ارشادِ نبوی

تقویٰ اور امام کی اطاعت کی وصیت

حضرت عرباض بن ساریہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہمیں صبح کی نماز کے بعد بہت مؤثر فصیح و بلیغ انداز میں وعظ فرمایا جس سے (لوگوں کی) آنکھوں سے آنسو بہ پڑے اور دل ڈر گئے۔ (حاضرین میں سے) ایک شخص نے عرض کی اے اللہ کے رسولؐ! یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے، آپؐ کیا نصیحت فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بات سنو اور اطاعت کرو خواہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہو۔ کیونکہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا ۔پس تم ان نازک حالات میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کرنا اور اسے پکڑ لینا۔ دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔

(ترمذی کتاب العلم عن رسول اللہ ﷺ باب مَا جاء فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع حدیث نمبر ۲۶۷۶)

مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ پر آنحضورﷺ کا کامل توکل

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button