دفتر سے نکل رہا تھا، تو حضور نے تھوڑی دیر کے لیے مجھے واپس بلایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا تو آجکل جھگڑا چل رہا ہےThis weekکی شیڈیولنگ کے بارے میں۔
اس کے بعد حضورِ انورنے مجھے اس معاملے سے آگاہ کیا کہ جو ایم ٹی اےکے سینئر رکن نے حضور کے سامنے پیش کیا تھا۔اس کے جواب میں مَیں نے مختصراً اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت عرض کی۔
اس کے بعد ایک بار پھر مسکراتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ ایسی بات جس سے فائدہ یا بہتری پیدا ہو سکتی ہو، اس کے لیے لڑنا چاہیے۔ کوئی ہرج نہیں بلکہ اچھی بات ہے۔
بلاشبہ حضورِ انور کی مراد ہرگز یہ نہیں تھی کہ تنازعہ پسندیدہ یا مقصود ہے اور نہ ہی کسی کو کبھی تلخی یا بے ادبی کا سہارا لینا چاہیے۔ تاہم جہاں اختلافِ رائے ہو، وہاں بہتر نتیجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی بات منطقی انداز میں پیش کرنا مناسب اور درحقیقت ایک مثبت اَمر ہے، بشرطیکہ اس کے پیچھے کار فرما محرّک ذاتی اَنا کی تسکین نہیں بلکہ مقصد صرف بہتری لانا ہو۔
حضورِ انور کے اس تبصرے سے مَیں نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ آپ میرے نقطۂ نظر کو واضح کرنے کی خاطر کی جانے والی کوششوں کو جاری رکھنے کے حوالے سے خوش ہیں ، تاہم حضور نے اس بات کا اظہار نہیں فرمایا کہ آیا اس معاملے میں مَیں حق بجانب ہوں یا نہیں۔
جب مَیں حضورِ انور کے دفتر سے روانہ ہونے لگا تو مَیں نے عرض کی کہ نظامِ جماعت میں کسی معاملے میں ہماری ذاتی رائے جو بھی ہو لیکن ہم خلیفۃ المسیح کے فیصلے پر مطمئن ہوتے ہیں کہ جو بھی حضورِ انور فیصلہ فرمائیں گے وہ سب کے لیےبہترہو گا۔
اللہ کے فضل سے یہ نسبتاً چھوٹا اور معمولی نوعیت کا معاملہ حضورِ انورکی راہنمائی اور ہدایات کے مطابق چند ہی روز میں فریقین کی رضامندی کے ساتھ خوش اسلوبی سےحل ہو گیا۔الحمدللہ!
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اے چھاؤں چھاؤں شخص! تری عمر ہو دراز(خلافت کے زیرِ سایہ ۔برکات و راہنمائی کے لمحات ۲۰۲۴ءتا۲۰۲۵ء۔ قسط چہارم)




