اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
احمدیہ ہال کراچی: دسمبر میں کراچی کے پریڈی پولیس سٹیشن میں عبدالقادر پٹیل کی مدعیت میں چالیس نامعلوم احمدیوں کے خلاف نماز جمعہ ادا کرنے کے الزام میں توہین کی دفعات ۲۹۸ب اورج کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے۔ تاہم اس وقت کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نے کہا کہ وہ احمدیہ ہال بلڈنگ کے پاس سے گزر رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ کئی احمدی احمدیہ ہال میں نماز جمعہ ادا کرنے کی غرض سے داخل ہو رہے ہیں۔ اورجب یہ بات پھیلی تو بہت سارے مسلمان احمدیہ ہال کے باہر جمع ہوگئے۔ اور پولیس پر دباؤ ڈالا کہ پولیس احمدیوں کے خلاف مقدمہ درج کرے لیکن پولیس اس وقت کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی۔ یہ مقدمہ احمدیوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر درج کروایا گیا۔ کیونکہ اس سے قبل احمدی ۱۸؍اپریل کو ایک مقدمہ درج کروا چکے تھے جس میں شدت پسندوں کی جانب سے احمدیہ ہال کے باہر ہنگامہ آرائی اور ایک احمدی لئیق احمد چیمہ صاحب کو تشدد کرکے شہید کرنے کا ذکر تھا۔ پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کراچی کی عدالت میں ایک چالان جمع کروایا اور اس میں اس بات کو واضح کیا کہ احمدیوں پر یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ۱۱؍دسمبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ مزمل علی سومرو نے جماعت احمدیہ کراچی کے ۹؍عہدیداران کے خلاف توہین کی دفعات ۱۹۸ ب اور ج کے تحت مقدمات درج کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اورپھر ۱۶؍دسمبر کو ان عہدیداران کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے۔
تعلیمی میدان میں احمدیوں کے خلاف ہراسانی اور تشدد
کرسچن سولیڈیٹری ورلڈ وائڈ کا کہنا ہےکہ کہ ’’مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے جن اصولوں پر پاکستان کو بنایا گیا اگر پاکستان ان اصولوں کی پاسداری کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے تعلیمی نظام سے اس کا آغاز کرنا ہوگا تا کہ ہر بچہ کو اس بات کا یقین ہو کہ وہ یکساں اور مساوی طور پر پاکستانی معاشرے اور قوم کے مستقبل کی تعمیر میں شریک ہے۔ ‘‘
ضلع پونچھ۔ آزاد جموں و کشمیر: ایک احمدی استاد کا تبادلہ ضلع پونچھ کے گاؤں ہیلاں کے ایک سرکاری سکول میں ہوا۔ ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے شدت پسندوں نے انہیں ہراساں کیا۔ شدت پسندوں اور مقامی سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والے لوگوں کے دباؤ کے باعث ایک اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کے کہنے پر جاوید احمد نے پولیس کو اس معاملے سے آگاہ کیا۔ اور ان لوگوں کے خلاف درخواست جمع کروائی۔ مقامی انتظامیہ نے اس پر کوئی بھی کارروائی نہ کی۔ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نے ان کا تبادلہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈائرکٹریٹ میں کر دیا۔ تحریک لبیک کے شدت پسندوں کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس ایجوکیشن افسر کو ہراساں کیا اور موصوف کو نوکری سے برخاست نہ کرنے پر شہر میں ہنگامہ آرائی کرنے کی دھمکیاں دیں۔ اس پر جاوید احمد کے تبادلے کو روک دیا گیا۔
کوٹلی آزاد جموں و کشمیر: ایک احمدی ٹیچر بطور پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں چارج لینے کےلیے ۲۱؍فروری کو ایک گاؤں گوئی میں پہنچیں۔ اگلی صبح جب وہ سکول میں آئیں تو تحریک لبیک کے دو شدت پسندوں نے انہیں اپنی نشست پر جانے سے روک دیا۔ اس پر دیگر خواتین اساتذہ نے مداخلت کی اور ان شدت پسندوں کو وہاں سے باہر نکال دیا۔ موصوف نے مقامی پولیس سٹیشن اور ضلعی تعلیمی انتظامیہ کو اس معاملے سے آگاہ کیا لیکن تا حال کوئی مناسب کارروائی عمل میں نہیں آئی۔
ہری پور۔ ضلع ہزارہ: مارچ کے مہینے میں ہزارہ پبلک سکول کے مالک اور مقامی صدر جماعت کو تحریک لبیک کے شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اس سکول کے خلاف ایک جھوٹی مہم کا آغاز کیا جس میں انہوں نے جھوٹی ویڈیو نشر کیں اور سکول کی انتظامیہ اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہری پور کی انتظامیہ نے اس معاملے کی چھان بین کرنے کی غرض سے سکول کے اساتذہ اور طلبہ سے تفتیش کی لیکن ان کو سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے الزامات کا کوئی بھی ثبوت نہ ملا۔
قائد آباد۔ ضلع خوشاب:قائدآباد میں ارقم سکول سے دو احمدی خاندانوں کے بچوں کو صرف ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے نکال دیا گیا۔ جب ان خاندانوں نے سکول انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انتظامیہ کی جانب سے بچوں کو سکول میں دوبارہ داخل کرنے سے صاف انکار کر دیا گیا۔ مقامی سکولوں کی جانب سے داخلے پر انکار کی وجہ سے بچوں کو دور دارز سکولوں میں داخلہ لینا پڑا۔ اس سے نہ صرف ان خاندانوں پر مالی دباؤ بڑھا بلکہ ان بچوں کا تعلیمی نقصان بھی ہوا۔
پاکستان کے تعلیمی نظام میں بڑھتا ہوا احمدی مقاطعہ
دہائیوں سے احمدی طلبہ اور اساتذہ کو پاکستان کے تعلیمی نظام کے اندر رہتے ہوئے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے سے متعلقہ انتظامی حلقوں نے انتظامی ڈھانچے کے غلط استعمال، تادیبی کارروائیوں اور نام نہاد حفاظتی خطرات کی آڑ میں احمدی طلبہ کو اپنے جائز حقوق سے محروم کرنے کے عمل کو جائز قرار دے دیا۔ اساتذہ کو احمدی ہونے کی وجہ سے جھوٹے الزامات لگا کر معطل کیا گیا۔ احمدی طلبہ کو اس حد تک مجبور کیا گیا کہ انہیں اپنی شناخت چھپانا پڑی۔ جب اس مستقل ہراسانی کے متعلق انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی بھی تفتیش اور مؤثر کارروائی کرنے کی بجائے ان سب واقعات کو نجی معاملات قرار دے کر پس پشت ڈال دیا۔
گذشتہ چند سالوں میں احمدیوں کو نظام تعلیم سے باہر کرنے کے قانونی اور انتظامی واقعات میں گراں قدر اضافہ ہو گیا ہے۔ سکولز اور کالجز سے احمدی طلبہ اور اساتذہ کو ان کے مذہب کی وجہ سے نکالا جا رہا ہے۔ کچھ واقعات میں تو یہ سب انتظامیہ کی جانب سے سرکاری حیثیت میں کیا جا رہا ہے اور کچھ واقعات میں ہراسانی کا سہارا لے کر۔ لیکن شعبہ تعلیم کی انتظامیہ ان واقعات کو روکنے، ان کی تحقیق کرنے او ر ان کے متعلق کوئی بھی کارروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
احمدی طلبہ سے متعلق یہ منظّم طریقہ کار نجی اور سرکاری سکولوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں لاہور کے ایک سکول میں ایک احمدی طالبعلم کو اپنے ساتھی طلبہ کی جانب سے مسلسل ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور ساتھ ہی اسے ہر طرح کی غیر نصابی سرگرمیوں سے خارج کر دیا گیا۔ اساتذہ نے اس احمدی طالبہ کو بتایا کہ اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے اس پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے اہل خانہ نے انتظامیہ سے اس معاملے کی شکایت کی۔ نتیجۃً اس کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا۔ آخر کا ر اس طالبہ کی جان کی حفاظت کے پیش نظر اس کے اہل خانہ نے اسے سکول سے نکال لیا۔ سکول کی انتظامیہ نے کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ طالبہ بغیر ہراسانی کے اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکے۔
۲۰۲۲ء میں راولپنڈی کے ایک سکول میں احمدی طلبہ کو شدت پسند نظریات رکھنے والے طلبہ کی جانب سے بدزبانی، ہراسانی اور مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ احمدی طلبہ کو سرعام کافر قرار دیا گیا۔ اور انہیں سکول چھوڑجانے کا کہا گیا اور ایسا نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ احمدی طلبہ کے والدین نے سکول کی انتظامیہ سے اس بابت رابطہ کیا لیکن سکول انتظامیہ کی جانب سے نہ تو کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی کوئی حفاظتی انتظام کیے گئے۔ احمدی طلبہ کے پاس صرف دو ہی راستے تھے یا تو وہ اپنی تعلیمی ادھوری چھوڑ دیں یا خوف و ہراس کے عالم میں اپنی تعلیم کو جاری رکھیں۔
احمدی طلبہ کو تعلیم سے محروم کرنے کے کچھ واقعات میں انتظامیہ براہ راست خود شامل رہی ہے۔ ۲۰۲۲ء میں اٹک کے ایک نجی سکول میں چار احمدی طلبہ کو صرف ان کے احمدی ہونے کے وجہ سے نکال دیا گیا۔ سکول کے پرنسپل نے اپنی تحریر میں لکھا کہ ان طلبہ کو ان کے قادیانی مذہب کی وجہ سے سکول سے نکالا جا رہا ہے۔ وہ بچے سات سال سے اسی سکول میں زیر تعلیم تھے مگر ان پر کبھی کسی شرارت یا بد اخلاقی کا الزام تک نہیں لگا۔ سکول سے بچوں کو اس لیے نکالا گیا کیونکہ اٹک میں احمدیوں کو ہر ادارے سے باہر نکالنے کی ایک منظّم مہم جاری تھی۔ اگرچہ بعد ازاں عوامی تنقید کے باعث سکول کے پرنسپل نے بچوں کو دوبارہ سکول میں داخل کرنے کی پیشکش کی لیکن طلبہ کے والدین نے انہیں شدت پسند ماحول میں واپس بھیجنے سے انکار کر دیا۔
یہ واقعات شہادت دے رہے ہیں کہ کیسے تعلیمی اداروں کے اندر براہ راست کارروائیاں کر کے یا حفاظتی انتظامات کو کمیاب کرکے احمدیوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اساتذہ اور سکولوں کی انتظامیہ نے یا تو براہ راست احمدی طلبہ کے مقاطعہ میں شمولیت اختیار کی یا وہ احمدی طلبہ کو ہراسانی اور تشدد سے بچانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ شعبہ تعلیم اور حکومتی انتظامیہ نے ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی بھی مؤثر حل یا احتسابی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا۔ ساتھ ہی سکولوں کی انتظامیہ نے یہی بہانہ بنایا کہ مذہبی گروہوں کے دباؤ کے تحت احمدی طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ اور اس طرح انہوں نے نظام تعلیم کا مکمل اختیار ان غیر ریاستی عناصر کے حوالے کر دیا جن کا کام مذہب کو آڑ بنا کر لوگوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا ہے۔
وقتی تعلیمی نقصان کے علاوہ احمدی طلبہ کے لیے نظام تعلیم میں جاری اس امتیازی سلوک کے نتائج دوررس ثابت ہو رہے ہیں۔ تعلیم کسی بھی بچے کی ترقی ،معاشرت، اور مستقبل میں آنے والے مواقع کے حصول کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ جب کسی بچے کو محض اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے تعلیم کے حصول سے روک دیا جائے تو وقتی تعلیمی نقصان کے علاوہ اس کے معاشرتی مقاطعہ اور تعلیمی اور معاشی سرگرمیوں میں بھی ایک رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی اس بچے کو یہ اشارہ بھی مل جاتا ہے کہ عام زندگی کے دروازے اس پر بند کیے جا چکے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق ، بچوں کے حقوق کی کنونشن کے آرٹیکل (۲، ۲۸، ۲۹) اور معاشی ،معاشرتی اور روایتی حقوق کی بین الاقوامی کنونشن کے آرٹیکل ۱۳ کے تحت پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ کسی بھی امتیازی سلوک کے بغیر تعلیم کے حصول کے حق کو ہر کسی کے لیے یقینی بنائے ۔احمدی طلبہ اور اساتذہ کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا کھلے عام ان قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تعلیمی اداروں کے اندر بغیر کسی قانونی چارہ جوئی اور محکمانہ کارروائی کے خوف کے بیباکی کے ساتھ اس امتیازی سلوک کو روا رکھنا واضح کرتا ہے کہ شعبہ تعلیم کے اندر مذہب کی بناء پر امتیازی سلوک اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ان لوگوں کے اندر قانون ،جواز اور احتساب کا خوف مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔شعبہ تعلیم احمدیوں پر ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کی واضح مثال بن چکا ہے۔ جہاں پہلے یہ سب خفیہ طریق پر یا انتظامی کوتاہیوں کا سہارا لے کر کیا جاتا تھا اب کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کرکیا جارہا ہے۔اگر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو مستقبل میں احمدی طلبہ کے لیے مذہی شناخت کے باعث امتیازی سلوک کی خلیج وسیع تر ہوتی چلی جائے گی اور پاکستان کے انتظامی اداروں کی ساکھ کو بھی زد پہنچے گی۔
(باقی آئندہ)
مزید پڑھیں: پریس ریلیز: کراچی میں شرپسند عناصر کی جانب سے ڈرگ روڈ پہ واقع احمدی مسجد ”بیت المبارک“ کے مینار توڑ دیے گئے




